آبادی اور بربادی کا سیاسی کھیل

اتر پردیش لاء کمیشن نے مجوزہ قانون اتر پردیشآبادی (کنٹرول، استحکام اور بہبود) بل 2021، کا مسودہ جاریکرکے  دو بچوں کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوشش کی  ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

دولت کا معاملہ یہ ہے اپنے سے غریب کے مقابلے جو شخص امیر ہوتا ہے وہی خود سے امیر کی بہ نسبت غریب ہوجاتا ہے۔ یہی اصول  ذہانت پر  بھی صادق آتا ہے۔ وشو ہندو پریشد کو آر ایس ایس کے مقابلے اجڈگروہ   ماناجاتا ہے لیکن اتر پردیش کے آبادی  پر قابو پانے والے مجوزہ قانون  کے حوالے سے ایک بیان دے کر وی ایچ پی  نے ثابت کردیا   یوگی جی کے مقابلے وہ کافی سمجھدا ر ہے۔ اس سے یوگی ادیتیہ ناتھ اور ان کے احمق صلاح کاروں کے فہم و فراست  کی سطح کا بہ آسانی  اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وی ایچ پی نے چونکہ ردعمل میں ایک بیان دیا ہے اس لیے پہلے یوگی سرکار کے عمل کی مختصر تفصیل سامنے آنا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خیال میں  بڑھتی ہوئی آبادی قومی  ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ملک میں غربت کی ایک اہم وجہ آبادی بھی ہے۔دو بچوں کی پیدائش میں فرق نہ ہونے کی وجہ سے غذائی قلت کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ آبادی کنٹرول پر گزشتہ چار دہائیوں سے بحث ہو رہی تھیاور اب  جو آبادی پالیسی  اتر پردیش  کی صوبائی حکومت لے کر آئی ہے، اس سے معاشرے میں خوشحالی آئے گی۔

یوگی جی مبارکباد کے مستحق ہیں  کہ اس بار وہ رام مندر، لوجہاد ، رومیو بریگیڈ، گئوماتا  جیسے جذباتی نعروں کے بجائے غربت وغذائی قلت اور  خوشحالی و ترقی جیسے موضوعات  کی جانب متوجہ ہوئے ہیں  لیکن افسوس کہ  ان کا تجویز کردہ علاج بیماری سے زیادہ خطرناک ہے۔ یوگی جی  نے ایک  خطاب میں  کہا کہ  حکومت نے نئی آبادی پالیسی میں ہر طبقے کا خیال رکھا ہے۔ اس سے معاشرے کے ہر طبقے کو جڑنا ہوگا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ آبادی کنٹرول کے لیے بیداری ضروری ہے۔ افسوس کہ اس پالیسی سے کوئی اور تو دور ایودھیا میں رام  مندر تعمیر کرنے والا وشوہندو پریشد بھی نہیں جڑ سکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا خیال نہیں رکھا گیا اور نتیجے میں وہ بیداری پیدا کرنے کے بجائے بیزاری پیدا کررہا ہے۔ یوگی جی اگر اس معاملے میں خود اپنے سنگھ پریوار کا تعاون  سے محروم ہیں  تو بھلا دوسروں کا اعتماد کیسے حاصل کرسکیں گے؟

اتر پردیش لاء کمیشن نے مجوزہ قانون اتر پردیشآبادی (کنٹرول، استحکام اور بہبود) بل 2021، کا مسودہ جاریکرکے  دو بچوں کی پالیسی کو فروغ دینے کی کوشش کی  ہے۔ بل کے مسودے میں مجوزہ قانون سازی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بلدیاتی انتخابات لڑنے، سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے اور سرکاری فلاحی اسکیموں کے تحت سبسڈی حاصل کرنے سے محروم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے جواب میں اترپردیش لاء کمیشن کو وی ایچ پی کے قائم مقام صدر آلوک کمار نےلکھا  ہے کہ مذکورہ قانون میں عدم توازن کا سبب یہ ہے کہ ہندو اور مسلم برادری خاندانی منصوبہ بندی اور مانع حمل سے متعلق مراعات اور ناپسندیدگی کے بارے میں مختلف ردعمل کا اظہار کرتی  ہیں۔ یہ بات درست ہے لیکن اس کی وجوہات جاننے کی ضرورت ہے۔ حکومت اگر یہ کہتی ہے کہ دو سے زیادہ بچے پیدا  کرنے والوں کو سرکاری ملازمت نہیں ملے گی تو مسلمان سوچتا ہے اسے تو بغیر شادی کے بھی سرکاری ملازمت نہیں دی جاتی اور ایک بچہ پیدا کرنے والے سرکاری ملازم کو ترقی ملے گی تو اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش وہ ہندو  کرتا ہے جس کو سرکاری ملازمت سے نوازہ گیا ہے۔ جب ملازمت دینے میں توازن نہیں ہوگا تو اس قانون کا نفاذ  متوازن کیسے ہوگا؟اس اہم سوال پر  وشو ہندو پریشد اور یوگی مہاراج کو سر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سرکاری ملازم کو نہ دوکان داری کرنی ہے اور نہ محنت مزدوری،  اوپر سے زندگی بھر پنشن بھی ملتی ہے  اس لیے بچوں  پر اس کا معاشی انحصار   نہیں ہوتا  لیکن  نجی شعبوں میں کام کرنے والے یا اپنا ذاتی  کاروبار کرنے والوں کی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ اس کا تعلق کسی مذہب یا ذات پات سے نہیں ہے۔ سرکاری ملازمت   میں مخصوص مذہب اور ذات کے لوگوں کی بھرمار اس کا  بنیادی سبب ہے۔  وی ایچ پی کے کمار نے مثال کے طور پر آسام اور کیرالہ کا حوالہ دیتے ہوئے  کہا کہ ان ریاستوں میں ہندوؤں کیآبادی میں اضافہ کی  شرح 2.1 فی خاندان  سے بہت کم ہےجبکہ  مسلمانوں کی شرح 3.16 اور کیرالہ میں 2.33  فی خاندان ہے۔ اب کمار صاحب یہ پتہ لگائیں کہ ان دونوں صوبوں میں  سرکاری سہولیات بشمول ملازمت حاصل کرنے والوں میں آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کا تناسب کیا ہے؟ اور اسے درست کرنے کے لیے اقدامات کریں تو مسئلہ ازخود حل ہوجائے گا۔ وشو ہندو پریشد کو فکر ہے کہ ان ریاستوں میں ایکطبقہ سکڑ رہا ہے جبکہ دوسری برادری پھیل رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کی وجوہات معلوم کرنا لازم ہے۔

وی ایچ پی کے سربراہ نے  اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ آبادی کو گھٹانے کی کوشش منفی اثرات ڈالتی ہے اس کے لیے انہوں نے چین کی آبادی پر قابو پانے کے اصولوں میں نرمی کا حوالہ دیا۔کمار لکھتے ہیں 1980 میںچینکے اندر ایک بچے کی پالیسی نافذ کی گئی، پھر دو بچے پیدا کرنے کی اجازت دینے کے لیے اسے 2016 میں ختم کردیا گیا۔ امسال  مئی میں چین نے تین بچوں تک کی اجازت دے دیہے۔ اس کا مطلب وہاں  زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے ایسا یوروپ اور جاپان جیسے کئی ملکوں میں کیا جارہا ہے۔ اب   یہ وشو ہندو پریشد کی ذمہ داری ہے یوگی جی کو   سمجھائیں  کہ وہ چین اور اس کی طرح کے دیگر ممالک  کی غلطی دوہرانے کے بجائے اس سے سبق  سیکھیں۔ وی ایچ پی کے سربراہ نے نہایت مدلل انداز میں بتایا  کہ  برتھ کنٹرول سے کام کرنے کی عمر اور منحصر آبادی کے درمیان تناسب خراب ہوجاتا ہے۔ ایک بچے کی پالیسی سے دو والدین اور چار دادا دادی نانا نانی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک  بالغ پر آجاتی  ہے  اسی لیے  چینکو ایک بچے کی پالیسیتبدیل کرنی پڑی۔ یوگی مہاراج کسی مسلمان یا اشتراکی دانشور کی  بات تو سمجھنے سے رہے لیکن اگر ہندوتوا نواز مفکرین کی بھی بات مان لیں تو اس میں ان کی بھلائی ہے ورنہ جس طرح جبری نسبندی نے اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل کردیا تھا اسی طرح  وہ  بھی  اقتدار سے محروم کردیئے جائیں اور الیکشن جیتنے کے لیے کھیلا جانے والا یہ جوا ان کے لیے وبال جان بن جائے  گا۔

گزشتہ سال (۲۰۲۰) دسمبر میں  سپریم کورٹ کے اندر بی جے پی رہنما  اشونی اپادھیائےنے عرضی داخل کرکے حکومت ہند کو شریک مدعیبنا دیا۔ اس درخواست میں  کہا گیاتھا کہ آبادیکو قابومیں کرنے کے لیے قدم اٹھائے جائیں اوردو بچے کی پالیسی کا اعلان کیا جائے ، یعنی سرکاری نوکری سبسڈی وغیرہ کو اس سے مشروط کردیا جائے  اور اس پالیسیکی خلاف ورزی کرنے والے کو انتخاب لڑنے بلکہ  رائے دہندگی کے قانونی حق سے  بھی محروم کردیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اس عرضی پر مرکزی سرکار کو نوٹس جاری کر کے جواب داخل کرنے کو کہا تھا کیونکہ  عرضی گزار نے آبادی کنٹرول کے لیے اس وینکٹ چلیاّ کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس میں دو بچوں کی پالیسی لاگو کرنے اور سرکار ی سبسڈی ونوکری کے لیے دو بچے کی پالیسی کو نافذ کرنے کی سفارش کی  گئی تھی۔

اس مقدمہ میں مرکزی حکومت کا جواب یہ تھا  کہ آبادی کنٹرول ریاست کا موضوع ہے۔ آئین کے شیڈول سات میں کاموں کی تقسیم کے لیے  مرکزی،ریاستی ،اور مشترکہ فہرستوں میں آبادی کنٹرول کا مسئلہ  آخری فہرست میں ہے یعنی آبادی کنٹرول پر مرکز اور ریاستی حکومتیں دونوں ہی قانون بنا سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا تھا  کہ وہ عوام  کو فیملی پلاننگ کے تحت خاندان میں  بچوں کی تعداد دو تک محدود رکھنے پر مجبور کرنے کے خلاف ہے۔ اس سے آبادی کے سلسلے میں عجیب حالات پیدا ہوں گے۔ مرکزی سرکار نے عدالت سے کہا  تھا کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی  کے لیے کسی پر دباونہیں ڈال سکتی کیونکہ  ایسا کرنے سے منفی اثر بھی ہوسکتا ہے اور ڈیمو گرافی کی پیچیدگیاںجنم لے سکتی ہیں۔ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے داخل کردہ  جواب میں کہا گیاتھا کہ فیملی پلاننگ ایک خود کی  مرضی و خواہش  سے نافذ ہونے والی  اسکیم ہے اس میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔

 اس معاملے میں مرکزی سرکار نے کہنا تھا  کہ پبلک ہیلتھصوبے کا موضوع  ہے اس معاملے میں ان کا براہِ راست کردار  نہیں ہے۔ صحت  سے متعلق رہنمائی خطوط نافذ  کرنے کا حق  صوبائی حکومت  کا ہے۔ مرکزی  سرکار ایک پائیدار ،آبادی پالیسی کی تعمیل کرتی ہے اور وہ فیملی پلاننگ کے زبردستی کرنے خلاف ہے۔ ویسےملک  کے اندر  آبادی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے  مختلف پروگرام چلائے جاتے ہیں  مثلاًیوم آبادی منایا جاتا ہے مشن فیملی ڈیولیپمنٹیوجنا موجود ہے جس کے تحت فیملی پلاننگ پروگرام چلتا ہے ایسی  بہت ساری سرگرمیاں ہیں۔عدالت عظمیٰ میں مرکزی حکومت نے جو حلف نامہ داخل کیا اس میں یوگی سرکار سے متضاد موقف اختیار کیا گیا تھا۔ اس سے مذکورہ دستاویز کی یہ بات کہ ’وزارت کے افسران نہ آئین کو پڑھتے ہیں اور نہ ہی سمجھتے ہیں‘ یوگی سرکار پر صادق آگئی۔     مرکز میں اگر کسی اور جماعت کی حکومت ہوتی تو یوگی جی کہہ سکتے تھے کہ وہ اس معاملے میں حساس نہیں ہے لیکن ایک ہی پارٹی عدالت عظمیٰ میں  جو کہے صوبے میں اس کے متضاد عمل کرے تو تال میل کا فقدان ظاہر ہوتا ہےجو قومی فلاح و بہبود کے لیے نقصان دہ ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔