نوجوان فارغین مدارس کی عجیب حرکت۔

حالیہ دنوں میں فلمی دنیا کی مشہور اداکارہ ثناء خان نے فلمی دنیا کو خیر باد کہا ہے اور گزشتہ زندگی سے توبہ بھی کی ہے۔ ثناہ خان کے اس عمل سے مسلمانوں میں کافی خوشی دیکھنے ملی۔ اور سوشل میڈیا پر فرداً فرداً لاکھوں افراد نے مبارک باد پیش کی۔ انھوں نے تحریری اور ویڈیوں پیغام کے ذریعے اپنے تائب ہونے کی وجہ بھی بیان کی تھی کے انسان کی آخرت کی زندگی اصل زندگی ہے کیونکہ مرنے کے بعد نیک عمل  ہی کام آنے والے ہے۔
گزشتہ کل ثناء خان کے نکاح کے تعلق سے مختلف پیغامات اور خبریں چلائی جارہی ہے۔  خبروں کے مطابق کل بروز جمعہ گجرات کے انکلیشور کے عالم دین مولانا مفتی انس صاحب کے ساتھ ان کا نکاح ہو گیا، مشہور مبلغ اسلام مولانا احمد لاٹ صاحب دامت برکاتہم نے ان کا نکاح پڑھایا، مزید یہ کے اس نکاح میں مشہور داعی اسلام مولانا کلیم الدین صدیقی صاحب بھی موجود تھے۔ یہ ایک اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ ایک فلمی اداکارہ نے اپنے پیشن کو چھوڑ کر اتنا بڑا فیصلہ لیا اور پھر ایک عالم دین سے نکاح کیا اس عمل کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
 ہمارے معاشرے میں علماءکرام حفاظ کرام کے تعلق سے یہ رائے قائم کی جاتی ہے کہ یہ ایک شریف النفس انسان ہے اور انہیں ایک غریب گھر کی عالمہ فاضلہ سیدھی سادھی کم پڑھیں لکھی یا انپڑھ یا پھر صرف امور خانہ داری سے واقفیت رکھنے والی لڑکی سے نکاح کروادیا جائے۔ لیکن آج اسکے برخلاف ایک مشہور زمانہ فلمی دنیا سے تائب ہوکر اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے والی ثناء خان نے اپنی پسند ایک عالم دین کو بنایا اور نکاح کیا اس بات کو لے کر سوشل میڈیا پر مدارس کے نوجوان علمی دنیا کے چراغ دنیا کے دھارے کو موڑنے کی صلاحیت رکھنے والے نوجوان، اپنے علم و عمل سے دنیا کو اخلاق و کردار امن کی تعلیم دینے والے افراد، دنیائے انسانیت کو ظلم و جبر کے اندھیریوں سے نکال کر اسلام کے نور کی شمع سے روشناس کرانے والے  اپنے آپ کو کم تر ثابت کر رہے ہیں۔  سوشل میڈیا پر عجیب و غریب مسیج  پوسٹ کی جارہی ہے۔ کچھ نئے فارغین مدارس اور کالج میں تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اس میں شامل ہیں۔
ثناء خان کے نکاح پر اس قدر نوحہ کر رہے ہیں کہ جیسے اب ان مولوی حضرات سے کوئی لڑکی شادی نہیں کرینگی یا پھر خوبصورت اسٹیٹس مال و دولت والی لڑکیا دنیاسے ختم ہوچکی ہے۔ آپ نوجوان ہے آپکے جذبات کی قدر کرنا آپ کے والدین آپ کے رشتہ داروں کی ذمہ داری ہے لیکن سوشل میڈیا پر اسطرح کسی عالم دین کی منکوحہ کے تعلق سے بکواس کرنا بلکل بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ کو اچھی لڑکیا نہیں ملےگی مقدر کے مطابق اللہ تعالیٰ آپ کیلیے جو بہتر ہوگا اس سے آپ کو ضرور نوازیں گا۔  سوشل میڈیا پر فضول بکواس دیکھ کر میں یہ لکھنے کیلے مجبور ہوگیا کہ آخر ایسی فضول بے ہودگی اور بے حیا باتیں کرنے سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ کوئی لکھ رہا ہے کے کاش میں مفتی ہوتا، کوئی ثناء توبہ کرنے والی ہے کیا، اب کس کا نمبر ہے۔ میری قسمت کاش ایسی ہوتی عجیب و غریب کمینٹس کیے جارہے ہیں۔
ذرا غور کیجئے علماء اکرام اور حفاظ کرام کو معاشرہ کس نظریہ سے دیکھتا ہے آپ نائبین ممبر رسول ﷺ ہے آپ پر ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ آپ جس مجلس یا پروگرام میں اسٹیج پر بیٹھ  جاتے ہیں اس مجلس کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ اس پروگرام کو مجلس  کو زینت بخش دیتے ہیں۔ آپ کے ہاتھوں میں قوموں کی امامت ہے۔ آپ قوم کی نئی نسل کی تربیت کرنے والے ذمہ دران ہے۔ آپ کو دیکھ کر غیر مسلم افراد یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام پر چلنے والے سچے پکے مسلمان ہے۔ گلی میں کوئی بچہ اگر غلط کام کرتا ہے یہ کوئی نا مناسب کھیل کھیلتا ہے تو آپ کو دور سے دیکھ کر بھاگ جاتا ہے کہ محلہ کے امام صاحب آرہے ہیں۔ لیکن آپ اپنے ہاتھوں سے سوشل میڈیا فیس بک اور واٹس ایپ پر اپنی امیج خراب کر رہے ہیں۔ غور کیجیے اگر یہی حال سوشل میڈیا پر رہا تو چند افراد کی وجہ سے باقی تمام علماء اکرام اور حفاظ کرام بھی بدنام ہوگے اور انہیں بے وجہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا۔ پہلے ہی معاشرے میں سب سے ملامتی طبقہ مولوی کو سمجھا جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ آپ اس جانب توجہ دیجیے بے ہودہ باتوں سے چاہے وہ ہنسی و مزاق طنز و مزاح کی صورت میں کیوں نہ ہو اپنے آپ کو بچائیں۔ اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ حیا ایمان کی اہم شاخ ہے۔دوسری حدیث میں ہے کہ جس شخص میں حیا نہیں پھر وہ جو چاہے کریں۔  اس لیے اپنی ذمہ داری اور اپنے مقام مرتبہ کو دھیان میں رکھتے ہوئے اخلاق و کردار کا بہتر مظاہرہ کریں فضول بحث و مباحثہ سے بہتر ہے  کہ خاموشی اختیار کرلیجیے۔
1 تبصرہ
  1. اشرف علی کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ عرض ہے کہ مضامین ماشاءاللہ بہت اچھے آتے ہیں لیکن اگر مذہبی مضامین قرآن وحدیث کی روشنی میں لکھے جایٔیں تو امت کا زیادہ فایٔدہ ہو

تبصرے بند ہیں۔