کورونا کا پیغام انسانیت کے نام

مدثراحمد

کوروناوائرس کی وجہ سے جہاںوباء دنیابھرمیں تیزی سے پھیلتی گئی اور چندہی مہینوں میں کروڑوں لوگ اس وباء سے متاثرہوئے، لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے، وہیں اس وباء نےپوری انسانیت کو کئی پیغامات دئیے ہیں جو قابل فکر اور قابل عمل باتیں ہیں۔ اس بات سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ محسن انسانیت حضرت محمد مصفطیٰﷺنے دنیا کو1450 سال پہلےہی جینے کاطریقہ بتلادیااور دین کو مکمل ضابطہ حیات قرار دیاتھا، اس ضابطہ حیات پر عمل کرتے ہوئے زندگی گذارنے کی بات کہی تھی، مگر افسوس کی بات ہے کہ اس مکمل ضابطہ حیات کو ساری دنیا سمجھنے کی بات تو دور خود اہل ایمان سمجھ نہیں پائے تھے جس کی وجہ سے وقتاًفوقتاً مسلمانوں پرحالات بدتر ہوتے رہے اور کسی نہ کسی شکل میں مسلمان ظلم وتشدد اور سختیوں کا شکارہوتے رہے۔ جو طریقہ کار اللہ اور اللہ کے رسولﷺنے مسلمانوں کوبتایاتھا اُس پر بہت کم عمل کیاجانے لگا۔ حالیہ دنوں میں مسلمانوں میں ایک نئی سوچ پیداہوئی ہے وہ یہ کہ زمانہ بدل گیاہےا ور زمانے کے چلناہے، مگر محقیقن اور علماء کے مطابق زمانہ نہیں بدلاہے بلکہ انسانی فکر بدل چکی ہے جس کی وجہ سے انسان اپنے آپ کو نئے ماحول میں دیکھنا چاہتاہے اور صحیح وغلط کو قبول کرنے یا پھر اس پر عمل کرنے سے انکارکررہاہے۔

اس کوروناکی وباء نے محض ایک سال کے عرصے میں ساری انسانیت کو ایک پیغام دیاہے، جس میں کورونانے کہاکہ میں تو ایک حقیر وائرس ہوں اور تمہاری تمام ٹیکنالوجی، تمہارا سارا سائنس میرے آگے اور میرے خالق کے آگے بیکارہے اور تمہیں کوئی نہیں بچاسکتا سوائے اس کائنات کے خالق کے۔ مسلمانوں کو جو درس پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰﷺنے دیاتھااُن تمام دروس کو مسلمان بھلا رہے ہیں جس کی یا ددہانی کیلیے حکومتوں کے ذریعے سے مسلمانوں کو اور دوسری قوموں کو بیدارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مثال کے طور پر صبح سویرے جاگنے کی بات کی جائے تو اسلام نے فجرمیں اٹھنے کی ہدایت دی ہے، مگر آج اکثر مسلمان زوال کے وقت اٹھنے کو اپنی شان سمجھتے ہیں، اسلام نے صبح سویرے روزی روٹی کی تلاش میں جانے کی ہدایت دی تھی مگر مسلمان آخری وقت میں دکانیں کھولنے لگے تھے، مگر کوروناکے دوران نافذکئے جانے والے لاک ڈائون میں عام لوگوں کو صبح سویرے اٹھ کر بازاروں کو جانے کیلیے مجبورکیااور تقریباً50 دن کے لاک ڈائون میں لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی سبزی پتہ لانے کیلیے تو صبح سویرے اُٹھ رہے تھے، اسی طرح سےانسانوں نے دنیا کوابدی مان کر یہاں دولت وہاں دولت، یہاں زمینیں وہاں زمینیں، یہاں اپارٹمنٹ وہاں اپارٹمنٹ، بینکوں میں لاکھوں کا ایف ڈی، لاکرمیںلاکھوں کا سونا، کروڑوں کی دولت جمع کرنے کو ہی اپنا نصب العین مان لیاہے۔

12 مہینوں کے مختصر عرصے میں دنیا دیکھ چکی ہے کہ کتنے مالدار آن کی آن میں ہلاک ہوگئے، لاکھ پتی اور کروڑ پتی اسپتالوں میں بیڈ نہ ملنے کی وجہ سے یا تو سڑکوں کنارے مرے یا پھر لاچار ہوکر گھروں میں مرے۔ کئی مالداروں کی جائیداد کہاں کہاں پر ہےاُس کااندازہ خود ان کی اولاد کو نہیں ہوسکا۔ جو لوگ کل تک اپنے آپ کو سوپر پائور اور مالدار مانتے تھے وہ اب مجبوری کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوچکے ہیں، جن کے گھروں میں اولادیں تھیں وہیں اولادیں اس وباء میں ہلاک ہونے والےاپنوں کو ہی کاندھا دینے کی بات تودور چہرہ دیکھنے کیلیے بھی تیارنہیں ہیں، کئی وارثین لاوارث ہوکر ہلاک ہوئے۔ اسی کورونا وائرس نے ساری انسانیت کو ایک پیغام دیاکہ تمہاری حیثیت کچھ بھی نہیں ہے، اگر تم فلاح پاناچاہتے ہوتو دوڑو اپنے رب کی طرف۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔