شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات

گذشتہ چند دنوں سے احمد آباد کی عائشہ کی خود کشی ہماری گفتگوؤں کا محور بنی ہوئی ہے۔ خود کشی سے پہلے عائشہ کی آخری ویڈیو کے الفاظ نے سماج پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

اس واقعے کے تناظر میں جس طرح کا ردعمل ہمارے اہل دانش کا ہر بار ہوتا ہے، اسی طرح کا روایتی ردعمل اِس بار بھی نمایاں ہے۔کوئی خودکشی کا اسلامی نقطہ نظر بیان کر رہا ہے، تو کوئی جہیز کے موضوع پر اپنا غصہ اُتار رہا ہے۔ اور کوئی مرنے والی لڑکی کو صبر نہ کرنے اور اپنے شوہر کی اذیت نہ برداشت کرنے پر اسی کو قصوروار ٹھہرا رہا ہے۔ لیڈروں کی لمبی لمبی تقریریں، سیاست دانوں کے جذباتی اظہار، خطباء اور علماء کے جذباتی خطبے اس بار بھی سننے کو مل رہے ہیں۔

یہ ہمارے معاشرے کے لیے کوئی نئی بات نہیں رہی، نہ ہی اِس سانحے کے بعد کوئی انقلابی تبدیلی یا کوئی غیر معمولی رد عمل ہمارے معاشرے میں نظر آیا۔ ایسا ہر بار ہوتا آیا ہے۔ ہر واقعے اور سانحے کے بعد ہوتا ہے۔ صدیوں سے ہوتا آرہا ہے۔ شاید آگے بھی ہوتا رہے! لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اِس طرح کا طرز عمل کب تک چلے گا۔ کب تک اپنی نااہلی، کمزوری اور اپنی انا کے دفاع کے لیے جہیز کو اور آج کی کم ہمت نئی نسل کو قصوروار ٹھہرا کر ملت کے ٹھیکیدار بری الذمہ ہوکر نکل جائیں گے۔ وہ قومیں کبھی عروج نہیں پاتیں جو صرف لفظی جمع خرچ کرتی ہیں۔ یا ری ایکٹو اپروچ کو ختم کرکے پروایکٹیو اپروچ اپنے اندر نہیں لاتیں۔

کاش اِس سماج سے ناامید اس مسکراتی لڑکی کے وہ آخری الفاظ کہ  “اللہ سے دعا کرتی ہوں کہ اب دوبارہ انسانوں کی شکل کبھی نہ دکھائے’’ ہمارے اور ہماری ملت کے ٹھیکیدار، سیاست دان، قاضی حضرات، جماعتوں، انجمنوں، علما اور مسلم پرسنل لا کی بنیادیں ہلا ڈالتیں۔ غموں کے پہاڑ میں دبی اس لڑکی کا انسانوں سے بیزاری کا حقیقی سبب تلاش کرتیں۔ کوئی ہنگامی اجلاس ہوتا، کوئی سماج میں غیر معمولی تبدیلی لانے کے فیصلے ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پتہ نہیں اور کتنی عائشائیں یونہی نذر آب ہوجائیں گی۔ ہر کوئی مرض پر گفتگو کر رہا ہے۔ کن وجوہ کی بنا پر یہ مرض لاحق ہوا، اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔

مستقبل میں اِس طرح کے اقدامات سے نئی نسل کو بچانے کے لیے کیا تبدیلی لائی جانی چاہیے اور لائی جاسکتی ہے، اس پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ اگر آج اس پر سخت اقدام کیے جائیں گے تبھی ہم اللہ کے یہاں اپنے دفاع کے قابل ہوسکتے ہیں۔کیوں نہ ہم مل کر کچھ ایسے اقدام کریں کے مستقبل میں کوئی عائشہ ناامید ہوکر خود کو غرقاب نہ کرے۔ذیل میں چند مشورے ارباب حل و عقد کی خدمت میں پیش ہیں۔ شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات۔

 

  1. قاضی حضرات سختی کے ساتھ طے کریں کہ وہ کسی ایسے نکاح کی تقریب کا حصہ نہیں بنیں گے جہاں جہیز کی ریل پیل ہو، اور جہاں لڑکے اور لڑکی کے خاندانوں کی بے جا شان و شوکت کی نمائش ہو۔ ایسے لوگ اپنے بیٹوں کے نکاح کے لیے قاضی یا مولوی کے نہ ملنے پر مجبور اور پریشان ہوجائیں۔ اِس کی عمل آوری کے لیے وقف بورڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو اپنا بھر پور رول ادا کرنا ہوگا۔
  2. مساجد کے ذمہ داران طے کریں کہ مسجدوں میں کسی ایسے خاندان کو نکاح کی تقریب منعقد کرنے نہ دیا جائے گا جو جہیز لینے اور دینے والا ہو نیز شان و شوکت کی نمائش کرنے والا ہو۔ نہ ہی کوئی مولوی یا قاضی ان کا نکاح پڑھانے کے لیے آمادہ ہو۔
  3. تنظیمیں، جماعتیں اور انجمنیں نوجوانوں کو نکاح سے پہلے کونسلنگ کے سیشن چلائیں، جس طرح عازمینِ حج کی سفرِ حج پر جانے سے پہلے تربیت کا نظم کیا جاتا ہے، ان تنظیموں کی عالی شان عمارتوں کے کسی کونے، کمرے میں ایسا کوئی گوشہ ضرور مختص ہو جہاں مظلوم بہنوں اور ازدواجی مسائل کے حل کے لیے کونسلرس اور ماہرین نفسیات دستیاب ہوں۔ یہ چھوٹا سا کم خرچ والا کام وسیع وسائل کی حامل تنظیمیں اور جماعتیں ضرور کر سکتی ہیں۔ آج ہندوستان کی عدالتوں میں لاکھوں گھریلو مسائل کے معاملے زیر التوا ہیں جہاں کم علم مسلمان صرف ایک سماعت کے منتظر ہیں۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو ذی علم لوگوں کی معمولی رہنمائی اور ہمت افزائی سے حل کیے جاسکتے ہیں۔یہ مسئلے حل نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں۔ کاش یہ تنظیمیں ہوش کے ناخن لیں اور اِس نہج پر کچھ اقدامات کریں۔
  4. ماں باپ یہ طے کریں وہ اپنی لڑکی کو کسی ایسے گھر میں ہرگز نہیں بھیجیں گے جہاں جہیز کی مانگ ہو۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ جہیز کی خیرات دے کر یہ سمجھنا کہ لڑکا یا اس کے گھر والے آپ کی لڑکی کو خوش رکھیں گے محض خام خیالی اور بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ کتنے ہی ایسے بھکاری سڑک کنارے مرجاتے ہیں جو درحقیقت لاکھوں کے مالک ہوتے ہیں، ان کی موت کے بات اس راز سے پردہ اٹھتا ہے کہ مرنے والا ’’فقیر‘‘ تو کروڑپتی تھا، مگر مانگنے کی عادت سے مجبور تھا۔ خیراتی داماد بھی اسی طرح تمام عمر خیرات ہی کی توقع میں جیتا ہے۔
  5. نکاح خواں اور قاضی حضرات اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر نکاح کرنے والے جوڑے، ان کے والدین، کو نکاح نامہ کو پڑھ کر اس کی اچھی طرح تفہیم کرائیں۔ ہر فرد کو ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ کیا جائے۔اس کے لیے ایک شارٹ ٹرم کونسلنگ سیشن بھی قاضی کی جانب سے ہونا چاہیے اور اِس ٹریننگ سیشن کی سند کو نکاح نامہ کے ساتھ مسلک کیا جانا چاہیے۔ اگر ہمارے معاشرے ایسا ہوجائے تو بہت سے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔ بڑے بڑے تعلیم یافتہ نوجوان بھی بغیر پڑھے نکاح نامہ پر دستخط کردیتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ یہ ان کی زندگی اور مستقبل کا اہم ترین ترین کنٹریکٹ ہے!
  6. اور ہمارے معاشرے کا ہر فرد اِس بات کو ہر زاویے سے نئی نسل کو ذہن نشین کرائے کہ اسلام میں نکاح صرف ایک سول کنٹریکٹ ہے، کوئی جنموں کا بندھن نہیں۔یہ ایک انتہائی مضبوط کنٹریکٹ (قرآنی زبان میں میثاقِ غلیظ، یعنی پختہ معاہدہ) ہے، لیکن ناچاقی اور نااتفاقی (incompatibility) ایک فطری امر ہے۔ جہاں تک طرفین (شوہر اور بیوی) اِس معاہدے پر صبر و تحمل اور رواداری کے ساتھ عمل کر سکیں، وہ ساتھ رہیں۔ لیکن اگر علیحدگی ناگزیر ہوجائے تو اسلام نے ایگزٹ ڈور بھی دیا ہے، وہ بآسانی خلع اور طلاق لے سکتے ہیں۔ طلاق لے کر آئی ہوئی بیٹی کو ماں باپ اور بہن بھائی اپنائیت کا احساس دلائیں، نہ کہ اس کو بوجھ سمجھیں۔ یاد رکھیے اسلام میں طلاق شدہ بہن یا بیٹی کی کفالت کرنے والے کا بڑا اجر ہے۔
  7. ماں باپ خصوصاً لڑکیوں کو یہ احساس دلائیں کہ بیٹا اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ وہ صرف اس کا نکاح کر رہے ہیں، نہ کہ کنیا دان۔ اسلام میں کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو خیرات میں کسی کو بھی نہیں دے سکتا۔ عورت یہاں باوقار طریقے سے اپنا مہر حاصل کرکے اپنے شوہر کے نکاح میں جاتی ہے۔ جس طرح بیٹے کو تعلیم کے بعد خود مختار بننے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں اسی طرح ہر ماں پاب کا فرض ہے کہ ویسے ہی مواقع بیٹی کو بھی فراہم کریں، تاکہ وہ مستقبل میں خود کو کسی پر بوجھ نہ سمجھے۔ ہمارے معاشرے کی ایک کڑوی حقیقت یہ ہے کہ ذہین اور باصلاحیت لڑکیاں صرف باورچی خانوں کی نذر ہوجاتی ہیں۔جو نخلِ اسلام خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا جیسی عظیم تاجر اور مدبرہ کے تعاون سے تناور درخت بنا، اور جہاں نصیبہ بنت کعب جیسی عورتیں جنگوں میں مردوں کے شانہ بہ شانہ شامل رہیں، کیسی ستم ظریفی ہے کہ اسی مذہب کے ماننے والے عورتوں کے معاشی عروج کے قائل نہیں ہیں! ہماری بیٹیاں اور بہنیں اگر آج ناامیدی کی شکار ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، تو اس میں ہمارے معاشرے کی اس سوچ کا بھی دخل ہے۔
  8. والدین اپنے بیٹوں کی بھی تربیت پر بھر پور توجہ دیں۔ اباحیت اور فحاشی کے اس دور میں اپنے بچوں کی کردار سازی پر توجہ دیجیے، یقینی بنائیے کہ ان کی جوانیاں بے داغ رہیں، وہ زنا کے قریب نہ پھٹکیں، صحیح عمر میں ان کی شادیوں کا انتظام کردیجیے۔ جس نوجوان کا دِل کسی ایک عورت پر نہیں ٹکتا وہ پورے سماج کا مجرم ہے۔ اس بگاڑ میں سماجی ماحول کے ساتھ پرورش کا بھی رول ہے۔ والدین اپنے بیٹے کو نکاح کی اصل حقیقت اور بیوی کے اصل مقام کی بھی تعلیم دیں۔

یہ چند تجاویز تھیں۔امت مسلمہ کے غیور اہل دانش ایسے کئی اور سخت اقدامات کرکے مستقبل کی عائشاؤں کو بچا سکتے ہیں۔ہمیں روایتی تقریریں، احتجاج اور نعرے بازی سے بڑھ کر کچھ عملی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کا صحیح فلسفہ نکاح ہمارے معاشرے میں رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

ایسا نہ ہوا تو نہ جانے اور کتنی معصوم لڑکیاں اسی طرح خودکشی و خود سوزی کا راستہ اپنائیں گی۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا یہ محض عائشہ کی پست ہمتی کا شاخسانہ تھا؟ کیا وہ نہیں جانتی تھی کے اسلام میں خودکشی حرام ہے۔ نہیں، وہ اچھے سے جانتی تھی۔ کیا آپ نے اس کے آخری لفظ نہیں سنے “مجھے دعاؤں میں یاد رکھنا، کیا پتہ جنت ملے یا نہ ملے”۔ حقیقی جرم جہیز کی لعنت کا ہے اور اِس لعنتی رواج کو رائج ہوتا دیکھ کر خاموشی سے اپنی آنکھیں بند کرنے والے سماج کے ٹھیکیداروں کا ہے۔ ان ماں باپ کا ہے جو بیٹا اور بیٹی میں تفریق کرتے ہیں اور ان کے درمیان عدل کے ساتھ، صحیح تعلیم و تربیت، تعلیم کے بعد زندگی اور مستقبل کی رہنمائی نہیں کرتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا