باغوں میں بہار تو نہیں ہے مگر پھر بھی۔۔۔۔۔!

رويش کمار

تصاویر اپنی قسمت دیکھنے والوں کی نگاہ میں طے کرتی ہیں. انڈین ایکسپریس کے پروین جین کے کیمرے سے اتاری گئی اس تصویر کو دیکھنے والوں نے تصویر سے زیادہ دیکھا. ایک فریم میں قید اس لمحے کو کوئی ایک سال پہلے کے واقعے سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے تو کوئی ان قصوں سے جسے آج کے ماحول نے گڑھا ہے. دسمبر کی شام باغوں میں بہار کا استقبال کر رہی تھی. گالیوں کے گلدستے سے گلاب جل کی خوشبو آ رہی تھی. تعریفوں کے گلدستے پر بھنورے منڈرا رہے تھے. میں اس باغ میں بیگانہ مگر جانا-پہچانا گھوم ٹہل رہا تھا.

میں استھت پرگ ہونے لگا ہوں. ہر طوفان کے درمیان ایمانداری کو پکڑنا چاہتا ہوں. کبھی پکڑ لیتا ہوں، کبھی چھوٹ جاتی ہے. انعام اور عنایت کے لئے شکریہ  کہتا ہوا 2007 کے اس لمحے کو تلاش کر رہا تھا جب والد صاحب کے ساتھ پہلی بار رام ناتھ گوینکا انعام لینے گیا تھا. یادیں آپ کو بھیڑ میں تنہا کر دیتی ہیں. پاس آتی آوازیں میرے بارے میں کہہ رہی تھیں مگر وہ میرے بارے میں نہیں تھیں. قریب آکر کچھ کہہ کر گزر جانے والے یہ لوگ تمام چھوٹے بڑے صحافیوں کے کام کو سلام بھیج رہے تھے. شاید عمر کا اثر پڑے گا، اب لگتا ہے کہ میں بہتوں کے بدلے انعام لے رہا ہوں. ان گنت صحافیوں نے مجھے سراہا ہے اور دھکا دے کر وہاں رکھا ہے جہاں سے کبھی بھی کسی کے پھسل جانے کا خطرہ رہتا ہے یا پھر کسی کے دھکا مار کر ہٹا دیے جانے کا خدشہ.

آئی ٹی سی موریا کے پورٹکو میں اترتے ہی وہاں ہوٹل کی وردی میں کھڑے لوگ کیوں دوڑے چلے گئے ہوں گے؟ جبکہ سب اپنے کام میں کافی مصروف تھے. سب نے اپنے کام سے کچھ سیکنڈ نکال کر میرے کان میں کچھ کہا. ایک گاڑی آتی تھی، دوسری کار جاتی تھی. ان سب کے درمیان ایک ایک کر سب آتے گئے. کسی نے پیار سے خوش کیا تو کوئی دیکھ کر ہی خوش ہو گیا. سب نے کہا کہ میڈیا بک گیا. یہاں آپ کو دیکھ کر اچھا لگا. آپ کس لئے آئے ہیں؟ جب بتایا تو وہ سارے اور بھی خوش ہو گئے.

زیرو ٹی آر پی اینکرز کو جب بھی لگتا ہے کہ کوئی نہیں دیکھتا ہوگا، اچانک سے بیس پچاس لوگ کان میں آہستہ سے کہہ جاتے ہیں کہ ہم آپ کو ہی دیکھتے ہیں. کوئی ریسرچ کی تعریف کر رہا تھا کوئی قطاروں کی تو کوئی امن سے بولے جانے کی طرز کی. آخر ٹی وی دیکھنے کا ان کا ذائقہ کس طرح بچا رہ گیا ہو گا؟ کیا ان لوگوں نے صحافت کے بنیادی اصولوں کے مطالعہ کیا ہے؟ نہیں. پانچ ستارہ ہوٹل کے باہر کھڑے ہو کر گاڑیوں کا انتظار کرنا، انہیں تہہ تک لے جانا اور لے آنا. یہ سب کرتے کرتے جب یہ گھر جاتے ہوں گے تو ٹی وی دیکھنے کے قابل نہیں بچتے ہوں گے. ایسے لوگوں کے بارے میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تھک ہار کر کوئی گھر جاتا ہے، دماغ نہیں لگانا چاہتا، اس لئے ہلا ہنگامہ دیکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی دن بھر کی تھکاوٹ اور مایوسی نکل جائے.

میں اندر جاتے وقت اور باہر آتے وقت ان سے ملتا رہا. کچھ سامنے آکر ملے تو کچھ نے دور سے ہی نگاہوں سے ملاقات کی رسم ادا کر دی. ایک عمر دراز وردی دھاری دو تین بار آئے. اتراکھنڈ کے چمپاوت میں کئی سال سے سڑک نہ ہونے کی وجہ سے دکھی تھے. زور دے کر کہا کہ آپ چمپاوت کی تھوڑی خبر دكھايے تاکہ حکومت کی نظر جائے. حکومت میں بیٹھے لوگوں اور ان کے اشارے پر چلنے والے آئی ٹی سیل کے لوگوں نے اسی بنیادی کام کو حکومت مخالف بنا دیا ہے. میں نے ان سے کہا کہ ہمارے چینل پر سشیل بہوگنا نے حال ہی میں پنچیشور باندھ کے بارے میں لمبی رپورٹ کی ہے. فوری طور پر کہا کہ ہم نے دیکھی ہے وہ رپورٹ، ویسا کچھ چمپاوت پر بنا دیجئے. میں یہی سوچتا رہا کہ اتنی تھکاوٹ لے کر گھر گئے ہوں گے اور پھر بھی انہوں نے بہت محنت اور تحقیق سے تیار کی گئی پنچیشور ڈیم کی کوئی 25-30 منٹ کی طویل رپورٹ دیکھی. ممکن ہے اس پروگرام کی درجہ بندی زیرو ہو، ہوگی بھی.ہم نے صحافت کو ٹی آر پی میٹر کا غلام بنا دیا ہے.

ٹی آر پی میٹر نے ایک سازش کی ہے. اس نے اپنے دائرہ کار کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو ناظرین ہونے کی شناخت ہی باہر کر دیا ہے. کئی بار سوچتا ہوں کہ جن کے گھر ٹی آر پی میٹر نہیں لگے ہیں، وہ ٹی وی دیکھنے کا پیسہ کیوں دیتے ہیں؟ کیا وہ ٹی وی کے ناظرین ہونے کی گنتی سے بے دخل ہونے کے لئے تین سے چار سو روپے مہینے کے دیتے ہیں. کروڑوں لوگ ٹی وی دیکھتے ہیں مگر سبھی  ٹی آر پی کا فیصلہ طے نہیں کرتے ہیں. ان کے بدلے چند لوگ کرتے ہیں. کبھی آپ پتہ کیجئے گا، جس چینل کو نمبر ون ٹی آر پی آئی ہے، اسے ایسے کتنے گھروں کے لوگوں نے دیکھا، جہاں میٹر لگا ہے. دو یا تین میٹر کی بنیاد پر آپ نمبر ون بن سکتے ہیں.

میں ان ناظرین کا کیا کروں جو ٹی آ رپی میں شمار تو نہیں  کیاگیا ہے مگر اس نے پنچیشور باندھ پر بنایا گیا شو دیکھا ہے اور چمپاوت پر رپورٹ دیکھنا چاہتا ہے؟ میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے کیونکہ میڈیا کا حقیقت اسی ٹی آر پی سے طے کی جا رہی ہے. حکومت پر تنقید کرتی ہے مگر وہ خود ہی ٹی آ رپی کی بنیاد پر اشتہارات دیتی ہے. سوال کرنے کی بنیاد پر اشتہار نہیں دیتی ہے.

ٹی آرپی ایک نظام ہے جو کروڑوں لوگوں کو غیر مسلح کر دیتا ہے تاکہ وہ ناظرین ہونے کا دعوی ہی نہ کر سکیں. چمپاوت کی سڑک پر رپورٹ دیکھنے کی ان کی مانگ ہر چینل رجیکٹ کر دے گا یہ بات کرتے ہوئے کہ کون دیکھے گا، جبکہ دیکھنے والا سامنے کھڑا ہے. ہزاروں لوگ مبارک دینے کے لئے جو میسج بھیج رہے ہیں، کیا وہ صحافت کی مختلف تعریفیں جانتے ہیں؟ کیا یہ سب ناظرین نہیں ہیں؟

ہم وسائل کی کمی کا شکار ہیں. اس وجہ سے آپ کے بہت اچھے ساتھیوں سے بچھڑنے کا درد بھی جھیل رہے ہیں. صحافی بنے رہنے کا جو ایکو-سسٹم ہے وہ ویسا نہیں رہا جیسا آئی ٹی سی موریا کی پارکنگ میں کھڑے وردی دھاری ملازم سوچ رہے ہیں. ایک ماحول تیار کر دیا گیا تاکہ کوئی بھی اقتصادی طور پر بازار میں نہ ٹک سکے. بازار میں ٹکے رہنا بھی تو حکومت کی مرضی پر منحصر ہے. آپ دیکھ ہی رہے ہیں، بینک بھی حکومت کی مرضی پر ٹکے ہیں. مقابلہ کے نام پر اسے مار دینے کا چکر رچا گیا، جو سر چڑھ کر بول رہا ہے.

آئی ٹی سی موریا کے ہال میں قریب آتے لوگوں سے وہی کہتے سنا، جو ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑے ملازم کہہ رہے تھے. سب نے دو باتیں کہی. اس خوف کے ماحول میں آپ کو دیکھ کر ہمت ملتی ہے. ایک این ڈی ٹی وی ہی ہے جہاں کچھ بچا ہے، باقی تو ہر جگہ ختم ہو چکا ہے. ایسا کہنے والوں میں سے کوئی بھی عام نہیں تھا. لگا کہ اپنے پاس ڈر رکھ لیا ہے اور ہمت آئٹ سورس کر دیا ہے.

نائب صدر وینکیا نائیڈو جی کی تقریر اچھی تھی. انہوں نے بھی ایک دوسرے کی بات کو اعزاز سے سنے جانے پر زور دیا. اپوزیشن کو کہنے دو اور حکومت کو کرنے دو. یہی خلاصہ تھا ان کی تقریر کا. ایمرجنسی کی یاد دلا رہے تھے، لوگ آج کے تناظر میں یاد کر رہے تھے. ایکسپریس کے ایڈیٹر راج کمل جھا کی تقریر تو بہت ہی اچھی تھی. رام ناتھ گوینکا کا تعارف بہار کے دربھگا سے شروع ہوتا ہے تو تھوڑا سا اچھا لگتا ہے!

کیا واقعی لوگوں کی ہڈیوں میں خوف گھس گیا ہے؟ ہم صحافی لوگ تو اور بھی غیر محفوظ ہیں. کل صحافت کے قابل رہیں گے یا نہیں، گھر چلانے کے قابل رہیں گے یا نہیں، پتہ نہیں ہے پھر بھی جو صحیح لگتا ہے بول دیتے ہیں. لکھ دیتے ہیں. ہال میں قریب آنے والے لوگوں کے سوٹ بہت اچھے تھے. صفائی سے سلے ہوئے اور کپڑا بھی اچھی کوالٹی کا تھا. مگر اس پر رنگ خوف کا جمع نظر آیا. ٹیلر نے کتنی محنت سے جسم کے ناپ کے مطابق صلہ ہوگا تاکہ پہننے والے پر فٹ آ جائے. لوگوں نے ٹیلر کی محنت پر بھی پانی پھیر دیا ہے. آپ کے سوٹ کے اندر اندر خوف کا گھر بنا لیا هے۔ آئي ٹي سي موریا کے شیف کا شکریہ جنہوں نے اتنی مصروفیت کے درمیان میرے لئے اسپیشل جوس بنوایا اور سیلفی لیتے وقت دھیرے سے کان مین کہا کہ آپ کی آواز سن کر لگتا ہے کوئی بول رہا ہے. قیما شاندار بنا تھا.

میڈیا میں کھیل کے سارے قوانین منہدم کئے جا چکے ہیں. جہاں سارے قوانین بکھرے ہوئے ہیں وہاں پر اصول سے چلنے کا دباؤ بھی جان لیوا ہے. امتحان وہ نہیں دے رہے ہیں جو قوانین کو توڑ رہے ہیں، دینا انہیں ہے جنہوں نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے. بھارت کی 90 فیصد میڈیا، گودی میڈیا ہو چکی ہے. گودی میڈیا کے صحن میں کھڑے ہو کر ایک بھیڑ چند صحافیوں کو للکار رہی ہے. صحافت اور غیر جانبداری برتنے پر چیلنج دے رہی ہے. عجیب ہے جو جھوٹا ہے وہی سچ کے لئے للکار رہا ہے کہ دیکھو ہم نے تمہاری ٹانگ توڑ دی ہے، اب سچ بول کر دکھا دو. ایک داروغہ بھی خود کو ضلع کا مالک سمجھتا ہے، حکومت سے خوشنما صحبت پانے والے میڈیا کے اینکرز خود کو ملک کا مالک سمجھ بیٹھے تو کوئی کیا کر لے گا.

بہرحال، بدھ کی شام انہی مسائل سے تیرتے ہوئے کسی جزیرے پر کھڑے بھر ہونے کی تھی. میں نے کوئی تیر نہیں مارا ہے. عاجزی میں نہیں کہہ رہا. میں قسمت والا ہوں کہ تھوڑا بہت اچھا کر لیا مگر مبارکباد اس تناسب سے کہیں زیادہ مل گئی. ہندی کے بہت سے صحافیوں نے مجھ سے کہیں زیادہ بہتر کام کئے ہیں. جن کام پر دنیا کی نظر نہیں گئی. وہ کسی چھوٹے سے شہر میں یا کسی بڑے ادارے کے چھوٹے سے کونے میں خاموشی سے اپنے کام کو سادھتا رہتا ہے. صحافت کرتا رہتا ہے. جانتے ہوئے کہ اس کے پاس کچھ ہے نہیں. نہ پیسہ نہ شہرت اور نہ کام کی ضمانت. معاشرہ صحافت سے بہت کچھ چاہتا ہے مگر صحافیوں کی ضمانت کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتا. اس کے سامنے اس پیشے کا قتل کیا جا رہا ہے.

میں اب اپنے لئے انعام نہیں لیتا. ان صحافیوں کے لئے لیتا ہوں جن کے خوابوں کو انسٹی ٹیوٹ اور حکومت مل کر مار دیتے ہیں. اس کے بعد بھی وہ تمام مشکلات سے گزرتے ہوئے صحافت کرتے رہتے ہیں. تو میں نے اجر لے لیتا ہوں تاکہ ان کے خواب میں بہار آ جائے. واقعی میں کسی ایوارڈ کے بعد کوئی فخریہ فکر لے کر نہیں لوٹتا. ویسے ہی آتا ہوں جیسے ہر روز گھر آتا ہوں. فرق یہی ہوتا ہے کہ اس دن آپ کا بہت سارا پیار بھی گھر ساتھ آتا ہے. آپ تمام کی محبت قیمتی ہے اور وہ تصویر بھی جس نے اپنی بات شروع کی تھی. شکریہ.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

تبصرے بند ہیں۔