پھول دیتے ہیں یا فول لیتے ہیں؟

عظمت علی

برصغیر کی تہذیب و تمدن انسانی اقدار کے مطابق ہوا کرتی ہیں، اس لیے ہمارے ملک کے کلچر پر کبھی کیچڑ نہیں اچھالا گیا، نہ الزام آوارگی لگایا گیا۔ اس کے باوجود ہم مغربی کلچر پر فریفتہ ہوئے جارہے جہاں آوارگی اور بے راہ روی کے شکار ہونے کا امکان بھی ہے۔ ہم آزاد ہیں مگر مغربی کلچر کے غلام بھی۔ کہنے کو تو ہم آزاد ہیں مگر غلامانہ ذہنیت کے ساتھ یعنی ہم ’آزاد غلام ‘ہیں۔پہلے ہم جسمانی غلام تھے، اب کلچرل اور فکری ۔ عجیب بات یہ کہ ہمیں یہ سب کرتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے۔

14  فروری کی روایت بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔آج کے دن مشرق میں بھی مغربی کلچر میں کھلا گلاب تقسیم کیا جاتا ہےاور پھر جانے انجانے میں اس پھول کی آڑ میں کتنوں کو فول بنا دیا جاتا ہے ۔

14 فروری یا ویلنٹائنس ڈے کی بات کریں تو تاریخی شواہد کے مطابق تیسری صدی عیسوی میں رومانی بادشاہ کلاڈیس ثانی (Claudious ll)، اپنے وقت کا ایک سفاک بادشاہ تھا، جنگ کا زمانہ آگیا۔ اس نے لشکر تیار کرنے کو کہا لیکن سوا ئے چند فوجیوں کےکوئی آمادہ پیکار نہ ہوا۔ وجہ دریافت کی تو معلوم ہواکہ شادی شدہ مرد اپنے اہل و عیال سے دور ہو کر شریک معرکہ نہیں ہوناچاہتے اورنوجوان اپنی معشوقہ کے دام عشق سے باہر نہیں آنا چاہتے۔اس وقت اس نے شاہی فرمان جاری کیا۔ اب کوئی شادی بیاہ نہیں کرے گا، ویلنٹائن نے اس کی خلاف ورزی کی اور شادی رچالی۔ جب بادشاہ کو علم ہوا تو اس نے اسے پھانسی پر لٹکادیا۔آج لوگ اسی کی یاد تازہ کرتے ہیں ۔

دوسری تایخ میں ویلنٹائن نامی ایک پادری تھا۔ وہ ایک راہبہ کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہوگیا چونکہ عیسائی مذہب میں پادری اور راہبہ کے لیے نکاح حرام ہے،اس لیےایک روز اس نے اپنی معشوقہ کی تسکین کی خاطر ایک خواب بیان کیا۔ کہا 14؍ فروری کے دن اگر کوئی راہب یا راہبہ صنفی ملاپ بھی کرلیں تو کوئی حرج نہیں اور اسے گناہ کے زمرے میں شامل نہیں کیاجائے گا۔راہبہ بھی اس کی میٹھی باتوں میں آگئی ۔ دونوں نے عشق کے نشہ میں کلیسا کی ساری روایات کو بالائے طاق رکھ دیااور وہ سب کچھ کر گزرے جو نام نہاد عشق و محبت میں ہوا کرتاہے۔

کلیسا کی روایت کی یوں دھجیاں اڑا دینے پر اس کا بھی وہی حشر ہوا جوہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے ،اسے قتل کردیاگیا۔بعد میں کچھ منچلے اور مغرب زدہ حواس باختہ ٹولے نے ولنٹائن کو’ شہید محبت‘ کا لقب دے کر اس کی یاد منانا شروع کردی۔

14 ؍فروری کے متعلق یہ بھی کہا یہ جاتاہے کہ اس کا آغاز ایک رومی تہوار لوپر کیلیا(Luper Calia)”بھیڑیا کا تہوار‘‘کی صورت میں ہوا۔ یہ13 تا 15؍فروری منایا جانے والاتہوارہے۔اس روز قدیم رومی باشندے اپنے دیوتاؤں سے بدی کی طاقت سے نجات اور معاشرے کو اچھا ئی کی طرف راغب کرنے اور خوشحالی و زمین کی زرخیزی کی دعائیں مانگتے تھے۔

رومی حضرات اس تہوار کو’ لوپا‘ (Lupa)نامی دیوی سے منسوب کرتے تھے۔کہاجاتا ہے کہ یہ ایک مادہ بھیڑیا تھی جس نے دو شیر خوار یتیم بچوں ؛رومولس (Romulus)اور ریمس (Remus)کو اپنا دودھ پلایاتھا۔ رومیوں کی تاریخ کے مطابق بعد کے زمانہ میں انہیں دونوں نے ’ملک روم‘ کی بنیاد ڈالی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس روز قدیم روم میں لڑکیاں پرچیوں پر اپنا نام لکھ کر ایک صندوق میں ڈال دیا کرتیں۔لڑکے آتے،اسے نکالتےاوراس میں جس لڑکی کا نام آجا تا وہ اس کی دوست بن جاتے ۔ پھر عشق ومحبت کا دور شروع ہوجاتا ۔

 تمام واقعاتی پس منظر میں سب سے زیادہ مشہورواقعہ یہ ہے کہ اس کا آغاز ’’رومن سینٹ ولنٹائن ‘‘کی مناسبت سے ہوا جسے’ محبت کا دیوتا‘ بھی کہتے ہیں ۔ اسے مذہب تبدیل نہ کرنے کی جرم میں قید وبند کی صعوبتوں میں رکھا گیا۔ قید کے دوران اسے جیلر کی لڑکی سے پیار ہوجاتاہےاور پھر وہ دونوں غیر جائز طریقہ کو اختیار کرجاتے ہیں …۔سولی پر لٹکانے سے پیشتر اس نے جیلر کی بیٹی کو الوداعی محبت نامہ لکھا جس میں دستخط سے پہلے ’’تمہارا ولنٹائن ‘‘تحریر تھا۔ یہ واقعہ 14؍ فروری 279؍عیسوی کو پیش آیا اور اسی کی یادمیں’ ولنٹائنس ڈے‘ منایا جاتاہے۔

بہرکیف…!اتنا تو ضرور ہے کہ اس کا پس منظر جھوٹ، فریب اور دھوکہ دھڑی سے عبارت ہے۔اس میں عاشق اپنے معشوق کو پھول اور کارڈکا تحفہ دیتے ہیں۔تحفہ دینا ،بذات خود بری بات نہیں مگر نامحرم سےجھوٹی محبت کے راگ الاپنا بہرحال غلط ہے۔محبت ہی کرنا ہےتو پھر صحیح راستے کا انتخاب کریں مگر شاید صحیح راہوں میں بہت زیادہ چبھن ہے ، اس لیے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔