مالیگاؤں بم بلاسٹ مقدمہ اور نظام انصاف

ایڈوکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

28 ستمبر 2008 کو مہاراشٹر کے شہر مالیگاوں میں بم بلاسٹ ہوا تھا جس میں 6 افراد کی جان جاتی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہوتے ہیں، یہ دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں لگائے گئے دھماکہ خیز بم کے ذریعے کیا گیا تھا، یہ مقدمہ اور اس کی تفتیش ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا جب کچھ روز قبل پھر ایک اہم گواہ نے عدالت کے سامنے اپنے سابقہ بیان سے مکرتے ہوئے اے ٹی ایس مہاراشٹر کے اوپر بہت سنگین الزامات عائد کئے ہیں، گواہ کے عدالت میں دیے گئے بیان کے مطابق اے ٹی ایس کے افسران نے تفتیش کے دوران باربار حراست میں لے کر ٹارچر اورغیر قانونی دباو کے ذریعے آرایس ایس اور اس کے لیڈروں کے نام لینے پر مجبور کیا تھا، اس مقدمہ میں اب تک عدالت میں کل 222 گواہوں کو پیش کیا ہے جس میں سے 17 گواہ پہلے ہی اپنے سابقہ بیانات سے پلٹ چکے ہیں جسے قانون کی اصطلاح میں ہوسٹائل ہونا کہا جاتا ہے۔

اے ٹی ایس مہاراشڑ اس مقدمے میں کلیدی ملزم کے طور پر سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹننٹ کرنل پرساد پروہت، سدھاکر دویدی، میجر رمیش اپادھیائے، اجے رہرکار، سدھاکر چترویدی اور سمیر کلکرنی وغیرہ کو گرفتار کرتی ہے، یہ تمام ملزمین یکے بعد دیگرے اہم گواہوں کے بیانات تبدیل ہونے کی بنیاد پر ضمانت پر رہا کردیے گئے، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ممبر آف پارلیمنٹ تو بن گئیں لیکن ان کے اوپر ملک میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے ساتھ ساتھ قتل کے الزامات میں مقدمات عدالت میں آج بھی زیر سماعت ہیں۔ سب سے پہلا مقدمہ جس میں سادھوی کا نام آیا وہ مالیگاوں 2008 کا بم دھماکہ ہے، جس دھماکہ میں چھ افراد کی موت اور سو سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے، یو اے پی اے اور مکوکا کے تحت ممبئی اسپیشل کورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا لیکن 2014 میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی ملک کی اعلی ترین تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے ڈرامائی انداز میں اپنے و مہاراشٹر اے ٹی ایس کی گزشتہ تفتیش کے برخلاف عدالت میں اضافی چارج شیٹ داخل کرتے ہوئے کیس ختم کرنے کی سفارش کردی۔ یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ اس سے پہلے این آئی اے کی طرف سے اس مقدمہ کی اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر (مخصوص سرکاری وکیل) روہنی سالیان نے این آئی اے پر الزام لگایا تھا کہ این آئی اے ان کے اوپر کیس کو کمزور کرنے کا دباو بنارہی ہے جس کے بعد روہنی سالیان نے اس مقدمہ سے اپنے آپ کو الگ کرلیا تھا۔ بہرحال این آئی اے کی تبدیل شدہ چارج شیٹ کے بعد عدالت نے مجبورا مکوکا کی دفعات تو ہٹادیں تاہم دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے وافر ثبوتوں کی موجودگی کی بنیاد پر یو اے پی اے کی دفعات ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جو آج بھی اسپیشل این آئی اےعدالت میں زیر سماعت ہے، البتہ عدالت نے سادھوی کو ضمانت پر رہا کردیا جو فیصلہ ازخود تشویشناک رہا ہے کیونکہ انہیں دفعات کے تحت ہزاروں مسلم نوجوان آج بھی ضمانت سے محروم جیل کی کال کاٹھریوں میں زندگی کے شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔

مالیگاوں بم دھماکہ کی تفتیش آنجہانی ہیمنت کرکرے نے شروع کی تھی، اس دھماکہ کو انجام دینے کے لیے جس ایل ایم ایل فریڈم موٹر سائیکل کا استعمال ہوا تھا وہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی تھی۔ اس دھماکے کے تار پونہ، ناسک، اندور اور بھوپال سے جڑے پائے گئے تھے، تفتیش کے دوران ہی فوج کے کرنل پروہت اور میجر رمیش اپادھیائے اور شدت پسند ہندوتو تنظیم ابھینو بھارت کا نام سامنے آیا، تاریخ کا واحد اپنی نوعیت کا صرف یہی ایک ایسا مقدمہ ہے جس کے ملزمین کو عدالت نے جیل کے اندر لیپ ٹاپ کا استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، اس مقدمہ میں چودہ ملزمین تھے، چارج شیٹ کے مطابق سادھوی نے سنیل جوشی اور رام چندر کلسنگر کو بم دھماکہ کے لیے اپنی موٹر سائیکل دی تھی۔ مالیگاون میں بم دھماکہ کی تیاریوں کے دوران فریدآباد، بھوپال، کلکتہ، جبل پور، اندور اور ناسک میں میٹینگیں ہوئیں تھیں، ملزمین کے پاس سے لیپ ٹاپ برآمد کئے گئے تھے جن میں مکمل تفصیلات و شواہد ویڈیو و دستاویزات کی شکل میں برآمد ہوئے تھے۔

سی بی آئی نے دسمبر 2010 میں نابا کمار سرکار عرف سوامی اسیمانند کو گرفتار کیا جس نے سی آرپی سی کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے اقبالیہ بیان دیا جس میں اس نے اس ہندتوا دہشت گرد گروپ کا سمجھوتہ اکسپریس، اجمیر درگاہ اور مکہ مسجد بم دھماکوں میں کلیدی کردار کا راز افشاں کیا، اگرچہ چہار طرفہ دباو کے بعد سوامی اسیمانند نے اپنے اقبالیہ بیان سے رجوع کرلیا تھا تاہم اس بیان میں بتائے گئے حقائق کی تفتیش اور ان کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کو تسلیم کرنے کی پوری طاقت عدالت کے پاس موجود تھی جس کا استعمال نہیں ہوا۔ کچھ عرصہ قبل سمجھوتہ اکسپریس بم دھماکہ کا فیصلہ سناتے ہوئے اگرچہ ان ملزمین کو بری کریا گیا ہو تاہم عدالت نے این آئی اے کے طریقہ کار پر بہت سے سوالیہ نشانات لگا ئے تھے جو ملک کی سب سے بڑی اور تربیت یافتہ تفتیشی ایجنسی کو پوری طرح مشکوک کرتے ہیں، کہ کیس کے اہم گواہ اپنے بیانات سے مکر گئے، بہت سے اہم گواہ عدالت میں پیش نہیں کئے گئے، اہم ترین ثبوت مثلا سی ڈی آر(کال ڈیٹا ریکارڈ) اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن کے سی سی ٹی وی فوٹیج وغیرہ عدالت میں پیش نہیں کئے گئے۔

بہر کیف سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے خلاف بہت سے اہم اور بنیادی ثبوت موجود تھے مثلا بم دھماکہ میں استعمال کی جانے والی سادھوی کی موٹر سائیکل، میجر رمیش اور کرنل پروہت کی بات چیت کی ریکارڈنگ، یشپال بڈھانا کا اقبالیہ بیان جو کہ آرایس ایس کا ممبر تھا اورسازش میں ہونے والی میٹنگوں میں شامل تھا، جس میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم جنگ اور قتل عام کی سازش تیار کی گئی تھی۔ سادھوی کا نام اجمیر درگاہ شریف بم دھماکہ میں اندریش کمار کے ساتھ آیا لیکن این آئی اے نے ان کے خلاف کبھی چارج شیٹ داخل نہیں کی، اندریش کمار کا نام سوامی اسیمانند کے عدالت میں دییے گئے اقبالیہ بیان میں بھی آیا تاہم کہاجاتا ہے کہ نہ تو کبھی ان سے این آئی اے یا کسی دیگر تفتیشی ایجنسی نے کوئی پوچھ تاچھ کی اور نہ کوئی کاروائی ہوئی۔ اس کیس میں آر ایس ایس کے دو پرچارک دیویندر گپتا اور بھاویش پٹیل کو عدالت نے مجرم قرار دے کر ہندتوا دہشت گردی کو ثابت تو کرہی دیا ہے، اس کے علاوہ ان تمام بم دھماکوں میں کلیدی رول ادا کرنے والے سنیل جوشی کا دسمبر 2007 میں قتل کردیا گیا، اس قتل میں بھی سادھوی ایک اہم ملزم رہی ہیں۔

ان تمام ملزمین کے خلاف این آئی اے نے ہر مقدمہ اور ہر عدالت میں کوئی ٹھوس تفتیشی رپورٹ پیش کرنے کے بجائے مقدمات ختم کرنے کی تمام ترکوششیں کیں تاہم ناکام رہی، بی جے پی نے نہ صرف ہر مقدمہ کی کامیاب پیروی کے لیے رام جیٹھ ملانی جیسے ماہر وکیلوں کی خدمات فراہم کیں، بلکہ ہندوستانی تاریخ کا یہ سیاہ باب بھی تحریر کردیا کہ ملک میں دہشت گردی کا ملزم لوک سبھا کا ممبر منتخب ہوا، مالیگاوں بم دھماکے میں شہید  ایک نوجوان کے والد نثارسعید نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا  کہ سادھوی اس مقدمہ کی کلیدی ملزم ہے جس کو این آئی اے نے اگرچہ کلین چٹ دی ہے تاہم اس عدالت نے اس کیلن چٹ کو ماننے سے انکار کردیا ہے، نثار سعید نے عدالت سے گہار لگائی ہے کہ سادھوی کو لوک سبھا الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے۔

یہ مقدمہ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم کے طریقہ کار پر بہت سے سوالات کھڑے کرتا ہوا نظر آتا ہے، آخر ہمارے نظام عدلیہ میں مقدمات کی سماعت کے لیے کوئی میعاد یا مدت کیوں کر متعین نہیں کی جاسکتی ہے۔ دوسرا اہم پہلو یہ کہ کسی بھی کرمنل کیس میں سب سے اہم کردار گواہ کا ہوتا ہے، ہمارے نظام انصاف میں گواہوں کے تحفظ کو لے کر کوئی بھی پالیسی موجود نہیں ہے، گواہوں کو تحفظ فراہم نا ہونے کی صورت میں اپنے بیانات پر قائم رہنا یقینا آسان نہیں ہوسکتا جب کہ آئے دن گواہوں کا قتل کیا جانا یا جان لیوا حملہ ہونا ایک عام سی بات ہو۔ ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کے نظام انصاف میں اصلاح کو لے کر سماجی سطح پر تحریک شروع کی جائے جو یہ یقینی بنانے کی کوشش کرے کہ انصاف بھی ہو اور انصاف ہوتا ہوا محسوس بھی ہو۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔