کیا رات کے وقت باہر نہیں نکل سکتی لڑکیاں؟

رويش کمار

کچھ واقعات ہمارے نظام کی پرتیں اڑا دیتی ہیں، جس نظام کے بارے میں ہم رہنماؤں کے نعرے سن کر مطمئن ہو جاتے ہیں، ایک بار اس کے قریب جا کر دیكھيے گا، کس کس سطح پر عام جنتا کے ساتھ  نظام کے اندر اندر بیٹھے لوگ کیا کرتے ہیں. کس طرح اس کی عدم تحفظ یا لاچاری کا فائدہ اٹھا کر اسے نوچتے ہیں. آپ تبھی تک محفوظ ہیں جب تک آپ نظام سے دور ہیں. ریاست کوئی بھی ہے، آپ کسی سے بھی پوچھ لیں جس کا کوئی پولیس تھانے گیا ہو، کورٹ گیا ہو، رہنماؤں کے پاس گیا ہو. اس حقیقت کو جان لیں گے تو پھر جيگان کرنے سے پہلے دو بار سوچیں گے. موبائل فون پر ایپ بنا دینے سے نظام ٹھیک نہیں ہوتا ہے. نظام کے اندر اندر جو لوگ بیٹھے ہیں، ان کی زندگی کا وژن ہی الگ ہوتا ہے. وہ ایک ایسے نظام سے منسلک ہوتے ہیں جہاں ہر کوئی اپنا حصہ آپ سے مانگ رہا ہوتا ہے. آپ کو برباد ہو جاتے ہیں اور آپ کی بربادی سے نظام کے اندر اندر بیٹھا ہر سطح کا افسر آباد ہو جاتا ہے.

اگر کوئی کہتا ہے کہ اس نے یہ تبدیل کر دیا ہے تو وہ گزشتہ دس ہزار سال کا سب سے بڑا جھوٹ ہے. ورنہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو یہ نہیں کہنا پڑتا کہ ہماری منشا ہے کہ مجرموں کو سزا ملے. ان کے خاندان اور رشتہ داروں کو نقصان پہنچانے کی ہماری کوئی خواہش نہیں ہے. میں جانتا ہوں کہ یہ ایک آسان جدوجہد ہونے نہیں جا رہی. اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہمیں پریشان کئے جانے، ہمارے پیچھے پڑنے، ہمیں دھمکی دینے اور جسمانی نقصان پہنچانے کا خدشہ ہے. رسوخ والے خاندان کئی بار شكايت كرتاؤں کو ناکام کرنے کے لیے ان کو بدنام کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں. ہو سکتا ہے ہم بہت ساہسک ہو رہے ہوں. سمجھدار دوست ہمیں آگے کی کارروائی کے بارے میں تجاویز دے سکتے ہیں.

آپ سوچیں ایک آئی اے ایس افسر کو جس نے اس نظام کے اندر اندر اپنی زندگی کے کئی سال گزارے، جسے ٹھیک کرنے کے اس نے خواب دیکھے، انہیں یہ بات لکھنی پڑی. اپنی بیٹی کے لیے جیسے ہی ایک باپ نظام کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، وہ ویسے ہی غیر مسلح لاچار ہو جاتا ہے جیسے ہم اور آپ. شکر منایيے کہ وریندر کنڈو اپنی بیٹی کے لیے ہر حال میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں. ہم امید کرتے ہیں کہ اس نظام میں بیٹھے دوسرے آئی اے ایس افسران بھی ان کا ساتھ دیں گے. وہ بھی آگے آئیں گے اور سیاسی مخلص کے لیے اپنی آواز گنوا چکے وہ افسر بھی وریندر کی بیٹی کے لیے بولیں گے.

آپ جانتے ہیں کہ جمعہ کی رات جب وریندر کنڈو کی بیٹی چنڈی گڑھ کے سیکٹر سات سے اپنے گھر کے لیے نکلیں تو سفید ٹاٹا سفاری پیچھا کرنے لگتی ہے. وركا نے الزام لگایا ہے کہ ٹاٹا سفاری نے اس کی گاڑی کی طویل پیچھا کیا. ایک جگہ ان کی گاڑی کے سامنے اپنی گاڑی کھڑی کر دی اور راستہ بلاک کر دیا. گاڑی سے اتكر وکاس برالا کا دوست اشیش آتا ہے اور ورركا کی کار کی کھڑکی پر زور سے مارتا ہے. دروازہ کھولنے کے لیے بولتا ہے. ورركا نے اس کی گاڑی واپس لی اور دوسرے راستے سے بھاگی. اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے تھے. پولیس سے شکایت کرتی ہے اور پولیس آتی بھی ہے. پولیس نے خود دیکھا اور لڑکوں کو پکڑ کر تھانے لے آئی. دونوں لڑکے نشے میں تھے. بعد میں پتہ چلا کہ لڑکی ایک آئی اے ایس افسر کی بیٹی ہے اور لڑکوں میں ایک ہریانہ بی جے پی صدر کا بیٹا ہے.

یہیں سے سب کچھ بدل جاتا ہے. اپنی بیٹی کے لیے لڑنے آیا ایک باپ فیس بک پر لکھنے کا فیصلہ کرتا ہے. شاید وہ جان گیا ہے کہ کیا پتہ گودی میڈیا کے اس دور میں کوئی میڈیا بھی نہ آئے. لہذا والد وریندر کنڈو فیس بک پر لکھتے ہیں …

‘دو بیٹیوں کا باپ ہونے کے ناطے میں یہ اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کو اس کی جڑ تک پہنچایا جائے. گنڈوں کو ہر حال میں سزا ملنی چاہیے اور قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے. یہ غنڈے بااثر خاندانوں سے ہیں. ہم سب جانتے ہیں کہ ایسے زیادہ تر معاملات میں قصورواروں کو سزا نہیں ہوتی اور بہت سے معاملات میں تو رپورٹ تک نہیں ہوتی. زیادہ تر لوگ بااثر خاندانوں کے ایسے گنڈوں کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں. مجھے لگتا ہے کہ اگر ہم جیسے کچھ استحقاق والے لوگ بھی ایسے مجرموں کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے تو بھارت میں کوئی کھڑا نہیں ہو پائے گا. اس سے بھی زیادہ تو میں اس صورت میں مکمل طور اپنی بیٹی کے ساتھ کھڑا نہیں ہوں گا تو اس کا باپ ہونے کے اپنے فرض میں ناکام رہوں گا. میں نے دو وجوہات سے یہ معاملہ آپ کے ساتھ شیر کر رہا ہوں. ایک تو جو ہوا اس کی صاف اور سچی تصویر دینے کے لیے اور دوسرا اگر ضرورت پڑی تو آپ کی حمایت کی کچھ گارنٹی کے لیے. ‘

آئی اے ایس افسروں کا ایک ایسوسیسن بھی ہے. اس نے ٹویٹ کر خانہ پری کر دی ہے. سہارنپور میں جب ایس ایس پی کے گھر سیاسی بھیڑ گھس آئی اور کافی دیر تک ایس ایس پی کا خاندان غیر محفوظ محسوس کرنے لگا تب آئی پی ایس ایسوسی ایشن کو رائے دینے میں کئی گھنٹے لگ گئے. شاید وہاں یہ فیصلہ ہو رہا ہوگا کہ ہم سیاسی وفاداری دکھائیں یا پھر اپنے پیشے سے وفاداری دکھائیں. انہیں بھی پتہ ہے کہ اب کچھ تبدیل کرنا نہیں ہے. کیوں جذباتیت میں جواب دیں، اس سے اچھا ہے اپنی سیاسی وفاداری کے ساتھ رہیں. کچھ تو ہے کہ نظام نہ تو اندر والوں کے لیے ہے یا نہ باہر والوں کے لیے ہے. سسٹم میں بھی سب انہی کے لیے ہے جو اقتدار کے ساتھ ہیں. ہماری بیوروکریسی گزشتہ کئی دہائیوں میں سڑتی رہی ہے. اب وہ اتنی سڑ گئی ہے کہ دیوار سے کائی درك کر گر رہی ہے.

آئی اے ایس وریندر کمار نے اپنی بیٹی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے. ملزم کے بیٹے کے ساتھ آئی اے ایس وریندر کمار سے زیادہ لوگ ہیں. میڈیا ٹرائل سے بچنا چاہیے. لیکن نظام کا میڈیا ٹرائل تو ہونا ہی چاہیے. تم نہیں جانتے، ایک بار کسی مقدمے میں الجھيے، پتہ چلے گا کہ کس کس میز پر آپ گردن دبوچي جاتی ہے. اسی لیے کسی کو اعلان کرنا پڑتا ہے کہ وہ لڑے گا. جیسے ہی وہ کہتا ہے کہ وہ لڑے گا، ہر حال میں لڑے گا اس مطلب یہی ہے کہ وہ جانتا ہے کہ یہ نظام اس وقفے کی حد تک پہنچا دے گا، پھر بھی لڑے گا. اس اعلان کی اپنی قیمت ہے. وکلاء کی فیس، تاریخوں کا انتظار. انصاف اور انصاف پر اعتماد صرف بات نہیں ہے، قیمت ہے. اس اعتماد کو جیتنے کے لیے پیسہ لگتا ہے. آپ کسی بھی عدالت کے باہر جاکر اس اعتماد کو جیتنے آئے لوگوں سے ملیے. آپ بھی اعلان کرنے لگیں گے کہ چاہے جو ہو جائے، میں سچ کے لیے لڑوں گا.

ہمارے ساتھی چینل سے ہریانہ بی جے پی کے نائب صدر نے بات کرتے ہوئے جو کہا وہ بھی سنا جانا چاہیے. انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شہری کو تحفظ نہیں دے سکتی. ہم اور آپ اب تک اسی بھرم میں تھے کہ حکومت ہر شہری کو تحفظ دینے کا وعدہ کرتی ہے بلکہ بھرم ٹوٹ گیا کہ حکومت ہر شہری کو تحفظ نہیں دے سکتی ہے. اب یہ سوال پوچھنے کا موقع نہیں ملا کہ جب ہر شہری کو تحفظ نہیں دے سکتی تو کیا کچھ منتخب شہریوں کے لیے یہ سیکورٹی کے نظام ہے، کیا عام لوگوں کے لیے ہے، سیاسی لوگوں کے لیے ہے یا انتظامیہ کے لوگوں کے لیے سیکورٹی ہے. دوسری بات انہوں نے کہی ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کا خیال رکھیں، انہیں رات میں گھومنے پھرنے نہیں دینا چاہیے. بچے وقت سے گھر آ جائیں، رات میں گھومنے سے کیا فائدہ. اس بات پر ایک فیصلہ ہو ہی جائے. رات ہوتے ہی پورے بھارت کو بند کر دینا چاہیے. کوئی شام کے بعد گھر سے ہی نہ نکلے. آگے آپ ان کا بیان سن لیجئے.

ہریانہ بی جے پی کے نائب صدر رام ویر جی نے کہا ہے کہ چندی گڑھ پولیس دباؤ میں نہیں آئے گی. ہماچل کی ایونٹ کا کتنی بار ذکر ہے ان بیان میں. ٹھیک بھی ہے لیکن یہی سیاست ہے. وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا ہے کہ قانون اپنا کام کرے گا. بیٹے کی غلطی کی سزا والد کو کیوں ملنا چاہیے. والد سے استعفی مانگنے والے بھی نظام کا حال جانتے ہیں. انہیں پتہ ہے کہ اس معاملے میں انصاف ملنے ملتے سال گزر جائیں گے۔ لہذا مخالف پارٹی کی سیاست بھی وہی ہے جو اقتدار پر بیٹھی پارٹی کی سیاست ہے. اسی لیے استعفی پر زور ہے. تاکہ سیاسی پارٹی اپنا وكٹري کپ لے کر چلتے بنیں اور لڑکی اور اس کے والد اسی چوراہے پر کھڑے رہیں گے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

تبصرے بند ہیں۔