جامعہ ملیہ اسلامیہ: دیار شوق، شہر آرزو

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد آج سے 101 سال پہلے 29اکتوبر 1920کو ہماری قوم کے کچھ بڑے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے رکھی تھی، ان عظیم قائدین کا ایک خوبصورت خواب تھا جس کی تعبیر تلاش کرنے کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کو مسلمانوں کی تعلیم وترقی کے بنیادی مقصد کے ساتھ اس تاریخی ادارے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کا بنیادی مقصد ملک کے مسلم نوجوانوں کی تعلیم وترقی تھا، تاکہ وہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرسکیں، اور یہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جو حکومت وقت کی عوام یا ملک مخالف ہر پالیسیکے خلاف ملک اور اس کے شہریوں کی رہنمائی کرسکے، یعنییہ ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جہاں ہر طرح کی غلامی کی مخالفت کرنے والا نوجوان ذہن تیار ہوسکے، ملک و قوم کی رہنمائی اور قیادت کے ان بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیادجمعہ کے دن علی گڑھ کالج کی جامع مسجد میں پڑی، جہاں قوم کے مذہبی قائدمولانا محمود حسن دیوبند سے علی گڑھ آئے اور اس عظیم سفر کی تاریخ رقم کرنے والے نوجوانوں کی رہنمائی کی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام صرف ایک غیر ملکی حکومت کی مخالفت کے لیے نہیں تھا، بلکہ کسی بھی حکومت کی ذہنی غلامی اور اس کے ظلم و استبداد کی پالیسی کے خلاف آواز بلند کرنے والی ایک نوجوان نسل تیار کرنے کی غرض سے ہوا تھا، چند برس کے بعد 1925میں جامعہ ملیہ علی گڑھ کے خیموں سے نکل کر دہلی کے قرول باغ میں واقع کرایہ کے چند مکانوں میں منتقل ہوا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تاسیس سے اس میں ایکٹیو رہنے والوں میں حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری اہم ترین افراد رہے جو اس ادارے کو ایک تحریک کی صورت میں آگے بڑھارہے تھے۔ 1926میں ذاکر صاحب، مجیب صاحب اور ڈاکٹر عابد حسین نامی تین اہم افراد کے ہاتھ میں جامعہ تحریک کی باگ ڈور آگئی۔

1963میں جامعہ کو پروفیسر مجیب الرحمان (وائس چانسلر) اور ڈاکٹر ذاکرحسین کی کوششوں کے بعد ڈیمڈیونیورسٹی کا درجہ ملا اور 1988میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ایک مرکزییونیورسٹی کی حیثیت حاصل ہوگئی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ابتدائی تقریباً 70 سال کے اس پورے مشکل ترینسفر میں کوششوں سے لے کر قربانیوں تک کا سہرا صرف مسلم مذہبی و سیاسی قیادت کے سر ہی باندھا جاسکتا ہے۔ 1988 تک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اغراض و مقاصد میںیہ بات جلے حروف میں تحریر تھی کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کا مقصد مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کی کفالت کرنا ہے، چنانچہ اقلیتی ادارے کا کردار حاصل کرنے کے لیے مستقل کوششیں ہوتی رہیں، آخرکار یہ کوششیں رنگ لائیں، اور جسٹس صدیقی کمیشن نے جامعہ کو اقلیتی کردار عطا کردیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی اور معمار مشترکہ قومیت اور سیکولر اقدار کے ماننے والے تھے، اس وجہ سے تمام مذاہب کے طلبہ کے لیے جامعہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھنے والوں کا وژن بہت واضح تھا، اور ان کے اغراض ومقاصد بہت صاف طور پر تحریر تھے۔ بہرحال یہ بات حکومتوں کو کہاں ہضم ہوسکتی تھی کہ مسلم اقلیت کے پاس ایک ایسا تعلیمی ادارہ ہو جس کی بنیاد میں رکھے گئے ہر ہر پتھر کا مقصد قوم کو سیاسی و سماجی قیادت فراہم کرنا تھا۔

فروری 2011 میں نیشنل کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (این سی ایم ای آئی) نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو تسلیم کیا تھا، جس کے تحت جامعہ میں پچاس فیصد داخلے اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مختص ہوتے ہیں، پچاس فیصد مختص داخلوں کے اس فیصلے کے خلاف بہت سی پٹیشن دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی گئیں، پہلے تو کانگریس حکومت نے بھی اقلیتی کردار کی مخالفت کی تاہم بعد میں اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے حق میں اگست 2011 میں حلفیہ بیان داخل کیا،  تاہم موجودہ مرکزی حکومت نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو لے کر اپنی رائے ہمیشہ مخالف ہی رکھی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو اس بنیاد پر ختم کرنا کہ جامعہ کا پورا خرچ مرکزی سرکار اٹھاتی ہے اس لیے ان کا اقلیتی کردار تسلیم نہیں کیا جاسکتا ایک بے بنیاد دعوی ہے، مسلمان بھی دوسرے تمام شہریوں کی طرح اس ملک میں ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقومات کو مسلمانوں کے تعلیمی اداروں پر خرچ کرنا حکومت کی ویسی ہی دستوری ذمہ داری اور فریضہ ہے جیسے حکومت دوسرے اداروں پر خرچ کرتی ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ آج بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کے مسئلہ پر سنجیدہ اور تعمیری گفتگو کی ضرورت ہے۔

حکومتوں کی سماج و ملک مخالف پالیسیوں کا جواب دینے کے لیے قائم کیا گیا ملک کا یہ تاریخی تعلیمی ادارہ آج ملک کی 40 یونیورسٹیوں میں پہلی رینک حاصل کرنے والے ادارے کی حیثیت رکھتا ہے، گزشتہ کئی برسوں میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف پورے ملک میں ہونے والے احتجاجات کا سرچشمہ بھییہی ادارہ رہاہے، ملک مخالف سماجی و مذہبی سوچ نیز عوام مخالف سرکاری پالیسیوں سے آزادی کے نعروں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کیمپس گونجتا رہا ہے، ملک و بیرون ملک میں ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے ہر واقعہ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کی جانب سے ایک مضبوط آواز اٹھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

 29 اکتوبر 1920 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ جن مقاصد کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے الگ ہوکر آزادی کی تحریک کے تحت قائم ہوئی تھی، آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کو ایک صدی سے ایک برس زائد ہوچکے ہیں، آج ہی کے دن اس ادارہ کا قیام برطانوی حکومت کے حکومتی استبداد اور تعلیمی نظام کے خلاف ایک بغاوت کے طور پرہوا تھا، جس تعلیمی نظام اور سوچ کے خلاف ہمارے اسلاف نے کہا تھا کہ سرکاری ادارے اپنے نو آبادیاتی اقتدار کو چلانے کے لیے صرف کلرک بنانے تک مرکوز ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہماری موجودہ حکومتیں بھی انگریزوں کی اسی پالیسی پر گامزن ہیں،اب ہماری حکومتوں کو بھی اپنی پالیسیوںیا سوچ کے خلاف اٹھنے والی کوئی آواز برداشت نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ شہریت ترمیم قانون کے خلاف اٹھنے والے احتجاجات میں شامل طلبہ متعدد مقدمات کا سامنا کررہے ہیں، الگ الگ پولیس تھانوں میں سخت قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ اپنے موقف اور طریقہ کار کو لے کر بار بار سوالوں کے گھیرے میں آتی رہی ہے، 15 دسمبر 2019 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والی پولیس بربریت کا شکار جامعہ کے طلبہ پولیس کے نہ جانے کتنے جھوٹے مقدمات کا شکار بنائے گئے، وائس چانسلر کے خلاف الزامات لگے کہ پولیس کو کیمپس میں داخلہ ان کی اجازت سے ملا، لائبریری میں جس طرح سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے اور جامعہ کی پراپرٹی کو نقصان پہنچایا گیا اس کے باوجود جامعہ انتظامیہ نے پولیس کے خلاف نہ تو کوئی کارروائی کی اور نہ ہی طلبہ کے خلاف جھوٹے مقدمات کے حل میں کوئی تعاون کیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ آج ہندوستانی مسلمانوں کی ایک ایسی امید ہے جہاں ہر اہم موضوع و مسئلے کو لے کرطلبہ اپنی ایک رائے رکھتے ہیں،یہ طلبہ سماج و قوم کی امیدوں کا آسرا ہیں، جامعہ کے نوجوان طلبہ نے حالیہ دنوں میںیہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور دوسرے قومی سربراہان و ہمدردان کے ذریعے قائم کیے گئے اس ادارے کے اغراض و مقاصد کو بھولے نہیں ہیں، اسلاف کی کاوشوں اور قربانیوں کو وہ رائیگاں نہیں جانے دیں گے، وہ آباواجداد کے اس خواب کو پورا کرنے کی حتی المقدور کوششیں کریں گے، وہ ایک ایسا سماج بنانے کی کوششیں کرتے رہیں گے جہاں رنگ،نسل، زبان یا مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ تفریق نہیں جائے گی، جہاں قوم کے نوجوان تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد نہ صرف قوم کی بلکہ سماج اور ملک کی بھی رہنمائی و سربراہی کریں گے، جس کی جیتی جاگتی مثال ڈاکٹر ذاکر حسین بذات خود تھے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا