بھارت کو ایک کمپیوٹر یا موبائل میں بند کرنے والا بجٹ

پریہ درشن

(پریہ درشن این ڈی ٹی وی انڈیا میں ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں)

درحقیقت یہ بجٹ بھارت کوایک کمپیوٹر میں بند کرنے اور اسے کچھ بچولیوں اور کچھ صنعت کاروں کے حوالے کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ بھارت جن کھیتوں، جن کچے گھروں، جن دھول بھرے دیہاتوں اور قصبوں میں رہتا ہے، ان کے بیج یہ بجٹ پہنچتا نظر نہیں آتا۔

2019 میں اپنی پہلی بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا تھا کہ یہ 10 سال کا وژن پیپر ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اگلے چند مہینوں میں انہیں تقریباً ہر مہینے آکر اپنی بجٹ تقریر سے لمبی تقریر کرکے اپنے بجٹ منصوبوں پر دوبارہ غور کرنا پڑا۔ اب وہ کہہ رہی ہیں کہ اس سال کا بجٹ 25 سال کی بنیاد رکھنے والا بجٹ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس بار بجٹ میں کتنی تبدیلیاں کریں گی۔

لیکن اس بجٹ نے، جس نے وزیر خزانہ کے 25 سال کی بنیاد رکھی، حکومت کے 25 سالہ وژن کا کچھ اشارہ دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ حکومت کے لیے یہ بھارت اعلیٰ طبقے کے لوگوں کا بھارت ہے، جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جانتے ہیں، کرپٹو کرنسیوں کی قانونی حیثیت کے بارے میں فکر مند ہیں، ای پاسپورٹ کا تصور انھیں للچا رہا ہے اور انھیں زمین اور مکانات کی ڈیجیٹل رجسٹری سب سے ضروری لگتی ہے۔

کیونکہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی بجٹ تقریر کو بہت صبر سے سنتے ہوئے جو ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ جاری رہا، ایسا لگتا تھا جیسے یہ بجٹ نہیں ہے بلکہ بھارت کے ڈیجیٹلائزیشن منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے تقریباً ہر اسکیم کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا اعلان کیا- اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔  ہمیں مسلسل ڈیجیٹل گورننس کی طرف بڑھنا چاہیے، لیکن کیا یہ پارلیمنٹ کی میز پر پیش کیے جانے والے بجٹ کے دوران کیا جانا چاہیے؟ وزیر خزانہ نے کورونا دور کے بحران پر بات چیت سے آغاز کیا، لیکن صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا اور کہا کہ کووڈ دور نے بہت سے لوگوں کی نفسیاتی صحت کو متأثر کیا ہے۔ اس کے لیے نیشنل سائیکالوجیکل ہیلتھ مشن کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ لیکن جن لوگوں کو کووڈ دور میں آکسیجن سے لے کر اسپتالوں تک کی قلت کا سامنا کرنا پڑا، نجی اسپتال لوٹ کے مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں، ایسے میں لوگ حکومت کی جانب سے کچھ سرکاری اسپتالوں، صحت کی کچھ سہولیات کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔ غریبوں کی آمدنی بڑھانے کی بات ہو رہی تھی، لیکن اس کے لیے منریگا جیسی کسی اسکیم میں توسیع یا کسی نئی اسکیم کے متعارف ہونے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اسی طرح کورونا دور کے دو سالوں میں پڑھائی روکنے کی بات کی گئی، لیکن اس کے لیے ٹی وی چینلز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور ضمنی کلاسیں دینے کو کہا گیا۔ ممکن ہے کہ ایسی کلاسیں کہیں مفید ثابت ہوں، لیکن بجٹ میں ان علاقوں میں اسکولی تعلیم کی توسیع کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے جہاں بجلی یا موبائل نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر میں بین الاقوامی نامور یونیورسٹیوں کو اپنی مرضی سے ہندوستان میں نئے کورسز چلانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس تعلیمی انقلاب کی قیمت کیا ہے۔ نجی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کی آسمان چھوتی فیسوں میں کون تعلیم حاصل کر سکتا ہے؟ پھر یہاں سے پڑھ کر نکلنے والا اس رقم کی وصولی کے لیے کس طرح کا کام کرتا ہے؟ آپ کو ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

درحقیقت ایسا لگتا ہے جیسے حکومت نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ اب ہندوستان کو فلاحی ریاست کے تصور سے آزاد کرنا چاہتی ہے اور اسے ایک معاشی سپر پاور کی طرح پیش کرنا چاہتی ہے، جس کی دلچسپی بڑے صنعت کاروں کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ پورے بجٹ میں PPP یعنی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے منصوبے حکومتوں کوکم اور نجی شعبے سے زیادہ منافع دیتے ہیں۔ یہ بات سب جانتے ہیں۔ سڑک، ریل، بجلی، بندرگاہ، ہوائی اڈے سب نجی ہاتھوں میں دینے کی تیاری میں ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو اسے حکومت کی اس اسکیم سے جوڑلیں، جس میں فاضل سرکاری اراضی بھی نجی شعبے کو لیز پر دینے کی تجویز ہے۔ یہ ایک طرح سے ہندوستان کے وسائل نجی شعبے کے حوالے کرنے کی مہم ہے۔

یہ بجٹ اس مہم کا حصہ ہے۔ ویسے دنیا کے بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چاہے وہ زمین ہو یا آسمان – ان کے مناسب استعمال کے لیے ضروری ہے کہ انہیں نجی ہاتھوں کے حوالے کیا جائے۔ لیکن کوئی بھی اس بات کا حساب نہیں دے سکتا کہ اس نجکاری سے پیدا ہونے والی ’اجارہ داری‘کتنے لوگوں کو پورے نظام سے خارج کر دیتی ہے، اس کا حساب کوئی نہیں لگاتا۔

یہ بجٹ بھی اس کا حساب نہیں دے رہا ہے۔ یقینا اس نے ڈیجیٹل معیشت کی جانب کچھ اقدامات اٹھائے ہیں۔ لیکن وہ بھی متزلزل نظر آتے ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ حکومت نے نشاندہی کی کہ ہندوستان میں جو کرپٹو کاروبار چل رہا ہے، وہ قانون کے دائرے سے باہر ہے۔ اس اشارے کے ساتھ بٹ کوائن جیسی کرنسیاں غوطہ لگارہی ہیں۔ اب بجٹ میں ان کرنسیوں کو کسی قسم کی قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ ڈیجیٹل اثاثوں کے کاروبار کو ٹیکس کے تحت لایا گیا ہے۔ اس وقت ان پر 30 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ لیکن یہ ٹیکس کی شرح بھی حیرت انگیز ہے۔ جب آپ ہر جگہ ٹیکس کم کر رہے ہیں تو آپ ڈیجیٹل اثاثوں پر اتنا ٹیکس کیوں لگا رہے ہیں؟ یہ یُوا ہندوستان کے لیے ایک دھچکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کرپٹو کرنسییا یا اس طرح کے دیگر اثاثوں میں سرمایہ کاری کرنے والے 1.5 کروڑ ہندوستانیوں میں سے 75 فیصد کی عمر 35 سال سے کم ہے۔

تو بجٹ غریبوں، نوجوانوں اور خواتین کی بات تو کرتا ہے، لیکن ان کو دیتا کم ہے۔ یہ ان سے زیادہ لیتا ہے۔ خواتین کے لیے ناری شکتی کے نام پر تین اسکیموں کا اعلان کیا گیا ہے،ان  میں سے ایک واتسالیہ مشن اور ایک آنگن واڑی ہے۔ یہ نوزائیدہ بچوں کے لیے ضروری اسکیمیں ہیں، لیکن ان کی حدود ہیں۔

لیکن بجٹ میں اصل صدمہ متوسط طبقے کے ملازم کی  توقعات کو ہے۔ وہ پچھلے کئی برسوں سے انکم ٹیکس چھوٹ کی امید کر رہا ہے۔ گزشتہ برسوں میں افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سالوں میں پہلے نوٹ بندی کی وجہ سے اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کی ملازمتیں ختم ہو گئیں یا ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی یا انہیں پہلے سے کم پیسوں پر کام کرنا پڑا۔ اس بہت بڑے حصے کے لیے سرکاری بجٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ منافع کو اپ گریڈ کرنے کی سہولت کا تعلق بہت کم لوگوں سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت کم لوگ اعلیٰ طبقے سے بھی آتے ہیں۔

درحقیقت یہ بجٹ بھارت کو کمپیوٹر میں بند کرکے اسے کچھ بچولیوں اور کچھ صنعت کاروں کے حوالے کرنے کا انتظام کرتا ہے۔ بھارت جن کھیتوں میں، جن کچے گھروں میں، دھول بھرے دیہاتوں اور قصبوں میں رہتا ہے، ان کے بیج یہ بجٹ پہنچتا نظر نہیں آتا۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔