اذان، لاؤڈ اسپیکر اور عدالتی فیصلے

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

لاوڈ اسپیکر سے اذان دینے کی بحث ختم ہونے کے بجائے دن بہ دن مزید تلخ اور پیچیدہ ہوتی جارہی ہے، مہاراشٹر میں سیاسی جنگ چھڑنے کے بعد صوبائی حکومت نے رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک لاوڈاسپیکر کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، کرناٹک، گجرات اور جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کو بنیاد بناکر مساجد میں لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگانے کی پی آئی ایل زیر سماعت ہیں، الہ آباد ہائی کورٹ نے مائک یا لاوڈاسپیکر میں اذان دینے کو لے کر اپنا حالیہ فیصلہ سنایا ہے، فیصلہ آنے کے بعد یہ بحث مزید سنجیدہ ہوگئی ہیں، اذان کو لے کر ماضی میں بھی وقتا فوقتا بحثیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس بار ایک ساتھ کئی صوبوں میں اذان کو نشانہ بنایا گیا ہے، بظاہر تو یہ نشانہ لاوڈاسپیکر کے استعمال پر لیکن جس طرح سے یہ بحث شروع ہوئی اور اب تک چل رہی ہے اس سے یہی پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ملک میں صوتی پالیوشن ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس مسئلے کی ذمہ دار بنیادی طور پر اذان ہے جو کہ دن میں پانچ بار مسجدوں سے دی جاتی ہیں، جب کہ ایسی کوئی رپورٹ یا تحقیق موجود نہیں ہے جس کی روشنی میں صوتی آلودگی یا اذان کی آواز سے اس میں اضافے کے کسی بھی دعوے کو کوئی تقویت حاصل ہوسکے۔ اگر اس پورے ہنگامے کو اسلاموفوبیا کی ایک منظم مہم کہا جائے تو بھی غلط نہیں ہوگا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 4 مئی 2022 کو عرفان بنام اسٹیٹ آف اترپردیش کے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسجد میں لاوڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حقوق کے زمرے میں شامل نہیں ہے، معاملہ ضلع بدایوں بسولی تحصیل کا تھا جہاں ایس ڈی ایم نے مسجد میں مائک یا لاوڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی لگادی تھی۔ اس سے پہلے مئی 2020 میں الہ آباد ہائی کورٹ کی ہی ڈویزن بنچ نے افضال انصاری بنام اسٹیٹ آف اترپردیش کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ “اس میں کوئی شک نہیں کہ اذان اسلام مذہب کا ایک بنیادی و ضروری فریضہ ہے تاہم مائیکروفون یا لاوڈ اسپیکر کا استعمال اسلام کا بنیادی یا ضروری عنصر نہیں ہے۔” سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اذان کو بلند آواز میں دینا اسلام کی ضرورت یا تعلیم کا حصہ نہیں ہے۔

سب سے پہلے سپریم کورٹ آف انڈیا نے 28 اکتوبر 2005 میں صوتی آلودگی کو صحت عامہ کے لیے ایک اہم مسئلہ بتاتے ہوئے لاوڈ اسپیکر اور مائک کے استعمال پر ضوابط بنائے تھے جس کے مطابق رات 10 بجے سے صبح 6 بجے کے دوران پابندی لگادی تھی۔ اس پابندی میں میں صرف ایمرجنسی حالات کو استثنائی حیثیت حاصل تھی۔

یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ اگست 2016 میں ہی بامبے ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہہ دیا تھا کہ لاوڈ اسپیکر کا استعمال بنیادی حقوق میں شامل نہیں ہے، نیز یہ بھی اس فیصلے میں صاف الفاظ میں تحریر کیا گیا کہ لاوڈ اسپیکر یا مائک کا استعمال دستور ہند کے آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی حق میں شامل نہیں ہے۔

اس سے پہلے کرناٹک ہائی کورٹ میں مسجد میں اذان کے لیے مائک کے استعمال کے خلاف پٹیشن داخل کی گئی تھی، اس پٹیشن میں بھی صوتی آلودگی کو بنیاد بناتے ہوئے مائک یا الوڈاسپیکر کے استعمال پر سوال اٹھایا گیا تھا جس کے بعد نومبر 2021 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت سے جواب طلب کیا تھا کہ مساجد میں لاوڈ اسپیکر کو لے کر کیا قانونی شقات موجود ہیں نیز اس کے منضبط استعمال کے لیے کیا لائحہ عمل بنایا گیا ہے۔ جب کہ جنوری 2021 میں مذہبی مقامات پر لاوڈاسپیکر کے بے جا استعمال کو لے کرناٹک ہائی کورٹ کرناٹک پولیس نیز کرناٹک اسٹیٹ پالیوشن کنٹرول بورڈ کو بھی سخت احکامات جاری کرچکا تھا، یہ پی آئی ایل بنگلور کے گریش بھاردواج نے داخل کی تھیں۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے ستمبر 2018 میں اپنے ایک فیصلے کے ذریعے رات 10 بجے کے بعد لاوڈاسپیکر کو ممنوع قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پورے صوبے میں سپریم کورٹ کی متعلقہ گائیڈ لائن پر عمل کیا جانا لازم ہوگا۔

اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 26 جون 2018 کو اتراکھنڈ صوبائی حکومت کو یہ حکم دیا تھا کہ لاوڈ اسپیکر کی صوتی حد 5 ڈیسیبل سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے، یہ حد دن کے اوقات میں بھی رکھی گئی نیز یہ حلفیہ تحریر بھی شرط رکھی گئی کہ استعمال کرنے والے آواز کو مقررہ حد سے زیادہ نہیں بڑھائیں گے، ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یہ احکامات تمام ہی افراد، تنظیموں اور مذہبی اداروں پر نافذ ہونگے نیز ان تمام ہی افراد یا اداروں کو انتظامیہ سے تحریری اجازت بھی حاصل کرنی ضروری ہوگی۔ اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے اپنے احکامات میں صاف الفاظ میں لکھا کہ اس کا اطلاق مندروں، مسجدوں و گرودواروں پر یکساں ہوگا نیز ہرایک کو تحریری اجازت لینی ضروری ہوگی۔ جولائی 2020 میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے بازپور جامع مسجد کی جانب سے داخل کردہ پٹیشن کی سنوائی کے بعد اپنے 2018 کے فیصلے واپس لے لیا نیز صوبے میں مذہبی مقامات پر لگائے گئے لاوڈ اسپیکر پر پابندی کو اٹھا لیا گیا۔

پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے جولائی 2019 میں تمام ہی عوامی مقامات نیز مذہبی مقامات پر لاوڈ اسپیکر پر پابندی عائد کردی تھی، نیز کسی بھی عوامی پروگرام نیز مائک کے استعمال کے لیے انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا تھا جس میں صوتی حدود کا پاس و لحاظ رکھنا بھی لازم قرار دیا گیا تھا۔ دن کے اوقات میں بھی مائک کے استعمال کے لیے تمام ہی مذہبی اداروں مندر، مسجد و گرودواروں کو انتظامیہ سے اجازت لینی لازمی قرار دی گئی تھی۔

وہیں دوسری مسلم قوم کی اکثریت کے دلائل کا انحصار بنیادی طور پر دستور ہند کے آرٹیکل 25 بہت ہی واضح طور پر پورے ملک میں مذہبی آزادی کا بنیادی حق تمام شہریوں کو فراہم کرتا ہے، مذہبی آزادی کا یہ دائرہ عقیدے کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کی آزادی پر بھی محیط ہے، یعنی ہمارا دستور ہم تمام شہریوں کو یہ دستوری حق فراہم کرتا ہے کہ ہم تمام ہی شہری اپنے اپنے مذہبی عقائد اور فریضے کے ساتھ اپنے اعمال کو بھی مذہبی تعلیمات کی روشنی میں انجام دیں، اذان اور نماز کی اہمیت تمام ہی پیروکار مسلمانوں کے لیے عقیدے کے ساتھ ضروری عمل کا بھی درجہ رکھتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے 1954 میں سوامینار کے مقدمے میں اپنے تاریخی فیصلے کے دوران عقیدے و عمل دونوں کی بنیادی اہمیت اور آرٹیکل 25 کے تحت دونوں کے احاطہ کو تفصیل کے ساتھ واضح کردیا تھا۔

آرٹیکل25 نے اگرچہ مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کی مکمل آزادی فراہم کی لیکن اس آزادی کو پبلک آرڈر کی شرط کے ساتھ منسلک و پابند کردیاگیا۔ ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذہب کی بنیادی رسوم جن کا عمل ضروری اور آرٹیکل 25 کے تحت دستیاب ہے یہ کیسے ثابت ہوگا؟ سپریم کورٹ آف انڈیا نے 1954 میں شیرور مت فیصلے میں کہا کہ مذہب کی بنیادی رسوم کو اسی مذہب کے عقائد و تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔ 1983 میں آنندا مرگا طبقے نے سپریم کورٹ میں اپیل داخل کی کہ ٹانڈو ناچ کو ان کی مذہبی آزادی کے تحت تسلیم کیا جائے لیکن سپریم کورٹ نے اس اپیل کو مسترد کردیا۔ مسلم سماج کے لیے مذہبی تعلیمات کو اور ان تعلیمات کی روشنی میں حاصل رسومات کو دستوری حیثیت میں تسلیم کروانا یقینا ایک سنجیدہ اسکیم اور عملی اقدامات کا حقدار تھا۔ یہ المیہ ہی رہا ہے کہ عدلیہ نے مذہبی جذبات کی قدر سنجیدگی سے نہیں کی جس کی مثال 1994 میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی پانچ ججوں پر منحصر بنچ نے اسماعیل فاروقی کے تاریخی فیصلے میں مسجد کو اسلام کی بنیادی ضرورت و حیثیت کو یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اسلامی تعلیمات میں نماز کہیں پر بھی پڑھی جاسکتی ہےاور مسجد میں ہی نماز ادا کرنا ضروری نہیں ہے اس سبب سے مسجد کی اہمیت بنیادی ضرورت کی نہیں ہے، اس مقدمے میں بابری مسجد و اس کے اطراف کی زمین کو لے کربحث ہورہی تھی۔ اگر ہم اسلامی تاریخ دیکھیں تو نماز کی فضیلت ۲۷ گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے اگر نماز مسجد میں پڑھی جائے، اور اذان اونچی آواز میں دینے کی فضیلت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ لاوڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہوئے آواز کا لحاظ رکھنا ایک اخلاقی فریضہ ہے، مائک یا لاوڈ اسپیکر کسی کے لیے تکلیف کا باعث نا بنیں، نیز مسلم رہنماوں کو اس سلسلے میں بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اصول و ضوابط صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں، اترپردیش میں مساجد سے کئی گنا زیادہ مندروں سے مائک ہٹائے گئے ہیں، لیکن ایسا ہر مسئلہ مسلمانوں کا مسئلہ بن جاتا ہے جس کا سیاسی مفاد مسلم مخالف سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوتا ہے، ایک خبر کے مطابق کیرلا کہ 26 مساجد نے مل کر ایک اذان دینے کا فیصلہ کیا ہے جو قابل غور بھی ہے اور قابل عمل بھی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔