یدی یورپا کی کہانی کا دردناک انجام

ڈاکٹر سلیم خان

ایک زمانے میں امیت شاہ کانگریسی وزارئے اعلیٰ کو اقتدار سے بے دخل کرکے اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کے فراق میں دبلے  ہوئے جاتے  تھے لیکن  اشوک گہلوت کو ہٹانے میں ناکامی کے بعد اب   وہ نرم چارہ یعنی  اپنے ہی وزرائے اعلیٰ پر نزلہ اتارتے  ہیں۔ اس کی تازہ مثال یدی یورپا ہیں جو بالآخر جاتے جاتے چلے گئے۔ پچھلے چار ماہ میں بی جے پی نے اپنے چوتھے وزیر اعلیٰ کو اقتدار سے محروم کیا  ہے۔ یہ بی جے پی کی روایت کے خلاف ہے جہاں شاذونادر ہی وزیر اعلٰی کو تبدیل کیا جاتا تھا۔ گجرات میں  کیشو بھائی پٹیلکو کئی بار وزیر اعلیٰ بنایا گیا اور ان کی جگہ اقتدار سنبھالنے والےنریندر مودی  کو تمام تر دنگا فساد کے باوجود  وزیر اعظم بننے تک برداشت کیا گیا۔ مہاراشٹر میں دیویندر فردنویس، جھارکھنڈ کےرگھوبر داس اور راجستھان  میں وسندھرا  راجےنے پورے پانچ سال حکومت کی۔چھتیس گڑھ میں  رمن سنگھ نے تو دو مدت کار  مکمل کیے۔ان سب کو پارٹی کے بجائے عوام نے ہٹا یا۔ منوہر لال کھٹر اور شیوراج چوہان کو انتخابی ناکامی کے باوجود الحاق اور خریدو فروخت کے ذریعہ وزیر اعلیٰ بنایا گیا  لیکن اب حالات بدل رہے ہیں۔ اتراکھنڈ میں پہلے ترویندر سنگھ راوت اور پھر تیرتھ سنگھ راوت کو بدلا گیا۔ آسام کا الیکشن جیتنے کے باوجود  سربانند سونووال کی چھٹی کرکے ہیمنت بسوا کو اور کرناٹک میں جب78 سالہ یدی یورپا کو ہٹاکر بسورواج بومئی کو وزیر اعلیٰ بنایا  گیا تو ان پر یہ شعر صادق آگیا؎

یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن    

جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے

سیاستداں روشنی کے نہیں اقتدار کے تعاقب میں بگ ٹٹ دوڑتا رہتا ہے اور  شاذو نادر ہی سچ بولتا ہے لیکن دمِ آخر تو کم ازکم انہیں سچ بولنا چاہیے۔ یدی یورپا سے یہ بھی نہیں ہوسکا۔ اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے وقت انہوں نے کہا، ’مجھ پر استعفیٰ کے لیے کسی نے دباؤ نہیں ڈالا!‘ یہ ایک ایسا سفید جھوٹ  تھا  جس پر ان بڑا  سےبڑا عقیدتمند بھی یقین نہیں کرے گا۔ 16 ؍ جولائی  کو جب انہیں وزیر اعظم نے  دہلی طلب کیا تو اسی وقت سے وہ  سیاسی وینٹی لیٹر پر پہنچ گئے تھے۔ وزیر اعظم بہت بڑے ڈاکٹر ہیں وہ معمولی مریضوں کو نہیں دیکھتے  بلکہ  اسی کیس پر نظر کرم فرماتے ہیں جوسنگین ہو یا بگڑ گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ  اکثر  ان کا  مریض  جہانِ سیاست کو داغِ مفارقت دے کر آنجہانی    ہوجاتا ہے۔ یدی یورپا نے وزیر اعظم  سے دوسال پورے ہونے تک کا وردان (عہد)  مانگا جو انہیں دے دیا گیا۔ اپنے اقتدار کی دوسری سالگرہ سے  ایک دن قبل انہوں نے یہ تقریر کی جو ان کےشدید دباو کی چغلی کھا رہی تھی۔

یدی یورپاّ نے استعفیٰ دینے سے قبل کہا تھا  کہ  اٹل بہاری واجپائی نے  انہیں مرکزی حکومت میں وزارت کی پیشکش کی تھی مگر انہوں  نے کرناٹک میں رہنے کو ترجیح دی۔ سابق وزیر اعلیٰ  نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ  اس عرصے میں کرناٹک کے اندر بی جے پی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی مگر وہ ہمیشہ آزمائشوں (اگنی پریکشا) سے گزرتے رہے۔ پچھلے دنوں آزمائش کی آگ کو سرد کرنے کے لیے  یدی یورپاّ کے وفادار، لنگایت سماج کے دھرم گرو اور طاقتور ارکان اسمبلی زور لگاتے رہے یہاں تک ایک کانگریسی لنگایت  رہنما نے بھی اپنے ذات بھائی کی حمایت کردی لیکن بات نہیں بنی۔   اخباری نامہ نگاروں سے انہوں نے کہا تھا ’’ابھی تک کوئی خبر نہیں آئی۔ کل صبح حکومت کی دوسری سالگرہ  کا جشن منایا جائے گا۔ اس میں دوسال کے کارنامے بیان کیے جائیں گے۔ اس کے بعد اگلی پیش رفت سے آگاہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں آخری  سانس تک کام کروں گا۔ یعنی ازخود سبکدوش ہونے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے  اور گویا  ابھی تو میں جوان ہوں۔  ہائی کمان جب اس دعویٰ  کو مستر دکردیا تو ان کی زبان پر یہ نغمہ آگیا ہوگا؎

تم نے کسی کی جان کو جاتے ہوئے دیکھا ہے

دیکھو مجھ سے روٹھ کر میری کرسی جارہی ہے

اس کےساتھ یدی یورپاّ  نے کہاتھا میں دو ماہ قبل یہ اعلان کرچکا ہوں کہ  جب مجھ سے کہا جائے گا میں  استعفیٰ دے دوں گا۔ ابھی تک مرکز سے مجھے کوئی پیغام نہیں ملا ہے۔ وہ جب بھی آئے گا اور اگر مجھے جاری رکھنے  کے لیے کہیں گے تو میں  ایساکروں گا بصورتِ دیگر  استعفیٰ دے کر پارٹی کے لیے کام کروں گا۔ استعفیٰ سے ایک دن قبل کی جانے والی  اس تقریر کے ایک ایک لفظ  میں خواہش، امید، تمنا، یاس  اور حسرت سب موجود ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف  کےسدھاکر نامی وزیر نے حیرت کے ساتھ کیا کیونکہ یدی یورپاّ نے ان سے کہا  تھا وہ 26؍ جولائی تک ہائی کمان سے مثبت جواب کی امید رکھتے ہیں  لیکن اب تو پارٹی  کا فیصلہ آگیا اور اس  کی پابندی کرنی ہی ہوگی۔ پارٹی  ہائی کمان نے یدی یورپاّ  کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا  لیکن  اس بار ان کا لب ولہجہ ماضی سے مختلفتھا۔ پہلے  جب انہیں ہٹایا گیا تو انہوں نے بغاوت کردی تھی لیکن اب کی بار غالباً پیگاسس کے ذریعہ ان کے خلاف ایسے ثبوت مہیا کر لیےگئے تھے  کہ وہ  اس جرأت  راندانہ کا مظاہرہ نہیں کرسکے۔

سابق وزیر اعلیٰ  اور جے ڈی ایس رہنما  ایچ ڈی کمار سوامی کا الزام ہے کہ   پیگاسس  کی مدد سے بی جے پی نے ان کی حکومت  کو گرا  کر یدی یو رپاّ کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ گمانِ غالب ہے    اسی  ہتھیار سے یدی یورپاّ  کا بھی کانٹا نکالا گیا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ  جس طریقۂ کار سے پرائے لوگوں کو اپنا بنایا جاسکتا ہے اس کی مدد سے اپنےکو غیر بنانے میں آخر حرج  کیا ہے؟یدی یورپا نے استعفیٰ کے بعد جب  کہا کہ  ’’میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور بی جے پی سربراہ جے پی نڈا کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے دو سال تک کرناٹک کی خدمت کرنے کا موقع فراہم کیا‘‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کم ازکم انہوں نے مجھے جیل جانے سے بچا لیا۔ بی جے پی کی بزرگوں کو سبکدوش کرنے کی پالیسی کو بالائے طاق رکھ  کر 76سال کی عمر میں انہیں  وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ انہوں جاتے جاتے دو متضاد بیانات دیئے۔ پہلے تو بولے کہ   وہ دو روز قبل گورنر ٹی سی گہلوت کو استعفی پیش کر چکے تھے، جہاں سے ان کا استعفی منظور کر لیا گیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ میں اب  گورنر کے پاس جاکر استعفیٰ دوں گا۔ سوال یہ ہے کہ منظور شدہ استعفیٰ  دوبارہ  دینا چہ معنیٰ دارد؟

یدی یورپاّ  نے کہا  میری جگہ عہدہ سنبھالنے کے لیے میں نے کسی کا نام تجویز نہیں کیا ہے۔ ‘‘ حالانکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ اپنے بیٹے وجیندرکو جانشین بنانا چاہتے تھے۔انہوں نے مزید کہا ’’(بی جے پی) ہائی کمان کے ذریعہ جسے بھی نیا وزیر اعلی منتخب کیا جائے گا ہم اس کی سرپرستی میں کام کریں گے۔ میں اپنا صد فیصد دوں گا اور میرے حامی بھی اپنا صد فیصد محنت سے کام کریں گے۔ یہ تو اسی وقت ممکن تھا  کہ جب ان بیٹا وزیر اعلیٰ  بنے ورنہ  اس کا امکان کم  ہی ہے۔ دنیا میں انسان روتے ہوئے آتا ہے مگر سیاست کی دنیا میں وہ ہنستے  ہوئے داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ روتے ہوئے سیاست کو خیر باد کہتا ہے اس لیے  مقدر کا  سکندر نہیں کہلاتا۔ یودی یورپا کے ساتھ یہی ہوا۔

پچھلی بار جب  انہوں نے جذباتی تقریر کرکے استعفیٰ دیا تھا تو  ان کے پاس ارکان اسمبلی کی ضروری تعداد نہیں تھی۔ سب سے زیادہ ارکان کی حمایت کے باوجود وہ جمہوری نظام کے جبر کا شکار ہوگئے تھےاس لیے کسی کو ان سے ہمدردی نہیں ہوئی لیکن اس بار وہ اکثریت کے باوجود اپنی پارٹی کے ہائی کمان کی ظالمانہ روش  کا شکار ہوگئے۔ اس لیے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور لوگ بھی پڑے۔ دوسال کی تقریبات میں اپنے کارنامے گنانے کے بعد جب نمناک آنکھوں کے ساتھ انہوں نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تو  ان  کے آنسووں کو دیکھ کر لنگایت سماج کے مذہبی رہنما  دنگلیشورا سوامی دل برداشتہ ہو گئے۔ انہوں نے  چیلنج کردیا کہ  وزیر اعلیٰ کے  آنسو بی جے پی کی کرناٹک اکائی بہا لے  جائیں گےاس لیے پارٹی کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ہائی کمان نے یدی یورپاّ کی جگہ دوسرے لنگایت رہنما کو وزارت اعلیٰ کا عہدہ تھما  کر   آنسووں کی طغیانی پر بند باندھ دیا ۔ ریاستی سرکار کی دو سری سالگرہکا جشن اور اس  موقع  پر یدی یو رپاّ کی کہانی کا دردناک انجام  سلمان فارس کا یہ مشہور  پر شعر یاددلاتا ہے ؎

کہانی ختم ہوئی اور ایسے ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔