مرادآباد قتل عام اور عدلیہ کی خاموشی

ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

13 اگست 1980 کا مرادآباد سانحہ آزاد ہندوستان کا جلیانوالہ باغ ہے، آج اکتالیس برس ہوگئے اس سانحہ کو، ہماری یادداشت سے وہ قتل عام اوجھل سا ہوگیا ہے، یا ہم ایمانداریکے ساتھ انصاف حاصل کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے،یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی میں ہوئے ہر قتل عام کو بھول جانا چاہتے ہیں، یاد رکھیئے کہ مرادآباد میں عید کی نماز کے دوران ہونے والا سانحہ کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں تھا، یہ سانحہ ہمارے آزاد ہندوستان کی مسلح سلامتی دستوں کا ایک مخصوص اقلیتی طبقے مسلمانوں پر ایک منظم اجتماعی قتل عام تھا، بقرعید کا مبارک دن تھا، پورے شہر کے مسلمان صبح صبح اٹھ کر نئے نئے لباس میں خوش مناتے اپنے معصوم بچوں کے ساتھ عید الاضحی کی نماز ادا کرنے عیدگاہ گئے تھے، عین نماز کے درمیان چہار جانب سے پولیس نے گھیر کر اندھادھند گولیاں برسائی تھیں۔

اس وقت کے نوجوان مشہور صحافی ایم جے اکبر نے اپنی کتاب “رائٹ آفٹر رائٹ” (دنگوں پر دنگے) میں لکھا تھا “اس دن عیدگاہ میں سلامتی دستوں کے جوانوں نے عید کی نماز پڑھ رہے لگ بھگ چالیس ہزار مسلمانوں پر فائرنگ شروع کردی تھی، کوئی نہیں جانتا کہ کتنے لوگ مارے گئے تھے، لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ یہ ہندو مسلم فساد نہیں تھابلکہ مسلمانوں پر سلامتی دستوں کے ذریعے کیا گیا ایک منظم قتل عام تھا، جس قتل عام کو بعد میں ہندو مسلم فساد کا نام دے دیا گیا تھا۔”

مرادآباد قتل عام کی جانچ کرنے کے لیے جسٹس ایم پی سکسینہ کمیشن بنا گیا تھا، 13 اگست 1980 کے عیدگاہ قتل عام کی جانچ رپورٹ اکتالیس سال پورے ہونے کے بعد بھی اترپردیش اسمبلی میں پیش نہیں کی گئی، جب کہ رپورٹ صوبہ کی حکومت کی سونپی جاچکی تھی، سرکاری اعدادو شمار کے مطابق عید گاہ سے 284 لاشیں اٹھائی گئی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لاشیں پی اے سی اور اترپردیش پولیس کی فائرنگ کا ہی نتیجہ تھیں، اکتالیس سال گزرنے کے بعد بھی نا تو کوئی مقدمہ چلا اور نا ہی کسی کے اوپر اس قتل عام کا الزام عائد ہوا۔

اترپردیش کے وزیراعلی وی پی سنگھ تھے، مسلمانوں کا ایک طرفہ قتل عام ہوا تھا، انصاف کی دوہائی دینے والوں نے متاثرین کے لیے معاوضے کی مانگ کی، لیکن حکومت کی جانب سے کسی کو کسی بھی طرح کا کوئی معاوضہ سرکار نے ادا نہیں کیا جب کہ ملک کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے بھی مسلمانوں کو ہی قتل عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پاکستان کا ہاتھ ہونے کی بات کہی تھی، جب کہ کسی بھی رپورٹ میں نمازیوں کی جانب سے کسی بھی ہتھیار کے استعمال یا ہتھیار کی برآمدگی کے کوئی ثبوت پیش کرنے سے حکومت پوری طرح ناکام رہی۔

آج کی طرح ہی اس وقت کے مشہور سیکولر صحافی جن میں رومیش تھاپر اور کرشنا گاندھی جیسے نام بھی شامل ہیں، اس پورے صحافی طبقے نے اس قتل عام کو ہندومسلم فساد کی شکل میں پیش کرنے کی حتی المقدور کوششیں کی تھیں، ہمارے ملک میں صحافت حکومت کے اشاروں پر آج ہی نہیں ماضی میں بھی رقص کرتی رہی ہے، ماضی کے فسادات کو یاد رکھنا اور موجودہ حالات سے ماضی کے حالات کا موازنہ کرتے رہنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ہم حقائق سے پوری طرح واقف رہیں۔ ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں نے مسلحہ انداز میں پولیس کے اوپر حملہ کردیا تھا جس کے بعد مجبورا پولیس کو ردعمل میں فائرنگ کرنی پڑی تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کو غیر ملکوں سے حملہ کرنے کے لیے فنڈ مہیا کرایا گیا تھا۔ جب کہ ایک انگلش اخبار کی رپورٹ کے مطابق بی ایس ایف کے چار جوانوں کو مسلمانوں نے قتل کردیا تھا نیز پانچ جوان غائب بتائے تھے، جس کے فورا بعد بی ایس ایف نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ  بی ایس ایف کا کوئی بھی جوان زخمی بھی نہیں ہوا ہے۔

اگر ہم دیگر رپورٹوں کا جائزہ لیں تو مرادآباد قتل عام کا سبب عید گاہ میں عید کی نماز کے دوران ایک خنزیر داخل ہوگیا جس کے بعد نمازیوں نے پولیس سے مدد چاہی لیکن پولیس نے تکرار کی صورت میں نمازیوں کے اوپر گولیاں برسادیں، پولیس فائرنگ سے ناراض مسلمانوں نے غصے میں ایک پولیس چوکی پر حملہ کردیا تھا جو کہ عید گاہ سے تقریبا پانچ کلومیٹر دوری پر واقع تھی۔

عیدگاہ سانحہ کے بعد ہندو مسلم فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے جس کے پیچھے بھی کانگریس حکومت کی سازش بتائی جاتی رہی ہے، یہ فسادات نومبر 1980 تک جاری رہے، کل جان گنوانے والوں کی تعداد تقریبا ڈھائی ہزار بتائی جاتی ہے۔ لیکن کوئی بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، اس قتل عام اور اس کے بعد ہونے والے سلسلہ وار فرقہ وارانہ فسادات کے نتائج پر اگر ہم غور کریں تو اس سانحہ کے بعد مرادآباد میں پیتل کی صنعت و کاروبار جو خاص کر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی اب مسلمان وہاں کاریگر اور مزدور کی حیثیت میں کام کررہا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں فسادات منظم طریقے سے کرائے گئے، پولیس اور دیگر سلامتی دستوں کا استعمال بھی مسلمانوں کے خلاف ہوا، گجرات فسادات یقینا ہمارے لیے ایک تازہ مثال ہیں لیکن گجرات فسادات سے پہلے کی پانچ دہائیوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف حکومت کی سرپرستی میں قتل عام ہوتے رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں مسلمانوں کے خون سے صرف بی جے پی کے ہاتھ لال نہیں ہیں، گجرات میں پولیس تماشائی بنی خاموش کھڑی تھی، لیکن مسلمانوں کے خلاف خاکی وردی کا غیر قانونی استعمال سیکولر کانگریس سرکاروں نے جس طرح کیا ہے اس کی مثال صرف مرادآباد نہیں بلکہ ہاشم پورہ اور ملیانہ کے قتل عام بھی ہیں، ان خاطی پولیس افسران کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل رہی ہے، آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ان قتل عام کی جانچ کرنے کے لیے بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ کسی بھی سرکار نے اسمبلی ہاوس میں پیش نہیں کی۔

اترپردیش میں ان چالیس سالوں کے دوران تیس سال سے زائد سیکولر سیاسی جماعتوں نے ہی حکومت کی ہے، لیکن ان تمام حکومتوں نے ہی ان مسلم مخالف فسادات اور قتل عام پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہیں، سلامتی دستوں اور پولیس کوان سیکولر سرکاروں کا تحفظ حاصل رہا ہے لیکن ان سرکاروں کے علاوہ انگریزوں کے بنائے قانون نے بھی خاکی وردی کو جو تحفظ فراہم کیا تھا وہ تحفظ آج کے آزاد ہندوستان میں بھی باقی رکھا گیا ہے۔ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 197 کے تحت کسی بھی پولیس اہلکار کے خلاف قانونی پیش رفت کرنے سے پہلے حکومت کی اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔

 ایک ایسا قتل عام جس میں ایک مخصوص مذہبی طبقے کو نشانہ بنایا گیا لیکن پورا نظام انصاف آج تک سچ کو منظر عام پر لانے میں ناکام رہا کیونکہ عدلیہ ماضی میں بھی حکومت کے دباو میں کام کرتی رہی ہے، اگر اندرا گاندھی کے زمانے میں عدلیہ آزاد اور خود مختار ہوتی تو سیکڑوں افراد کے بہیمانہ قتل عام پر بذات خود ایکشن لیتی اور مجرمین کو عدالت کے کٹگھرے تک لایا جاتا لیکن افسوس 1980 کی پوری دہائی سرکاری قتل عام کا شکار ہوتی رہی لیکن ضلعی عدالتوں سے لیکر عدالت عالیہ تک خاموشی طاری رہی،اگر مرادآباد کے 13 اگست 1980 اور اس کے بعد ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے ذمہ دار مسلمان تھے تو کیا جرم ثابت کرنے کے لیے عدالتی نظام موجود نہیں تھا؟ کیا ایک ایسی واردات  جس میں تقریبا پچیس سو سے زائد شہریوں کی جان گئی تھیں اس واردات کے متاثرین کو آزاد جمہوری ملک کی خودمختار عدالتیں چار دہائیوں سے زائد عرصے میں بھی انصاف کو یقینی بنانے کی ہمت و حیثیت نہیں رکھتی ہیں؟ دستور ہند نے تمام شہریوں کو بغیر کسی تعصبو تفریق کے انصاف دینے کا وعدہ کیا تھا، ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ بنیادی شہری حقوق کی شکل میں دستیاب کئے گئے تھے، عدالت عالیہ کو ان حقوق کا پاسبان و نگران مقرر کیا تھا لیکن افسوس عدلیہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں ناکام ہوتی جارہی ہے، عدلیہ تو آج بھی جسٹس ایم پی سکسینہ کمیشن کی رپورٹ کو طلب کرکے ان ہزاروں متاثرین کے قاتلوں کو بے نقاب کرسکتی ہے، سلامتی دستوں کی جواب دہی طے کرسکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔