انِل دیشمکھ : مکھی چھاننے اور اونٹ نگلنے کی سیاست 

ڈاکٹر سلیم خان

انل دیشمکھ مہاراشٹر کے کم گو اور پروقار وزیر داخلہ تھے۔ کورونا کی پہلی لہر کے دوران  پالگھر میں ساھووں کے ہجومی قتل پر  بی جے پی نے  گودی میڈیا خاص طور  پر ریپبلک ٹی وی کی مدد سے  پوری کوشش کی کہ ریاست میں  فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑیں  لیکن انہوں نے کمال مہارت سے اسے ناکام بنادیا۔ اس اشتعال انگیز صورتحال پر قابو پانے میں حکومت اگر ناکام ہوجاتی تو نہ جانے کتنے بے قصور  لوگوں کواپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا اور کتنا مالی نقصان ہوتا۔ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا کر  بی جے پی   صوبائی حکومت کو عدم استحکام کا شکار کر کے صدر راج بھی نافذ کرسکتی تھی  لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ یہ دیشمکھ کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ اس کے بعد ٹیلیویژن پر اشتعال پیدا کرنے والے ارنب گوسوامی کو قابو میں کرنا دوسرا بڑا چیلنج تھا تاکہ  دوبارہ اس طرح کی کوشش نہ ہو۔ انل دیشمکھ کی قیادت  مہاراشٹر پولس نے ارنب کو ٹی آر پی معاملے میں جیل بھیج کر اس کا دماغ درست کردیا۔

انِل دیشمکھ سے اس دوران دو بڑی غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ پہلی  انہوں 15؍ سال بعد سچن وزے جیسے بدنامِ زمانہ پولس افسر  کی ملازمت بحال کو بحال  کیا جسے خواجہ یونس انکاونٹر معاملے میں معطل کیا گیا تھا۔  ان کی  دوسری غلطی پرمبیر سنگھ کو مہاراشٹر پولس  کا سربراہ مقرر کرنا تھا ۔ یہ دونوں   غلطیاں انل دیشمکھ کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں  اور مرکزی حکومت  ان  کی مدد سے انہیں  جیل بھیجنے کا راستہ ہموار  کررہی ہے۔  سچن وزے کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے اندر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس کو ملازمت سے ہٹا دیا گیا ہےلیکن پر مبیر سے متعلق اخبارات میں بہت کم باتیں آئی ہیں۔ پرمبیر سنگھ نے طویل پولس کی خدمات کے دوران بہت ساری ذمہ داریاں ادا کیں ان میں سے ایک بدعنوانی  کے خلاف کام کرنے والے اینٹی کرپشن بیورو کی سربراہی بھی ہے۔ پرمبیر کی ترقی کے پیچھے ممکن ہے ان کا ناےب وزیر اعلیٰ   اجیت پوار کو زراعت کی بدعنوانی سے کلین چٹ دینے کا کردار بھی ہوسکتا ہے۔ یہ کلین چٹ کس کے کہنے پر اور کیوں دی  گئی یہ اور بات ہے۔

پرمبیر سنگھ کے بیٹے روہن سنگھ  کی شادی ساگر میگھے کی بیٹی رادھیکامیگھے سے ہوچکی ہے۔ ساگر دراصل بی جے پی کے بڑے رہنما دتا میگھے کے بیٹے ہیں۔ وہ ایک زمانے تک کانگریس میں رہے ہیں لیکن 2014 میں قومی سیاست کا رخ بدلا تو انہوں نے بھی سُر بدل لیا۔ دتا میگھے کا ایک بیٹا سمیر میگھے بی جے پی رکن اسمبلی ہے۔ فروری 2020 میں سنجے بروے  کے بعد  کمشنر کے عہدے سے نوازہ گیا۔ مکیش امبانی کے گھرکے باہر دھماکہ خیز اشیاء کی موجودگی نے مہاراشٹر کی حکومت پر بہت دباو بنایا۔ من سکھ کے قتل  پردیویندر فردنویس نے اتنا بڑا ہنگامہ کھڑا کیا کہ سرکار ڈولنے لگی۔ ایسے میں حکومت مہاراشٹر نے پرمبیر سنگھ کو بلی کا بکرا بناکر ان کا ہوم گارڈ میں ٹرانسفر کردیا یہ ان کی توہین تھی۔ بی جے پی والے ہنگامہ کرتے رہے لیکن من سکھ تو سچن کا دوست نکل گیا اور اس کی اس حرکت  سرکار سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔ پھر ایک بار  فردنویس کا خواب ٹوٹ کر بکھر گیا۔ بعید نہیں کہ اس دوران دیویندرفردنویس کا اس  دوران پرمبیر سے رابطہ ہوا ہواور انہوں سرکار سے انتقام لینے کے لیے ایک سازش رچی ہو۔

20؍ مارچ 2021کو سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نےایک خط لکھکر وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو بتایا کہ ’وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے معطل اے پی آئی، سچن وازے کو شراب خانوں  اور ریسٹورنٹ سے ہر ماہ 100 کروڑ روپئے وصول کرنے کی ہدایت دی تھی‘۔ اس خط میں لکھا تھا سچن وزے کو جب 100 کروڈ ماہانہ کا ہدف دیا گیا تو اس نے اسے ناممکن بتایا اور 50 کروڈ جمع کرنے پر راضی ہوگیا۔ وزیر داخلہ نے اسے کچھ نئے راستے تلاش کرنے کی تلقین کی۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ تھا کہ گویا امبانی کے گھر پاس دھماکہ خیز   اشیا کی گاڑی  ایک نیا ایجاد کردہ راستہ تھا۔ 8 صفحات پر مشتمل اس  خط نے ایک سیاسی بھونچال رونما کردیا اور بی جے پی وزیر داخلہ کو ہٹانے کے اپنے مطالبہ  کرنے لگی۔ پرم بیر سنگھ  نے دیکھا کہ نہ تو انل دیشمکھ استعفیٰ دے رہے ہیں  اور انہیں ہٹایا جارہا ہے تو 24؍ مارچ کو  وہ سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

سپریم کورٹ کی عرضی میں پرم بیر سنگھ نے  اپنا اصلی درد  بیان کردیا۔ انہوں نے ممبئی کے پولیس کمشنر عہدے سے ان کے تبادلے کو منمانی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے  اس حکم کو منسوخ کرنے کی گزارش کی۔ پرم بیر سنگھ نے ایک عبوری راحت کے طور پر اپنے تبادلہ کے حکم پر روک لگانے اور ریاستی حکومت، مرکزی حکومت اور سی بی آئی کو دیشمکھ کی رہائش گاہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج فوراً قبضہ میں لینے کے لیے احکامات جاری کرنے کی گزارش  بھی کی نیز  سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کردیا۔  سی بی آئیجانچ کے مطالبہ والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس آر سبھاش ریڈی کی بینچ نے کئی تیکھے سوالات کیے مثلاً اس  معاملے میں انل دیشمکھ کو فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟ سپریم کورٹ نے پرم بیر سنگھ کے وکیل سےیہ بھی  پوچھا کہ آپ نے متعلقہ محکمہ کو فریق کیوں نہیں بنایا ہے؟ آپ نے دفعہ 32 کے تحت کیوں عرضی داخل کی ہے، 226 کے تحت کیوں نہیں داخل کی؟

سپریم کورٹ نے پوچھا  آپ پہلے ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟ اور پھر پرم بیر سنگھ کو ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تلقین کردی۔ اس پر پرم بیر سنگھ نے سپریم کورٹ سے اپنی عرضی واپس لے لی ہے۔ اس طرح پرمبیر کے ہاتھ  ایک اور  ناکامی آئی۔ قانونی سطح پر ناکامی کے باوجود جب سیاسی دباو  بہت  زیدہ بڑھ گیا تو مہاراشٹر کی ریاستی  حکومت نے انل دیشمکھ کو بلی کا بکرا بنادیا۔ اس طرح گویا پرمبیر کو  بلی کا بکرا بنانے والے انل دیشمکھ خود بھی اسی انجام سے دوچار ہوگئے۔ اس کامیابی نے بی جے پی اور پرمبیر کا حوصلہ بلند کردیا۔ ان کے سر پرمحکمہ جاتی  تفتیش کی تلوار لٹک رہی تھی۔ اس سے پیچھا چھڑانے کی خاطر انہوں نے  امسال جون 12؍ کو دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس بار پرمبیر سنگھ کےممبئی پولیس پر عدم اعتمادکا اظہار کرتے ہوئے یہ  جانچ سی بی آئی یا کسی اور ایجنسی کو سونپنے کی درخواست کرڈالی۔

 اس  احمقانہ  عرضی  پر چونکتے ہوئے  عدالت نےکہا کہ ’’آپ مہاراشٹر کیڈر کا حصہ ہیں،  آپ  نے ریاست میں 30؍ سال تک خدمات انجام دی  ہیں اور اب آپ کو اپنی ہی  ریاست کے کام کرنے کے طریقے پر بھروسہ نہیں ہے؟ یہ بہت ہی  حیران کن الزام ہے۔‘‘کورٹ نے حیرت اظہارکرتے ہوئے   کہہ دیا  ’’جن کے گھر شیشے کے ہوں انہیں دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنا چاہیے۔‘‘ ۔ عدالت کے اس تبصرے پر جھنجھلا کر پرمبیر سنگھ کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے الزام لگادیا کہ ان کے موکل  کو سابق وزیرداخلہ انل دیشمکھ کے خلاف مکتوب  لکھنے کی وجہ سے ہراساں کیا جارہا ہے تاکہ وہ اسے واپس لے لیں توکورٹ نے کہا کہ’’اگر ڈی جی پی رینک کے کسی افسر پر دباؤ بنایا جاسکتاہے تو کسی بھی رینک کے کسی بھی افسر پر دباؤ بنانا ممکن  ہے۔ کہانیاں  نہ گڑھیں۔

اس دلچسپ مقدمہ میں  پرمبیر کے خلاف جانچ سی بی آئی کو سونپنے کےلیے کورٹ کو آمادہ کرنے کی کوشش میں مہیش جیٹھ ملانی نے کہا  ان کے موکل کے مکتوب پر بامبے ہائی کورٹ نے سی بی آئی جانچ کا حکم دیاہے تو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ٹوک دیا۔ کورٹ نے واضح کیا کہ دونوں الگ الگ معاملات ہیں۔ اس سےقبل بحث کے دوران مہیش جیٹھ ملانی نے یہ درخواست کی تھی کہ  ان کے موکل کےخلاف کوئی نئی ایف آئی آر درج نہ ہو۔جواب  میں  کورٹ نے کہا کہ ’’ہم یہاں ایف آئی آر پر بحث نہیں کررہے ہیں۔ اس کیلیے مجسٹریٹ کورٹ موجود ہیں ‘‘۔ عدالت کے رخ کو بھانپتے ہوئے پرمبیر کے دوسرے  وکیل ایڈوکیٹ پونیت بالی نے عرضی واپس لے لی۔ اس طرح پرمبیر سنگھ کو مہاراشٹر پولیس پر عدم اعتماد اور اپنے خلاف محکمہ جاتی جانچ کوچیلنج کرنے   کی  درخواست پر ہزیمت  اٹھانی پڑی تھی۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے منی لانڈرنگ کیس میں مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ کو تفتیش کے لیے جو  طلب کیا ہے اسےمذکورہ  لڑائی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ یہ پروکسی  وار یعنی ایسی جنگ ہے جس دولوگوں کی آڑ میں دوخفیہ طاقتیں ایک دوسرے سے  برسرِ پیکار ہیں۔ ایک طرف دیویندر فردنویس ہے پرمبیر کی مدد سے مہاراشٹر کی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف مہاراشٹر کی حکومت انل دیشمکھ کو جیل جانے سے بچانا چاہتی ہے۔  ای ڈی ناگپور میں انل دیش مکھ کے گھر پر سرچ آپریشن کرچکی ہے اور انہیں ای ڈی کے دفتر میں تفتیش کے لیے طلب کیا ہے۔ مرکزی ایجنسی نے انل دیشمکھ کے ذاتی سکریٹری سنجیو پلنڈے اور معاون کندن شنڈے کو منی لانڈرنگ کی روک تھام (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت حراست میں لےرکھا  ہے۔

اب سو ٹکے کی بات یعنی ماہانہ ۱۰۰ کروڈ   رنگداری جمع کرنے کا الزام ؟ اس  سے متعلق عرض یہ ہے کہ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق، 10 بار مالکوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے انل دیشمکھ کو 4 کروڑ روپئے کی رشوت دی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بار مالکوں کے انہیں الزامات  کی روشنی میں کارروائی کی ہے۔ اب کہا ں تو ماہانہ 100 کروڈ کا ہدف  اور کہاں تین ماہ میں 4 کروڈ کے ثبوت ان دونوں کے درمیان اتنا بڑا فرق ہے کہ پرمبیر کو ڈوب مرنا چاہیے۔ ایک عام آدمی کے لیے چار کروڈ بہت بڑی رقم ہے لیکن جس کاٹول سے انل دیشمکھ آتے ہیں اس سے 59 کلومیٹر دور ناگپور ہے۔ وہاں پر پانچ سال قبل مرکزی وزیر نتن گڑکری نے اپنے بیٹے کی شادی میں 10ہزار لوگوں کی دعوت کی تھی۔ اس بابت ہندوستان ٹائمز کے مطابق 50چارٹر جہاز کا اہتمام کیا گیا۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی  ہوگی لیکن کسی ای ڈی کو اس کی جانب دیکھنے کی جرأت  نہیں ہوئی۔ اسے کہتے ہیں مکھی چھاننا اور اونٹ نگلنا۔ بہر حال اب انل دیشمکھ کا معاملہ تو 4کروڈ 17لاکھ میں سمٹ گیا  ہےلیکن پر مبیر کی جانچ پڑتا ل جاری ہے۔ موجودہ صورتحال تو یہ ہے کہ کھودا پہاڑ اور نکلا چوہا کی کیفیت ہے۔ وہ دن دور نہیں کہ  جب جس بل سے چوہا نکلا ہے اسی میں بلی  کو بند کردیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔