ہندوستان میں بین المذاہب مفاہمت پیدا کرنے میں علماء کا کردار (آخری قسط)

ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی

4۔ مذہبی تقریبات

ہندوستان میں مذہبی تقریبات کی بڑی اہمیت ہے ہر مذہب کے لوگ مختلف حوالوں سے تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں ۔ہندستان میں مسلمان ایک مذہبی اقلیت ہیں اس کے باوجود مذبی پروگرام اور تقریبات یا مذہب کے نام پر پروگرام منعقد کر نے میں شاید سب سے آگے ہیں۔ یہاں جتنے پروگرام مسلمان کرتے ہیں اتنے کوئی اور قوم نہیں کرتی۔ ان پروگراموں اور تقریبات میں عیدین کے علاوہ عید میلاد النبی، محرم اور چہلم، شب برات سبھی مسلمان مناتے ہیں۔ مختلف اولیاء کے عرس اور ان کی یاد میں جلسے ہوتے ہیں،خاص طور پر حضرت خواجہ معین الدین چشتی، قطب الدین بختیار کاکی، حضرت نظام الدین اولیاء،امیر خسرو، شیخ صابر کلیری، خواجہ باقی باللہ، شیخ نصیر الدین چراغ دہلی، سید علی ہمدانی،سید محمد حسین گلبرگہ، شاہ بدیع الدین قطب المدار، شرف الدین یحیٰ منیری وغیرہ بے شمار صوفیہ میں جن کے مزارات پر ہر سال جلسے ہوتے ہیں اور لوگ وہاں بڑے اہتمام سے جاتے ہیں۔ لوگوں کے اس سفر اور عمل کی شرعی حیثیت سے بحث نہیں ہے لیکن ایسا ہو تا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہندو مسلمانوں کے بڑے بڑے مشترک اجتماعات ہوتے ہیں، جن کا محرک ایک اسلامی یا مسلم نام ہوتا ہے اور شرکت کرنے والوں میں کم وبیش نصف تعداد غیر مسلموں کی ہوتی ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی کے عرس کا تو اتنا بڑا اہتمام ہوتا ہے کہ زائرین کو سہولت پہنچانے کے اجمیر کے علاوہ دہلی اور بھی بعض شہروں میں رضا کار اور سرکاری کارندے کام کرتے ہیں اور حکومت نے مجموعی انتظامات کے لیے ایک مستقل ٹرسٹ بنا رکھا ہے جس کو باضابطہ اعلی افسران چلاتے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مزاروں پر عرس کی تقریب ایسی تقریب ہے جس میں خود حکومت بھی شریک ہوتی ہے اور زائرین میں لاکھوں کی تعداد میں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں اور سب عقیدت کے جذبہ سے وہاں حاضر ہوتے ہیں اور دوسرے حاضرین کے لیے خیر سگالی کا جذبہ رکھتے ہیں اس کے نتیجہ میں مذہبی تعصبات اور مذہب کی بنیاد پر گروہ بندی کم ہوجاتی ہے اور ہندو مسلم دونوں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، ہندستان کے اندر قومی یکجہتی کو فروغ دینے میں عرس کلچر کابڑا ہم رول رہا ہے۔
عرس کے علاوہ ایک عوامی جلسوں کا موقعہ مدارس اسلامیہ کی سالانہ تقریبات ہوتی ہیں۔ پورے ہندستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ لاکھ مدارس ہیں لیکن سب میں اعلیٰ تعلیم نہیں ہوتی جو اعلیٰ تعلیم کے مراکز ہیں جہاں سے عالمیت اورفضیلت کی سند دی جاتی ہے ان کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہوگی۔ ان میں سالانہ اختتامی اجلاس ہوتے ہیں، جس میں نوجوان فضلا شریک ہوتے ہیں یہ بھی ایک ایسا ہی موقعہ ہے جس سے اچھا پیغام عام ہوتا ہے اور نوجوانوں کو صبر وتحمل کی تلقین کی جاتی ہے اور ان کو معاشرہ کا بہتر ممبر بننے کی نصیحت کی جاتی ہے۔
ہندستان میںاور بھی متعدد ایسے مواقع ہیں جہاں نوجوانوں کو اچھی باتیں سننے اور اور علماء سے براہِ راست استفادہ کرنے کا موقع ملتا ہے ایسے مواقع میں تبلیغی جماعت کے اجتماعات، مختلف مذہبی جلسے، شادی کی تقریبات، مجالس وعظ وغیرہ اہم ہیں۔ ان میں یہ بنیادی پیغام ہوتا ہے کہ نوجوان کس طرح اپنی اصلاح کریں اور کس طرح معاشرے کے بہتر ممبر بن سکیں۔
5۔اجتماعی دعائیں
ہندستان میں اجتماعی دعاؤں کا بھی رواج ہے خاص طور پر تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں اجتماعی دعا کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعت میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں اور دعا کے دن یہ تعداد بقیہ تمام دنوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ یہ اجتماعی دعا عمل صالح کرنے دین پر استقامت، گناہوں پر ندامت، امن وعافیت اور صبر وتحمل کے لیے ہوتی ہے، دعا اگر چہ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق ہے لیکن دعا کی اس اجتماعیت نے اس کو ایک معاشرتی ظاہرہ بنادیا ہے۔ اس طرح ایک انسان کو اجتماعی دعا کی شکل میں بہترین پلیٹ فارم مل جاتا ہے جس کے ذریعہ اصلاح وتربیت ممکن ہے اور ملک کے طول وعرض میں لاکھوں نوجوان اس عمل سے وابستہ ہوکر اپنی اصلاح کررہے ہیں اس پورے عمل میں انسان کی جو تربیت ہوتی ہے وہ بھی ملک میں ہم آہنگی کو فروغ دینے میں معاون ہے دراصل انسان بنیادی طور پر امن پسند ہے شدت پسندی خلاف فطرت ظاہرہ ہے جو کسی خاص صورت حال کے اندر ظاہر ہوتا ہے اور انسان کے مزاج کی اشتعال پسندی اس کو مشتعل کردیتی ہے۔ مذہبی اجتماعات کے ذریعہ انسان کی فطرت کو ابھارا جاتا ہے اس کے اندر برائیوں سے بچنے اور بھلائیوں کی طرف لپکنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو اس کے ناپختہ اشتعال کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
اجتماعی دعا کے کئی اور مواقع ہیں مثلاً عیدین میں بھی اجتماعی دعائیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح جمعہ کی نماز میں، شادی کی تقریبات میں اور عرس وغیرہ کے موقع پر بھی اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
خلاصہ
ہندستان میں علماء اور مسجدوں کے اماموں نے مسلمانوں کی تربیت اور اصلاح کے لیے جو جدوجہد کی ہے اور لگاتار کررہے ہیں اس کا ایک بنیادی حصہ یہ ہے کہ مسلمان ملک کے بہتر شہری، سماج کے لیے مفید بنیں اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں اور دوسروں کا احترام کرنا سیکھیں۔ امن کے ساتھ رہیں برادران وطن کے ساتھ خیر سگالی کا رویہ اختیار کریں ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونا بہتر مسلمان بننے میں معاون ہوگا۔ اور ان سب کے لیے وہ قرآن وسنت سے استشہاد کرتے ہیں یعنی یہ رویہ عین قرآن وسنت کے مطابق ہے اس کا اثر مسلم معاشرہ پر بہت مثبت پڑا اور مسلمانوں خاص طور پر نوجوانوں میں مذہبی بیداری کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی پیدا ہوئی۔ مشکل حالات کا پامردی سے مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، برادرانِ وطن کے سـاتھ خیر سگالی کا رویہ اختیار کرنے کا داعیہ پیدا ہوا اور عدل وانصاف کی بات کہنے اور انسانی اقدار کی اہمیت پیدا ہوئی۔
ہندو مسلم مفاہمت اور خیر سگالی ہندستان کے اندر کافی گہری بنیادیں رکھتی ہے۔ صدیوں سے یہ عمل جاری ہے۔ موجودہ زمانے میں اچانک مذہبی عدم رواداری کا جو ماحول پیدا ہوا اور یہ پوری دنیا میں پیدا ہوا، ایسے حالات میں ہندستان کے علماء نے بڑا مثبت کردار ادا کیا ہے اور ان کی تصنیفات کے ذریعہ نوجوان نسل میں مذہبی رواداری پیدا ہوئی۔ اور ان کے مواعظ، ہندومسلم اجتماعات کے مواقع اور ان کے خطبات وغیرہ کے ذریعے اس ماحول کو تقویت ملی اور مجموعی طور پر ہندستان میں ایسا ماحول قائم ہوا جس میں مذہبی عدم رواداری کو دونوں مذہب کے ماننے والے ناپسند کرتے ہیں اور مسلمان مذہبی رواداری کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں اگر چہ بعض اوقات یہاں ہندو مسلم فسادات بھی ہوجاتے ہیں لیکن وہ استثنائی ہیں اور ان کا محرک عام طور پر مذہب نہیں ہوتا بلکہ سیاسی یا معاشی مفادات ہوتے ہیں جن کو بعض ناعاقبت اندیش لوگ مذہبی رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں سچ یہ ہے کہ ان فسادات کو مذہبی رنگ دینے کی یہ کوشش ناکام رہی ہے۔ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ فساد کا ماحول ختم ہوجانے کے بعدحالات معمول کے مطابق ہوجاتے ہیں اور آپس میں نفرتیں دور ہوجاتی ہیں۔
حواشی:
(1) گوپال سنگھ،:گرونانک، نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا 1967ص:11
(2) سچندر لال گھوش : راجہ رام موہن رائے، ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی 1973ص:29۔30
(3)رضوی سید محبوب: تاریخ دارالعلوم دیوبند، طبع دیوبند1993ء جلد1ص:1964(تاریخ دارالعلوم کی عبارت یہ ہے: ’’دارالعلوم دیوبندمیں ہندو بچوں کی تعلیم کا سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا ہے۔ جب برطانوی حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے سرکاری اسکولوں کی سند کو ضرور قرار دے دیا تو سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند مسلم بچوں کی طرح ہندو بچوں کی تعلیم کا رخ بھی سرکاری اسکولوں کی طرف ہوگیا۔)
(4)ہندوستان پر اسلام کے اثرات اور مسلم معاشرے کے اثرات دونوںہی امر واقعہ ہیں، تاراچند اور ڈاکٹر محمد عمر نے بالترتیب دونوں موضوعات پر اچھی تحقیقات پیش کی ہیں۔
(5)شیخ الحدیث مولانا زکریا: فضائل اعمال، دہلی 1998ء جلد دوم ص:208-209
(6)مولانا رشید احمد گنگوہی: فتاویٰ رشیدیہ، کتب خانہ رحیمیہ دہلی، 1363 جلد3ص:22
(7)سعید احمد اکبرآبادی:نفثۃ المصدور اور ہندستان کی شرعی حیثیت، علی گڑھ1968ء ص:34بحوالہ فتاویٰ رشیدیہ
(8)قاسم العلوم جلد اول مطبع مجتبائی دہلی ص:28،35
(9)ایضاً: ص:29
(10) سعید احمد اکبرآبادی:نفثۃ المصدور اور ہندستان کی شرعی حیثیت ص ۴۳
(11)ترجمہ اردو، مجموعہ الفتاویٰ، مولانا محمد عبدالحئی ، مطبوعہ قیوم پریس کانپور،جلداول123-126بحوالہ لغۃ الصدور ص:45-46
(12)نفثۃ المصدور ص:47
(13)مولانا احمد خاں: فتاویٰ رضویہ، مرکز اہل سنت برکاۃ رضا، گجرات، طبع دوم2003ء ص:105-140
(14) مولانا حسین احمد مدنی: ہندستانی قومیت اوراسلام، قومی ایکتا ٹرسٹ نئی دہلی، بندون سنہ ،ص:19
(15)ایضاً ص:20
(16)ایضاً، ص:51
(17) سعید احمد اکبرآبادی، نفثۃ المصدور اور ہندستان کی شرعی حیثیت، حوالہ مذکور
(18) شمس نوید عثمانی، اگر اب بھی نہ جاگے تو۔۔۔ ترتیب مولانا سید عبداللہ طارق، طبع دہلی بدون سنہ
(19)ابو الکلام آزاد: خطبات ، ساھتیہ اکادمی طبع ششم ۲۰۱۲، ص

تبصرے بند ہیں۔