مسلم معاشرے  کی خرابیاں اور ان کے سدھار کی سبیل

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

ہمارے پرانے دوست ڈاکٹر ایم جے خان صاحب نے تین دن قبل فون پر کہا کہ ۲؍اپریل کو ہم امپار کے تحت ایک لیڈرشپ کانفرنس منعقد کر رہے ہیں، اس میں تم کو ان اسباب کے بارے میں بولنا ہے جن کی وجہ سے آج کا مسلمان پیچھے ہے۔ پہلے تو میں نے کوشش کی کہ کسی طرح معذرت کر لوں لیکن ایم جے خان صاحب آسانی سے ماننے والوں میں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں یہاں اس وقت آپ کے سامنے کچھ ایسے مسائل کے بارے میں بولنے کے لیے کھڑا ہوں جنہیں  جانتے تو ہم سب ہیں لیکن ان کے بارے میں شائد ہی کوئی کھل کر بولتا ہو۔ اور چونکہ ہم ان کے بارے میں بولتے نہیں، چرچا نہیں کرتے ہیں، اس لیے ان کی اصلاح کی کوشش بھی دل سے نہیں ہوتی ہے۔

   میں ان مسائل کے بارے میں بولتا  اور لکھتا رہا ہوں لیکن شائد اتنی وضاحت سے نہیں جس کی ضرورت  ہے  ۔ میری آج کی تقریر کے بعد شائد کچھ فتوے جلد ہی نکل جائیں گے جن میں میرے کافر اور فاسق ہونے کا اعلان کیا جائے گا اور دعوی کیا جائے گا کہ میں فلاں تنظیم یا پارٹی کا ایجنٹ ہوں۔ مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔ اگر میری ان کھری کھری باتوں سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے تو میرا ذاتی نقصان میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ہے کیونکہ قوم اور ملک کا فائدہ سب پر مقدم ہے۔

دوسرے مسائل اور بھی ہیں جن کا تعلق حکومت، عدلیہ، پولیس اور میڈیا وغیرہ سے ہے لیکن آج ہم ان کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ صرف ان امور کے بارے گفتگو کریں گے جو ہمارے معاشرے کے اندرونی مسائل ہیں اور جو ہمارے اپنی اندرونی کمزوریاں ہیں جنھیں خود ہم ہی دور کر سکتے ہیں۔

سب سے پہلے ہم اپنی سیاسی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں۔ آج ہم اپنے آپ کو ایک کونے میں کھڑا ہوا پاتے ہیں۔ مختلف قسم کے چیلنجز ہمارے سامنے ہیں لیکن نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔ ہندو توا یا نفرت کی سیاست نے ہم کو ایک حد تک الگ تھلگ کر دیا ہے یا کم از کم اسں کی کوشش ہو رہی ہے۔ لیکن کیا یہ سب اچانک ہو گیا؟ کیا ہم یا ہماری قیادت اس کی ذمے دار نہیں؟

ہمارے مسائل سنہ  ۱۸۵۷ سے شروع ہوتے ہیں جب انگریز سامراجیوں نے ہم کو ”غدر“ کا ذمے دار قرار دے کر جی کھول کر ہم کو قتل کیا ، ہماری جائدادیں چھینیں اور ہم کو حاشیے پر کھڑا کر دیا۔ بیس،تیس سال تک ہم کسی رد عمل سے قاصر رہے۔ اس دوران ایک مرد مجاہد – سید احمد خان – کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی حکمت عملی سے ایک طرف انگریزوں کا غصہ ٹھنڈا کیا اور دوسری طرف مسلمانوں کو وہ واحد راستہ دکھا یا جو موجودہ دور میں ترقی کے لیے سب کو میسر ہے، یعنی جدید تعلیم ۔اس مرد مجاہد کو بڑی گالیاں دی گئیں، کافر گر دانا گیا ، جوتے چپل سے مارا گیا، لیکن اس نے ہار نہ مانی اور سنہ ۱۸۷۵ میں علیگڑھ میں ایک  کالج بنا کر دم لیا۔ یہ کالج سنہ  ۱۹۲۰ میں ایک یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا۔ دیکھتے دیکھتے اس طرح کے اور کالج اور بعد میں یونیورسٹیاں بنیں جن کی بدولت مسلمان پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے لگے لیکن سیاسی طور پر مسلمانوں نے دور رس حکمت عملی نہیں اپنائی بلکہ جذباتی سیاست اور جذباتی سیاستدانوں کا شکار بنتے چلے گئے۔  سنہ ۱۹۲۰ میں ہم نے تحریکِ ہجرت  کے نام پر ایک احمق تحریک  چلائی ۔ دسیوں ہزار نو جوان  اپنے گھر بار اور زمینیں  اونے پونے بیچ کر ”قندھار چلو، قندھار چلو۔ دریائے اٹک کے پار چلو“ کا نعرہ لگاتے ہوئے افغانستان ہجرت کر گئے۔ یہ ایک پوری طرح جذباتی اور احمقانہ فیصلہ تھا۔ نعرہ لگوانے والوں نے افغانستان کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا بغور مطالعہ نہیں کیا تھا کہ کیا یہ لوگ وہاں  بس سکتے ہیں اور ہندوستان کی آزادی کے لیے وہاں سے کیسے کام کر سکتے ہیں۔ زندگی کے عملی مسائل اور افغانی حکام کی سردمہری کی وجہ سے   چند  ہی مہینے میں یہ لوگ نا مراد و شکستہ حالت میں واپس چلے آئے۔ واپس آنے والوں میں خان عبدالغفار خان بھی تھے جنہوں نے باقی زندگی اس قسم کے جذباتی نعروں سے توبہ کی اور ہندوستان کی تحریک آزادی میں دل و جان سے شریک ہوگئے۔

تحریک ہجرت کی نا کامی  سے ہماری جذباتی اور جوشیلی قیادت  نے کوئی سبق نہیں لیا بلکہ جلد ہی ان کو ہزاروں میل دور ترکی میں  خلافت عثمانیہ کو بچانے کا خیال آگیا ۔ نتیجۃ ً‌ اس قیادت نے پوری قوم کو تحریکِ خلافت کے نام پر کئی سال نچائے رکھا یہاں تک ۱۹۲۴ میں جب مصطفی کمال نے  ترکی میں خلافت کے خاتمے کا اعلان کر دیا تو ہندوستان  میں بھی  تحریک  خلافت کا غبارہ پھوٹ گیا ۔ ان لوگوں کو جذبات  اور خیالی نعروں کے علاوہ ان  زمینی حالات کا کوئی علم نہیں  تھاجن کی وجہ سے خلافت عثمانیہ خود اپنے ملک  اور دوسرے قریبی مسلم ممالک میں مطعون ہو چکی تھی اور خود وہاں کے لوگ اس سے گلو خلوصی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مصطفی کمال کو سلطنت ختم کرنے اور آخری خلیفہ محمد ششم  کو  نومبر۱۹۲۲ میں صرف چند گھنٹوں کے نوٹس پر ترکی سے ملک بدر کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ یوں اس لا یعنی تحریک نے ہندوستان میں بھی دم توڑ دیا۔

 تحریک خلافت کی نا کامی کے بعد ہماری جذباتی قیادت کو پاکستان کا نعرہ مل گیا اور جنوبی ہند کے بعض علاقوں کو چھوڑ کر پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو اس مسئلے پر برسوں الجھا کر رکھا یہاں تک کہ ۱۹۴۷ میں ملک  بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی تقسیم ہوئی جسمیں  لاکھوں  لوگ مارے گئے، نوے لاکھ کے قریب مسلمان اپنی خواہش سے یا مجبور ہوکر پاکستان ہجرت  کرنے پر مجبور ہوئے۔ تقسیم کے ذمے  دار مسلم لیگ ، کانگریس اور انگریز سب تھے لیکن ٹھیکرا عضو ضعیف یعنی ہندوستانی مسلمانوں  کے سر پھوٹا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔  پاکستان بننے سے باقیماندہ ہندوستان میں مسلمانوں کی ساکھ ٹوٹ گئی، قائدین پاکستان بھاگ گئے یا گھروں میں چھپ گئے۔ دانشوروں کا ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا جو ابتک بھی پُر نہیں ہوا ہے۔ معاشیات بھی  ایسے تباہ  ہوئی   کہ مسلمان  آج تک دو بارہ ۱۹۴۷ سے پہلے والی حالت پر واپس نہیں آیا ہے۔

اس کے بعد ۱۹۸۰ کی دہائی میں دو اور جذبانی تحریکوں نے ہمارے یہاں جنم لیا: شاہ بانو یا پرسنل لا تحریک اور بابری مسجد تحریک۔ دونوں تحریکوں میں عقل سے کم اور جذبات سے زیادہ کام لیا گیا۔  نعرہ لگانے والے لیڈر بن گئے اور مسلمانوں کو برسوں نچاتے رہے ۔ دسمبر ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کی شہادت کے ساتھ یہ قیادت بھی زمین دوز ہوگئی۔  تب سے آج تک ہمارے یہاں کوئی نئی قیادت نہیں ابھری ہے۔

 نئے ہندوستان میں جو سماجی، سیاسی اور معاشی صورت حال بنی تھی اور جس طرح ہم ہر طرح حاشیے پر آگئے تھے، اس  کی وجہ سے جذباتی سیاست کی نا کامی نوشتۂ دیوار بن چکی تھی  اور ہمیں کوئی اور طریقہ اپنانا تھا جیسے جاپان اور جرمنی نے دوسری جنگ عظیم کے  بعد  اپنایا۔ ان دونوں ملکوں نے امریکہ کے خلاف مزاحمت یا جنگ جاری رکھنے کے بجائے  اپنے ملک کی تعمیرِنو کے فیصلے سے اپنی تقدیر چند دہوں میں بدل دی۔ افسوس ہے کہ ہمارے یہاں کوئی ایسی دور رس قیادت نہیں تھی جو ہم کو تعلیم اور معاشیات کی طرف موڑتی ۔ نتیجۃ ً  ہم صرف جذباتی سیاست کا شکار ہو کر   اِس بند  گلی سے اْس بند  گلی کا چکر لگاتے رہے  اور آج بھی منزل سے دور  وہیں چکر لگا رہے ہیں ۔ اگر مسلمانوں نے کوئی ترقی کی ہے تو وہ  افراد کی اپنی ذاتی سوجھ بوجھ اور  پہل کی وجہ سے ہے، ہماری قیادت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔

میں یہ بالکل نہیں کہہ رہا ہوں کہ شاہ بانو اور بابری تحریکوں کا جو حشر ہوا وہی ہونا چاہیے تھا۔  یقینا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ہم کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سیاسی اور قانونی حقوق زمینی حقائق سے الگ وجود نہیں رکھتے ہیں۔ ان مسائل کو کسی اور طریقے سے سڑک سے دور حل کرنا چاہیے تھا۔ شروع میں بابری مسجد کا مسئلہ ٹھنڈے طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی گئی جس میں مسلمانوں کی سبکی نہ ہوتی۔ لیکن جذباتی اور جوشیلے قائدین نے ان کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ نتیجۃ ً  ہمیں ایسی نا کامی ملی ہے کہ ہم سر اٹھا نے اور بولنے کے بھی قابل نہیں رہے۔

ہماری اسی جذباتی سیاست سے نفرت کی اْس سیاست کو بھی تقویت ملتی چلی گئی جو ملک کے دستوری ڈھانچے  کےبدلنے کے در پے ہے حالانکہ اب بھی اس ملک میں ایسے بہت سے انصا ف پسند لوگ موجود ہیں جو قانون اور دستور کی حمایت میں کھڑے ہیں لیکن ان کی تعداد بھی روز بروز کم سے کم تر ہوتی چلی جارہی ہے۔

آزادی کے بعد ہماری ایک بڑی کمی رہی ہے کہ ہم نے اپنی زمینی طاقت بنانے کے بجائے  چند پارٹیوں اور چند سیاستدانوں کی آنکھ بند کر کے تایید کی اور ملک کی ابھرتی ہوئی طاقتوں سے ڈائیلاگ کر نے کے بجائے، ان کو صرف چیلنج کرتے رہے۔ ان نئی طاقتوں  سے کوئی تال میل نہ بنانا بلکہ الٹا   انھیں دشمن بنالینا کسی طرح کی عقلمندی نہیں تھی۔ آج بھی ضرورت ہے کہ ہم کسی ایک پارٹی کی تایید کرنے یا لوگوں کو صرف اسے ووٹ دینے کی صلاح دینے کے بجائے عوام  پرچھوڑ دیں کہ  وہ عمدہ کار کردگی کی بنیاد پر جس امیدوار کو چاہیں اپنے حلقے میں ووٹ دیں۔  پچھلے سالوں میں ہم نے دیکھ لیا کہ کوئی سیاسی پارٹی ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ ہم پر بڑے سے بڑے طوفان آئے  لیکن کوئی بولنے تک کو تیار نہیں ہے۔  ایسے حالات میں ہم کیوں کسی سیاسی پارٹی کا دم چھلہ بنیں اور کیوں کسی سیاسی پارٹی سے دشمنی کو اپنی ملی سیاست بنائیں۔

اپنے حقوق کے لیے اور مظالم کے خلاف اداروں اور عدالتوں کے ذریعے ہماری حقوق کی لڑائی قانون کے تحت جاری رہنی چاہیے۔ لیکن یہ کچھ افراد اور تنظیمیں کریں گی  ، پوری قوم کو ہم ان امور پر  سڑکوں پر نہیں لائیں گے اور نہ ہی علانیہ کسی کے خلاف سب و شتم کے مرتکب ہونگے۔  اس قانونی لڑائی میں ہم سماج کے ایک بڑے حصے کو دشمن نہیں بنائیں گے۔ ہم کو سماج کی تمام نمائندہ طاقتوں اور پارٹیوں کے ساتھ تعلقات، بات چیت اور ڈائیلاگ جاری رکھنا چاہیے۔ سیاست میں کوئی اچھوت نہیں ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اس حکمت پر عمل کرنا چاہیے۔

 ہمارے ساتھ یہ مسئلہ بھی رہا ہے کہ جن مسائل کے بارے ہمارا خیال ہے کہ وہ براہ راست ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں، ہم انھیں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ سماج میں جو دوسرے مسائل ہیں اور  جو زیادتیاں ہو رہی ہیں ہمیں ان سے سروکار نہیں ہوتا ہے۔  ہمیں یہ رویہ بدلنا ہوگا اور  ہمیں ان سارے مسائل میں دلچسپی لینی ہوگی جن کا ملک کے حاضر اور مستقبل سے تعلق ہے۔

  معاشی مسائل:

 ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت غریب ہے۔ ہماری تنظیموں نے  آج تک مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے کوئی نقشہ یا پروگرام نہیں بنایا۔  ہر مصیبت ان کو چندہ جمع کرنے کا موقعہ نظر آتی ہے۔ ”سود“ کے حرام ہونے کے نام پر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قرضہ نہیں دیتا ہے۔ تنظیموں نے اس کے لیےکوئی نظم نہیں بنایا۔ ایسی حالت میں جو مسلمان کسی وجہ سے قرضے کے محتاج ہوتے ہیں وہ دوسروں سے، اور اکثر مسلمانوں سے ہی، بڑے اونچے سودی ریٹ پر قرضہ لیتے ہیں جس سے وہ بر باد ہو جاتے ہیں۔ ”اسلامی معاشیات“ کا  برسوں سے بڑا غلغلہ ہے لیکن آج تک کوئی ایسا قابل عمل ماڈل نہیں بن سکا جس سے غریب لوگوں کی  بر وقت مدد ہو یا غریب لوگ جہاں اپنی کمائی پونجی جمع کر سکیں۔ ہندوستان کے باہر جو ’’اسلامی بینک‘‘  بنے ہیں وہ نا کام ہیں بلکہ میرے ذاتی تجربے میں وہ عام بینکوں سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ سنہ ۱۹۸۴ کی بات ہے کہ میں نے قاہرہ میں واقع فیصل اسلامی بینک میں چند ہزار ڈالر بطور  انوسٹمنٹ جمع کئے۔ حساب کھولنے اور پیسے جمع کرنے کے لیے انہوں نے ’’سروس‘‘کے نام پر چند سو ڈالر لیے جو کوئی بینک نہیں لیتا ہے۔ اس کے بعد میں ہندوستان آ گیا اور مجھ کو یہاں پیسوں کی ضرورت پڑی تو وہ  مذکورہ  اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے میں نے  فیصل اسلامی  بینک کو خط لکھا۔ انہوں نے  حساب بند تو کردیا لیکن ایک سال سے کم مدت میں بند کرنے کی سزا کے طور پر دو بارہ مجھ سے چند سو ڈالر اور کاٹ لیے۔ ایک عام بینک یہ کبھی نہیں کرے گا بلکہ زیادہ سے زیادہ انٹرسٹ میں سے کچھ رقم منہا کرلے گا۔

یہاں ہندوستان میں کافی دنوں سے اسلامی بینکنگ یا اسلامی فائننس کمپنیوں کا شور وقتا فوقتا  اٹھتا رہتا ہے لیکن یہ سب ہمارے پیسوں کو لوٹنے والی کمپنیاں ہیں جیسے المیزان اور الفلاح  نامی ادارے جن کو ہمارے بعض مفتیان نے فتوے بھی دے رکھے تھے۔  ایسی کمپنیوں میں ہزاروں کروڑ کھونے کے باوجود ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ابھی  کچھ عرصہ قبل نوھیرہ شیخ نامی عورت نے بھی مسلمانوں کے ہزاروں کروڑ روپئے اسلامی فائننس کے نام پر تباہ کئے۔ اس کے علاوہ مختلف شہروں میں اسلامی فنڈ نام کی چھوٹی چھوٹی دکانیں قائم ہیں جن سے مسلمانوں کی ضروریات نہیں پوری ہوتی ہیں۔ اس  صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی  معاشی ترقی نہیں ہوتی اور رہی سہی پونچی بھی بر باد ہوجاتی ہے  نیز  کوئی معقول بزنس کرنے کے لیے ان کو کوئی قرض دینے والا بھی نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ہمارے ایسے لاکھوں لوگ  موجود ہیں جو بینکوں سے ملنے والے انٹرسٹ کو وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض اخباری رپورٹوں میں دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستانی  مسلمان اس طرح ہر سال ہزاروں کروڑ روپئے بینکوں میں چھوڑ دیتے ہیں یا بینکوں میں اپنے  پیسے ہی نہیں رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پیسے کالا دھن میں شمار ہوتے ہیں ۔نومبر ۲۰۱۶  میں نوٹ بندی کی وجہ ایسے لوگوں کا بڑا نقصان ہوا جو اپنے پیسے گھروں میں رکھتے تھے۔ ہمارے ایک رشتہ دار ہر سال انٹرسٹ کی رقم بینک سے نکال  کر  اسے جلاتے تھے حالانکہ انہیں کے شہر میں ہزاروں غریب و فقیر مسلمان رہتے تھے جن کے لیے مجبورا سور کا گوشت  کھانا بھی حلال ہو جاتا ہے۔

اس سلسلے میں ایک بات قابل غور ہے کہ بینکوں کا انٹرسٹ یا منافع وہ ”سود“ یعنی ربا نہیں ہے جس کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بینک ہم سے قرضہ نہیں لیتا ہے بلکہ ہم خود بینک میں اپنی ضرورت  اور حفاظت کی خاطر اپنے پیسے جمع کراتے ہیں، پھر وہ ان پیسوں کو دوسرے ضرورت مندوں کو قرضے پر دے کر ان سے منافع لیتا ہے جس کا کچھ حصہ پیسہ جمع کرنے والوں کو ملتا ہے اور یہ حصہ متعین نہیں ہوتا ہے بلکہ کم یا زیادہ ہو سکتا ہے اور کبھی نہیں بھی ملتا ہے۔ عصر حاضر میں افراط زر (Inflation) کی وجہ سے پیسوں کی قیمت مستقل  کم ہوتی رہتی ہے جو ہمارے ملک ہیں تقریبا ۹-۱۰ فیصد سالانہ ہوتی ہے۔ جبتک سونے اور چاندی کے سکوں کا رواج تھا افراط زر کا وجود نہیں تھا، بلکہ صدیوں سامانوں کے دام ایک ہی رہتے تھے۔ اب جو رقم ہمیں بنک’’ انٹرسٹ‘‘ کے نام پر دیتا ہے وہ افراط زر کے آس پا س ہوتی ہے۔ گویا ہمارا پیسہ قیمت کے لحاظ سے اتنا ہی رہا جتنا ایک سال قبل تھا۔

آج کا ’’انٹرسٹ‘‘وہ نہیں ہے جوعرب میں ’’ربا‘‘کے نام پر رائج تھا۔  جو  زائد رقم ، عرب میں ’’ربا‘‘کے نام سے جانی جاتی تھی وہ یہ تھی کہ ایک آدمی دوسرے سے ایک مدت کے لیے پیسے قرض لے جس پر شروع میں کوئی سود نہیں ہوتا تھا، لیکن جب  مقروض  مقررہ مدت میں  قرض نہ لوٹا سکے تو قرضہ دینے والا اس کو مزید مہلت اس شرط پر دیتا تھا کہ اصل رقم کے علاوہ  قرضدار مزید کچھ رقم ادا کرے گا۔دوسری صورت یہ تھی کہ کوئی جنس  جیسے آٹا یا کھجور قرضے پر لی جائے اور کچھ عرصے کے بعد اسی جنس میں کچھ اضافہ کرکے اسے واپس کیا جائے۔ متعینہ حالات میں یہ صورت بھی منع کی گئی ہے۔ مختصرا ً یہی وہ ’’ربا‘‘ہے جسے منع کیا گیا ہے۔ ہم نے ’’ربا ‘‘ کا ترجمہ سود یا بیاج کر کے اپنے لیے بلاوجہ مصیبت کھڑی کر لی ہے۔

 اس  مسئلے کے بارے میں، میں نے  سنہ ۱۹۹۹ میں  علامہ اقبال سہیل کی  کتاب ”ربا کیا ہے؟“  کو اردو، انگریزی اور عربی میں شائع کیا تھا اور اس کی کاپیاں ملک  کے اندر اور باہر  کے علماء اور مفتیان کو بھیجی تھی۔ آج تک اس کتاب کا کوئی جواب میرے سامنے نہیں آیا ہے، البتہ شام کے مفتی اعظم شیخ احمد کفتارو نے ضرور جواب دے کر میرا شکریہ ادا کیا تھا کہ تم نے بڑی خدمت انجام دی ہے۔

’’سود‘‘ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے مسلم معاشرہ بہت سے مسائل میں گھرا ہے اور آگے  نہیں بڑھ پا رہا ہے کیونکہ ہم نے راستےبند کر دئے ہیں اور کوئی متبادل نہیں فراہم کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہمارے کچھ علماء نے انشورنس کو بھی حرام قرار دے رکھا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو فسادات  اور دوسری ناگہانی مصیبتوں میں نقصان کے بعد اپنے پاؤں پر دو بارہ کھڑے ہونے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے۔

تعلیم:

 تعلیمی طور سے ہندوستان کے مسلمان دوسرے گروپوں سے پیچھے ہیں۔ ہمارا ۴۰۔۴۵؍ فیصد معاشرہ نا خواندہ ہے۔ اسکول چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ)  والے بچوں کی نسبت ہمارے یہاں سب سے زیادہ ہے جبکہ ہمارادین  روز اول سے علم حاصل کرنے کی ہمیں تلقین کر رہا ہے۔ علم میں یقینا دینی علوم  شامل ہیں لیکن دوسرے دنیاوی علوم بھی اسی طرح اہم ہیں۔ جب اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے کہا کہ ”علم حاصل کرو چاہے چین میں ہی کیوں نہ ہو“ تو اس کا مطلب دینی علوم تو نہیں تھے۔ ہمارا فرض ہے کہ زمانے اور حالات کے لحاظ سے جو علوم بھی مطلوب ہیں ان کو سیکھیں اور ان میں امتیاز حاصل کریں۔ ہمارے قدیم مدارس میں دینی علوم اور دنیاوی علوم کی تفریق نہیں تھی بلکہ وہیں سے مفسر اور عالم حدیث پیدا ہوتے تھے اور اُنھیں مدرسوں سے ریاضیات ، فلک اور طب کے ماہرین بھی نکلتے تھے۔ مغربی سامراج کے آنے کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹا اور مسلمانوں نے ایسے پرائیویٹ مدرسے بنانے شروع کر دئے جہاں دینی کیا  بلکہ صرف مسلکی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ سلسلہ اس بنیاد پر شروع کیا گیا تھا کہ  کہیں سرکاری  مدارس کے ذریعے سامراجی حکمران ہمارے دین میں بھی دخل اندازی نہ شروع کر دیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ یہ پرائیویٹ مدرسے اور ان کا نظام ِتعلیم مقدس ہو گئے ہیں۔ اب ان میں کسی تبدیلی کی بات کی جاتی ہے تو دین خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

 سچر کمیٹی کے مطابق ہندوستان میں تقریبا ۳۳ ؍ہزار مدرسے ہیں لیکن ہمارا ذاتی خیال ہے کہ  پرائیویٹ مدارس کی تعداد کئی لاکھ ہے۔ یہ مدارس ابتدائی، متوسط، ثانوی اور عالمیت و فضیلت کے درجات  تک کے ہیں۔ ان میں ہمارے تقریبا ۱۰ ؍فیصد بچے پڑھتے ہوں گے۔۸ ، ۱۰  اور ۱۲ سال گذارنے کے بعد جب یہ طلبہ مدارس سے باہر نکلتے ہیں تو  وہ اس دنیا کے لائق نہیں رہتے ہیں بلکہ صحیح معنوں میں ان کو دینی علوم اور عربی زبان  پر بھی پوری دسترس نہیں ہوتی ہے۔ وہ جدید عربی لکھنے اور بولنے پر قادر نہیں ہوتے ہیں۔

مدارس کے نصاب کی اصلاح کی باتیں تقریبا  ایک صدی سے چل رہی  ہیں لیکن عملا  کوئی اصلاح  بہت کم اور بہت دیر میں آتی ہے۔ ضرورت یہ تھی کہ یہ مدارس دینی اور عصری دونوں تعلیم دیتے اور ان سے نکلنے والا نوجوان  ہائی اسکول اور سینئر سیکنڈری اسکول کےسرٹیفکٹ لے کر باہر نکلتا  ۔ آج یہ نوجوان جو سند  لے کر نکلتا ہے اس کی دنیا میں کوئی قیمت نہیں۔ وہ صرف امام، مؤذن یا کسی مدرسے میں تدریس کے لائق ہوتا ہے۔  اگر زیادہ تیز و طرار ہوتا ہے تو ایک اور مدرسہ کھول لیتا ہے۔ چند سو  فارغین مدارس بعض ہندوستانی یونیورسٹیوں  میں داخلے لے کر انسانیات کے کچھ کورس کرلیتے ہیں یا  ان میں سے دس ،بیس بعض عرب یونیورسٹیوں  میں داخلے پا جاتے ہیں۔ لیکن ان  فارغین مدارس کی اکثریت عظمی حاشیے  پر زندگی گذارنے پر مجبور ہوتی ہے۔

  ہم نے کئی سال قبل جامعہ ازھر کے اسکولوں  (معاہد ازہریہ)کے طرز پر ہندوستان میں مدارس کا نصاب بنانے کی تجویز رکھی تھی لیکن کسی نے  اس پر توجہ نہیں دی۔ جامعہ ازھر کے اسکولوں   میں ایسی جدید و قدیم تعلیم ہوتی ہے کہ میٹرک کرنے  بعد بچہ کسی بھی اسٹریم میں جا سکتا ہے۔  ہندوستان کا ایک مدرسہ خود کو ’’ازہر ہند‘‘ کہتا ہے لیکن اصلی ازہر جو مصر میں ہے، جہاں میں نے بھی تعلیم حاصل کی ہے، یہاں کے مدارس سے بہت مختلف ہے۔ ایک تعلیمی ادارے کے طور سے جامع ازھر  ہزار سال قبل ایک مسجد سے شروع ہوا تھا لیکن زمانے کے لحاظ سے وہ خود کو بدلتا گیا۔ آج وہ ایک بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی ہے جس کے شہر نما کیمپس میں ہر علم و فن کی تعلیم دی جاتی ہے اور اس کی اسناد دنیا کی ہر یونیورسٹی میں قبول کی جاتی ہیں جبکہ ہمارے بعض مدارس کی سندیں سوائے چند ہندوستانی اور عرب جامعات کے کہیں منظور نہیں ہیں اور وہ بھی صرف کچھ کورسیز کے لیے۔ بعض ہندوستانی یونیورسٹیوں نے  کچھ متعینہ مدارس کی اسناد کو صرف  کچھ کورسیز میں داخلے کے لیے منظور کیا ہے لیکن لگ رہا ہے کہ نئی داخلہ پالیسی کے تحت غالبا یہ سہولیت بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے اب کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹسٹ (CUET)  لازم ہونے جارہا ہے جس کے لیے سینئر سیکنڈری اسکول کا سرٹیفیکیٹ لازمی ہوگا ۔ اس سال سے ۴۲؍ یونیورسٹیوں میں یہ ٹسٹ لازمی کیا جارہا ہے اور دھیرے دھیرے تمام یونیورسٹیو ں میں اسے لازمی  کردیا جائے گا۔مدارس کے فارغین اس ٹسٹ میں شریک ہی نہیں ہو سکیں گے کیونکہ ان کی اسناد منظور شدہ نہیں ہیں اور وہ درخواست ہی نہیں دے پائیں گے۔  اس خطر ناک صورت حال کی ارباب مدارس کو خبر ہی نہیں بلکہ شائد ان کو اس سے خوشی ہو کہ اب ان کے طلبہ یونیورسٹیو ں میں نہیں جا پائیں گے ۔

 تقریبا ۱۰۔۱۲  سال قبل یو پی اے سرکار نے مدرسہ مرکزی بورڈ بنانے کی تجویز رکھی تھی لیکن  بعض بڑے مدارس کی مخالفت کی وجہ سے حکومت پیچھے ہٹ گئی اور اب کوئی اس کی بات نہیں کر رہا ہے۔ میرے خیال میں اب بھی ضرورت ہے کہ حکومت اس طرح کا مرکزی بورڈ بنائے تاکہ مدارس کی اسناد کو سرکاری حیثیت مل سکے۔ جس مدرسے کو اس نظام میں شمولیت سے پریشانی ہو وہ اس سے دور رہے لیکن باقی مدارس کو محروم نہ کرے۔

اسی کے ساتھ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے عصری اسکولوں کی حالت بھی بالعموم اچھی نہیں ہے۔ ہمارے اسلاف نے تقریبا ہر شہر اور ہر قصبے میں اسلامیہ اسکول یا اسی طرح کے کسی نام سے اسکول قائم کئے تھے۔ کہنے کو تو یہ اسکول آج  بھی موجود ہیں لیکن مقامی لوگ وہاں اتنی  سیاست بازی  کرتے ہیں کہ نہ ایسے اسکولوں کا نظام ٹھیک ہے اور نہ ان میں اچھی تعلیم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مسلمان بچوں کو اچھی تعلیم نہیں ملتی ہے یا وہ دوسرے اسکولوں میں جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ نتیجۃ ً ہمارے بچوں کو زیادہ فیس دینے کے ساتھ طعنے بھی سننے کو ملتے ہیں اور کرناٹک میں حجاب جیسے مسائل سے بھی جوجھنا پڑتا ہے۔

اردو کے لیے ہم بہت روتے ہیں لیکن  ہم  اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے ہیں۔ اگر ہماری نئی نسل اردو نہیں پڑھے گی تو اردو کیسے باقی رہے گی؟  اسرائیل میں یہودیوں نے عبرانی زبان کو، جو دو ہزار سال سے  مردہ تھی، زندہ کر دیا اور وہ آج ایک بہت ترقی یافتہ زبان ہے۔  اور ہم  ہیں کہ ایک زندہ زبان کی بھی حفاظت نہیں کر پا رہے ہیں۔ اپنے بچوں کو اردو پڑھائے بغیر،  اس کو استعمال کئے بغیر، اردو اخبارات اور کتابیں خریدے بغیر  یہ زبان  کس طرح باقی رہے گی؟ جو کام ہم خود کر سکتے ہیں وہ نہیں کرتے ہیں اور بس دوسروں کو کوستے ہیں کہ انھوں نے اردو ختم کردی۔ اگر ہم اردو سے کٹ گئے تو وہ عظیم  ملی سرمایہ جو لاکھوں کتابوں میں محفوظ ہے،  ہم اس سے محروم ہو جائیں گے اور یہ نا ممکن ہے کہ ہم اس سرمائے کو کسی اور زبان میں منتقل کر پائیں گے۔  ہمیں اپنی شناخت کے لیے اردو کی حفاظت کرنی ہے۔

تنظیمیں:

 کہنے کو تو ہمارے یہاں ہزاروں مقامی سے لیکر ’’آل انڈیا‘‘تنظیمیں ہیں لیکن ان میں آپس میں کوئی میل ملاپ اور تعاون نہیں ہے۔ مختلف پروگرام ہر تنظیم کر رہی ہے۔  بار بار درخواست کرنے پر بھی  وہ نہیں بتاتے ہیں کہ وہ کس کس کی مدد کر رہے ہیں، جس کا نتیجہ ہوتا ہے کہ بعض شاطر لوگ مختلف  اداروں سے مدد حاصل کر لیتے ہیں اور حقدار محروم رہ جاتے ہیں۔ ہم نے ایک تجویز مختلف تنظیموں کو بھیجی کہ ایک مشترکہ ویب سائٹ ہونی چاہیے جس میں مختلف مدوں میں امداد پانے والوں کے نام اور ان کو دی جانے والی رقوم اپلوڈ کی جائیں تاکہ ایک ہی شخص کو کئی جگہ سے مدد نہ ملے۔ لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔  ہر تنظیم سمجھتی ہے کہ بس وہی کام کر رہی ہے ۔بعض شاطر لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کی خوب تشہیر کرتے ہیں لیکن شاذو نادر ہی کوئی تنظیم اپنےآڈیٹ شدہ اکاؤنٹس کو عام کرتی ہو یا اپنے ویب سائٹ پر ڈالتی ہو۔

سماجی مسائل:

 سماجی طور سے ہمارے خاندان بکھر رہے ہیں۔ اصل امور جیسے تعلیم اور کارو بار وغیرہ پر توجہ نہیں ہے ۔  جو پیسے بھی ہیں ان کو غلط رسوم بالخصوص شادیوں پر بے تحاشہ خرچ کر کے اڑایا جارہا  ہے بلکہ اس کی وجہ سے  لوگ بری طرح مقروض ہو رہے ہیں اور آباء و اجداد کی جائدادوں کو بلا وجہ کے دکھاوے کے لیے فروخت کر رہے ہیں۔ جن کے پاس ذرا سے پیسے ہیں وہ باربار دکھاوے کے لیے حج اور عمرے کر رہے ہیں جبکہ یہاں، غرباء، مدارس اور یتیم خانے  وغیرہ بہت بری حالت میں ہیں۔ صرف فیس نہ دے پانے کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنے بچوں کو ہر سال اسکولوں سے نکال لیتےہیں۔

میراث کے معاملے میں ہم تقریبا پوری طرح شریعت کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ شاذ و نادر ہی شریعت کے مطابق میراث کی تقسیم ہو رہی ہے بلکہ طاقتور افراد کمزور رشتہ داروں کو ان کے شرعی حق سے محروم کرتے ہیں اور بالعموم ہماری عورتوں کو ان کا حق نہیں ملتا ہے۔

اوقاف کی زمینیں اور جائدادیں  ہمارے آبا ءو اجداد نے  بہت سے فلاحی  کاموں اور مقاصد کے لیے وقف کی تھیں لیکن آج ان پر زیادہ تر قبضہ ہو چکا ہے اور قبضہ کرنے والوں میں مسلمان سب سے آگے ہیں۔

مسلم محلوں میں شراب، جوا، سود وغیرہ کا ارتکاب اب کھلے عام ہو رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اچھے اور دیندار لوگوں کو پرواہ نہیں کہ ان کے پڑوس میں کیا ہو رہا ہے۔ ضرورت تھی کہ مقامی سماج سدھار کمیٹیاں بنتیں اور ایسے جرائم کا سد باب خود کیا جاتا  لیکن لگتا ہے کہ  ہم بہت بے حس ہو چکے ہیں۔ ان فضول خرچیوں اور سماجی برائیوں کے بارے میں ہمارے علماء بھی کمر نہیں کستے۔ وہ انھیں شادیوں اور لا یعنی تقریبوں میں نظر آتے ہیں جس کے بارے میں وہ معاشرے کو اپنی تقریروں اور  تحریروں میں خبر دار کرتے ہیں۔

سماجی برائیوں میں ذات پات کا مسئلہ بھی ہے جو ہمارے اندر مقامی اثرات کی وجہ سے سرایت کر گیا ہے اور ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ اسلام میں ذات پات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسلام تو ہم کو بتاتا ہے کہ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اور سارے انسان برابر ہیں کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں۔ ہمارے رسولﷺ نے فرمایا تھا  کہ کسی ’’عربی کو کسی عجمی پر فضل نہیں ہے سوائے تقوی سے‘‘۔

سماج کے مسائل میں صحت کے امور سے غفلت اور مضر  مرغن غذائیں کھانا بھی شامل ہے جو ہمارے ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ ان مضر غذاؤں کی  وجہ سے ہمارے معاشرے کے اکثر لوگ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہیں اور اسپتالوں میں پیسے لٹاتے ہیں۔ اگر ہم اپنی صحت کا کچھ خیال کریں اور غلط قسم کی مرغن اور مصالحہ دار غذاؤں سے پرہیز کریں تو ہم  بہت سے امراض سے محفوظ ہو سکتے ہیں اور اپنے پیسے بھی بچا سکتے ہیں۔

ہم پرسنل  لاکی حفاظت کی  تو بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن ہماری آپس کی لڑائیاں محلہ سدھار کمیٹیوں یا دار القضا میں حل نہیں کی جاتی ہیں بلکہ ہم ان  کو عدالتوں میں لے جا کر جھوٹی شان کے لیے لاکھوں روپئے وکیلوں کو دیکر خود کو بر باد کرتے  ہیں ۔

اخلاقی گراوٹ:

 میرے نزدیک ہمارے سارے مسائل میں سر ِفہرست ہماری اخلاقی تنزلی کا مسئلہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ عمدہ اخلاق کے حامل لوگ آج بھی ہماری سو سائٹی میں  نظر آتے  ہیں لیکن عمومی حالت اخلاقی تنزلی کی ہے۔ آج ہماری عمومی حالت یہ ہے کہ دیگر اقوام کی بہ نسبت ہم میں اخلاقی ابتری زیادہ ہے۔ جھوٹ بولنا، امانت میں خیانت کرنا، وعدہ خلافی کرنا ہماری وطیرہ بن چکا ہے۔ اور یہی وہ صفات ہیں جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺنے کہا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک خصلت بھی کسی آدمی کے اندر ہو تو اس میں نفاق کی  ایک خصلت ہے اور اگر یہ تینوں خصلتیں کسی انسان میں پائی جائیں تو وہ پورا منافق ہے۔ یہ گویا ایک معیار ہے جس سے ہم ناپ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یا نہیں ہیں۔ ہمارے لیے یہ بہت تشویش کا مقام ہے کہ ہماری کثیر آبادی میں  یہ تینوں  بری خصلتیں موجود ہیں جن کے بارے میں رسول اکرمﷺنے پندرہ سو سال قبل وارننگ دے دی تھی کہ جن میں یہ خصلتیں ہوں وہ منافق ہے اور یہ ہم جانتے ہیں کہ منافق کا آخری مقام جہنم ہے۔

 یہ مسئلہ ہمارے لیے سر فہرست ہونا چاہیے  کہ کس طرح مسلمانوں کی اخلاقی ابتری کو سدھارا جائے اور ان کو اللہ پاک سے ڈرنے والے بندے بنایا جائے جو بڑے سے بڑے دنیاوی فائدے کے لیے بھی نہ جھوٹ بولتےہوں ، نہ وعدہ خلافی کرتے ہوں اور نہ امانت میں خیانت کرتے  ہوں۔

اس اخلاقی ابتری کی ایک بڑی وجہ ہمارا  کلام اللہ یعنی قرآن پاک سے دور ہونا ہے۔آج اکثر مسلمان قرآن پاک نماز میں یا  ثواب کے لیے بغیر سمجھے ہوئے پڑھتے ہیں لیکن  اُس ابدی ہدایت کے لیے نہیں پڑھتے ہیں  جس کے لیےہمارے اکثر لوگوں کو قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنا چاہیے جو ہماری تقریبا تمام زبانوں میں میسر ہے۔ قرآن پاک کے ذریعے اللہ پاک ہم سب سے ذاتی طور پر مخاطب ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ ہم اللہ کا پیغام اللہ کی کتاب سے نہیں بلکہ کچھ مولویوں سے حاصل کرتے ہیں جو کلام اللہ کے بجائے دین کو بعض فقہی کتابوں سے حاصل کرتے ہیں بلکہ ان میں سے بعض کی جرأت تو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ عوام کو قرآن پاک کا ترجمہ پڑھنے سے ہی منع کرتے ہیں کیونکہ انکے خیال میں عوام اس سے گمراہ ہو جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک زندہ کلام کو چھوڑ کر  ہم کچھ مولویوں کی خودساختہ آراء کو سنتے ہیں اور ان سارے تعصبات  کا شکار ہوجاتے ہیں جو ان کو ان کے مسلکی مدرسوں میں رٹائے جاتے ہیں۔

اسی  مسئلے  کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی مسجدوں کو صرف عبادت کے لیے مخصوص کردیا ہے جبکہ مسجدیں ہماری قوم کا مرکز ہیں اور حضور پاک ﷺ اور خلفاء راشدین کے دور میں ایسے ہی تھیں۔ یہاں ہماری  میٹنگیں ہونی چاہئیں، شادی بیاہ ہونا چاہیے، بچوں کی تدریس و تربیت ہونی چاہیے، محلہ سدھار کمیٹیوں کی میٹینگ اور کانفرنسیں یہیں ہونی چاہئیں۔ لیکن آج ایسا نہیں ہورہا ہے بلکہ نماز کے فورا بعد مساجد کے دروازوں پر تالے ڈال دئے جاتےہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہم نے مسجدوں کومسلکوں میں بانٹ لیا ہے، دوسروں کو ’’اپنی‘‘  مسجدوں میں آنے نہیں دیتے ہیں، اگرا ٓگئے تو ان کو برا بھلا کہتے ہیں بلکہ ان پر حملہ بھی کر دیتے ہیں ۔ جبکہ اللہ پاک نے کہا ہے کہ ’’مسجدیں اللہ کی ہیں‘‘ (المساجد للہ)۔ اسی مسئلے کا ایک اور حصہ یہ ہے  کہ ہم نے عربی میں خطبے پر اصرار کرکے اس عظیم ہفتہ وار تدریسی و تربیتی موقعے کو ضائع اور معطل کردیا ہے۔ خطبۂ جمعہ ہر ہفتے عوام کی تلقین و تربیت کے لیے تھا لیکن عربی خطبے پر اصرار کرکے ہم نے  اس کی افادیت معطل کردی ہے۔

اگر ہم کو اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں کچھ فکر ہے، اگر ہم قوم و ملک کی بھلائی چاہتے ہیں تو ہمیں ان باتوں پر سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور اپنی اصلاح کا سنجیدہ پروگرام بنانا ہو گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔