تیری ذہنیت کا غم ہے، غمِ بال وپر نہیں ہے 

حفیظ نعمانی
جو کچھ گجرات کے اونا میں دلتوں کے ساتھ ہوا یا بی جے پی اتر پردیش کے نائب صدر دیا شنکر سنگھ نے سابق وزیر اعلیٰ مس مایاوتی کو کہا یا جو دادری کے بساڑہ گاؤں میں مرحوم اخلاق احمد اور ان کے گھر والوں کے ساتھ ہوا، وہ نہ حادثہ تھا، نہ سانحہ بلکہ اس ذہنیت کا مظاہر ہ تھا جو ان کے دھرم سے بنتی ہے۔
بات اخلاق کے گھر سے شروع کریں تو اگر دماغوں اور دلوں میں دشمنی نہ بھری ہوتی تو اس خبر کے بعد کہ اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت ہے۔ ہو نا یہ چاہئے تھا کہ وہ دو چار بزرگ جو برسوں سے ان کے پڑوس میں رہ رہے تھے وہ آتے۔ سوتے ہوئے اخلاق کو اٹھا تے اور ان سے کہتے کہ یہ خبر پھیل رہی ہے کہ تم نے گائے کاٹی ہے اور گوشت گھر میں رکھا ہے؟ تو وہ اس کا جواب دیتے۔ اپنے گھر کی تلاشی دیتے اور فرج میں رکھا ہوا گوشت انہیں دے دیتے کہ یہ حاضر ہے۔ آپ کسی سے بھی معلوم کرلیں کہ یہ گوشت کس جانور کا ہے؟ اگر یہ گائے کا ہی ہوتا تو ان کے خلاف تھانے میں رپورٹ لکھاتے اور معاملہ پولیس پر چھوڑ دیتے کہ وہ جو چاہے سلوک کرے؟ لیکن جو کچھ ان کے ساتھ ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے اس میں نہ گائے ہے نہ گائے کا گوشت بلکہ یہ ہے کہ ایک مسلمان جو کل تک کچھ نہیں تھا آج اس کا ایک لڑکا فو ج میں اعلیٰ افسر ہے اور دوسرا تیاری کرکے بعد میں ایس ڈی ایم یا کلکٹر بن جائے اور ہم جن کی حکومت ہے وہ ٹھوکریں کھائیں؟
یا وہ گائے بیل کی کھال اتار کر اسے دھو کر ہزار بارہ سو روپے روز کما کر 80 ہزار کی بلٹ پر بیٹھ کر ہم راج کماروں کے سامنے سے گذرے؟ ہم سائیکل پر چلیں؟  یا پنڈتائین، ٹھکرائن،اور چودھرائن چولھا چوکا کریں اور وہ اپنے کہنے کے مطابق ایک چمار ی کے پیٹ سے پیدا ہونے والی دلت لڑکی دیش کے سب سے بڑے پردیش کی مہارانی بنے؟ یہ کسی کو برداشت نہیں ہورہا ہے اور اب دو سال سے اس پارٹی کی حکومت ہے جو کہا کرتے تھے کہ اگر ان کی حکومت بن جائے تو وہ سب ٹھیک کردیں گے۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک کرنے کا عمل ہے اور اسی لئے جو سب سے بڑے ہیں وہ خاموش ہیں۔ مسلمانوں کو ملچھ بھائی میرے سامنے اس لڑکے نے کہا تھا جو ایک بہت بڑے گھر کا لڑکا تھا۔ سنبھل کا رہنے والا تھا اور جس کے چچا میرے عزیز ترین دوست اور باپ مجھے حفیظ بھائی کہتے تھے۔ وہ  لکھنؤ یونیورسٹی میں میری سرپرستی میں پڑھ رہا تھا۔ لیکن وہ آرایس ایس کی شاکھا میں روز جاتا تھا اور یہ تحفہ وہاں سے لایا تھا کہ برسوں سے چچا کہنے والا مجھ سے ہی کہہ رہا تھا کہ یو نیورسٹی میں اگر ملچھ بھائی میر ا ساتھ دے دیں تو میں  5سو ووٹ سے الیکشن جیت سکتا ہوں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ مصلحت چچا کہلا رہی ہے ورنہ ہر ہندو کے نزدیک ہر مسلمان ملچھ ہے۔
اور دلت جو ہیں ان کے بارے میں کتابیں نہیں دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ آج ہی نہیں جب سنگھ پریوار کی حکومت ہے، بلکہ آزادی کے بعد سے نہرو کی حکومت سے لے کر راجیو گاندھی کی حکومت تک آئے دن اخبار ایسی خبروں سے بھرے رہتے تھے کہ دلت خاندان نے ٹھاکر صاحب کے گھر آنے والی بارات کی خدمت میں کمی کردی توسب کے جوتے مارے گئے۔ کسی دلت نے اپنی لڑکی کو سائیکل خرید کر دے دی تو اونچی ذات والوں کے سامنے سے وہ سائیکل پر بیٹھ کر نہیں جا سکتی تھی، یا جس تالا ب میں پنڈت جی کی بھینس نہارہی تھی اس میں کوئی دلت نہانے کے لئے کیوں گیا؟ یا شکلا جی کے ہینڈ پمپ سے دلت نے پانی کیسے پیا؟ اور کسی ہندو کو یہ برداشت نہیں کہ دلت لڑکے اور لڑکیاں اپنی محنت سے اچھے نمبر لائیں۔ بابو جگ جیون رام سے لے کر مس مایاوتی تک جتنے بھی دلت لیڈر وزیر بنے وہ ڈاکٹر امبیڈکر،  پنڈت نہرو، ڈاکٹر راجندر پرشاد، مولانا آزاد اور سب سے زیادہ مہاتما گاندھی کی اس ضد سے بنے کہ ملک میں جو حکومت ہوگی وہ جمہوریت ہوگی جس میں ہر بالغ کو ووٹ دینے کاحق ہوگا۔  یہ صرف اس وجہ سے ہو سکا کہ آزادی کے لئے انگریز وں سے لڑنے یا ان سے ملک کی آزادی کی گفتگومیں آر ایس ایس کا کوئی حصہ نہیں تھا اور وہ یا ہندو مہا سبھا در پردہ انگریزوں کی مدد کر رہے تھے۔ اگر یہ لوگ جن کے ہاتھوں میں آج حکومت ہے، اس و قت آگے ہوتے تو ہم دعوے کے ساتھ کہتے ہیں کہ مسلمانوں اور دلتوں کو ووٹ دینے کا حق نہ ہوتا یا ہوتا تو وہ شرطوں میں لپٹا ہوا ہوتا جس کا ثبوت سبرا نیم سوامی کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے بار بار کہا ہے کہ مسلمانوں سے ووٹ کا حق واپس لے لیا جائے جیسے یہ حق ان کے باپ نے دیا تھا۔
ہم نے زیادہ تو نہیں پڑھا لیکن اتنا پڑھا ہے کہ ہندؤوں اور بدھ مت کا کائنات کے بارے میں تصور یہ ہے کہ ازل سے ابد تک صرف اتنا ہی ہے جتنا ایک بلبلے کا وجود جو دریا کے پانی میں مو ج کے تلاطم سے پانی کی سطح سے اچھلتا ہے پھر آن کی آن میں دریا میں گر کر غائب ہو جاتا ہے۔ انسانوں کی ہستی بھی اس کائنات کا محض ایک جزو ہے۔ اسی طرح ان کے نزدیک تناسخ کایہ تصور ہے کہ اگر آدمی اچھے کا م کرے تو اسے جزا ملے گی اور برے کام کرے تو اسے سزا ملے گی اور وہ سزا اس برائی کے مطابق ہو گی۔ اگر اس نے تھوڑی برائی کی ہے تووہ اگر راجہ مہاراجہ یا بادشاہ ہے تو مرنے کے بعد وہ غلام کے طور پر پیدا ہوگا اور اگر اس نے زیادہ بڑی برائی کی ہے تو وہ بلی یا کتا یا کوئی جانور بن کر آئے گا۔ اگر اس سے بھی بڑی برائی کی ہے تو وہ درخت بنے گا اور بے انتہا مظالم کئے ہیں تو وہ پتھر بن کر آئے گا۔
اس کے بعد صدیوں کی مدت ہو گی جو وہ پتھر سے درخت بنے گا یا درخت سے جانور بنے گا۔ یا ادنیٰ قسم کا شودر بنے گا اور اگر اس نے اچھے کام کئے تو وہ ویش بنے گا۔ پھر اور اچھے کام کئے تو وہ کھتری بنے گا  اور مسلسل اچھے کام کرنے کے صدیوں کے بعد جب وہ پیدا ہوگا تو برہمن پیدا ہو گا۔ جب برہمن نے بہت اچھے کام کئے تو وہ مرنے کے بعد خدا کی ذات میں ضم ہو جائے گا یعنی پانی میں بلبلہ گر کر پانی ہو جائے گا۔  یہ ہے آواگون اور تناسخ کا تصور۔
مسلمانوں کا تصور جنت اور دوزخ کا ہے۔ جنت ان کے لئے ہے جنہوں نے پیغمبروں کے بتائے ہوئے وہ اچھے کام کئے جن کے کرنے کے بعد ان سے جنت کا وعدہ ہے، جس کے بارے میں دو چار نعمتوں کا تو ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ ان کے علاوہ حدیث میں ہے کہ جنت میں وہ ملے گا جسے انسان نے نہ دیکھا ہوگا، نہ سنا ہو گا، نہ اس کا تصور کیا ہوگا۔ یہ بات قرآن نے صاف کردی ہے کہ انسان پیدا ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ بڑا ہو تا ہے اور جو وقت پیدا کر نے والے نے اس کے لئے لکھدیا ہے اس وقت اسے موت آجاتی ہے۔ پھر اسے زمین میں دفن کر دیا جا تا ہے اور وہ اس وقت دو بارہ زندہ ہوگا جب قیامت کے بعد میدان حشر میں سب کو جمع کیا جائے گا۔  اسے بتا یا جائے گا کہ تم نے کیا کیا اور اب تمہاراٹھکانہ کہاں ہے؟ دلتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ انہیں ہندو مان لیا جائے لیکن کوئی ہندو انہیں ہندو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اگر ووٹ کی خاطرانہیں قریب بٹھا بھی لیا تو پھر بھی نہ انہیں مندروں میں جانے کی اجازت ہے اور نہ ساتھ بیٹھ کر کھلانے کی۔
مسلمانوں کو سنجیدگی سے دلتوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے مجھے فخر ہے کہ میں ایسا مسلمان ہوں جس نے اس مسلمان کے پیچھے نماز پڑھی ہے جسے اس نے مدینہ کے شاہ فہد اسپتال کے دل کے وارڈ کا گندہ فلش دھوتے ہوئے دیکھا تھا جو اسپتال میں مہتر تھا۔ وہ ہر نماز سے پہلے نہا کر کپڑے بدل کر آتا تھا اور نماز پڑھتا تھا اور ضرورت پڑنے پر پڑھاتا بھی تھا۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس دادا کا پوتا ہوں جس نے اپنے گھر کے اس مہتر کو 70برس پہلے جو روز پیخانہ لے جانے کے لئے آتا تھا، اسے گھر بلا کر نہلا کر پاک کپڑے پہناکر اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلایا جسے ایک درجن سے زیادہ سنبھل کے آریہ سماجی لیڈر بھی دیکھ رہے تھے۔ دلتوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ مسلمانوں میں کوئی ذات پات نہیں ہے۔ سب مسلمان ہیں۔ انھوں نے جو ذات اور برادریاں بنائی ہیں وہ سب جھوٹ ہے۔ وہ سب صرف مسلمان ہیں جو پیدائشی مسلمان ہوں یا سو برس یا ہزار برس پہلے مسلمان ہوئے ہوں۔ بس یہی بات دلتوں کو سمجھائی جائے اس کے لئے چاہے سیاسی پلیٹ فارم ہو یا مذہبی، یہ کام کرنے والوں کے اوپر ہے۔

تبصرے بند ہیں۔