رافیل کا جن پھر بوتل سے باہر

ڈاکٹر سلیم خان

 یہ حسن اتفاق ہے کہ ۲۳؍ ستمبر ۲۰۱۶ کو ہندوستان نے  فرانسیسی لڑاکا طیارےکی  خریدکے سودے  پر دستخط کئے  اور اس  کے ٹھیک  دوسال بعد اسی تاریخ کو فرانس کے سابق صدر نے ایک بیان دے کر ہنگامہ کھڑا کردیا۔ اب تین سال کے بعدفرانس کے اندر رافیل کا جن پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے دوسال تو مودی جی سرکاری خرچ پر  دنیا  بھر کی سیاحت   کے ارمان نکالتے  رہے۔ سیر سپاٹے سے فرصت ملی تو رافیل  کا سودہ کردیا اور اسی کے ساتھ ساری دنیا کو پتہ چل گیا کہ چوکیدار چور ہے اور ’نہ کھاوں گا نہ کھانے دوں گا‘ کا نعرہ ڈھکوسلہ ہے۔ کانگریس نے 2010ء میں فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن کمپنی سے ایک سو سے زائد رافیل جنگی طیارے خریدنے کی بات شروع کی تھی لیکن مودی کی حکومت نے 2016ء میں 59 ہزار کروڑ روپے میں 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے پر اکتفاء  کر لیا۔

 اس  معاہدے کے تحت ڈسالٹ نے ہندوستان  میں 50 فیصد رقم  کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا اور  جہاز کے چھوٹے پُرزے بنانے کے لیے ارب پتی انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس سے معاہدہ کردیا یعنی پہلے توجہاز کم قیمت زیادہ اور پھر سرکاری کمپنی ایچ اے ایل کے بجائے امبانی کی دلالی اس طرح ایک ساتھ کئی محاذ کھل گئے۔ لڑاکا جہازوں کا  معاملہ چونکہ ۱۰۰ سے ۳۶ پر آگیا تھا اس لیے حزب اختلاف کی جماعتوں اور دیگر ماہرین  نے ایوان کے اندر اور باہر  الزام لگایا  کہ ریلائنس کو فائدہ پہنچانے کے لیے دفاعی امور میں نا تجربہ کمپنی کو درمیان میں لایا گیا۔ مودی سرکار نے خودسرکاری تجربہ کار کمپنی ہندوستان ائیرونوٹیکل کو اس کے حق سے محروم کیا۔ پارلیمان کے اندر اور باہر  اس مسئلے پر خوب ہنگامہ ہوا  اور راہل گاندھی نے چوکیدار چور ہے کا نعرہ بلند کیا۔ اس طرح یہ کیس سپریم کورٹ تک جا پہنچااورعشروں بعد عسکری نوعیت کا سب سے بڑا سودا  سب سے بڑے گھپلے میں تبدیل ہوگیا۔

اس اہم ڈیل پر دستخط ثبت کرنے کی خاطر فرانسیسی وزیر دفاع ژاں ایو لے دریاں  نے خاص طور پر ہندوستان کا دورہ کیا تھا۔ اس وقت  فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اس سودے  کو فرانسیسی فضائی  صنعت کی ترقی کا ایک منہ بولتا ثبوت قرار دیا تھا۔ ان جدید طرز کے جنگی طیاروں کے باعث روسی ساخت کے MiG-21 طیاروں پر انحصار کرنے والی فضائیہ میں جوش تھا کیونکہ  روسی طیارے ’اڑتے تابوت‘ سمجھے جانے لگے تھے لیکن اس میں نیا موڑ اس وقت آیا جب دوسال کے بعد ۲۳؍ ستمبر ۲۰۱۸ کو کو سابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے کہہ دیا  ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے فرانس کی طیارہ ساز کمپنی داسو ایوی ایشن کو رافیل جیٹ جہازوں کے معاہدے کے لیے انیل امبانی کی ’ریلائنس ڈیفنس‘کے ساتھ کام کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔  مودی جی نے امبانی کے ساتھ فرانس کا دورہ کیا تھا اس لیے شک کی سوئی اپنے آپ ان کی جانب گھوم گئی۔

  اولانڈ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے فرانس کے نائب  وزیر خارجہ ژان بابتیس نے کہا تھا کہ  سابق صدر کا بیرون ملک  میں دیا جانے والا یہ بیان فرانس اور بھارت کے باہمی تعلقات کے لیے خطرناک ہے اور اس سے دونوں ممالک کا نقصان ہوگا۔ اس کے بعد یہ الزام بھی لگا کہ  امبانی کی کمپنی نے 2016ء میں فرانسوا اولانڈ کی محبوبہ  ژولی گائیٹ کی ایک فلم کے لیے جزوی طور پر مالی تعاون فراہم کیا تھا۔ اولانڈ کے بیان ان الزامات کا دفاع  قرار  دیا گیا۔ 14دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے رافیل جنگی طیاروں کی ڈیل میں مبینہ بدعنوانی کی چھان بین کی خاطر دائر کردہ متعدد درخواستوں کو رد کر تے ہوئے کہا  تھا کہ ، ’’ہم یہ طیارے خریدے جانے کے محرکات کے بارے میں علم نہیں رکھتے۔  یہ عدالت کا کام نہیں کہ وہ مختلف قیمتوں کے مابین تقابلی جائزے کرے، جو لازمی طور پر خفیہ ہی رکھے جاتے ہیں۔ ‘‘ اس فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس معاملے  میں اقربا پروری بھی نظر نہیں آتی۔ عدالت کے اس فیصلے سے ٹھیک ایک سال بعد مودی جی  نے انتخاب جیتکر14 نومبر 2019 کو عدالت عظمیٰ سے یہ فیصلہ کروا لیا کہ رافیل کی خریداری  میں بدعنوانی کے معاملے میں  تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

اس بار  سپریم کورٹ کا کہنا  تھا کہ دفاعی نکتہ نظر سے ہونے والے معاہدوں اور سودوں کی قیمتیں طے کرنا حکومت کا کام ہے  اس لیے وہ عدالت کے دائرے اختیار میں نہیں آتا۔ اس بابت عدالت کے زیر نگرانی تفتیش کا مطالبہ کرنے والی  دو سابق مرکزی وزراء یشونت سنہا اور ارون شوری سمیت پرشانت بھوشن کی نظر ثانی کی اپیل بھی خارج کردی تھی۔ جسٹس رنجن گوگوئی نے جاتے جاتے مودی جی پر یہ احسان کیا اور اس کے عوض ایوان بالہ کی نشست سے نوازے گئے۔  چیف جسٹس رنجن گگوئی اور سنجے کشن کول نے قیمتوں سے متعلق کہا تھا کہ ، ”دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ آم اور املی کی قیمت ایک نہیں ہوسکتی۔ ‘‘ لیکن جسٹس جوزف نے ان سے انحراف کرتے ہوئے   اپنے فیصلے میں اس کی آزادانہ تفتیش کا راستہ ہموار کرتے ہوئے  کہا تھا  کہ کوئی بھی تفتیشی ایجنسی اس کی تفتیش کر سکتی ہے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سمیت کئی رہنماؤں نے عدالت کے فیصلے کو سراہا ہے۔ لیکن کانگریس پارٹی کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو فیصلے  پر بہت خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ عدالت نے اس معاہدے کی آزادانہ تفتیش کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ راہل گاندھی نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا : ”رافیل سکیم کی تفتیش کے لیے جسٹس جوزف نے ایک بڑا دروازہ کھول دیا ہے۔ اب اس کی مکمل تفتیش ہونا بہت ضروری ہوگیا ہے۔ اس بدعنوانی  کی تفتیش کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل  بھی ضروری ہے۔ ‘‘کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے اس سے متعلق صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ ، ”عدالت کے مطابق  وہ تو قانون کی پابند ہے لیکن پولیس یا سی بی آئی جیسی کوئی بھی تفتیشی ایجنسی اس کی آزادانہ تفتیش کر سکتی ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی ایسی آزادنہ تفتیش میں رخنہ نہیں ڈالے گی۔ ‘‘

حکومت کی خوش فہمی پرتنقید کرتے ہوئے بہت سے سیاسی مبصرین نے کہا تھا  کہ اگر یہ معاہدہ اتنا ہی صاف شفاف ہے تو پھر حکومت کو اس کی تفتیش سے اجتناب کیوں ہے؟ آخر اس مسئلے پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر اعتراض کیوں ہے؟ اس معاملے میں عدالت کے مکمل فیصلے پر غور نہ کرتے ہوئے مودی سرکار  نے میڈیا کے ذریعہ اسے اپنے حق میں  کلین چیٹ قرار دے دیا  جبکہ عدالت نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے سی بی آئی کے ذریعے اس کی تفتیش کرائے جانے کا ذکر کیا تھا  اور اس کی معلومات شکایت کنندگان کودیے جانے کی بات بھی  کہی تھی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے پیراگراف 86 میں یہ واضح طور پر درج کیا تھا  کہ رافیل معاملہ انتہائی سنگین ہے اور اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کے ذریعے کی جائے۔ اسی کے ساتھ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا تھا  کہ اس طرح کے معاملات کی تفتیش کرنے کے لیے سی بی آئی کسی حدود و قیود کی پابندنہیں ہوگی۔

 اس کی گاز  سے بچنے کی خاطر  26 جولائی 2018 کو مودی حکومت نے بدعنوانی مخالف قانون کی دفعہ 17 اے میں ترمیم کرتے ہوئے سماجی خدمت گاروں کے خلاف تفتیش کرنے کے لیے مرکزی حکومت سے منظوری لینے کو ضروری قرار دے دیا تھا۔ اس ترمیم کے بعد  سی بی آئی کو وزیراعظم کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے سرکار ی  منظوری  ضروری ہوگئی اور یہ چور کی داڑھی میں تنکہ والی بات تھی۔ اس وقت حزب اختلاف  نے مطالبہ کیا  تھا کہ اگر رافیل خریداری معاملے میں کسی بھی طرح کی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے تو مودی حکومت سی بی آئی کو دفعہ 17 اے کے تحت منظوری دے یا  مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے کر اس کی تفتیش کرائے  لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے مودی سرکار کے دل میں اس حوالے سے خوف پایا جاتا تھا کہ کہیں بلی تھیلے کے باہر نہ آجائے۔

مودی سرکار نے تو اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا مگر 3 جولائی 2021 کو  فرانس نے ہندوستان کو فروخت کیے گئے 36 رافیل لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے ایک جج مقرر کرکے گڑےمردے اکھاڑ دیئے۔ فرانس کی پبلک پراسیکیوشن سروسز کی فنانشیل کرائم برانچ (پی این ایف) نے کہا ہے کہ ایک فرانسیسی جج کو “بدعنوانی” کے شبہے میں رافیل لڑاکا طیاروں کے لیے ہندوستان میں متعدد ارب ڈالر کے متنازعہ معاہدے کی تحقیقات کا کام سونپا گیا ہے۔ پی این ایف نے ابتدا میں جب اس  ڈیل کی تحقیقات سے انکار کیا تو  فرانسیسی تفتیشی ویب سائٹ میڈیاپارٹ نے پی این ایف اور فرانسیسی اینٹی کرپشن ایجنسی پر معاہدے میں اٹھائے گئے شکوک و شبہات کو “دفن” کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اپریل میں ، میڈیاپارٹ نے دعوی کیا تھا کہ ڈسالٹ نے ڈیل کو انجام دینے کے لیے بروکر کو ’’لاکھوں یورو کمیشن‘‘دئیے تھے۔ یہ کمیشن ان ہندوستانی افسروں کو رشوت کے طور پر دیا جانا تھا جنہوں نے ڈسالٹ کو رافیل فروخت کرنے میں مدد کی تھی۔

ان رپورٹ کے بعد مالی جرائم میں مہارت رکھنے والی فرانسیسی این جی او شیرپا ، نے دیگر الزامات کے علاوہ ، “بدعنوانی” اور “عہدے کا غلط استعمال” سے جڑی ایک سرکاری شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے بعد،اس سودے کی جانچ کے لیے ایک جج کا تقرر ہوا ہے۔ شیرپا نے 2018 میں بھی  اس سودے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا ، لیکن پی این ایف نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اپنی پہلی شکایت میں شیرپا  نے ڈسالٹ کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ارب پتی انیل امبانی کی سربراہی میں ریلائنس گروپ کو اپنا ہندوستانی شراکت  دار منتخب کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ ڈسالٹ نے کہا تھا کہ اس گروپ کی آڈٹ رپورٹ میں اس طرح کے کسی بھی غلط کام کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا  لیکن شواہد اس کے خلاف ہیں۔  اس لیے کہ طیاروں کے ماڈل  بنانے کے لیے لاکھوں ڈالر جس کمپنی کو دیئے گئے وہ دراصل دلال ہے اور اس کو ایسا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے فرانس کے جج اس معاملے میں بے لاگ تحقیق کرکے مودی سرکار کی مصیبت میں اضافہ کریں گے اور اس کے بعد  ان کی سرکار کو اپنے یہاں بھی  تفتیش کروانے پر مجبور ہونا پڑے ورنہ رافیل کے معاملے کا کلنک مودی جی  کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے چسپاں ہوجائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔