عالمی یومِ خواتین اورحقوق نسواں

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

      آج یعنی  8؍ مارچ کوعالمی یوم خواتین کے طور پر دنیا کے بیشتر ممالک میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر علّامہ اقبال کا ایک شعر بے اختیار یاد آتا ہے ؎

 وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

 اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

     حقیقت یہ ہے کہ صرف اس شعر کی تشریح کر دی جائے، تو خواتین کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے۔ لیکن افسوس کہ جو عورت کبھی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی بن کر مردکے دکھ سکھ میں کام آتی ہیں۔ ان کی اہمیت اور خدمات کا ہمارا معاشرہ معترف نہیں ہے۔ہم  اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ مرد اساس ہمارے سماج اور معاشرے میں خواتین کو جو حقوق اور انصاف ملنا چاہیے تھا، وہ اب تک نہیں ملا۔ مردو ں کی برتری اور بالا دستی حاصل شدہ سماج میں، خواتین کے اندراپنے ساتھ ہو رہے ظلم، تشدّداور استحصال کے خلاف پہلے آواز بلند کرنے کی پہلے ہمّت تھی، نہ حوصلہ تھا اور نہ ہی جرأت تھی۔لیکن خواتین کی مسلسل جد وجہد نے عالمی سطح پر خواتین کے حقوق اور استحصال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا ایک اہم موقع دیا۔ اس کی تاریخ پر ہم ایک نظر ڈالیں تو ہم دیکھیں گے کہ 8 ؍ مارچ 1957  ء ہی عالمی سطح پر وہ اہم تاریخ ہے، جب امریکہ کے ایک کپڑا مِل میں مزدور خواتین نے کام کے اوقات کو سولہ گھنٹے سے دس گھنٹہ کرنے اور اجرت بڑھانے کے لیے پہلی بار صدائے احتجاج بلند کی تھی، اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور آخر کار ان مزدور خواتین کو 1908 ء میں جد و جہد کا صلہ ملا۔  8 ؍ مارچ  1915  ء کو اوسلو (ناروے) کی عورتوں نے پہلی عالمی جنگ میں انسانی تباہی و بربادی پر سخت ردّ عمل کا اظہار کیا تھا۔  8 ؍مارچ  1917 ء کو روسی خواتین نے امن اور بقائے باہمی کے لیے آواز اٹھائی۔ دھیرے دھیرے یہ  8 ؍مارچ عالمی سطح پر خواتین کے لیے حق، خود اختیار ی اور عزت و افتخار کے پیغام کا دن بن گیا۔ مسلسل خواتین کے مطالبات نے اقوام متحدہ کو آخر کار مجبور کر دیا اور اس نے خواتین کے حقوق اور انصاف کے لیے8  ؍مارچ 1975ء سے 8؍  مارچ1985 ء تک عالمی خواتین دہائی کا اعلان کیا کہ اس دہائی میں عالمی سطح پر خواتین کے ساتھ ہو رہے ناروا سلوک، ظلم، تشدّد، بربریت، استحصال، اذیت اور نا انصافی کو ختم کرانھیں حقوق انسانی کا تحفہ دینے کے ساتھ ساتھ قومی اوربین ا لاقوامی سطح کی ترقیٔ رفتار میں شامل کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی ایسی کوششوں کا ترقی یافتہ ممالک میں مثبت نتائج دیکھنے کو ملے۔ اسلامی تاریخ کا اس تناظر میں مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل خواتین پر ظلم و تششد کے خلاف جو آواز اٹھائی تھی اور ان کے حقوق کے تحفظ کا جو پیغام دیا تھا۔ اس کی مثال سیکولر اور نام نہاد عالمی حقوق نسواں کے ٹھیکے دار کبھی نہیں دے سکتے ہیں۔ اس کا ندازہ عالمی تناظر میں آئے دن دیکنے کو ملتا رہتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ بین الاقوامی سطح پر خواتین کے حقوق اورانصاف کے لیے بہت ساری کوششیں ہو ئی ہیں اور ہوتی رہتی ہیں۔ جان اسٹوارٹ مل جیسے مفّکر نے انسانی آزادی کے تصور کو ظاہر کرتے ہوئے حقوق نسواں کی طرف داری کی اور سچ کو سچ کہنے کے لیے حوصلہ اور جرأت کو وقت کی ضرورت بتایا تھا۔ 1967 ء کے بعد 1980 ء میں کوپ ہینگن میں دوسرا بین الاقوامی خواتین کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور 1985 ء میں نیروبی میں خواتین کی ترقی کے لیے بہت ساری پالیسی اور حکمت عملی تیار کی گئیں۔ 1992ء میں خواتین اور ماحولیات کا جائزہ لینے کے لیے اس بات کو بطور خاص نشان زد کیا گیا کہ خواتین اور ماحولیات، ان دونوں پر تباہی کے اثرات نمایاں ہیں۔ لہٰذا موحولیات کے تحفظ میں خواتین کی حصّہ داری کی اہمیت کو بطور خاص سمجھا جائے۔ 1993 ء میں یوم خواتین کے موقع پر انسانی حقوق پر منعقدہ ویئنا عالمی کانفرنس میں حقوق نسواں کے مُدّے کو حقوق انسانی کی فہرست میں شامل کیا گیا اور خواتین پر ہو رہے تشدّد اور استحصال کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کا اعلان کیا گیا۔ 1995 ء میں منعقدہ چوتھے عالمی خواتین کا نفرنس میں خواتین کے وجود اور ترقی میں سدّ راہ بن رہے نکات پر گہری تشویش ظاہر کی گئی اور ان کے سد باب کے لیے ـ’’ پلیٹ فارم  برائے ایکشن ‘‘ اپنایا گیا۔ جس پر پوری دنیا میں بہت سنجیدگی سے غور و فکر کیا گیا۔  ایسی تمام کوششوں کے نتیجہ میں بہت سارے ممالک میں کچھ بہتر نتائج بھی سامنے آئے ہیں، لیکن افسوس کہ بھارت سمیت بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں، جہاں ان مساعی کوششوں کی روشنی میں، خواتین کے تئیں سطحی ذہنیت کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

         خواتین کے جنسی استحصال کے خلاف سخت سے سخت قوانین بنتے رہے ہیں، لیکن ان پر سنجیدگی سے کبھی بھی عمل در آمد نہیں ہو پاتا ہے۔ جس کی بنا پر خوف ِ قوانین ختم ہو چکا ہے۔ ہماری حکومت اس وقت جاگتی ہے، جب جلسہ، جلوس، احتجاج اور مظاہرے زور پکڑتے ہیں۔ 1980 ء میں آزاد بھارت میں پہلی بار خواتین نے متحّد ہو کر متھرا عصمت دری کے خلاف اپنی زبردست طاقت کے ساتھ ساتھ جد و جہد کا مظاہرہ کیا تھا، جس سے حکومت اور انتظامیہ کو مجبور ہو کر متھرا جنسی زیادتی معاملہ پر دوبارہ غور کرتے ہوئے سنوائی کرنا پڑی تھی، ساتھ ہی ساتھ عصمت دری سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے بھی مجبور ہونا پڑا تھا۔ یہ یقیناََ بھارت کی خواتین کے اتحاد اور جد و جہد کی بڑی کامیابی تھی۔

     لیکن ان تمام کوششوں اور قوانین کے باوجود عصمت دری کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ جنسی زیادتی کی شکار عورتوں اور بچّیوں کا مستقبل کس قدر تاریک ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسی لڑکیا ں موت کو گلے لگانے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں اور جو کسی وجہ کر خودکشی نہیں کر پاتی ہیں، وہ زندگی بھر بے حِس سماج میں بے وقعت اور ذلّت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

   ایسی لڑکیوں کے لیے میروالا،پاکستان کی بہادر، جانباز، جرأت مند اور حوصلہ مند مختارن مائی، جہادی عورت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مختارن مائی دبی کچلی اور نا خواندہ عورتوں کی نگاہوں کی مرکز بنی ہوئی ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور ان کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں جس طرح ملالہ یوسف زئی کے ساتھ ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، وہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا تھا۔ ماضی میں بھی ایسی ہزاروں خواتین ہیں، جنھوں نے اپنے عزم، حوصلہ، ہمّت، جرأت، شجاعت کی مثالیں پیش کر تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف میں شامل کر لیا ہے۔ ان میں بے اختیار جو چند نام ذہن کے پردے پر نمودار ہوتے ہیں، ان میں ہمارے ملک کی رضیہ سلطان،رانی لکشمی بائی، اینی بیسنٹ، ارونا آصف علی، حاجی بیگم، سروجنی نائیڈو،پنڈتا راما بائی، لیڈی انیس امام، بی اماں، بیگم حسرت موہانی جیسی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسی خواتین ہیں، جن پر ہم ناز کر سکتے ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر میری کیوری، فلورنس نائٹینگل، ہیلن کیلر وغیرہ کا نام خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں۔  آج بھی ہمارے درمیان کرن سیٹھی (لیڈی سنگھم )، میگھا پرمار، ارونا دھتی رئے، لکچھمی اگروال، سنیتا کرشنن، کرتی بھارتی، وندنا  بھارتی، میدھا پاٹیکر وغیرہ جیسی ہمّت و جرأت والی خواتین اپنے وجود کا احسا کرا رہی ہیں۔ ان جیسی خواتیں کی ابھی ہمارے سماج اور معاشرے میں بہت ضرورت ہے۔ اس لیے کہ ہمارے ملک میں نعرہ دیا جاتا ہے ’’ بیٹی بڑھاؤ بیٹی پڑھاؤ۔ لیکن ملک میں عمل ٹھیک اس کے برعکس ہو رہا ہے۔ افسوسناک صور ت ھال یہ ہے کہ اس وقت ملک کے طول و عرض میں ہاتھ رس، اور کٹھوہ جیسے سانحات میں کمی نہیں آئی ہے اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے زانی اور ظالم کی پشت پناہی حکومت کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ آج ایوان میں قوانین بنانے والے ہی قانون کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں اور حکومت خاموش رہتی ہے۔ کئی دبنگ لوگ زنا باالجبر اور قتل کئے جانے کے باوجود آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ خواتین اپنے خلاف کئی طرح کے استحصال کے خلاف انتظامیہ کی خاموشی پر خود سوزی کے لیے مجبور ہو رہی ہیں۔ انتہا تو یہ ہو رہی ہے کہ مسلم سماج کی ممتاز خواتین کی انٹر نیٹ پر بولیاں لگائی جا رہی ہیں، مسلم بچّیوں کو ہجاب سے بے ہجاب کیا جا رہا ہے۔ ایسے سانحات اور افسوسناک واقعات اس امر کے مظہر ہیں کہ قانون کے محافظ اور ذمّہ داراشخاص کی نگاہ میں ملک کی خواتین کے تئیں کیسا غیر ذمّہ دارانہ اور غیر اخلاقی رویہ ہے اور ان کی کیسی سوچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مسلسل کہیں نہ کہیں کی پورے سال ہی خواتین پر ہونے والے ظلم، تشدّد،بربریت، اذیت اورجسمانی و ذہنی استحصال کے واقعات کی خبریں بازگشت کرتی رہتی ہیں۔

     اس لیے ضرورت اس بات کی ہے خواتین کے تیئں پوری دنیا میں ظلم، تشدد اور استحصال کا خاتمہ کیا جائے۔ بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور ہوس پرستی پر قد غن لگائی جائے۔ ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کی جائے۔ ان کے تقدس و پاکیزگی کو پامال نہیں کیا جائے، ہمدردی اور محبت کا عملی ثبوت دیا جائے، تاکہ خواتین کے اندر سے احساس کمتری ختم ہو اور وہ پوری دنیا میں مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان عمل میں بلا خوف و خطر اپنے وجود کا احساس کرا سکیں۔ ان ہی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے اس سال یعنی 2022 ء میں اقوام متحدہ نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر  ’’ ” Gender Equality today for a Sustanable Tomorrow  کا تھیم دیا ہے، یعنی ایک پائیدار کل کے لیے آج صنفی مساوات۔ ساتھ ہی ساتھ اس سال کے بین الاقوامی یوم خواتین کو تین رنگ جامنی، جو کہ انصاف اور وقار کا، ہرا رنگ، جو کہ امید کا اور سفید رنگ جو کہ پاکیزگی کے علامت ہیں، دیا گیا ہے۔ چونکہ امید پر دنیا قائم ہے اور انسان کی نفسیات بھی یہی ہے۔ اس لیے توقع کی جس سکتی ہے اقوام متحدہ کے دئے گئے تھیم اور رنگوں پر پوری عمل کرتے ہوئے ان کے ساتھ مساوات ہوگا نیز دنیا کی خواتین کو سماج اور معاشرے میں عزّت و احترام کی نظروں سے دیکھا جائے گا اوران کے حقوق کو آزادانہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

٭٭٭

تبصرے بند ہیں۔