سماجی نا انصافیوں کے درمیان عالمی یوم سماجی انصاف

 ڈاکٹر سیّد احمد قادری

    اس وقت ہمارے ملک ہندوستان میں ہر طرف سماجی انصاف کا خون ہو رہا ہے۔  نا انصافی، حق تلفی، بے روزگاری اور غربت و افلاس سے پورا ملک کرا ہ رہا ہے۔  ہر جانب مایوسی، گھٹن عدم تحفظ اور نا امیدی کا ماحول ہے۔  ایسے میں آج کا دن یعنی یوم عالمی سماجی انصاف کے موقع پر ان کے تدارک اور احتساب کی بہت سنجیدگی سے محاسبہ کرتے ہوئے کوشش اور عمل کا لائحہ عمل کا متقاضی ہے کہ ملک کی بڑی آبادی کو ان مسائل سے کس طرح نجات دی جائے۔ اس تناظر میں ہم ایک نظر عالمی یوم سماجی انصاف پر ڈالیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر جیسے جیسے سماج اور معاشرے میں ناانصافی،حق تلفی، غربت و افلاس اور بے روزگاری بڑھی، ویسے ویسے انسانی اقدار پر یقین رکھنے والوں کی فکر مندی بڑھتی گئی۔ اسی فکر مندی کو اقوام متحدہ تک پہنچایا گیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالمی سطح پر ہو رہی سماجی انصافیوں کے تدارک کے لیے کوئی دن مقرر کرے، تاکہ اس دن عالمی سطح پر یکساں انصاف فراہم کئے جانے پر غور و فکر کرتے ہوئے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت نومبر 2007 ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  میں ایک اہم قرار داد منطور کرتے ہوئے ہر سال 20 ؍ فروری کو باقاعدہ طور پر عالمی سطح پرعالمی یوم سماجی انصاف کے انعقاد کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا اور 20فروری2009 ء کو پہلی باراس کا انعقاد کر پوری عالمی برادری کو ایک مثبت پیغام دینے کی اقوام متحدہ نے کوشش کی۔  جس کے نتیجے میں ہر سال غربت کے خاتمے، روزگار کے مواقع فراہم کئے جانے اور عالمی سطح پر بنیادی حقوق سے محروم لوگوں کو سماجی انصاف کے اقدامات کو لازمی کئے جانے پر زور دیا گیا۔

       اس طرح دیکھا جائے اقوام متحدہ کی غریبوں اور امیروں کے لیے یکساں سماجی انصاف کے لیے عالمی سطح پر سماجی انصاف کا یوم منانے کی یہ کوشش زیادہ طویل نہیں ہے، لیکن ہم ان تلخ حقائق سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ اقوام متحدہ کی معاشرے میں بڑھتی سماجی ناانصافیوں، حق تلفی، بے روزگاری اور افلاس کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو کامیابی ملنے کی بجائے عالمی سطح پر سماجی نابرابری اور حق تلفی کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ 2019 ء میں اقوام متحدہ نے عالمی یوم سماجی انصاف کے موقع پر تھیم دیا تھا:

 ” If you want peace and development ,work for social justice "

    اس تھیم کے تناظر میں ہم اپنے ملک کے منظر نامے کو دیکھیں، تو ہمیں نہ صرف بے حد مایوسی ہوگی بلکہ بہت زیادہ افسوس بھی ہوگا کہ ملک کے حکمرانوں نے ملک کی ترقی و فلاح و بہبود اور امن و امان کی فضا قائم کرنے کے لیے سماجی ناانصافیوں سے پریشان حال لوگوں کے مسائل کے تدارک کے لیے کسی طرح کے اقدامات اور تدابیر کرنے کے بجائے پورے ملک میں اقوام متحدہ کی سماجی انصاف کوششوں کی کوشش کئے جانے کے بر خلاف بر سر اقتدار حکمرانوں نے ظلم و زیادتی، ناانصافی،منافرت، ذات پات کی تفریق، رنگ و نسل کے درمیان خلیج بڑھانے کی عملی کوشش کی ہے۔  کروڑوں روزگار مہیا کرائے جانے کے بجائے سرکاری کمپنیوں کو کوڑی کے مول اپنے خاص صنعت کاروں کے ہاتھوں فروخت کر، ان شعبوں میں کام کر رہے لوگوں کو بے روزگار کیا گیا اور مسلسل یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایسے مشکل حالات کے تحت بے روزگار ہونے والے لوگ اپنی بیوی، بچوں سمیت خود کشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔  پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کی مسلسل مار جھیلنے کے بعد یہ لوگ یا تو خود کشی کر رہے ہیں یا پھر غلط راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔  کسانوں کی حالت دن بدن بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے، ان کی آمدنی دوگنی تو ہونا دور، ان کی آمدنی ہی ختم کر دی گئی۔  جس کے باعث کسانوں کی خود کشی اب اس ملک میں عام بات ہو کر رہ گئی ہے۔  ایک سال تک مسلسل احتجاج پر بیٹھنے کے باوجود حکومت نے جو وعدے کئے تھے۔  ان پر کسی طرح کی عملی کوشش نظر نہیں آ رہی ہے۔ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے۔غریبوں اور بے روزگاروں کی بنیادی ضرورتوں کا پورا ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں کم آمدنی والے لوگوں کو بھی خودسوزی میں ہی عافیت نظر آ رہی ہے۔

        اس طرح دیکھا جائے تو بھارت میں مسلسل سماجی انصاف کا خون کیا جا رہا ہے، اور اس ہوتے ہو ئے سماجی نا انصافیوں کے خلاف تادیبی کاروائی کئے جانے کی بجائے حکومت نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بلکہ ایسے ناپسندیدہ عناصر جو سماجی نا انصافیوں کو اپنی تحریروں، تقریروں، مباحثوں نیز عملی کوششوں سے فروغ دے رہے ہیں، ان کی ہمت افزائی بھی کی جا رہی ہے۔  سب سے بڑا المیہ تو یہ ہے کہ ملک کے انصاف کے مندر یعنی عدلیہ سے بھی انصاف ملنا  اب مشکل ہوتا نظر آ رہا ہے۔  اگر عدلیہ سے انصاف ہی ملتا تو پھر عدلیہ کے باہر احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ دراز کیوں ہوتا۔  عدلیہ میں انصاف کرنے والی کرسیوں کی خرید و فروخت عام بات ہو گئی ہے۔ انصاف دینے والوں کو گورنری، ترقی یا پھر روپئے کا لالچ دے کر اپنے من مطابق فیصلے صادر کرا ئے جا رہے ہیں۔  ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ڈاکٹر کفیل خاں جیسا شخص جو لوگوں کی ڈوبتی سانس کے وقت زندگی کاآس بن جاتا ہے، جو سیلاب زدہ علاقے میں پانی میں ڈوب کر مریضوں کا علاج کرتا ہو، وہ جیل میں دالا جاتا ہے اور اسے ملازمتسے برطرف کیا جاتا ہے۔ زنا بالجبر جس لڑکی کا ہو، وہ جیل میں ہو اور زانی کی چند ماہ کے بعد ہی قید سے رہائی ہوتی ہے اورسے سلامی دی جاتی ہے اور خوشی میں مٹھائیاں تقسیم ہو تی ہیں۔  جس لڑکی کا زنا ہو تا ہے، اس کا باپ پولیس کے پاس انصاف مانگنے جاتا ہے تو پولیس والے رات بھر بے رحمی سے اتنی پٹائی کرتے ہیں کہ اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ماب لنچنگ کرنے والوں کو جیل سے رہا کئے جانے کے بعد انھیں پھول مالا سے استقبال کیاجاتا ہے۔  سچ تو یہ ہے کہ اب عدالتوں میں فیصلے کئے جاتے ہیں انصاف نہیں ہوتا ہے۔ گزشتہ سال کے فروری ماہ متنازعہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن کا ٹائمز آف انڈیا اور دیگر کئی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک بیان کہ ’ میں عدالت نہیں جاؤنگا، انصاف نہیں ملتا ہے ‘ضرور چونکا دیا تھا۔  لیکن کاش ایسا بیان دینے سے قبل وہ خود اپنے گریباں میں جھانکتے کہ خود انھوں نے کتنے انصاف کا خون کرکے نا انصافی کی ہے۔ اس ملک میں سماجی انصاف کا یہ عالم ہے کہ دبے کچلے غریب، نادار لوگ مندر کے دروازے پر نہیں بیٹھ سکتے، شادی کے موقع پر بھی مندر میں پوجا نہیں کر سکتے، ان کے نل کے پانی کے چھینٹے کسی اونچی ذات والے پر پڑ جائے تو اس کی جان لینے میں بھی کو ئی عار نہیں۔  انتہا تو یہ ہے کہ ایک طرف اقوام متحدہ یوم سماجی انصاف کے موقع پر غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کی تاکید کرتا ہے۔  وہیں اقوام متحدہ کا ممبر ملک بھارت کا حکمراں، گجرات میں چند گھنٹوں کے لیے دورہ کرنے والے رونالڈ ٹرمپ کی آنکھوں سے غریبوں اور ان کی غربت کو چھپانے کے لیے اونچی اور لمبی دیوارکھڑی کر دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سماجی نا انصافیوں کے خلاف بولنے، لکھنے والوں کو غدار وطن کہہ کر انھیں اذیت دی جا رہی ہے اور جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ وزیر کا بیٹا دانستہ طور پر کسانوں کو اپنی گاڑی سے روندتے ہوئے موت کے گھاٹ اتارتا ہے اور جیل کے بجائے اسے بیل ملتی ہے اور حق و انصاف کی بات کرنے کی پاداش میں ملک کے سرکردہ دانشوروں اور سماجی شخصیات کو جیل کی سلاخوں میں قیدکیا جا رہا ہے۔  سماجی نا انصافیوں پر حکومت سے سوال کرنا اس وقت سے بڑا گناہ ہے۔ جو کوئی بھی سوال کرے گا اور حکومت کی تنقید کرے گا۔  اسے بے بنیاد الزامات لگا کر اس ے مُنھ پر قفل ڈال دیا جاتا ہے۔

       آج کے عالمی یوم سماجی انصاف کے موقع پر ان کشمیریوں پر مسلسل ہورہے ظلم و بربریت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔  جہاں کئی برسوں سے غیر انسانی سلوک اور نا انصافیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی تمام تر آزادی، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کو سلب کر لیا گیا ہے۔  کسی بھی معاشرے میں سماجی انصاف اور سماجی برابری کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور جن ممالک میں ان بنیادی حقوق پر توجہ دی جاتی ہے، وہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔  لیکن ہندوستان میں ان دنوں ہر طرح سے انسانی رشتوں کو ختم کر منافرت کو سیاسی مفادات کے لیے فروغ دیا جا رہا ہے۔  مختلف طبقاتی نظام، معاشرے میں انصاف اور انسانی اقدار کو ختم کر دینے کے درپئے پئے ہے۔ جن کے تدارک کی کوئی کوشش حکومت کی جانب سے ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔  عالمی یوم سماجی انصاف اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ انسانی تاریخ فلاحی معاشرہ کے قیام اور تمام انسانوں کو یکساں حقوق حاصل ہو۔ لیکن افسوس کہ ان تمام باتوں پر توجہ دئے جانے کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دیا جا رہا ہے۔  جو کہ ملک کے مفاد میں ہے نہ ہی یہاں کی عوام کے مفاد میں ہے۔

      اقوام متحدہ نے 20 فروری 2020 ء میں عالمی یوم سماجی انصاف کا انعقادکرتے ہوئے اپنے تمام ممبران کو اس عالمی مسئلہ کے تدارک کے لیے مدعو کیا تھا تاکہ بین الاقوامی سطح پر مسلسل ہو رہی سماجی و معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف لائحہ عمل تیار کیا جائے۔  اس کے لیے 2020 ء کا کا تھیم رکھا گیاتھا۔ ” Closing the inequalities gap to achieve social justice”   یعنی معاشرتی انصاف کے حصول کے لیے عدم مساوات کا خاتمہ۔ اسی طرح 2021ء میں کا تھیم تھا، "A call for social Justice in the Digital Economy” اور اس سال یعنی 2022 ء میں "Achieving social justice through Formal Empoyment”   مقرر کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ اقوام متحدہ کی اس سال کی اس تھیم پر ہمارا ملک کس قدر عمل کرتا ہے۔ اس لیے کہ اس وقت ہمارا ملک بے روزگاری کے نرغے میں بہت شدّت سے گھرا ہوا ہے۔ کروڑوں نوجوان بے روزگاری کی مار جھیل رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس اہم اور نازک مسئلہ پر حکومت کی جانب سے اس کے تدارک کے لیے کوئی عملی کوشش ہے اور نہ ہی کوئی لائحہ عمل ہے۔  اس کا خمیازہ فی الوقت نوجوان بے روزگار بھگت رہے ہیں اور یہی سلسلہ جاری رہا تو یقینی طور پر حکومت وقت کو بھگتنا پڑے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔