کورونا : حفاظتی تدابیر اورعلاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

مفتی عبد اللہ خالد

تقریباً ایک سال قبل.ظاہر ہونے اور پوری دنیا کو اپنے چپیٹ میں لے  لینے والا کورونا وائرس ابھی بھی.ختم نہیں ہوا ہے بلکہ محققین کے مطابق ایک نئی شکل میں ظاہر ہوچکا ہے جو پہلے سے زیادہ خطرناک اور مہلک ہےـ

 اگر ہم حالات کا جائزہ لیں تو کرونا وائرس دیکھنے میں ایک بیماری ہے لیکن اگر اس کو خدا کا عذاب کہا جائے توشاید غلط نہیں  ہوگا۔ جو حالات اس وقت پوری دنیا کے ہیں، ہر طرف بے حیائی،فحاشی، ظلم، ناانصافی، نفاق،خودغرضی، قطع رحمی، بدظنی، غیبت،چغلی، کینہ، حسد، خیانت، الزام تراشی، قتل، چوری، بدنگاہی، رشوت اور حق تلفی وغیرہ نافرمانیاں عروج پرہیںـ حلال وحرام کے درمیان تمیز ختم ہو چکی ہے،ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ چکا ہے۔ لیکن کوئی طاقت اس کو روکنے.کی روادار نہیں مظلوم کی مدد کرنے کیلیئے کوئی تیار نہیں بلکہ سب ظالم ہی کی اعلانیہ یا خفیہ معاونت کے لیئے مستعد نظر آتے ہیں وہ کہتے ہیں نا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہے جب آتی ہے تو پوری دنیا کو ہلا کے ر کھ دیتی ہے۔ دیکھئے!خدا کا عذاب ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور سب کو بتا دیا تم تو اپنے آپ کو سوپر پاور سمجھتے ہو ایک طرح سے انا ربکم الاعلی کے دعویدار ہو، لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے جس میں تم مبتلا ہو، سب سے طاقتور ذات  اور حقیقی سوپر پاورصرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ذات  ہے۔

       کسی بھی مرض اور حالات میں احتیاطی تدابیر تعلیمات اسلامی کے نہ تو خلاف ہے نہ ہی یہ اعتماد علی اللہ کے منافی اوربزدلی ہے ـ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سارے مواقع پر احتیاطی تدابیر اختیار فرمائی ہیں۔

1-جب قریش کے کفار، مومنین کو انتہائی دردناک تکالیف پہنچاتے تھے تو اللہ کے نبی ﷺ یہ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی ان کفار کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاتے تھے، اس میں احتیاط یہ تھی کہ اگر اس وقت ان کفار کے خلاف ہتھیار اٹھایا جاتا تو مسلمان تعداد میں بہت کم ہونے کی وجہ سے سب کے سب شہید کیے جاتے، لہذا اس وقت حکمت کا تقاضا یہی تھا جس پر اس وقت کے مسلمانوں نے عمل کیا۔ لہذا اس کو کسی بھی صورت میں بزدلی یا اعتماد علی اللہ کے خلاف نہیں کہا جاسکتا۔

2۔ نبی ﷺ نے جو طریقہ کار ہجرت کے وقت اختیار کیا وہ سراسر احتیاط تھا۔ گھر سے نکلنے کا طریقہ اور وقت کا تعین، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ملنے کا طریقہ، پھر غار ثور تک جانے کا طریقہ، پھر اس میں کچھ دن چھپ جانا، پھر وہاں سے نکلنا، پھر مدینہ جانے کے لیے مخصوص راستہ اختیار کرنا، راستہ میں اپنی پہچان کو پوشیدہ رکھنا۔ یہ سب کا سب نبی ﷺ نے اس لیے کیا تاکہ دشمن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایسا صرف اور صرف احتیاطی تدبیر کے طور کیا گیا ـ

3۔ غزوہ احزاب کے موقع پر دشمن کا آمنا سامنا کرنے کے بجائے مدینہ کے بعض اطراف کے اردگرد ایک خندق کھودا گیا تاکہ دشمن آگے بڑھ کر مدینہ پر حملہ آور نہ ہوسکے۔ یہ بھی احتیاطی تدبیر تھی ـ

4۔ حدیبیہ کے موقع پر جب نبی ﷺ کفار کے ساتھ صلح کی تو بظاہر ایسا لگتا تھا کہ اس صلح نامہ کی شرائط میں مسلمانوں کی پسپائي ہے لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ایسا احتیاط کی وجہ سے اختیار کیا کیوں کہ مسلمان اس موقع پر جنگی پوزیشن میں نہیں تھے اور جو شرائط اس وقت طے پائے ان سے مسلمانوں کو بعد میں بہت فائدہ پہنچا۔ صلح کی ان شرائط کو تسلیم کرنا بھی بہت بڑی دانشمندی تھی

5۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وباء زدہ شام ( سیریا )میں داخل نہ ہونے بلکہ واپس لوٹنے کا فیصلہ کرنا ان کی دانشمندی، دوراندیشی، اور امت کی غم خواری کی بنیاد پر ایک احتیاطی تدبیر تھی ـ

یہ تھیں بہت ساری مثالوں میں سے چند کا ذکر۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاطی تدبیر اختیار کرنا بزدلی اور توکل یا اعتماد علی اللہ کے خلاف  نہیں بلکہ دانشمندی اور دوراندیشی ہوتی ہے۔ جنگ میں دشمن کو مارنایا خود مرنا مقصد نہيں ہوتا ہے بلکہ دشمن پر فتح حاصل کرنا مقصد ہوتا ہے لہذا اگر وہ لڑائی اور خون خرابہ کے بغیر ہی حاصل ہوجائے تو لڑنا کیوں ضروری ہے ؟ ! اور جنگ کو لڑے بغیر حکمت اور تدابیر سے ہی جیتا جاسکتا ہے جیسے غزوہ احزاب اور فتح مکہ کی مثالیں ہیں۔ اسی طرح بیماری سے بچنے کے لیے صرف دواء ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس سے حکمت اور تدابیر سے بھی بچا جاسکتا ہے، لہذا جب ایسا ممکن اور آسان ہو تو دواء کا استعمال کیوں ضروری ہے؟ ! اس طرح سے ہمیں حکمت اور تدابیر کی اہمیت اور افادیت معلوم ہوتی ہے۔

بیماری سے بچاؤ کے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شریعت کے عین موافق ہے :

1۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ” (مسند احمد، بخاري )

یعنی : کوڑھی  شخص سے ایسے بھاگو جیسے تو شیر سے بھاگتا ہے۔

اس لیے احتیاطی تدابیر عین منشأ شریعت ہے ـ اب آئیے حکومتی وسرکاری احتیاطی تدابیر کا موازنہ.اصول شریعت سے کرکے.دیکھتے ہیں ـ

ڈاکٹروں، حکیموں اور اطباء کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس طاعون، برص اور جذام کی طرح متعدی بیماری ہے اس کے جراثیم مہلک اور مضر ہوتے ہیں اجتماعیت واختلاط سے انتقال وائرس ہوتا ہے جس کی ضرر رسانی اور ہلاکت خیزی سے پوری دنیا واقف ہے اس لیے ہر شخص ایک دوسرے سے کم از کم ایک میٹر کی دوری بناۓ رکھے تاکہ اگر کسی کو وبائی مرض لاحق ہو تو بات کرتے وقت اس کے جراثیم آپ کو نہ لگ جائیں ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ جراثیم (وائرس)ایک میٹر کی دوری تک ہوامیں نہیں رہ سکتے اس سے پہلےہی وہ زمین پرآجاتے ہیں .

 حکومتی تدابیر

انسانوں کو اجتماعی قرب واختلاط سے روکنے لیے حکومت نے دفعہ 144 اور لاک ڈاؤن کا نفاذ کررکھا ہے سماجی فاصلہ بھی بنا ۓ رکھنے کی ہدایت اس پر مستزاد ہے آپ کو تعجب ہوگا کہ اس معاملے میں حکومت کی جو بھی ہدایات وتدابیرہیں وہ اسلامی تعلیمات کے کسی طرح بھی منافی نہیں ہیں ـ

 لاک ڈاؤن

حدیث شریف میں ہے”اذا سمعتم بالطاعون بارض فلا تد خلو ہا واذا وقع بارض انتم بھا فلا تخر جوا منھا“ترجمہ:جب تمہیں معلوم ہو کہ کسی جگہ طاعون ہے تو وہاں مت جاؤ اور جہاں تم ہو وہاں اگر طاعون پھیل جائے تو اسے چھوڑ کر مت جاؤ“(صحیح بخاری)چونکہ اسکریننگ اور ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹریز اس وقت موجود نہیں تھیں۔ اس لیے کسی بھی متاثرہ علاقے سے نکلنے اور داخل ہونے پر پابندی لگائی تھی مذکورہ روایت کی روشنی میں آج کے لاک ڈاؤن کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے.

سماجی دوری

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:فرمن المجزوم کما تفر من الا سد“ ترجمہ:جذامی شخص سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو“(صحیح بخاری)اس زمانے میں جراثیم کی دریافت نہیں ہوئی تھی۔ لیکن معلم کائنات سیدالاطباء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے علم و مشاہدے میں یہ بات آگئی تھی کہ جو لوگ مریض کے قریب اور رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کو بھی بیماری لگ جاتی ہے۔ یوں جذامی کو شیر جتنا مضر اور خطرناک بیان کیا گیا ہے۔ جذامیوں کی بیماری سے بچنے کے لیے حضور اکرم ﷺ نے ان سے ایک نیزہ کے فاصلہ سے بات چیت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث شریف میں ہے”واذا کلمتمو ہم فلیکن بینکم و بینھم قدر رمح“ ترجمہ:جب تم ان (جذامیوں ) سے بات چیت کرو تو تمہارے اور ان کے درمیان ایک نیزہ کا فاصلہ ہونا چاہیے“(مسند احمد)ایک اور روایت میں ہے:عن اﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺃﻭﻓﻰﺃﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻗﺎﻝﻛﻠﻢ اﻟﻤﺠﺬﻭﻡ ﻭﺑﻴﻨﻚ ﻭﺑﻴﻨﻪ ﻗﻴﺪ ﺭﻣﺢ ﺃﻭ ﺭﻣﺤﻴﻦ (عمدةالقاري ج 21 ص 247) ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی سےروایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا کہ تم کوڑھی اوراپنے بیچ ایک یادو نیزے کافاصلہ کرکے بات چیت کرو,واضح رہے کہ ایک نیزہ تقریباً چھ سات فٹ کاہوتاہے پھردونیزے کی دوری تودس سے پندرہ فٹ کے قریب ہوجاتی ہے ـ

ہاتھوں کو دھونا

ایک سرکاری احتیاطی مشورہ یہ بھی دیاگیا ہے کہ بار بار ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح دھویا جائے  ـ  شریعت اسلامیہ نے بھی اس کا حکم دیا ہے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب استنجا سے تشریف لاتے توزمین میں رگڑ کر دست مبارک دھویا کرتے ـ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ” نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے جب استنجاء کر لیا تو اپنے ہاتھوں کوزمین پر رگڑا“۔ (سنن الترمذي، کتاب الطھارة، باب: دلک الید بالأرض بعد الاستنجاء،)

 موجودہ دور میں صابن وغیرہ سے ہاتھوں کو دھو لینا بھی اس کا قائم مقام ہو جائےگا۔ پھراسلام میں وضو کی اہمیت مسلم ہے  پانچوں وقت کی نمازوں کے لیئے تووضو ضروری ہے ہی اس کے علاوہ اسلام میں ہروقت باوضورہنابھی مطلوب ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہےـ

ایک روایت میں ہےعبدُ اللّٰہ بن بُرَیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :” ایک دن صبح کو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرتِ بِلال کوبلایا اور فرمایا:” اے بِلال کس عمل کے سبب جنت میں تو مجھ سے آگے آگے جارہا تھا میں رات جنت میں گیا تو تیرے پاؤں کی آہٹ اپنے آگے پائی۔ ” بِلال ؓ نے عرض کی: ”یا رسول اللّٰہ! میں جب اذان کہتاہوں اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیتا ہوں اور میرا جب کبھی وُضو ٹوٹتاہےتو وُضو کر لیا کرتاہوں۔ حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی سبب سے۔(ابنِ خُزیمہ )

 جو شخص ہمیشہ باوضو رہتا ہے تو اللّٰہ تعالیٰ اسے سات خصلتوں کی عزت بخشتا ہے۔

فرشتے انکے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔

اعمال لکھنے والے فرشتے اسکا سارا وقت عبادت میں لکھتے رہتے ہیں۔

بدن کے تمام حصے تسبیح کرتے ہیں۔

جماعت میں اسکی پہلی تکبیر کبھی نہیں چھوٹتی۔

فرشتے اسکی حفاظت کرتے ہیں۔

اللّٰہ تعالیٰ جان نکلنے کے وقت کی مشکل کو آسان فرماتا ہے۔

جب تک وضو رہے اللّٰہ تعالیٰ کی امان میں رہتا ہے۔

رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ  مسلمان بندہ جب وُضو کرتا ہے تو کُلّی کرنے سے مونھ کے گناہ گر جاتے ہیں اور جب ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا تو ناک کے گناہ نکل گئے اور جب مونھ دھویا تو اس کے چِہرہ کے گناہ نکلے یہاں تک کہ پلکوں کے نکلے اور جب ہاتھ دھوئے تو ہاتھوں کے گناہ نکلے یہاں تک کہ ہاتھوں کے ناخنوں سے نکلے اور جب سر کا مسح کیا تو سر کے گناہ نکلے یہاں تک کہ کانوں سے نکلے اور جب پاؤں دھوئے تو پاؤں کی خطائیں نکلیں یہاں تک کہ ناخنوں سے (اِمام مالِک و نَسائی )

رسول ا للّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ جو شخص وُضو پر وُضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ (ترمذی)

 *ظاہر ہے کہ جومسلمان ہروقت باوضو رہنے کے لیئے بار بار اچھی طرح وضو.کریگا.تو اسکا وائرس کہاں باقی رہیگا*

 اوراگر وضو کے عمل کو سائنسی بنیادوں پر پرکھا جائے تو حیرت انگیز انکشافات ہوتے ہیں۔ مثلاً سب سے پہلے منہ کو لے لیں۔ وضو میں تین دفعہ کلی کرنے سے منہ کی غلاظت صاف ہوجاتی ہے۔ جدید سائنس ثابت کر چکی ہے کہ کلی کرنے سے گلا خراب ہونے سے محفوظ رہتا ہے اور دانت اور مسوڑھے بھی خراب ہونے سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ کلی کرنے سےان پر خوراک کے ذرات جو انفیکشن کا باعث بنتے ہیں دور ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ناک میں پانی ڈالنا اس میں موجود مٹی اور دھول کے ذرات جو ناک میں موجود چھوٹے چھوٹے بال پکڑ لیتے ہیں اور انہیں سانس کی نالی میں جانے سے روکتے ہیں وضو کرنے سے یہ گندگی دور ہو جاتی ہے اور ناک صاف رکھنے سے تازہ ہوا کی آمد و رفت بہتر ہو جاتی ہے۔ اسکے بعد چہرہ اور دونوں ہاتھ دھونے سے ان پر پسینے او رتیل کے غدود اور ہوا میں موجود مٹی اور جراثیم سے جو کیمیائی عمل ہوتا ہے اس سے یہ اعضاء محفوظ رہتے ہیں اور انفیکشن سے بچ جاتے ہیں۔ اور ”کرونا وائرس“سے محفوظ رہنے کیلیے بھی تو ڈاکٹر یہی کہہ رہے ہیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں، منہ کو دھوئیں یہ تمام چیزیں بھی تو اسلام کی بیان کردہ ہیں ہم ان پر عمل کر کے اس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کوروناکاعلاج اسلام کی روشنی میں 

دواؤں .کااستعمال شرعاً مسنون ہےمتعدد احادیث میں  رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا  علاج کرانے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ ایک روایت میں ہے:

"تداووا؛ فإن الله لم یضع داء إلا وضع له شفاءًا”. (مشکاة المصابیح مع المرقاة: ٨/ ٣٤١)

فقہاے کرام کے درمیان مباح چیزوں سے علاج کرانے میں شروع سے اختلاف منقول ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مباح چیز سے علاج کرانا تقریباً واجب ہے اور امام شافعی کے نزدیک مستحب ہے اور امام مالک بن انس کے نزدیک علاج کرانا، نہ کرانا برابر ہے اور امام احمد کے نزدیک علاج کرانا مباح ہے اور نہ کرانا افضل ہے۔ البتہ حرام چیزوں سے علاج کرانا جمہور ائمہ کے نزدیک حرام ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ سے منقول ہے کہ «إن الله لم يجعل شفاء كم فيما حرّم عليكم»11

 اس لیے کورونا کی دواؤں .کے استعمال کا بھی یہی حکم ہوگا ـ  البتہ دواؤں کے ساتھ ہی دعاؤں اور اللہ سےشفامانگنے کاسلسلہ رکھنا بھی بہت اہم اورضروری کیونکہ شافی مطلق اللہ ہی ہے واذامرضت فہو یشفین اس سلسلے چند باتوں کا.خیال رکھا.جائے ـ

1:— صبح شام بسم الله الذی لایضر.مع اسمه شیئ فی الارض ولا فی السماء وھوالسمیع العلیم تین تین بار پڑھ لیا جائے

2:—اللہم عافنافی اسماعنا اللہم عافنا فی ابصارنا اللہم عافنا فی ابداننا کلہالااله الا انت اور اللہم انا نعوذ بک من الصمم والبکم والبرص والجنون والجذام وسیئ السقام پانچوں فرض نمازوں کے بعد پڑھ لیا جائے

3:— اللہم انانسئلک العفووالعافیۃ والمعافاۃ فی الدین والدنیا والاٰخره بکثرت ورد رکھیں ـ  اور یہ بات ذہن نشیں کرلیں اور یاد رکھیں کہ سب کچھ ہر جگہ بند ہورہا.ہے بازار، مول، دوکانیں، .بسیں،  ٹرینیں، .مساجد، منادر، اسکول، کالج، دفاتر،. مدرسے، تعلیم گاہیں اور تجارتیں سب کچھ بند ہورہا ہے.مگر.اللہ کا بہت کرم فضل اور احسان ہے کہ*توبہ کادروازہ ابھی بھی کھلا ہواہے* *اپنے گناہوں سے توبہ کریں آئندہ نہ کرنے کا عہد کریں قبل اسکے کہ یہ دروازہ بھی بندہوجائے۔

تبصرے بند ہیں۔