یوپی الیکشن میں چل رہی بدلاؤ کی ہوا

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

اترپردیش انتخاب کے پانچ مرحلے پورے ہو چکے ہیں۔ اب تک 292 سیٹوں کے لیے امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس بار انتخاب مغربی اترپردیش سے شروع ہوا ہے۔ مغربی یوپی کے پہلے مرحلے کے 58 انتخابی حلقوں کو جاٹ لینڈ کہا گیا۔ جبکہ یہ کسانوں خاص طور پر گنا کسانوں کا علاقہ ہے۔ دوسرے حصہ جہاں 55 سیٹوں پر ووٹ ڈالے گئے کو مسلم لینڈ کہا گیا۔ اس کے پیچھے بی جے پی کا مقصد تھا غیر جاٹ اور غیر مسلم ووٹوں کو مظفر نگر فساد، کیرانہ سے نقل مکانی  کی یاد دلا کر اور جناح، پاکستان، جالی دار ٹوپی کے نام پر اپنے ساتھ کرنا۔ کیوں کہ 2017 میں جاٹ مسلم اختلاف نے اسے بڑی کامیابی دلائی تھی۔ لیکن اس بار اس کا یہ داؤ کامیاب نہیں ہوا۔ کیوں کہ جاٹ سمجھ چکے تھے کہ مسلمانوں سے فاصلے نے ہی ان کی سیاسی حیثیت کو مجروح کیا ہے۔ کسان آندولن نے ایک بار پھر ان دونوں کو اکٹھا کر دیا۔ جاٹ مسلم اتحاد نے بی جے پی کے لیے صرف انتخابی مقابلہ سخت نہیں کیا بلکہ اس کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کی بھی ہوا نکال دی۔ زرعی بلوں کی واپسی، بجلی بلوں کو آدھا کرنے کا اعلان، گنا کسانوں کو 14 دن میں بھگتان کا وعدہ بھی اس کے کام آتا دکھائی نہیں دیا۔ بی جے پی نے کسی بھی مسلمان کو ٹکٹ نہ دے کر یوپی میں گجرات ماڈل پر عمل کیا ہے تو اکھلیش یادو نے منڈل کو انتخابی حکمت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ مظفر نگر کی سبھی سیٹوں پر جاٹ امیدوار اتارے جانے پر اعتراض کیا گیا۔ لیکن اب ان کے فیصلے کی اہمیت کا اندازہ ہو رہا ہے۔

تیسرے مرحلہ کے 16 اضلاع کو یادو لینڈ کا نام دیا گیا یہاں 59 سیٹیں ہیں۔ مقصد غیر یادو برادریوں پر نشانہ سادھنا تھا۔ جبکہ اس کے چھوٹے حصے میں مسلم اور ٹھاکر آبادی ہے اور 13 سیٹیں بندیل کھنڈ کی ہیں۔ سماجوادی پارٹی کی لال ٹوپی پر بی جے پی نے طنز کرتے ہوئے اسے ریڈ الرٹ بتایا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ لال رنگ تو ہنومان جی کا ہے۔ گرمی کے جواب میں انہوں نے بھرتی کی بات کی۔ اس کے بعد بی جے پی کا منھ بند ہو گیا۔ 2017 میں یہاں 63.36 فیصد پولنگ ہوا تھا۔ مگر اس مرتبہ 57.58 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہندگی کا استعمال کیا ہے۔ پچھلی مرتبہ ان 59 سیٹوں میں سے 49 بی جے پی نے جیتی تھیں۔ سماجوادی پارٹی کو 9 اور کانگریس کو ایک سیٹ پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت یادو بی جے پی کے ساتھ گئے تھے اس بار وہ ایس پی کی طرف واپس آگئے ہیں۔ آوارہ مویشیوں اور بے روزگاری نے بھی یہاں بی جے پی کے لیے مشکل پیدا کر دی ہے۔ تین مراحل کے دوران ہوئے نقصان کی وجہ سے ہی شاید بھاجپا کے خیمے میں بوکھلاہٹ پیدا ہوئی۔ یہاں تک کہ خود وزیراعظم نے اپنی بات فساد سے شروع کی پھر نقل مکانی، بلڈوزر، سماجوادی پارٹی کے زمانہ کی بدانتظامی، خواتین میں عدم تحفظ کے احساس کا ذکر کیا۔ انہوں نے سائیکل کو دہشتگردی سے جوڑنے میں بھی گریز نہیں کیا۔ سائیکل سماجوادی پارٹی کا چناؤ نشان ہے۔ اکھلیش یادو نے سائیکل کو گاؤں اور غریب آدمی کی پہچان بتایا تو بی جے پی کے بیانات سے سائیکل غائب ہو گئی۔ وزیراعظم نے آوارہ مویشیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو لوگ آوارہ مویشیوں کو گھر میں باندھیں گے۔ یہ آمدنی کا ذریعہ ہوں گے گوبر سے کمائی ہوگی، وہ بھارت کو یوکرین سے زیادہ محفوظ بتانا بھی نہیں بھولے۔

اترپردیش میں نومبر 2021 سے جنوری 2022 تک ہی گئوشالائیں کھلی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب انسانوں کے پاس اپنے کھانے کے لیے نہیں ہے تو وہ ان مویشیوں کو کہاں سے کھلائیں۔ گائیں زراعت کی طرح ہی نقصان کا سودا ہو گئی ہیں۔ اگر گایئوں کو کسی طرح برداشت بھی کر لیا جائے تو بیلوں کو کس کام میں لایا جائے۔ سڑکوں پر گھومتے آوارہ سانڈ کئی لوگوں کی جان لے چکے ہیں۔ ان کے بارے میں حکومت کو کوئی واضح حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ وزیراعظم نے آواره مویشیوں کا ذکر کرکے لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے۔ خیر بات کرتے ہیں چوتھے مرحلے کی جو لکھنؤ سے 150 کلو میٹر کے 9 اضلاع پر مشتمل ہے۔ اس کی 59 سیٹوں میں سے 51 بی جے پی کے پاس ہیں۔ ان 9 ضلعوں میں سے چار انتہائی غریب ہیں۔ یہاں بی جے پی کو مفت راشن سے مستفید ہونے والوں سے ووٹ پانے کی امید ہے۔ اس کے کارکنان گھر گھر جا کر نمک کا حق ادا کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ جنہیں مفت راشن ملا ہے وہ کہہ بھی رہے ہیں کہ ہمیں اس سے بڑی راحت ملی ہے۔ مفت راشن کو لے کر دو طرح کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ایک یہ کہ جو بھی راحت پہنچائی گئی ہے وہ برسراقتدار جماعت نے اپنی جیب سے نہیں بلکہ ہمارے ٹیکس کے پیسے سے دی ہے۔ دوسرا یہ کہ کنکڑ ملے ہونے کی وجہ سے نمک استعمال ہی نہیں کیا تو نمک کا حق کیسا؟

سماجوادی پارٹی کے پانچ سال مفت راشن دینے اور سرکاری ملازمین کے لیے پرانی پینشن اسکیم کو لاگو کرنے کے وعدے نے چوتھے مرحلے میں راحت ملنے کی بی جے پی کی امید پر پانی پھیر دیا۔ لکھنؤ جہاں سے موجودہ حکومت میں سات وزیر ہیں کی کئی سیٹیں بی جے پی کے ہاتھ سے جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ لکھیم پور میں وزیر مملکت داخلہ ٹینی، رائے بریلی، امیٹھی میں اسمرتی ایرانی اور راج ناتھ سنگھ کو کوئی پوچھ نہیں رہا۔ چوتھے مرحلہ کی59 سیٹوں میں سے 22 ایسی ہیں جہاں مسلم ووٹ 25 فیصد سے زیادہ ہیں۔ ان چاروں مراحل کی 231 میں سے بی جے پی نے 2017 میں 191 سیٹیں جیتی تھیں۔ چوتھے مرحلے تک بھاجپا سماجوادی کے بیچ مقابلے کی بات ہو رہی تھی لیکن اس کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے کہا کہ دلت ووٹ مایاوتی کے ساتھ ہے اور مسلم ووٹ بھی بی ایس پی کو مل رہے ہیں۔ نوجوانوں کا غصّہ، برہمنوں، کسانوں کی ناراضگی، یادوں کی خاموشی، جاٹ، پاسی، پٹیل، نشاد، راج بھر کا اپنے ووٹوں کو سنبھالنے اور مسلم ووٹوں کے نہ بکھرنے سے یہ الیکشن ضرور کوئی پیغام دینے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ چناؤ خراماں خراماں چونکانے والے نتائج کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اترپردیش میں اس سے پہلے کبھی اتنا سیدھا الیکشن نہیں ہوا جب لوگ جتانے یا ہرانے کیلیے کھل کر سامنے آئے ہوں۔ ووٹر بھاجپا کیلیے دھلان کی صورت پیدا کر رہے ہیں۔

سینٹرل یوپی سے الیکشن مشرق کے آخری تین مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ وہاں سیاست کی تجربہ گاہ میں ذاتوں کا کمپونینٹ زیادہ ہے۔ ذاتوں کی زور آزمائی اور او بی سی لیڈروں کا امتحان ہے۔ بی جے پی یا سماجوادی پارٹی کے کسی بھی او بی سی لیڈر کا نام لیجئے، انوپریہ پٹیل، کرشنا پٹیل ہوں، اوم پرکاش راج بھر، رام اچل راج بھر، سوامی پرساد موریہ، لال جی ورما، سنجے نشاد ہوں یا پلوی پٹیل 90 فیصد اسی علاقہ سے آتے ہیں۔ یہاں انتخابی سیاست ذات کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔ اس اعتبار سے پانچواں، چھٹا اور ساتواں مرحلہ بہت اہم ہے۔ اس علاقہ میں ہندو مسلم پولرائزیشن کا اتنا اثر نہیں ہوتا جتنا مغربی اترپردیش میں ہے۔ وارانسی میں6 دسمبر 1992 بابری مسجد شہادت کے بعد بھی دنگا فساد نہیں ہوا۔ 2017 میں بھی یہ علاقہ بی جے پی کے لیے چنوتی بھرا رہا ہے۔ اسے یہاں اتنی کامیابی نہیں ملی جتنی مغربی اترپردیش میں ملی تھی۔ سراوستی سے سون بھدر تک بی جے پی کا گراف ڈاؤن رہا تھا۔ پانچویں مرحلے کی 61 میں سے 47 بی جے پی اور تین سیٹیں اپنے دل کو ملی تھیں۔ بی جے پی کو ٹکر دینے والی سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی نے 21.7 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ پانچویں دور کی ووٹنگ کے بعد یہ صاف ہو گیا ہے کہ اس بار ہوا بی جے پی کے خلاف بہہ رہی ہے۔ بھاجپا کے حلیف پسماندہ لیڈران بھی اس کی کوئی مدد نہیں کر پا رہے ہیں۔

پرتاپ گڑھ کرمی اکثریتی علاقہ ہے۔ یہاں نوجوانوں میں غضب کا غصہ دکھائی دے رہا ہے۔ پہلی مرتبہ دلت، پسماندہ اور غریبوں کا مدا الیکشن میں ابھرا ہے۔ راجہ بھیا کے لیے مشکل پیدا ہوئی ہے۔ بارہ بنکی میں پاسی بی جے پی کے خلاف ہیں۔ سلطانپور، سسلولی اور خود ایودھیا کی سیٹ پر بھی حالات بدلے ہوئے ہیں۔ پریاگ راج میں سدھارتھ ناتھ سنگھ کا رچا سنگھ سے سخت مقابلہ ہے۔ رچا سنگھ الہ آباد یونیورسٹی طلبہ یونین کی صدر رہ چکی ہیں۔ بہرائچ کی چھ سیٹوں میں سے پانچ بی جے پی نے جیتی تھیں لیکن اس بار وہ ایک بھی سیٹ جیتنے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ یہی حال ملیح آباد، بخشی تالاب، موہن لال گنج کا ہے۔ گورکھپور میں خود یوگی ادتیہ ناتھ کو جیت حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔ اس لیے اگلے دو مرحلے کی 111 سیٹیں بی جے پی کے لیے بہت اہم ہیں۔

مجموعی طور پر دیکھیں تو الیکشن میں بے روزگاری، مہنگائی، آوارہ مویشی، کسانوں کے مسائل، جی ایس ٹی، کورونا سے متاثر ہوئے مزدور، خواتین کا تحفظ اور لا قانونیت جیسے مدوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ بنارس کے لوگ کانسی کی ختم ہوتی پہچان کو لے کر ناراض ہیں۔ نوجوان اپنی بڑھتی عمر اور کم ہوتی سرکاری نوکریوں کو لے کر غصہ میں ہیں۔ انٹرنیٹ ڈاٹا کا مہنگا ہونا اور بچوں کی تعلیم کے نقصان کو ووٹروں نے محسوس کیا ہے۔ یوپی میں سیاسی جماعتیں تذبذب کا شکار ہیں لیکن رائے دہندگان نے اپنا من بنایا ہوا ہے۔ اسی لیے کئی انتخابی حلقوں میں بی جے پی کے امیدواروں کو گھسنے نہیں دیا جا رہا۔ پہلی مرتبہ یوپی کا ہر شخص سیاست میں دلچسپی لے رہا ہے۔ اس مرتبہ پولنگ میں یکسانیت نہیں ہے۔ شہروں میں کم اور دیہی علاقوں میں زیادہ ووٹنگ ہوئی ہے۔ یہ بھاجپا کے لیے خطرہ کی نشانی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کارکنوں میں 2017 والا جوش نہیں ہے۔ اسی لیے خود وزیراعظم کو بنارس میں بوتھ کی سطح کے کارکنوں سے بات کرنی پڑی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بدلاؤ کا اشارہ ہے۔ حالانکہ بی جے پی نے الیکشن میں بہت سے نئے چہرے اتارے ہیں۔ لیکن یہ بھی بی جے پی کی کشتی پار لگانے کی حالت میں نہیں ہیں۔ بدلاؤ کی عام سوچ نے عوام اور سیاستدانوں کی ذمہ داری بڑھا دی ہے۔ یوپی کا پیغام حکومت اور سیاست کو بدلنے کا نکتہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔