بدعنوان اور جرائم پیشہ نمائندوں کا صدر

ڈاکٹر سلیم خان

جمہوریت کا دعویٰ ہے عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے۔ آئیے اس دعویٰ کی حقیقت  صدارتی انتخاب کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں ۔ ہندوستان کی کل آبادی 134 کروڈ ہے اور  نومبر 2016 کو سرکار کے ذریعہ اعداوشمار کے مطابق جن لوگوں کی سالانہ آمدنی ایک کروڈ یا اس سے تجاوز کرتی  ہے ان کی تعداد 45 ہزار سے کچھ زیادہ  ہے  یعنی 30 لاکھ لوگوں میں ایک کروڈ پتی ہے۔ اس کے برعکس عوام کےان  نمائندوں کی حالت دیکھیں جن لوگوں نے ملک کا نیا صدر منتخب کرنے کیلئے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کیا۔ ان 4852 ارکان پارلیمان اور اسمبلی میں 71 فیصد کروڈ پتی ہیں۔ یعنی ہر 150 میں سے ایک کروڈ پتی۔  سوال یہ ہے کہ عوام اور ان کے نمائندوں کی خوشحالی میں  یہ ایک کے مقابلے 20 ہزار کا فرق کیسے واقع ہوگیا ؟ عوام کے نمائندے ان 20 ہزار گنا خوشحال کیسے ہوگئے؟ ایک سوال یہ بھی ہے جمہوری نظام  غریب عوام اپنے جیسے غریبوں کو اپنا نمائندہ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟  اور آخری بات یہ ہے کہ  کیا عوام کے نمائندگی کا دم بھرنے والا یہ امیر کبیرطبقہ   ان کا حقیقی نمائندہ بھی ہے؟ اگر نہیں تو جس سیاسی نظام  نے  انہیں اس جعلی  سرٹیفکٹ سے نوازہ ہے وہ عوام کے لیے رحمت ہے یا زحمت ہے؟

انتخاب سے قبل کی صورتحال یہ تھی کہ بی جے پی کے پاس 50 فیصد سے کم ووٹ تھے مگر اس کے پاس مرکز کا اقتدار تھا۔ اس لیے سب سے پہلے اس نے انا ڈی ایم کے کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں بدعنوانی کا تماشہ کرکے ایک شخص کو گرفتار کرلیا۔ اس کے بعد انتخاب کو کالعدم  قرار دینے کی دھمکی دے کر دباو بنایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈی ایم کے ٹوٹ گئی۔ تلنگانہ کے راج شیکھر اور اڑیسہ کے پٹنائک تو ہمیشہ ہی اپنے کاسۂ گدائی میں چند سکوں کے عوض  اپنے ضمیر کا سودہ کردیتے ہیں۔  اس بار بی جے پی کا بڑا شکار نتیش کمار کی جے ڈی یو تھا۔ لالو پر بدعنوانی کے الزامات لگا کر نتیش کو دھمکی دی گئی کہ آج لالو کل نتیش اس لیے کہ اس حمام میں ہر کوئی برہنہ ہے۔ نتیش بھی ٹوٹ گئے اور انہوں نے  نہایت بے حیائی کے ساتھ این ڈی اے کے امیدوار کویند کی حمایت اعلان کردیا جبکہ بہار کی رہنے والی میرا کماری   قابلیت اور علاقائیت  کے لحاظ سے زیادہ حقدار تھیں اور تو اور شیوپال یادو نے بھی کووید کو ووٹ دے کر ثابت کردیا کہ وہ اکھلیش کی مخالفت کس کے اشارے پر کررہے تھے۔ اس طرح بی جے پی نے  چابک اور چارہ کی پالیسی سے ڈرااور للچا کر اپنے 48 فیصد ووٹ  کو 70 فیصد میں بدل دیا۔

بہار کے اندر فی الحال لالو پرشاد یادو اور ان کے بیٹے پر شکنجہ کس کےیہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ساری بدعنوانی ان باپ بیٹوں میں سمٹ آئی ہے  جبکہ پچھلے دنوں ممبئی ہائی  کورٹ نے بی جے پی رکن اسمبلی لوڈھا کو 220 کروڈ ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا جو وہ دبا کر بیٹھا ہوا تھا۔ مدھیہ پردیش میں جہاں بی جے پی حکومت ہے سی بی آئی نے صوبائی وزیر سشیل واسوانی کے گھر پر چھاپہ مارا تاکہ کروڈہا کروڈ کی بے نامی جائیداد کا راز فاش کیا جاسکے۔ سشیل  واسوانی گزشتہ سال اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے نوٹ بندی کے وقت 150 کروڈ روپئے جمع کرائے۔ اس کے بعد ان پر پہلا چھاپہ پڑا اور اب یہ دوسرا ہے۔ یہ صاحب سیاست میں آنے سے قبل بس کنڈکٹر ہوا کرتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاست کے گندے تالاب میں واسوانی کو وہ کون سا کوہ نور ہیرا مل گیا جس نے اسے ہزاروں کروڈ کا مالک بنا دیا ؟

اس میں  شک نہیں ہے کہ سیاسی حضرات بیشتر دولت بدعنوانی کے ذریعہ جمع کرتے ہیں  لیکن اس سے بھی  خطرناک پہلو جرائم کا ہے۔ ان  4852 میں سے جنہوں نے صدر جمہوریہ کے انتخاب میں ووٹ ڈالے ہیں  بہت بڑی تعداد ایسےلوگوں کی ہے جن کے خلاف سنگین مقدمات درج ہیں۔ ایک تہائی  ارکان  دارالعوام( لوک سبھا ) یعنی34 فیصد جرائم میں ملوث ہیں۔ ایوان بالا کے ارکان کی حالت کسی قدر بہتر ہے اس لیے کہ انہیں انتخاب نہیں لڑنا پڑتا بلکہ دولت اور قربت کے چور دروازے سے ایوانِ اقتدار میں داخل ہوجاتے ہیں پھر بھی  ان کی  16 فیصد تعداد مختلف  جرائم کے الزامات سے جوجھ رہی ہے۔ ارکان اسمبلی کی حالت ارکان پارلیمان سے مماثل  ہے۔ ان میں سے 33 فیصد نے اپنے حلف نامہ میں جرائم  کے مقدمات  کا اعتراف کیا ہوا ہے۔ ان اعدادو شمار کی روشنی میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے گزشتہ 70 سالوں میں اس فاسد نظام نے ہمارے سماج کی کیا حالت بنادی ہے۔ ان نام نہاد عوامی نمائندوں  سے کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ درندوں کی مانندمعصوم  عوام پر ٹوٹ پڑنے والی بھیڑ پر  قابو پاسکیں گے ؟

جمہوری نظام مساوات کا بلند بانگ دعویٰ کرتا ہے۔ اس بابت اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کی نمائندگی تو درکنار  مساوات مردو زن ہی دیکھ لیں۔ ہمارے سماج میں خواتین کی تعداد تقریباً 50 فیصد ہے  لیکن صدارتی  رائے دہندگان کے کلب  میں خواتین کی نمائندگی صرف 9 فیصد ہے جی ہاں صرف ۹ فیصد۔ ایسے میں میرا کماری کو رام ناتھ کوند کے خلاف جنس کی بنیاد پر تو کامیابی حاصل ہونے سے رہی۔ اس صورتحال میں وزیراعظم کا کویند کو پیشگی مبارکباد دے دینا بجا معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ اس انتخاب کے نتائج معلوم کرنا بقول اروند کیجریوال کے کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ ایسے میں  کیا نظامِ جمہوریت  کے ذریعہ کیا جانے والا متناسب نمائندگی کا دعویٰ کھوکھلا ثابت نہیں ہوتا؟ ان حقائق کے باوجود جو لوگ اس نظام سیاست سے خیر کی امید وابستہ کئے ہوئے ہیں ان کی سادگی پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ؎

خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر

پھر سلادیتی ہے اس کو حکمراں کی سامری

تبصرے بند ہیں۔