منشیات: ابھرتی جوانیاں تباہی کے دہانے پر

ڈاکٹرامتیازعبدالقادر

(بارہمولہ)

رات کے اندھیرے میں صبح کی بات تاریکی کوناگوارگزرتی ہے۔ باضمیر نفوس اندھیرے سے ہمیشہ ملول رہے ہیں اورانہوں نے سینکڑوں اندھیرے دریافت کئے ہیں، جن سے امت مسلمہ صدیوں سے نبردآزما ہے لیکن افسوس کہ اکثریت فقط زوال کارونا روتی ہیں۔ کام کیسے اورکہاں سے شروع کریں، لب خاموش، عقل زنگ آلود!

مولاناحسین احمدمدنیؒ سے کچھ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک بارمولانا ؒ ٹرین سے سفر کررہے تھے۔ سامنے والی نشست پرایک بڑے شائستہ اور’نستعلیق‘ سوٹ بوٹ والے صاحب تشریف فرماتھے۔ ابتدائی گفتگو ہوئی اورسُوٹ بوٹ والے ’انگریز نما‘ صاحب کومولوی صاحب بڑے دقیانوسی اورقوم کی پسماندگی کی دلیل نظرآئے۔چنانچہ بات چیت زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ کافی دیرسکوت چھایا رہا۔صرف ٹرین کی رفتار کااحساس ہلنے جھلنے سے ہوتارہا۔ کچھ دیربعد سُوٹ والے صاحب کوبیت الخلاء کی حاجت ہوئی۔ حاجت بشری کے لیے بیت الخلاء کادروازہ کھولتے ہی انہوں نے ناک پررومال رکھ لیا اورجھٹ سے دروازہ بند کرکے واپس اپنی نشست پرآبیٹھے۔’بیت الخلاء میں کسی بے ہودہ شخص نے غلاظت پھیلادی ہے۔‘ صاحب نے ناک بھوں چڑھا کرتنفرانہ لہجہ میں بڑبڑایا۔ واقعی کوئی نفاست پسندشخص وہاں ناک نہیں دے سکتاتھا۔ صاحب کی ضرورت شدید ہوئی تووہ پھر سے نشست سے بے قابو ہوکر’منزل مقصود‘کی طرف چل پڑے لیکن دروازہ واکرتے ہی کراہیت لوٹ آئی، اس لیے اندرجانے کی ہمت نہ کرسکے۔ شکستہ پااورٹوٹی امیدوں کے ساتھ واپس لوٹے۔ تین چاربارقصدکیا لیکن نامرادلوٹے!اب مولاناحسین احمدمدنی ؒ  اُٹھے۔ لوٹا ہاتھ میں لیا اوربلاجھجک بیت الخلاء میں داخل ہوکردروازہ اندر سے بندکرلیا۔ صاحب نے ایک مولوی کی اس بے حسی پرناک منہ بنایا۔ انہیں یوں بھی کسی مولوی سے تہذیب وتمیزکی امیدنہ تھی۔

دس پندرہ منٹ بعدمولانابیت الخلاسے برآمد ہوئے اورسُوٹ والے صاحب سے مخاطب ہوکر گویاہوئے’واقعی اندر بے حدغلاظت تھی اوروہاں جاناآپ کی نفاست پسندطبیعت سے بعیدتھا، مگر آپ کی سخت ضرورت دیکھ میں نہ رہ سکا۔میں نے بیت الخلا کوخوب اچھی طرح دھوکرصاف کیاہے۔ اب آپ اطمینان سے جاسکتے ہیں۔‘

بات غلاظت کوصاف کرنے کی ہے۔ چاروں طرف زوال، انحطاط، نکبت، عیاشی، افلاس، جھوٹ، فریب، زراندوزی، منشیات کی غلاظتوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ ہرشخص توناک پرہاتھ رکھ کر گھر میں جابیٹھتاہے۔ کوئی توجہ دلائے تولوگ اس کے سرہوجاتے ہیں۔ مولانا حسین احمدمدنی ؒ کودارِفانی سے کُوچ کئے ہوئے تقریباً ۶۵برس گزرگئے، ورنہ انہی کو اس کام پرلگاتے۔اب کرناہے تواپنے’سُوٹ بوٹ‘اتارکریہ کام خودہی کرناہے۔ یاپھر دیکھناہے کہ کوئی حسین احمد اس قسم کے کام میں کہیں لگاہواہے، ورنہ شکایتوں کادفتربند کرکے اپنے ’سوٹ‘ کی کریز درست کرتے رہیے یاپھر مصلاّ بچھا کر، دست دراز بلندکرکے دعاکریں کہ ’مَردے ازغیب بروں آید و کارے بکند‘(یعنی غیب سے کوئی مردنمودار ہواورکام کرگزرے۔)

          انسان کوجن نعمتوں سے نوازاگیاہے؛ان میں ایک عقل ودانائی بھی ہے۔قانونِ اسلامی کے ماہرین اورفلاسفہ نے لکھاہے کہ شریعت کے تمام احکام بنیادی طورپرپانچ مقاصدپرمبنی ہیں؛ دین کی حفاظت، جان کی حفاظت، نسل کی حفاظت، مال کی حفاظت اورعقل کی حفاظت۔گویاعقل اورفکرونظرکی قوت کوبرقراررکھنااوراسے خلل اورنقصان سے محفوظ رکھنااسلام کے بنیادی مقاصدمیں سے ایک ہے۔چنانچہ اسلام میں جن کاموں کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اورجن سے منع فرمایاگیاہے، ان میں ایک نشہ کااستعمال بھی ہے۔قرآن نے نہ صرف یہ کہ اس کوحرام بلکہ ناپاک قراردیا ہے۔ اللہ تعالٰی کاارشادہے:

          ترجمہ:’اے ایمان والو!شراب اورجوااوربت اورفال کے تیرسب شیطان کے گندے کام ہیں، سوان سے بچتے رہوتاکہ تم نجات پائو۔ ‘(المائدہ:۹۰)

          انسان کاسب سے اصل جوہراس کااخلاق وکردارہے ؛نشہ انسان کواخلاقی پاکیزگی سے محروم کرکے گندے افعال اورناپاک حرکتوں کامرتکب کرتی ہے۔احادیث میں بھی اس کی بڑی سخت وعیدآئی ہے اورباربارآپ ﷺ نے پوری صفائی اوروضاحت کے ساتھ اس کے حرام اورگناہ ہونے کو بتایا ہے، آپﷺنے فرمایا:’ہرنشہ آورچیزحرام ہے۔‘(بخاری؛عن عائشہؓ)

           سورۃالمائدہ آیت ۹۰ میں ’خمر‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو خاص طور سے قابل توجہ ہے۔ ’خمر ‘عربی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے۔ اس لفظ کے بارے میں حضرت عمرؓ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ ’خمر اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل پر پردہ ڈال دے۔‘ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ شراب اور عقل میں کیا تعلق ہے۔ وہی اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے کسی مخصوص قسم کی شراب ہی کو حرام نہیں قرار دیا ہے بلکہ اس کے دائرے میں ہر وہ چیز شامل ہے جو نشہ آور ہو اور انسان کی سوچنے سمجھنے کی قوت کو زائل یا متاثر کر دے۔

          نشہ کاسب سے بڑانقصان صحت کوپہنچتاہے۔اطباء اس بات پرمتفق ہیں کہ شراب ودیگرمنشیات ایک سست رفتارزہرہے؛جوآہستہ آہستہ انسانی جسم کوکھوکھلااورعمرکوکم کرتاجاتاہے۔انسان کی زندگی اس کے لیے امانت ہے، نشہ کا استعمال اس امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔

          رسول اللہﷺنے شراب کو’ام الخبائث‘(نسائی)اور’ام الفواحش‘(ابن ماجہ)قراردیاہے۔ایک موقعہ پرآپﷺ نے ارشادفرمایا:’جیسے درخت سے شاخیں پھوٹتی ہیں ؛اسی طرح شراب سے برائیاں جنم لیتی ہیں۔ ‘(سنن ابن ماجہ، عن خبابؓ)

          وادی کشمیر میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور اسلام میں منشیات کا استعمال حرام قرار دیا گیا ہے لہٰذا اس برائی کے خاتمے کے لیے مذہبی مبلغین کواپنی توانائیاں صرف کرنی چاہیے۔وقت کاتقاضاہے کہ فروعی مسائل میں قیمتی وقت ضائع کرنے کے بجائے ترجیحاتی بنیادوں پراس سُلگتے ناسورپرغوروفکرکرکے نسلِ نوکی حفاظت وآبادکاری کے اقدامات اٹھائیں جائیں۔ ہرمکتبِ فکرکے مبلغین، ائمہ مساجد و دیگر دینی تنظیموں کو اس سلسلے میں حساس ہونے کی ضرورت ہے اور مطلوبہ نتائج جلد حاصل کرنے کے لیے ان کے اثر و رسوخ سے پورا فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔

          رسول اللہ ﷺ فرمایاہے:’ شراب کے پینے اور پلانے والے، اس کے بیچنے اور خریدنے والے، اس کے نچوڑنے اور نچوڑوانے والے، اسے لے جانے والے اور جس کے لیے لے جائی جائے ؛سب پر اللہ کی لعنت ہو۔ ‘( ابودائود:۳۶۷۴)

          غرض نشہ جسمانی، مالی، سماجی اوراخلاقی ہرپہلوسے انتہائی مضرت رساں چیزہے۔اس وقت نوع بنوع منشیات کی کثرت اوراس کے استعمال میں جوعموم پیداہورہاہے، وہ حددرجہ تشویشناک بات ہے۔

جموں وکشمیرمیں منشیات کی وباء :   

           سرکاری اعدادوشمارکے مطابق جموں وکشمیرمیں چھ لاکھ افرادیعنی آبادی کا4.5فیصدحصہ اس لت میں مبتلاہے۔منشیات کے متاثرین میں ۹۰ فیصد سے زیادہ کی تعداد ۱۷ سے ۳۳ سال کے عمر کے نوجوانوں کی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے اعداد و شمار کے مطابق اسپتال میں آنے والے منشیات کے مریضوں کی تعداد میں ۲۰۱۴ ؁سے  ۲۰۲۱؁ تک ۱۰۰ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ کشمیر کے اسپتالوں میں ۲۰۲۱؁ میں منشیات کے مریضوں کی تعداد میں پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال(SMHS)سرینگر میں قائم منشیات کے مریضوں کی خدمت کے لیے وقف ادارہ میں موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کہ منشیات کے نتائج سے پیدا شدہ صورتحال بد سے بد تر ین شکل اختیار کر رہی ہے۔ معاملہ صرف شراب نوشی کا نہیں ہے جس کی تقریباً ۲۰ کروڑ سے زیادہ بوتلیں ہر سال جموں و کشمیر میں استعمال کی جاتی ہیں بلکہ نت نئی قسم کی منشیات نے نئی نسل کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں درونِ نس نشے(Intravenous Heroin ) میں ۳۴۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر یاسر راتھر جو کہ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے Drug De-Addiction سینٹر کے ناظم ہیں کا کہنا ہے کہ’ نئی قسم کے Heroin کا بڑھتا استعمال منشیات کے وباء میں اک نئی وباء کا آغاز ہے ؛جس کے نتائج Hepatitis اور AIDSسے بھی خطرناک ہیں۔ ‘ جموں کشمیر میں افیوم ( (Opium کا استعمال لاکھوں کی تعدادمیں لوگ کررہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ منشیات کی بدعت ہمارے اطراف و اکناف میں پھیل چکی ہے اور تقریباً ہر علاقے میں منشیات کادھندہ کرنے والوں کا ایک مافیا نیٹورک وجود میں آچکا ہے جو پیسوں کی لالچ میں نوجوانو ں کو اپنے مذموم منصوبوں کا شکار بنا رہے ہیں۔ منشیات کا گھنائونا دھندا کرنے والے کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی لالچ میں سماج کو اخلاقی، معاشی، سماجی، معاشرتی، نفسیاتی اور جسمانی طور اپاہچ بنا دینا چاہتے ہیں۔ یاد رہے منشیات سے دماغ مریض ہو جاتا ہے اور جسم و روح اپنی قوت کھو بیٹھتے ہیں، نتیجے کے طور پر سماج میں بے اخلاقی، بے راہ روی، چور ی و ڈاکہ، گھریلو تشدد، غنڈہ گردی اور سماج مخالف حرکتیں عروج کو پہنچتی ہے۔ ایسے سماج میں نہ بزرگوں کی عزت محفوٖظ ہے اور نہ خواتین کی عصمت بلکہ یہ سماج انسانیت کا دشمن قرار پاتا ہے۔

          ایسی صورتحال میں وقت آگیا ہے کہ منشیات کے خلاف صف آرا ہوا جائے اور ایک منصوبہ ساز طریقے سے ایک اجتماعی لائحہ عمل بنایا جائے تاکہ اس طوفانِ بدتمیزی کا مقابلہ کیا جاسکے۔ سماجی اداروں اور حکومت پر زور دیا جائے کہ وہ منشیات کے فروغ کو روکنے میں موثر اقدامات کریں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا جائے کہ ڈرگ مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی کی جائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں اساتذہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر ان کے مسائل سمجھنے کی کوشش کریں، ان کے ذہنی بوجھ کو ہلکا کریں، ان کو منشیات کے نقصان سے آگاہ کریں اور اگر کوئی اس وباء کا شکار ہوا ہے تو انہیں ضروری رہنمائی فراہم کریں۔ میڈیابھی سماج کے تئیں اپنے فرائض کاادراک کرکے منشیات کا دھندا کرنے والوں کوبے نقاب کرے اور ان کے عزائم سے پردہ کشائی کرے۔

          مذہبی تنظیموں اور ائمہ کرام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سماج کے سامنے اسلا م کا نقطہ نظر پیش کریں۔ او رانہیں بتائیں کہ اسلام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ انسان کا اصل جوہر اس کے اخلاق اور کردار ہیں اور منشیات انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندگی اور ناپاکی میں دھنسا دیتے ہیں۔ مسلمانوں کو بتا یا جائے کہ رسول اللہ ,ﷺ نے ہر نشہ آور چیز کو حرام قرار دیا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جس شئے کی زیادہ مقدار نشے کی باعث ہو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔ (ترمذی)  رسول اللہ ﷺ نے منشیات کے ساتھ ساتھ ایسی چیزوں سے بھی منع فرمایاہے جو جسم کے فتور کا باعث ہوں۔ (ابو دائود)

          مغربی ممالک میں منشیات نے خاندانی نظام کو توڑ دیا ہے، سماجی روابط کو کمزور کردیا ہے، رشتوں کو بکھیر دیا ہے اور عوام کو ذہنی و قلبی سکون سے محروم کر دیا ہے۔ اتنی تباہ کاریوں کے باوجود مشرق کے لوگ بالخصوص نوجوان نشے کو مغربی فیشن کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جمعہ کے خطبوں اوردیگر دینی مجالس میں سماج کو منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیاجائے اور عوامی بیداری کی ایک مہم چلائی جائے۔ وہ لوگ جو منشیات کے پھیلائو میں ممدو معاون ہیں ؛ ان کے ہاتھ روک دیے جائیں اور نوجوان نسل کے ساتھ سنجیدہ مکالمہ شروع کیاجائے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ جمعہ کے موقعہ پر عوام ہمارے باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں عوام کو بتانا چاہیے کہ منشیات کے سنگین مسئلے سے نپٹنے کے لیے انفرادی کاوشیں کار گر ثابت نہیں ہو سکتیں لھٰذاتمام سماجی و انتظامی اداروں کو مل جُل کر کام کرکے اس وباء کو جڑ سے اُکھاڑنے میں اپنا رول ادا کرنا ہوگا۔

          غیرمسلم برادری بھی اس سوسائٹی کاجزوِلاینفک ہیں اوریہ وباان کے گھروں میں بھی دستک دے چکی ہے۔نیکی کے اس کام میں انہیں بھی اجتماعی فوائدکاادراک کرکے منشیات کے خلاف منظم طریقے پر صف آراہونے کی ضرورت ہے۔ہرمذہب اورانسانیت کاہرسبق نشہ کوغلیظ وناپاک تصورکرتاہے۔سکھ مذہب میں نشہ کرنے کی ممانعت ہے(سکھ خالصا)۔ہندومت میں بھی اس کی ممانعت کاحکم موجودہے۔رِگ ویدمیں نشہ کرنے والے کوگناہ گار تصور کیاگیاہے۔(۶۔۵۔۱۰)

          پایسی سازاداروں کومنشیات کے خاتمے کے لیے سخت ترین قوانین بنانے ہوں گے اوران پرعمل کرناہوگا۔ہماری نوجوان نسل ہی ہمارے مستقبل کااثاثہ ہے۔اپنی بقاکے لیے ہمیں اس قیمتی اثاثہ کوکسی بھی حال میں بچاناہوگا؛اسی میں ہماری خوشحالی اورترقی کارازپنہاہے اوراللہ کی بارگاہ میں خلاصی کاایک سبب بھی۔

          ادارہ فلاح الدارین بارہمولہ نے ۸مئی سے ۱۴مئی۲۰۲۲ء تک منشیات کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں اس میدان کے ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرکے اسکولوں او ر کالجوں میں منشیات مخالف آگاہی عام کی جائے گی۔ مہم کے دوران سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے منتظمین، صحت عامہ سے وابستہ افراد، نوجوانوں اور خواتین انجمنوں کے ساتھ بھی بات ہوگی۔یہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے اور اللہ کے حکم امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا تقاضا بھی ہے کہ سماج میں بڑھتی منشیات کی وباء ہمارا موضوع بنے۔

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا