رضاکار : خدائی خدمت گار

3/جولائی،اقوام متحدہ کا سالانہ دن برائے رضاکاران کے حوالے سے خصوصی تحریر

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

          اقوام متحدہ کے ہاں اس دن کا آغاز16دسمبر1992میں جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد47/90 کے ذریعے ہوا۔ اس قرارداد کے مطابق جولائی کا پہلا ”ہفتہ“والا دن دنیا بھر میں رضاکار تنظیموں کے دن کے طور پر منایا جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے یہاں یہ رواج ہے کہ دنیا بھر میں کسی امر کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سال بھر کا کوئی ایک دن اس کے لیے مخصوص کر لیا جاتا ہے۔ تب اس دن پوری دنیا میں بین الاقوامی ادارے، حکومتیں، سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے، پرنٹ میڈیااورالیکٹرانک میڈیا، رضاکارتنظیمیں اورموثر افراداس دن کے حوالے سے تقریبات  منعقدکرتے ہیں، مضامین شائع کرتے ہیں اور دیگر تحریری، تقریری اور اجتماعی سرگرمیوں میں اس دن کے موضوع کی اہمیت کو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرتے ہیں۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کا سیکٹری جنرل اس موقع پر اپنا تحریری بیان بھی ریکارڈ کرواتا ہے جسے پوری دنیا کی زبانوں میں نشر کیا جاتا ہے۔

          اس دنیا میں بلامعاوضہ لوگوں کی بھلائی کا آغازکرنے والے انبیاعلیھم السلام تھے۔ وہ انسانوں میں انسانیت کے موجد تھے، جب بھی کبھی کوئی قوم حیوانیت کے راستے پر چل نکلتی تو اس میں انبیاء مبعوث کیے جاتے جو انہیں انسانیت کی اعلی ترین اقدار سے روشناس کراتے۔ تعلیم، طہارت، مہمان نوازی، ناقابل نکاح محارم رشتوں کا تقدس، خاندانی نظام کی تاسیس، خدمت، امانت، دیانت، شرافت اور بہت ساری دیگر اقداروروایات کہ جن پر آج انسانیت کی عظیم عمارت استوار ہے ان سب کے موسس و بانی انبیاء علیھم السلام تھے اور آسمانی مقدس کتب وہ واحدمننبہ و سرچشمہ ہیں جہاں سے آج کی سسکتی اور دم توڑتی ہوئی اور سود کی چکیوں میں پستی ہوئی انسانیت امن و آشتی اور سلامتی وفلاح و کامرانی اور آسودگی کا درس حاصل کرتی ہے۔ انبیاء علیھم السلام اپنی قوم کی خدمت کرتے اور انہیں برملا طور پر کہا کرتے تھے کہ”وَ مَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶۲:۵۴۱)“ترجمہ: ”ہم تم سے کوئی صلہ یا بدلہ نہیں مانگتے ہمارا اجر ہمارے رب کے ذمہ ہے“۔ رضاکارانہ تنظیمیں دنیا بھر میں معاشرتی، جمہوری اور معاشی اقدارکے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان رضاکارانہ تنظیمیوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی سرکاری دباؤ کے تحت وجود میں نہیں آتیں اور نہ ہی حکومت یا عوام سے اپنی سرگرمیوں کا معاوضہ چاہتی ہیں۔ چند لوگ اپنی قوم میں کسی کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے یا کسی زیادتی کے استیصال کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں وہ اپنی جیبوں سے فنڈ اکٹھا کرتے کرتے ہیں اور معاشرے دیگر طبقات بھی اپنی ذہنی، جسمانی اور مادی وسائل کے ساتھ ان کے یمین و یسار آن ملتے ہیں اس طرح گویا قطرہ قطرہ سے ایک سیل رواں بن اٹھتا ہے جو اپنی منزل کی طرف گامزن ہوتا ہوامنزل سے قریب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

          اقوام متحدہ کا ادارہ ان رضاکارانہ تنظیموں کی کارکردگی کو نہ صرف سراہتا ہے بلکہ انکی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ جہاں کہیں ممکن ہو اقوام متحدہ ان رضاکارتنظیموں کے ساتھ مل کر کام بھی کرتا ہے۔ اقوام متحدہ یہ دن اس لیے مناتا ہے کہ دنیا بھر میں کام کرنے والی رضاکارتنظیمیں اقوام متحدہ کی ترجیحات کو سمجھ سکیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں اس وقت کم و بیش سات سو ساٹھ ملین لوگ اس طرح کی رضاکارتنظیموں کے ساتھ وابسطہ ہیں جن کی اکثریت دنیا کے دور دراز غریب اور پسماندہ رہ جانے والے اور دنیا کی دوڑ سے پیچھے رہ جانے والے دیہی علاقوں کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے سرگرم ہیں۔ اقوام متحدہ سمجھتا ہے کہ ان رضاکارتنظیموں  کے ذریعے اس صدی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں جن میں بے روزگاری کا خاتمہ، جہالت، بھوک اورغربت میں کمی، بیماریوں کا علاج، کثیرالقومی معاشرتی سرگرمیوں کاآغاز، پاکیزہ ماحول اور خواتین کو انکے جائز حقوق کی فراہمی شامل ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اقوام متحدہ دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیتا ہے کہ رضاکارتنظیموں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انکے راستے کی انتظامی وحکومتی رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ اقوام متحدہ نے حکومتوں اور رضاکارتنظیموں  کے درمیان مناسب ماحول کے قیام کے لیے جنرل اسمبلی کے 56ویں اجلاس میں سفارشات بھی منظور کیں ہیں جنہیں پیش نظر رہنا چاہیے۔ رضاکارتنظیموں کو اس بات پرخاص توجہ دینی چاہیے کہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی 2ڈالر روزانہ سے بھی کم پر زندہ ہے۔ اس مقصد کے لیے رضاکارتنظیموں  کو لوگوں کا معیارزندگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ تعاون، مساوات، باہمی احساس ذمہ داری اور اپنی مدد آپ کا جذبہ وہ پتھر ہیں جو رضاکارتنظیموں اوراقوام متحدہ کی مشترکہ عمارت کی بنیادوں میں رکھے گئے ہیں تاکہ ایک صافٖ ستھری دنیا کی تعمیر کی جا سکے۔ اس طرح اقوام متحدہ اور رضاکارتنظیمیں باہمی اشتراک پیدا کر سکتی ہیں۔ رضاکارتنظیموں کو ہمیشہ لوگوں کے مفادات کو عزیز رکھنا چاہیے تاکہ دنیا میں جمہوری اقدار کو فروغ دیا جا سکے۔

          عالمی بین الاقوامی سربراہی کانفرنس برائے معاشرتی ترقی، عالمی بیجنگ کانفرنس برائے مستورات اوراقوام متحدہ کی کانفرنس برائے انسانیت، ان تینوں بڑے بڑے عالمی پروگرامات کے مقاصد کو رضاکاتنظیمیں ہی پوری دنیا میں آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ رضاکاتنظیمیں ہی ہیں جو پوری دنیا میں ان عالمی کانفرنسوں کے تحت کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمدکے لیے کوشاں ہیں۔ جہاں کہیں کچھ کمی ابھی باقی ہے رضاکاتنظیموں کو چاہیے کہ مقامی حکومتوں اور لوکل دیگر اداروں کے ساتھ مل کر س کمی کو بطریق احسن پورا کریں۔ اقوام متحدہ ایک بہت بڑا عالمی ادارہ ہے اسکی بہت سی جہات ہیں۔ اقوام متحد ہ کازیادہ تر رابطہ کار حکومتوں سے ہی رہتا ہے لیکن رضاکاتنظیمیں اقوام متحدہ کا وہ روشن پہلو ہیں جس کی کرنیں حکومتوں کی بجائے عوام تک بھی براہ راست پہنچتی ہیں۔ اس وقت رضاکاتنظیمیں دنیا کا سب سے بڑادائرہ کار بن چکی ہیں جوبلامعاوضہ انسانیت کی خدمت کرتی ہیں۔ بڑے بڑے شہروں سے چھوٹے چھوٹے قصبوں تک  رضاکاتنظیموں کے افراد معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے اپنے ہی معاشرے کے لوگوں کو ساتھ لیے تیزی کے ساتھ منزل کی جانب سبک رفتاری سے رواں دواں ہیں۔ رضاکاتنظیمیں دراصل سماجی ترقی کے لیے انسانیت کی تیزرفتارسواری ہیں۔

          ہم اس بات سے بحث نہیں کرتے کہ اقوام متحدہ اپنے مقصد وجوداور نصب العین کو کس حد تک حاصل کر سکاہے؟ہم اس بات سے بھی بحث نہیں کرتے کہ اس ادارے کے باعث کیا ماضی کی نسبت آج کا انسان زیادہ امن و عافیت میں زندگی کے دن گزار رہا ہے؟ہم اس بات سے بھی صرف نظر کرتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان سے تفاخرات کو مٹانے کا دعویدار یہ ادارہ کیا صرف ایک مذہب کے پیروکاروں پر زمین کیوں تنگ کیے دے رہا ہے؟اور اس بات سے بھی قطع نظرکہ یہ ادارہ پوری دنیائے انسانیت کے مفادات کا دفاع کرنے کی بجائے چند بڑی طاقتوں کی وسعت پزیرانہ خواہشات کاکیوں محافظ بن گیا ہے؟لیکن اس خاص دن کے حوالے سے رضاکاتنظیموں کا کردارضرورپیش نظر رہے کہ کیا یہ رضاکاتنظیمیں اقوام متحدہ کے مقاصدپوراکر رہی ہیں یا اقوام متحدی کی چھتری تلے کچھ اور کھیل کھیلے جا رہے ہیں؟دنیا کے بہت ہی غریب ترین اوراقوام متحدہ کابنایا ہوا خط غربت سے بھی نیچے گرے ہوئے لوگوں میں یہ رضاکاتنظیمیں ڈبل روٹی کے عوض اگر لوگوں کا عقیدہ اور انکا ایمان خریدیں تو کیا یہ بات اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں؟بیماروں کی مزاج پرسی اور چنددوائیوں کی قیمت پر انہیں اپنا معاشی، سماجی اور تہذیبی غلام بنالینا کہاں کا انصاف ہے؟کیا یہ صریحاََانسانی مجبوری سے فائدہ اٹھانا(بلیک میلنگ) نہیں اگرحکومتیں بڑی طاقتوں کی مفادات پورے کرنے سے معذرت کر لیں تو عوام کی مجبوریوں کو ڈالروں اور پونڈوں میں تول کران کوحکومتوں کے خلاف کھڑا کردیا جائے تاکہ مقتدر افراد بالآخرگھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں۔

          ہم سمجھتے ہیں اس دن کے خصوصی حوالے سے اقوام متحدہ اس بات کویقینی بنائے کہ یہ رضاکاتنظیمیں اقوام متحدہ کے ہی مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ و وصیلہ ہوں۔ غربت، افلاس، جہالت، بیماری، خواتین پر ظلم اورماحولیاتی آلودگی کی آڑ میں غریب اقوام عالم کی بے بسی کا مذاق اڑانااور اپنے مذہب و تہذیب و تمدن سے بیزار کر کے تو بدیسی اقداران پر مسلط کرنا، آزادی نسواں کے نام پر عریانی و فحاشی کا بازار گرم کرنا، ثقافت کے پیرائے میں اختلاط مردوزن کے شرمناک مظاہراورآزادی اظہارکے عنوان سے چھوٹی اور کمزور اقوام کے مقدس شعائرکا استہزایہ وہ ننگ انسانیت امور ہیں جن کا دھبہ اقوام متحدہ کے ماتھے سے صدیوں صاف نہ ہو سکے گا۔ اقوام متحدہ اس بات پر کڑی نظر رکھے اور ہو سکے اس نوعیت کی قانون سازی بھی کی جائے اور حکومتوں کو اس قانون کی عملداری پر مجبور کیا جائے کہ یہ رضاکاتنظیمیں جو مفت کام کرنے کا صرف خدمت انسانیت کا دعوی کرتی ہیں یہ کس حد تک صحیح ہے؟اور کیا چھوٹے ملکوں کی ان رضاکاتنظیموں کو کہیں بڑے ممالک سے مخصوص نظریات و افکارکی ترویج کا معاوضہ تو نہیں دیا جاتاکہ جس کا حق نمک ادا کرنے لیے وہ آمادہ بغاوت ہو جائیں۔ اقوام متحدہ اگر بہت سارے دیگر مثبت کرداروں کے ساتھ ساتھ یہ مثبت تر کردار بھی ادا کرے تو شاید انسانیت کی عظیم تر منزل مزید قریب آ لگے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا