تین طلاق قانون اور مسلم پرسنل لا بورڈ

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

ہمارے ملک میں تین طلاق قانون پاس ہونے کے دو سال پورے ہونے پر مرکزی حکومت کے ذریعے 1 اگست 2021 کو “ یوم حقوق برائے مسلم خواتین” منانے کے فیصلے کے بعد تین طلاق کے تناظر میں بنایاگیا قانون ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے، تین طلاق قانون موجودہ مرکزی حکومت نے 1 اگست 2019 کو پارلیمنٹ میں پاس کیا تھا، اس قانون کے تحت اگر کوئی مسلم شوہر اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاق دے کر ازدواجی رشتے کو ایک بار میں ہی ختم کرتا ہے تو اس مسلم شوہر کو تین برس تک کی سزائے قید ہوسکتی ہے، اس قانون کے پاس ہوتے ہی بہت سے اعتراض ہوئے، مخالفین کا یہ اعتراض یقینا اہمیت کا حامل ہے کہ جب ہمارے ملک میں کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے لیے طلاق کے معاملے میں کسی بھی قانون کے تحت سزا کی تجویز نہیں ہے تو پھر صرف مسلم شوہروں کو طلاق کی کسی بھی شکل میں سزا کی تجویز کیسے اور کیوں کر متعین کی جاسکتی ہے جب کہ مسلم شادی ایک سول کنٹریکٹ ہے اور سول کنٹریکٹ میں دونوں فریق میں سے کسی بھی فریق کو اس کنٹریکٹ (معاہدے) سے الگ ہونے کی آزادی ہوتی ہے۔ اس قانون کے مخالفین کا ایک اہم اعتراض یہ بھی ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے پرسنل لا یعنی عائلی قوانین میں دخل اندازی ہے، اور اس دخل اندازی کے ذریعے مسلمانوں کے داخلی و شرعی قوانین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

مسلم پرسنل لا یا عائلی قوانین میں دخل اندازی کی شروعات خصوصا 1985 میں محمد احمد خان بنام شاہ بانو و دیگر کے تاریخی فیصلے سے ہوتی ہے، اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کے پانچ قابل ججوں کی بنچ نے کچھ اہم سوالات اٹھائے تھے، مقدمے کے مطابق پیشے سے وکیل محمد احمد خان کی 1932 میں شاہ بانو سے شادی ہوئی، 3 بیٹے اور 2 بیٹیوں کی ماں شاہ بانو کو ان کے شوہر 1975 میں گھر سے نکال دیتے ہیں، جس کے بعد اپریل 1978 شاہ بانو کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 125 کے تحت نان نفقہ کے لیے عدالت کا رخ کرتی ہیں، 6 نومبر 1978 کو محمد احمد خان اپنی بیوی شاہ بانو کو طلاق دے دیتے ہیں، اور عدالت میں یہ دفاع پیش کرتے ہیں کہ چونکہ شاہ بانو کو وہ طلاق دے چکے ہیں اور ان کی بیوی نہیں ہیں اس بنیاد پر نان نفقہ کی ذمہ داری ان کے اوپر نہیں ہوتی ہے۔ اس سے قبل 1979 اور 1980 کے دو فیصلوں میں سیپریم کورٹ کی تین جج پر مبنی بنچ یہ فیصلہ کرچکی تھی کہ تمام مذاہب کے ساتھ مسلم مذہب کے افراد بھی کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 125 کے تحت ہی نان نفقہ کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، جبکہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 127(3) کے تحت مسلم پرسنل لا کو علیحدہ رکھا گیا تھا نیز مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1937 کی دفعہ 2 کے تحت فراہم تحفظ کا بھی خیال نہیں کیا گیا تھا، ان وجوہات کی بنا پر شاہ بانو مقدمہ پانچ جج کی بنچ کے ذریعے سنا گیا، اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے جو سوالات اٹھائے وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعے یقینا قابل غور ہونے چاہیے تھے، وہ سوال تھے کہ کیا مسلم شوہر بغیر کسی مناسب وجہ کے اپنی مرضی سے کسی بھی وقت غصے، نشے یا کسی بھی وجہ سے بنا کوئی وجہ بتائے اپنی بیوی کو طلاق دے سکتا ہے؟ کیا طلاق دینے سے پہلے صلح مصالحت کی کوشش کرنی ضروری نہیں ہے؟ کیا طلاق دینے کے بعد مسلم شوہر کی اپنی بیوی کے لیے کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وسائل و ذرائع ہونے کے باوجود وہ بنا کوئی اسکیم یا پالیسی بنائے مہر کی رقم کو نان و نفقہ کی رقم کے طور پر ادا کرکے اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے آزاد ہوجائے؟ اپنے فیصلے کو مکمل کرنے سے پہلے سپریم کورٹ نے شاہ بانو فیصلے میں پاکستان حکومت کے ذریعے بنائے گئے کمیشن برائے شادی و خاندانی قوانین کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا کہ “درمیانی عمر کی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بغیر کسی وجہ اور سبب کے طلاق دے دی جاتی ہے، ہم ان کو بے سروسامانی اور بغیر سر پر چھت کے یوں سڑک پر نہیں ان کو اور ان کے بچوں کو نہیں پھینک سکتے ہیں”۔

شاہ بانو کے فیصلے کے بعد پورے ملک میں ذبردست احتجاجات و مذاکرے ہوئے، مسلم پرسنل لا بورڈ نے مسلم شریعت کی پاسبانی و پاسداری کی ذمہ داری اٹھائی، یہ بورڈ ہمارے ملک کے مذہبی قائدین، علمائے کرام، ماہر ین قوانین، الگ الگ مکتبہ فکر و مسلک کی جماعتوں و اداروں کے رہنماوں پر مبنی ہے جس میں تقریبا آٹھ سو سے زائد ارکان ہیں، جو اسلامک شریعہ یا عائلی قوانین سے متعلق مسائل پر مسلم امت کی سربراہی و رہنمائی کے ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ شادی مذہبی معاملہ کے ساتھ ہی ایک سماجی رشتہ بھی ہے، لیکن اپنی بیوی کو طلاق دینا کسی بھی مذہب کے مقابلے میں مسلمانوں میں سب سے آسان ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ جاہلیت عام ہونے کی وجہ سے اس کا غلط استعمال بھی ایک عام بات ہوگئی ہے۔ ہندوستان کے آئین و قوانین میں مسلم عورت کوطلاق کے سلسلے کسی بھی طرح کا قانونی تحفظ فراہم نہیں کیاگیا ہے، شادی، طلاق یا وراثت جیسے اہم معاملات مسلم پرسنل لا ایکٹ 1937 کے تحت طے کئے جاتے ہیں۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ جو کہ ملک کے تمام مسلمانوں کی ترجمان، رہنما اور نمائندہ پلیٹ فارم ہونے کا دعوی کرتا ہے وہ طلاق ثلاثہ نیز نکاح حلالہ جیسے اہم مسائل پر کوئی پیش قدمی کرنے میں اب تک ناکام کیوں رہا؟ طلاق ایک سماجی مسئلہ ہے، لیکن ایک سماجی مسئلہ کو سیاسی مسئلہ بنانے میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے تعاون پر غور کرنا ضروری ہے، کیا پرسنل لا بورڈ کی ناکامی نہیں ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے الیکشن مینیفسٹو (انتخابی منشور) میں تین طلاق کے خلاف قانون لانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ تین طلاق بل یا قانون پر چند علما کے اخباری بیانات کے علاوہ کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا، عوام سے ملی و مذہبی تنظیموں کی دوری کے نتائج ہی ہیں جو پورے ملک میں کسی بھی طرح کی منظم مسلم عوامی تحریک قائم نہیں ہوسکی، جب کہ دوسری طرف لاکھوں مسلم خواتین کی نمائندگی کے دعوی کے ساتھ متعدد سماجی تنظیمیں قائم ہوئیں جن میں بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن اور وومن کلیکٹیو کے نام نمایاں ہیں، ان تنظیموں نے تین طلاق و غیر اسلامی حلالہ کے واقعات کو منظرعام پر لانا شروع کردیا، سیکڑوں حادثات میڈیا و سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنتے رہے لیکن ان تشویشناک حالات میں بھی مسلم قوم کی نمائندگی کا دعوی کرنے والے مسلم پرسنل لا بورڈ نے اصلاح کی کوئی بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی، جب کہ سماجی تنظیموں کی جانب سے لاکھوں مسلم خواتین نے خطوط بھیج کر حکومت ہند سے مسلم خواتین کو طلاق کے غیر اسلامی و غیر شرعی استعمال سے تحفظ کے لیے خطوط بھیجے، اسی غیرسنجیدگی کی وجہ سے سپریم کورٹ کو مجبورا ایک مقدمے کی سماعت کے دوران تین طلاق کو غیر قانونی قرار دیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے جو قانون بنایا ہے وہ قانونی و دستوری اصول و ضوابط کے خلاف ہیں، حکومت کی منشا پر بھی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں، لیکن گزشتہ چار دہائیوں میں مسلم پرسنل لا بورڈ و دیگر ملی و مذہبی جماعتوں کا خواب غفلت میں مست رہنا نیز عوام و عوامی مسائل کو نظر انداز کرکے عوامی ساکھ کو کمزور کردینا بھی ایک ایسا جرم ہے جس کو آنے والا کل کبھی فراموش نہیں کرسکے گا، مودی سرکار نے کم از کم یہ تو ثابت کردیا کہ مسلم خواتین کے لیے وہ نام نہادمسلم پرسنل لا بورڈ و دیگر ملی جماعتوں سے زیادہ سنجیدہ ہے اور مسلم خواتین کی اکثریت طلاق کے بےجا استعمال سے تحفظ چاہتی ہے جو اس کو موجودہ حکومت سے فراہم کیا ہے، ایماندار تو کوئی نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔