مگر کشمیر کا درد کیسے مٹے گا جیٹلی جی!

ہری موہن مشرا

جب حالات قابو میں نہ آئیں تو سارا قصور بیرونی طاقتوں پر پرڈال دینا انتہائی پرانا نسخہ ہے. سو، مودی حکومت کی کشتی کے سب سے زیادہ چست ناخدا مانے جانے والے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ایک قدم آگے بڑھ کر کشمیر وادی میں پتھر بازی کو پاکستان کا نیا اوزار بتا دیا. رام جانیں ان کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کہ وہ یہیں نہیں رکے، یہ بھی کہہ گئے کہ ” وہ (پتھرباز) ستياگرہی نہیں، حملہ آور ہیں. ” حالانکہ ابھی تک ان کے ساتھی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور وزیر اعظم نریندر مودی وادی کے لڑکوں سے یہی اپیل کر رہے تھے کہ ان کے ہاتھوں میں پتھر نہیں، کتابیں اور لیپ ٹاپ ہونے چاہئیں.

یہ کوئی چھپی بات نہیں ہے کہ وادی کے واقعات میں پاکستان کا ہاتھ ہو سکتا ہے. حکومت پاکستان اور اس کے جہادی ٹٹو تو اس کا کھل کر اظہار بھی کر رہے ہیں. لیکن ہمیں کیا صرف پاکستان پر الزام پرڈال کر وادی کو ایسے ہی دہكنے دینا چاہئے؟ وہاں اموات اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچتی جا رہی ہے. تقریبا ڈیڑھ ماہ سے کرفیو لگا ہوا ہے.

ایسا لگتا ہے کہ 90 کی دہائی پھر اتر آئی ہے. تقریبا ڈیڑھ دہائیوں سے سیاسی اور انتخابی عمل سے جو ماحول بنا تھا، وہ کہیں کھو گیا. اسی عمل کا نتیجہ تھا کہ گزشتہ انتخابات میں وادی میں بی جے پی حامی کچھ دھڑوں کے لوگ بھی انتخابات جیت گئے تھے. تو، کیا ہمیں یہ فکر نہیں کرنی چاہئے کہ ایسا کیا ہے کہ ہم بار بار کشمیر کے لوگوں کو پاکستان کے ہاتھ میں کھیلنے کے لیے چھوڑ دے رہے ہیں؟

شاید اسی احساس کے ساتھ پارلیمنٹ اور بعد میں کل جماعتی اجلاس میں کشمیر پر ہر فکر کے لوگوں سے بات کرنے اور کم سے کم کچھ نرم مطالبات پر قدم بڑھانے کی بات سامنے آئی تھی. مثلا، مسلح افواج اور پولیس کو چھروں کے استعمال پر روک لگانے کی بات تو حکومت نے بھی مان لی تھی. لیکن شاید وہ اپنے سیکورٹی حکام کو اس کے لئے نہیں منا سکی. تبھی تو سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے حال ہی میں کہا کہ چھروں کا استعمال نہ کریں تو اموات اور زیادہ ہوں گی. ایسا لگتا ہے جیسے سلامتی نظام میں بیٹھے افسر منتخب نمائندوں کے بس میں نہیں ہیں یا پھر حکومت بولتی کچھ اور ہے اور کرتی کچھ اور. حکومت پارلیمنٹ اور کل جماعتی اجلاس میں اپنے وعدے کے برعکس مسلسل سخت پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں.

شاید اسی پالیسی کی توسیع ہے بلوچستان اور پی او کے معاملات اٹھانا. حالاں کہ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بلوچستان کے معاملے میں ہندوستان کے بولنے کے حق کو جائز بتایا تو ہندوستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کے نيتاؤں کو کہیں سے حمایت ملتی نظر آئی. ورنہ ہر کوئی یہی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ 2012 میں مصر کے شرم الشیخ میں بلوچستان کا ذکر کرکے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کچھ پھنس سے گئے تھے تو موجودہ وزیر اعظم کے بلوچستان اور گلگت بالٹيستان کی مزاحمتوں کی بات کرنے کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟

خارجہ اور دفاعی پالیسی کے خود ساختہ پنڈت تو وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم آزادی پر لال قلعہ کی فصیل سے خطاب میں بلوچستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی اوکے) کی بحث سے نہ جانے کیا کیا قیاس لگا چکے ہیں. کچھ تو یہاں تک اشارہ کر رہے ہیں کہ مودی حکومت پی او کے ہی نہیں، بلوچستان کو بھی پاکستان سے آزاد کرانے کے لئے بنگلہ دیش جیسی دوسری مہم چھیڑنے کی سوچ رہی ہے. تاہم شرطیہ طور پر شاید اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے پاکستان پالیسی کے تیور بدل دیئے ہیں اور تصادم کے نئے محاذ کھولنے کے لیے تیار لگتی ہے.

اس کے معنی گھریلو سیاست کا دباؤ کم کرنا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ مودی حکومت اب بھی تقریبا ہر محاذ پر پھنسی ہوئی ہے. نہ مہنگائی قابو میں آ رہی ہے اور نہ صنعتی پیداوار میں کوئی رفتار دکھائی دے رہی ہے. برآمد سرد ہے اور ملک میں روزگار کی حالت خستہ ہے. ایسے میں اسے ہر سال انتخابی میدانوں میں بھی اترنا ہے. اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، گوا، ہماچل پردیش اور گجرات میں اہم انتخابات ہونے ہیں. تقریبا ان تمام ریاستوں، یہاں تک کہ گجرات میں بھی بی جے پی کے پاؤں ڈگمگ ہیں. ایسے میں کوئی قومی جذبہ ہی لوگوں کی توجہ ان چیزوں سے ہٹا سکتا ہے. بے شک، اس کے لئے سب سے مشتعل کشمیر میں حزب المجاہدین کے برہان وانی کی موت اور اس کے بعد پیدا ہوئے حالات پر پاکستان کا بے حساب ردعمل تھا.

اس لیے کشمیر پر پاکستانی پارلیمنٹ، وزیر اعظم نواز شریف، فوجی حکمران راحيل شریف اور جہادی تنظیموں کے تیوروں سے مودی حکومت کو پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کا موقع مہیا ہو گیا. تبدیلی کا پہلا اشارہ جموں و کشمیر پر کل جماعتی اجلاس میں ملا. وہاں وزیر اعظم بلوچستان اور پی او کے میں حقوق انسانی کی انارکی حالات کے بارے میں بولے اور اعلان کیا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں لوگوں پر پاکستانی مظالم کو بین الاقوامی برادری کے آگے اٹھائے گا. بلوچستان اور پی او کے کے ذکر بھر سے ہوا بدل گئی.

اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی سارک ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں اسلام آباد نہیں جا رہے ہیں. یوم آزادی پر وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ انہیں بلوچستان اور پی اوکے معاملے بین الاقوامی برادری کے آگے اٹھانے کے لئے بلوچ اور پی او کے کے لوگوں نے شکریہ کا پیغام بھیجا ہے. ایک یا دو دن بعد پاکستان کے خارجہ سیکرٹری کی کشمیر کے مسئلے پر بحث کے لئے ہندوستانی خارجہ سیکرٹری کو اسلام آباد بلاوے کے لئے لکھا گیا چالاکی بھرے خط کے جواب میں ہندوستان نے کہا کہ ہندوستانی خارجہ سیکرٹری اسلام آباد جانے کو تیار ہیں لیکن بحث صرف پاکستان کی شہ سے جاری دہشت گردی اور کشمیر میں پاکستان کے غیر قانونی قبضے کو خالی کرانے پر ہی ہو سکتی ہے. بعد میں خارجہ سیکرٹری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سارک میں پاکستان ہی اکلوتا اڑنگا لگانے والا ملک ہے. اس کا ایک اشارہ یہ ہے کہ نومبر میں سارک کانفرنس کے لئے وزیر اعظم اسلام آباد شاید نہ جائیں اور شاید پاکستان کو باہر کرکے سارک کی ازسرنو تشکیل کی کوشش ہو سکتی ہے.

لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ہندوستان صرف کبھی کبھار بلوچستان کا مسئلہ اٹھائے گا؟ ایسا تو پہلے بھی ہوتا رہا ہے. یا ہندوستان بلوچ کارکنوں کو سیاسی، سفارتی اور اقتصادی مدد بھی مہیا کرائے گا اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ان کا تعاون کرے گا؟ ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ بلوچستان ہندوستان سے کافی دور ہے اور ایران اور افغانستان بلوچ لوگوں کو اپنے یہاں پناہ دینے والے نہیں ہیں (سب کے بعد ایران والے حصے میں بھی بلوچ لوگ آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور افغانستان تو اپنے ہی جھمیلوں میں الجھا ہے. وہاں بلوچ لوگوں کو حمایت دینے سے پاکستان کے زیر سایہ دہشت گردوں کی آمد بڑھ سکتی ہے). تو، ہندوستان بلوچستان کی جدوجہد میں کس طرح مدد کرے گا؟ بنگلہ دیش والا زمانہ نہیں رہ گیا. اب دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار ہیں. سو، بنگلہ دیش جیسی مہم ناقابل تصور ہے.

جہاں تک پی اوکے کا سوال ہے تو وہاں پاکستان کے خلاف لوگ کسی ایک تحریک میں متحد نہیں ہیں. ایسی تحریک کھڑی کرنے کے لئے کافی کچھ کرنا ہوگا. ورنہ پاکستان انہیں کچل دے گا. بلوچستان میں بھی یہی ہوگا. تو ان دونوں علاقوں میں ہندوستان ان کی کس طرح مدد کرے گا؟ اس کے علاوہ پاکستان کے ان حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے معاملات کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھانے میں بھی کافی مشکلیں ہیں.

حالاں کہ کانگریس نے بلوچستان اور پی اوکے معاملے اٹھانے کو صحیح ٹھہرا کر مودی کی راہ کچھ آسان کی ہے. لیکن اس نے تصادم کو زیادہ بڑھانے کے خطرات کے تئیں بھی آگاہ کیا ہے. سی پی ایم کے سیتارام یچوری کو شک ہے کہ اس سے کشمیر کے مسئلے کا حل مشکل ہو جائے گا. خیر اس کے نتائج تو آنے والے وقت میں ہی دکھیں گے.

تبصرے بند ہیں۔