نتن کے من کی بات: ہزاروں خواہشیں  ایسی….

ڈاکٹر سلیم خان

عصر حاضر کے سیاستداں بالعموم   دن رات ’جھوٹ بولتے ہیں اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں بولتے، لیکن ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔  عام آدمی  کو جیسےمجبوراً کبھی کبھار جھوٹ بولنا پڑ جاتا ہے اسی طرح سیا  ست داں بھی بھول چوک سے  سچ بولنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مرکزی  وزیر ِ مواصلات  نتن  گڈکری کومودی اور شاہ ناراضی کے ڈر سے بی جے پی وزیر اعلیٰ کسی سرکاری تقریب میں نہیں بلاتےکہ کہیں  ان کا پتاّ نہ کاٹ دیا جائے۔ کانگریسیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مودی اور شاہ کو نہیں بلاتے اس لیے بغض معاویہ میں نتن گڈکری کی قسمت کھل جاتی ہے۔ اسی طرح کی   صورتحال ابھی حال میں  راجستھان  کے اندر پیش آئی اور انہیں قانون ساز اسمبلی کے زیر اہتمام ایکتقریب  میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ اس موقع کا فائدہ اٹھا کرنتن  نے نہ صرف اپنے من کی بات کھول کر سب کے سامنے رکھ دی بلکہ اپنے جیسے دوسرے  سیاسی دکھیاروں کا غم بھی کھل کر بیان کردیا۔

سب سے پہلے تو  نتن گڈکری نے  سیاست کا بنیادی مقصد  بیان کرتے ہوئے بڑے معرکے کی بات کہی۔ وہ بولے’’ سیاست  کی غرض و غایت عام لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے ‘‘،  تبدیلی مثبت اور منفی دونوں  ہوتی ہے اور فی الحال سیاستداں عوام کو اپنی خرابیوں کے مطابق ڈھال رہے ہیں۔ عوام  نادانستہ ایک ہمہ گیر بگاڑ کا شکار ہورہے ہیں۔ بدقسمتی سےان کی زندگی میں سیاست کے سبب مثبت کے بجائے منفی تبدیلی  واقع ہورہی ہے جو  اس  کا مقصد  نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو خیر مقصدِ حقیقی کی بات لیکن فی زمانہ  اس  کا جو مجازی مقصد ہے اس کی بابت نتن گڈکری نے بتایا کہ ’’  آج کل اسے صرف اقتدار پر قبضہ کرنے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے‘‘۔ اس کے لیے بھی خود سیاستداں ذمہ دار ہیں کیونکہ  مودی  یگ میں ساری سیاسی کشمکش انتخاب کے ارد گرد گھومتی ہے اس لیے  اگرعوام سیاست کو اقتدار کے جوڑ توڑ کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں ؟اس بدیہی حقیقت کا انکار ناممکن ہے۔

نتن  گڈکری کے مطابق ’’ جمہوریت کا بنیادی ہدف معاشرے کے آخری فرد کو فائدہ پہنچانا ہے‘‘ لیکن یہ صرف کتابوں اور تقریروں  کی حد تک ہے۔ عمل کی دنیا کا اس واحد مقصد اپنا ذاتی مفاد بن گیا  ہے۔ گڈکری نے اپنے خطاب میں سیاسی دنیا کے اندر کی کیفیت اس طرح بیان کی کہ ’’ آج کل ہر ایک کوئی پریشانی ہے، ہر کوئی دکھی ہے‘‘۔ یہ عجیب و غریب انکشاف ہے کیونکہ عام لوگوں  کے نزدیک تو ساری پریشانیوں کو دور کرنے کا اور دکھ درد سے نجات کا سب سے سہل راستہ سیاسی کامیابی ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے نتن گڈکری نے  بتایا کہ آج کے : ’’ایم ایل اے دکھی ہیں کیونکہ وہ وزیر نہیں بن سکے‘‘۔ دراصل یہ پرانی بات ہے فی الحال سیاسی کارکن کا پہلا دکھ تو یہ ہوتا ہے کہ اسے ٹکٹ نہیں مل سکا۔ جن کو مختلف پارٹیوں کا ٹکٹ مل جاتا ان میں ایک کے سوا سبھی انتخاب ہار جاتے ہیں اس لیے ناراض لوگوں کا دوسرا گروہ ان ناکام امیدواروں کا ہوتا۔ اس کے بعد کامیاب ہونے والے سارے امیدوار برسرِ اقتدار جماعت میں نہیں ہوتے اس لیے جو حزب اختلاف میں ہوتے ہیں ان کو یہ غم ستاتا ہے کہ کوئی ان زر خرید غلاموں  کو برسرِ اقتدار جماعت میں شامل کیوں نہیں کرلیتا   ؟ اس کے بعد ان لوگوں کی باری آتی ہے جو حزب اقتدار میں ہونے کے باوجود وزارت سے محروم ہوتے ہیں۔

نتن گڈکری کے مطابق :’’وزیر اس لیے  دکھی ہے کیونکہ انہیں من پسند قلمدان نہیں ملا ‘‘۔ یہ نہایت فطری بات ہے کیونکہ ہر وزارت کی اہمیت یکساں نہیں ہوتی۔ کسی میں ٹھاٹ باٹ زیادہ تو کسی میں کم ہوتی ہے۔ کہیں روپیہ کمانے کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کہیں پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملتی اس لیے ہر وزیر خوش نہیں ہوتا۔ انہوں  نے آگے بڑھ کر ایسے  لوگوں کا بھی ذکر فرمایا کہ  جنہیں اپنا  من پسند قلمدان مل گیا۔ ان کے بارے میں کہا  کہ  وہ بیچارے :’’ اس لیے دکھی ہیں کہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکے‘‘۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ  ایک صوبے میں دو یا تین نائب وزرائے اعلیٰ تو ہوسکتے ہیں مگر وزیر اعلیٰ صرف  اور صرف  ایک ہی ہوتا ہے۔ اس لیے ہر وزیر چاہتا ہے کہ اس کے  وزیر اعلیٰ کو ہٹا کر اسے وزیر اعلیٰ کی کرسی  سونپ دی  جائے۔ بی جے پی کے اندر جاری  اٹھا پٹخ نے بہت سارے لوگوں کو پرامید کردیا ہے۔

نتن گڈکری  اس جدو جہد میں شامل کامیاب ہوکر وزیر اعلیٰ بن جانے والوں  کے بارے میں بتاتے ہیں  کہ جو وہ بھی خوش نہیں ہیں بلکہ  :’’ وہ اس لیے دکھی ہیں، کہ (نہ جانے  کب بلاوا آجائے اور اس کے بعد وہ  ) رہیں یا نہ رہیں؟ ،  کب کون چلا  جائے،  اس کا بھروسہ نہیں ہے‘‘۔ نتن گڈکری کا یہ بیان نصف سچائی ہے۔ ملک میں فی الحال تین طرح کے وزرائے اعلیٰ ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد علاقائی رہنماوں کی ہے مثلاً اسٹالن،  کے سی آر،  ممتا،  ادھو اور کیجریوال وغیرہ۔  یہ  لوگ خود اپنے ہائی کمان ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے اندر اپنی مخالفت کو پوری طرح کچل رکھا ہے اس لیے اگر ان کی پارٹی اگر اقتدار میں ہو تو ان کی کرسی کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ دوسرے کانگریسی وزرائے اعلیٰ  وہ دوہرے خطرے میں رہتے ہیں۔ پارٹی کے اندر بغاوت ہوتی ہے جیسے کیپٹن  ارمیندر یا بھوپندر بگھیل کے خلاف  پنجاب اور چھتیس گڑھ  میں ہوئی اور ختم ہوگئی۔ بی جے پی سے خطرہ جیسے  ایم پی اور راجستھان میں ہوا۔ ایک جگہ کامیابی ملی دوسری  جگہ ناکامی  ہوئی لیکن ان کی اپنی پارٹی انہیںپریشان نہیں کرتی۔ اصل مسئلہ  بی جے پی والوں کا ہے جو اپنے ہی وزرائے اعلیٰ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔اس لیے وزرائے اعلیٰ کو لاحق خطرات  سے متعلق نتن گڈکری کی بات صرف ان کی پارٹی پر صادق آتی ہے۔

بی جے پی اعلیٰ کمان کی اس اٹھا پٹخ سے اس کے وزرائے اعلیٰ کا دماغی توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کاتازہ ثبوت استعفیٰ کے بعد گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی کا آج تک چینل کو دیا جانے والا بیان  ہے۔ اس  میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’میں پہلے بھی سی ایم تھا، آج بھی سی ایم ہوں اور آگے بھی سی ایم رہوں گا۔‘‘ اس جملے کو سننے کے بعد بے ساختہ ۱۹۶۱ کی فلم جب پیار کسی سے ہوتا ہے کا یہ نغمہ یاد آگیا ’’سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ صدیوں سے میر ا دل تیرا طلبگار تھا،  آج بھی ہے  اور کل بھی رہے گا‘‘۔ اس فلم کو سیاسی تناظر میں پھر سے بنایا جائے ترمیم کرکے نام ’جب پیار کرسی سے ہوتا ہے‘ کرنا پڑے گا۔  روپانی نے کہنے  کو تو اپنے من کی بات کہہ دی لیکن انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو فوراً اس کی  وضاحت  اس طرح سے کی  کہ ’’سی ایم یعنی کامن مین‘‘۔ کامن مین کا مطلب عام آدمی ہوتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ عام آدمی پارٹی کا معمولی سے معمولی کارکن بھی سی ایم کا یہ مطلب نہیں سمجھتا جو روپانی نے بیان کیا۔  اس لیے کہ اگر سی ایم کا مطلب کامن مین ہوتا ہے تو پھر وہ حلف برداری کا تماشہ اور استعفیٰ دینے کا تکلف کیوں کیا جاتا ہے؟ کامن مین  یعنی عام آدمی تو اس ڈرامہ بازی سے بے نیاز ہوتا ہے۔

کرسی کے چھن جانے سے چونکہ  کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے اس لیے وہ ایسی باتیں کررہے ہیں ورنہ   اس سے زیادہ عقل تو ان کی بیٹی رادھیکا روپانی کو ہے جنھوں نے اپنی  ناراضی  جتاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا  سیاست میں سیدھا ہونا  کوئی جرم ہےَ؟ ان کے والد سب سے پہلے زلزلہ زدہ علاقہ میں گئے  تھے اور اکشر دھام مندر پر حملے کے بعد مودی سے پہلے پہنچے تھے۔ اگر یہ  بات سچ ہے تو شرمناک ہے کیونکہ   وہ مندر تو مودی کی رہائش کے بالکل سامنے تھا۔ رادھیکا   کو افسوس ہے کہ ان کے والد کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کیوں  ہٹا دیا گیا ؟سابق وزیر اعلیٰ وجئے روپانی نے  یہ بھی کہا کہ ’’اگر پارٹی مجھے بوتھ سطح، جو کہ بہت چھوٹی ذمہ داری ہے، وہ بھی دیتی ہے تو اسے بھی لینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘ یہ بات اگر سچ بھی ہوتو ان  باغی ارکان  اسمبلی  کے لیے قابلِ قبول نہیں ہے جن سے وزارت چھن گئی ہے۔ اب ان کا کامن  سینس ختم کرنے کی ذمہ داری روپانی کو سونپی  گئی ہےلیکن  پریشانی کی بنیادی وجہ وہی ہے جس کانتن گڈکری نے اپنے بیان میں  ذکر کیا ہے۔ نتن گڈکری نے یہ بھی کہا کہ جو ریاست میں کار آمد نہیں ہوتے انہیں دہلی بلا لیا جاتا ہےمثلاً امیت شاہ اور جو وہاں بھی مفید نہیں ہوتے ان کو گورنر بنا دیا جاتا ہےجیسے آنندی بین پٹیل   اور جن کو گورنر بھی نہیں بنایا جاسکتا انہیں سفیر بناکر باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ بعید  نہیں کہ وجئے رو پانی کو رنگون بھیج دیا جائے کیونکہ وہیں ان کی جنم بھومی ہے۔ خیر  ان دکھیاروں پر  غالب  کایہ شعر صادق آتا ہے؎

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

 بہت نکلے میری ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔