مولانا عمر گوتم کے بعد اب مولانا کلیم صدیقی کی  گرفتاری

ڈاکٹر سلیم خان

عالی شہرت یافتہ داعیٔ اسلام مولانا کلیم صدیقی کو میرٹھ سے اپنے آبائی وطن کو جاتے ہوئے تفتیشی ایجنسیوں نے حراست میں لے کر لکھنو پہنچا دیا۔ موصوف  لساڈی گیٹ حمایوں نگر کی ماشاء اللہ مسجد کے ایک اجتماع  میں شرکت کے بعد  اپنے گاؤں پھلت لوٹ  رہے تھے۔ مولانا کے ساتھ دیگر چار علماء اور ڈرائیور کو بھی  مشکوک  سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بے بنیاد الزام لگا کر  پوچھ گچھ کے لیے نہایت بزدلانہ انداز میں  نا معلوم مقام پر لے جایا گیا ہے۔ اتر پردیش کے یوگی راج میں اس طرح کی دھاندلی ایک عام بات ہوگئی ہے۔  الیکشن جیسے جیسے قریب آرہے ہیں اور مغربی اترپردیش میں جہاں کسان تحریک کی بدولت  بی جے پی کا کمل مرجھا گیا یہ  گرتی سیاسی ساکھ  کو سنبھالنے  کی ایک مذموم کوشش ہے ۔ اس کا مقصد  اکھاڑا پریشد کے سربراہ  مہنت نریندر گری کی خود کشی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بدنامی کی جانب توجہ ہٹانا بھی ہوسکتا ہے۔

مدرسہ جامعہ امام ولی اللہ کے ناظم اور مشہور عالم دین   مولانا کلیم صدیقی سے 18؍ اگست (2021) کو آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے چچا زاد بھائی  اننت بھاگوت نے پھلت گاوں میں  جاکر ملاقات کی اور انہیں اپنی تنظیم گلوبل اسٹریٹجک  پالیسی فاونڈیشن کے پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔  ۷ ؍ ستمبر کو یہ پروگرام ممبئی میں منعقد ہوا جس کا مرکزی موضوع سب سے پہلے ملک اور سب سے اوپر ملک (قوم) تھا ۔ اس میں خود  موہن بھاگوت بھی شریک  تھے اور کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے بھی شرکت کی۔  اس موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ نے مولانا کلیم صدیقی سے سماجی اور بین الاقوامی  امور پر گفت و شنید کی۔  مولانا  اور بھاگوت کے درمیان خاصی گرمجوشی نظر آئی ۔ دینک جاگرن کے مطابق   مولانا کلیم صدیقی نے یہ کہا کہ بھارت نے ہمیشہ دنیا کو محبت کرنا سکھایا ہے لہٰذہ محبت کے پیغامِ کو دنیا بھر میں پہنچانے کی ضرورت ہے۔  اس سے ملک میں نفرت اور تفریق و امتیاز کی کھائی کھودنے والوں کو بھی جواب ملے گا ۔

 مولانا کی سعیٔ جمیل  سے منافرت پھیلانے والوں کو تو شاید کوئی جواب نہیں ملا لیکن ان کا جواب قابلِ مذمت حراست کی صورت میں آگیا جو اب گرفتاری میں بدل گیا  ہے ۔ سر سنگھ چالک موہن بھاگوت  کو چاہیے  کہ  اب زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ کر کم از کم اس عالم دین کی خاطر  میدان آئیں جن کے ساتھ مل کر وہ کام کرنا چاہتے ہیں ورنہ ان کی ساری باتیں منافقت کے زمرے میں شمار کی جائیں گی۔   یہ معاملہ اگر مہاراشٹر یا کسی اور صوبے میں وقوع پذیر ہوجاتا تو ممکن ہے موہن بھاگوت کوئی کوشش کرتے لیکن اترپردیش کے  وزیر اعلیٰ کو اپنی کرسی بچانے کا ایسا جنون سوار ہے کہ وہ کسی کی نہیں سنتے۔ ان کے آگے ملک کے وزیر  داخلہ  امیت شاہ کی بھی ایک نہیں چلتی ۔ سیاسی صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ انتخاب سے قبل یوگی پر ہاتھ ڈالنا بی جے پی کو انتخابی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس حقیقت کا وزیر اعلیٰ یوگی  ادیتیہ ناتھ بھر پور فائدہ  اٹھا رہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی ، آخر ایک نہ ایک دن چھری کے نیچے آئے گی ۔  آسام کے وزیر اعلیٰ سربانند سونوال کا معاملہ سامنے ہے جنھیں جیت کے بعد بھی ہٹا دیا گیا۔  ویسے  موجودہ سیاسی منظر نامہ میں یوگی کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے اسی لیے وہ اس قدر بے چین ہیں ۔

مولانا کلیم صدیقی نے پری میڈیکل ٹسٹ میں ۵۷ واں مقام حاصل کیا تھا لیکن انہوں نے طبی میدان کے بجائے دعوت و تبلیغ کی خاطر اپنی زندگی وقف کردی۔  فی الحال ملک اور بیرون ِ ملک ان کے لاکھوں مرید دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروفِ عمل ہیں۔   ملک کے اندر کسی بھی فرد کو حراست میں لینے سے قبل  مختلف قوانین و ضوابط کی تکمیل کی ضروری ہے۔ مولانا کو بغیر کسی اطلاع کے اچانک گرفتار کرلینا  نہ صرف  قانون کی حکمرانی کا مذاق بلکہ  انسانی حقوق کی سریح پامالی ہے۔  مولانا کی اس غیر قانونی  حراست  کے بعد قاری عفان قاسمی، مفتی خالد ، مولانا سراج الدین اور قاری انوار سمیت کئی علماء نے تھانے  میں تحریری شکایت درج کرائی۔   اس کے بعد ایک بڑا مجمع لساڑی گیٹ پولس تھانے کے پاس جمع ہوگیا اور انتظامیہ نے کشیدگی کو کم کرنے کی خاطر یقین دہانی کرائی کہ مولانا اور ان کے ساتھی محفوظ ہیں اور تفتیش کے بعد بخیر و عافیت لوٹ آئیں گے۔   شہر کے ایس پی ونیت بھٹناگر نے ٹویٹ کرکے یہ یقین دہانی تو کرادی لیکن جن لوگوں نے یہ غیر قانونی حرکت کی ہے انہیں اس کی قرار واقعی  سزا ملنی چاہیے ورنہ وہ  اپنے سیاسی  آقاوں کے اشارے پر ایسی مذموم سازش  کرتے رہیں گے۔

میرٹھ کے ایس پی نے تو  معاملے کو رفع دفع کرنے کی خاطر  ایک گمراہ کن بیان دے دیا مگر اگلے دن   لکھنو میں اے ڈی  جی لاء اینڈ آرڈر (نظم و نسق کے اصل ذمہ دار) پرشانت کمار  نے بتایا کہ مولانا کلیم صدیقی کے خلاف غیر قانونی طریقے  پر مذہب  تبدیل کروانے کے شواہد ملے ہیں ۔ یہ  ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر و بیشتر  انتظامیہ  کو جس گواہی  پر بہت اعتماد ہوتا ہے عدلیہ ان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتی ہے۔ دہلی فسادات کی تفتیش پر دہلی  ہائی کورٹ کے تبصرے اور فیصلے اس پر شاہد ہیں۔  اترپردیش پولس کا دعویٰ ہے کہ مولانا  عمر سے ملنے والی  معلومات  کے مطابق  مولانا کلیم صدیقی سب سے بڑا تبدیلیٔ مذہب کا سنڈیکیٹ چلاتے  ہیں۔ ۔ مولانا پر غیر مسلمین کو گمراہ کرنے ، ڈر دکھا کر تبدیلیٔ مذہب کرانے اور انہیں دعوتی کام کے لیے تیار کرنے کے  بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ اس طرح گویا دونوں کو باہم جوڑ دیا گیا ہے۔   پولس اگر کسی پھنسانے پر آتی ہے تو الزامات کی جھڑی لگا دیتی ہے اس تناظر میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ  اس مقصد کی خاطر بیرون ملک بہت بڑا سرمایہ آرہا ہے اور اس غیر قانونی سرمائے کو  بڑے پیمانے پر تیزی کے ساتھ مذہب کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اس گرفتاری پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دہلی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے درست کہا کہ :’’ معروف عالمِ دین مولانا کلیم صدیقی کو یوپی الیکشن سے پہلے گرفتار کیا گیا۔ مسلمانوں پر مظالم بڑھتے جارہے ہیں۔ اس مسئلہ پر سیکولر جماعتوں کی خاموشی بی جے پی کو مضبوط کررہی ہے۔ بی جے پی انتخاب جیتنے کے لیے کتنا گرے گی ؟  حقیقت تو یہ ہے اگر انسان گرنے پر آجائے تو وہ اسفل السافلین کے درجہ پر پہنچ جاتا ہے اور اس  کے تنزل  کی کوئی انتہا نہیں ہوتی ۔   حکومت کے پاس قانون اور انتظامیہ کی طاقت ہے اس کو بالائے طاق رکھ کر مولانا کلیم صدیقی صاحب جیسے لوگوں کو رات کے اندھیر میں  اغوا کرلینا کسی مہذب سر کار کو زیب نہیں دیتا لیکن موجودہ  اتر پردیش حکومت کا تہذیب و اخلاق سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔   ان سے قانون و ضابطے کا پاس و لحاظ کی توقع  خام خیالی ہے۔ اس کے لیے عوام کو میدان ِ عمل میں  آکر اپنا احتجاج درج کرانا پڑے گا تاکہ اصحابِ اقتدار کی عقل ٹھکانے آئے۔  یہ ایک حقیقت ہے ظلم و ستم کو اس کائنات میں دوام حاصل نہیں ہوتا ۔ ایسے فیض کا یہ مشہور شعر مہمیز کا کام کرتا ہے اور امید دلاتا ہے کہ بہت جلد مولانا عمر گوتم اور مولانا کلیم صدیقی رہا ہوجائیں گے اور ہمارے ساتھ ہوں گےکیونکہ مومن اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتا ؎

دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

 لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


2 تبصرے
  1. ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻮﮨﺎﺏ کہتے ہیں

    ﮨﻢ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺍﻣﻴﺪ
    ﺟﻮ ﻧﮩﻴﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﻭﻓﺎ ﮐﻴﺎ ﮨﮯ

  2. ฝาก30รับ100 کہتے ہیں

    Forget the rides, add to a seashore, a lazy river and throw in the unbelievable
    views of the stunning Burj Al Arab and you’ve got the proper combination of a perfect splashy
    good time. Wild Wadi waterpark is a state-of-the-artwork waterpark completely
    situated in the shadow of the elegant, sail shaped Burj
    Al Arab hotel. Rockets you swiftly 15 metres above the bottom stage from both White Water Wadi or Flood River Flyer.

    Finally but not least you may step out of the water to join the excited crowd
    having fun with the Wadi Wash which is a choreographed sound, mild and water near the park’s entrance.
    Corresponding to couple-leading container, cable, rc, Bank Users master card (shell out
    for bankcard), practical sd card (decryption visa
    card), adapter (statistic – imperial), merchandise well
    known operated manually, directions handheld Telly options,
    digital camera, then it the numerous individuals and their households totally geared up to not use property damage due to sufficient all-essential merchandise,
    triggered common system. Note, majority of the
    rides are interconnected therefore you don’t need to be involved leaping out of water and going to line up for one more ride/slide/attraction. It’s continuously creating flash floods all through the day with
    upto 60,000 tons (53,571) of water goes crashing down a cliff as lightning flashes and thunder strikes in the 7 minute display.

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا