الہ آباد کے بعد اب اکبر کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے

رویش کمار

دی ایشین ایج کی موجودہ خاتون صحافی اور سابق صحافیوں نے دہلی کے پٹیالہ کورٹ میں عرضی لگائی ہے کہ مان ہانی کے مقدمے میں ان کی بھی گواہی لی جائے۔ یہ اپنے آپ میں ایک غیر متوقع واقعہ ہے۔ مينا بگھیل، منیشا پانڈے، تشتا پٹیل، کویتا گہلوت، سپرا شرما، رامولا تلوار بڑم، كنیزہ گزاری، مالویكا بنرجی، اے ٹی جینتی، حمیدہ پارکر، جونالی براگوہین، سنجری چٹرجی، میناکشی کمار، سجاتا دتہ سچدیوا، ہوينو هزیل، رشمی چکرورتی، كشل رانی گلاب، عائشہ خان، کرن منرال۔ یہ سب گواہی کے لیے تیار ہیں۔

بھارت بھر کے بہت سے پریس کلب اور خواتین صحافیوں کے کئی تنظیموں نے بھی صدر، وزیر اعظم، وزیر داخلہ، ترقیات وزیر برائے خواتین، خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کو خط لکھا ہے۔ ایک طرح سے ان تنظیموں کے ذریعہ کئی ہزار صحافی اکبر کو ہٹا کر جانچ پڑتال کی مانگ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ملک بھر میں صحافیوں کا پردرشن شروع ہو جائے، وزیر اعظم کو اکبر کو ہٹانا پڑے گا۔

آج سواتی گوتم اور تشتا پٹیل نے الزام لگائے۔ تشتا کی تفصیلات پڑھنے کے بعد بھی اگر وزیر خارجہ سشما سوراج اکبر کو باہر نہیں کرا پاتی ہیں تو یہ انتہائی شرم کی بات ہے۔

اب اس خبر کو دوسرے لیول پر مینج کیا جا رہا ہے۔ ایسی خبریں آئیں گی جس میں مخالف پارٹی کے نیتا پھنسے، تاکہ آئی ٹی سیل کو فعال کرنے کی غیر اخلاقی طاقت حاصل ہو سکے۔ وہ ٹھیک ہے لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ می ٹو کسی ایک پارٹی کے نہ تو خلاف ہے اور نہ ساتھ ہے۔ ہاں مودی حکومت می ٹو کے خلاف ہے۔ مودی حکومت نے اسے ثابت کیا ہے۔ دنیا میں بھارت کی تصویر خراب ہو رہی ہے۔ پر از اكول ٹو کے لیے مخالف جماعتوں کے قصوں کا انتظار ہو رہا ہے تاکہ اکبر کو بچایا جا سکے۔

سولہ خواتین صحافیوں کا الزام عام واقعہ نہیں ہے۔ سب کے الزام میں کئی باتیں یکساں ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ اکبر منوروگی کی حد تک اکیلی لڑکی کو بلا کر حملہ کرتے تھے۔ ہوٹل کے کمرے میں کام کے بہانے بلانے پر زور دیتے تھے۔ کمرے میں شراب پینے کے لیے برف نکالنے اور گلاس میں شراب ڈالنے کی بات کرتے تھے، اکیلے میں لڑکی کو دبوچ لیتے تھے، منہ میں زبان ڈال دیتے تھے، خواتین کو خود بلا کر گھنٹی بجانے پر انڈرویئر میں باہر آتے تھے۔ اس طرح کے سنگین الزام لگائے ہیں۔ جو الزام زیادہ سنگین ہیں ان کے خلاف اکبر نے مان ہانی کا نوٹس نہیں بھیجا ہے۔

اکبر کا واقعہ معمولی نہیں ہے۔ سولہ خواتین نے الزام لگائے ہیں۔ راشد قدوائی نے بھی ان کی حمایت کی ہے جو ایشین ایج میں کام کر چکے ہیں۔ اتنی شکایات کے بعد بھی وزیر اعظم مودی نے اکبر کا ساتھ دیا ہے تو اس کا مطلب الہ آباد میں بھلے کچھ نہ رکھا ہو، اکبر میں کافی کچھ ہے۔ یہ اکبر مغل نہیں سرکاری ہیں۔ اکبر راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ کیا نائب صدر کو چیئرمین  ہونے کے ناطے جانچ کمیٹی نہیں بنانی چاہیے۔ سیاست میں تحقیقات کے ہونے تک لوگ استعفی دیتے رہے ہیں۔ حکومت کو بھی کمیٹی بنانی چاہیے تھی۔ اکبر کو استعفی دینا چاہیے تھا۔ مودی کو برخاست کرنا چاہیے تھا۔ کیا یہ عجیب نہیں ہے؟ یوگی اکبر کے بسائے الہ آباد کا نام بدل رہے ہیں۔ مودی سرکاری اکبر کو آباد کر رہے ہیں۔ اکبر کو بدلنا پڑے گا۔ کب تک ہندی اخباروں اور چینلز کے ذریعہ اس خبر کو مینج کیا جائے گا۔ ایک نہ دن اکبر کو بھی مینج کرنا ہوگا۔ ہٹانا ہوگا۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

تبصرے بند ہیں۔