موت کی قیمت آپ کیا جانو کمشنر صاحب!

ابھیشیک شرما

ممبئی کے کملا  مل سے جو لاشیں اٹھی ہیں، انہیں دیکھ کر آپ سہم جائیں گے. ہو سکتا ہے ممبئی کے بی ایم سی کمشنر بھی سہم گئے ہوں یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے لیے صرف نمبر معنوں رکھتے ہوں یا پھر یہ کہ کون مرا ہے. ادنیٰ ہو یا اعلیٰ، نوجوان کی میت اٹھانا شاید دنیا میں درد کا پہاڑ اٹھانے جیسا ہے. موت کملا مل میں ہوئی ہو یا کرلا میں، درد اتنا ہی تھا کمشنر صاحب. ہمیں دونوں حادثوں کے درد کا احساس ہے، لیکن شاید آپ میڈیا میں بڑی ہوتی هیڈلان کے مطابق ڈیوٹی بجاتے ہیں. ورنہ کیا وجہ ہوئی کہ اسی مہینے کسی ایک پھرسا کی دکان خاک ہونے پر آپ نے مستعدی نہیں دکھائی. وہاں بھی لوگ جھلس کر ہلاک ہوئے تھے.

ہمیں پتہ ہے آپ بہت کچھ تبدیل نہیں کر سکتے لیکن ماتمی لباس میں جو بچی کھچی آس ہوتی ہے وہ آپ جیسے نامور افسر ہی جگاتے ہیں، لیکن ہمیں پتہ ہے آپ مصروف تھے. وقت نہیں نکال پائے. ہم کوئی موازنہ نہیں کر رہے، کرتے تو سوال نہیں اٹھاتے. سوال تو اب اس لئے اٹھ رہا ہے کیونکہ گزشتہ آگ اسکینڈل میں آپ نے کتنے بی ایم سی افسروں کو کنارے کیا؟ بعض کو بولا کہ بس کرو، آگ اور موت سے مت کھیلو.

یہ سوال اس لئے اٹھا رہا ہوں کیونکہ آپ تب بولے ہوتے تو شاید 14 جوانوں کی میتوں کو کوئی باپ کندھے نہیں دے رہا ہوتا. ہمیں پورا یقین ہے کہ جب ہم کسی پھرسا یا نمکین کی دکان حادثے کو کسی آلی شان بار میں لگی  آگ سے تولیں گے تو آپ  سوال کھڑے کرنے والوں کو جھولاجھاپ قرار دے دیں گے. ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ جو ذمہ داری آپ سے شروع ہوکر وارڈ آفیسر تک درست ہونی چاہیے، اس پر بھی کچھ نہیں ہوگا.

ممبئی میں بی ایم سی کمشنر کوئی منہ بولا ہی رہ سکتا ہے یہ پورے ملک کو معلوم ہے. آپ کو آپ کی دہلی تک کی پکڑ مبارک ہو، بس ہمیں بخش دیجئے. شہر میں ایسے حالات نہ پیدا یہ کہ فٹ پاتھ پر بچے چلیں تو دل کی دھڑکنیں بڑھ جائیں، اسٹیشن پر اتریں تو سلامتی کی دی دعا کریں اور بدقسمتی سے  تفریح کا سوچ لیں تو بار بار اس آگ سے پھیلی گھٹن سامنے تیر جائے. کمشنر صاحب، کچھ کریے اس کے پہلے کہ یہ قصہ سر عام ہو جائے کہ آپ کسی کی موت کا دکھ اس کی تنخواہ دیکھ کر مناتے ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

تبصرے بند ہیں۔