وحشی بابا کا گھنونا آشرم

ندھی کلپتی

گندی ہو گئی … بے آبرو ہو گئی … ثئیبہ ہو گئی … معاشرے میں تو میرا کردار ہی خراب ہو گیا …. کون اپنايے گا مجھے…. تو گھٹ گھٹ کر سلاخوں کے پیچھے جانوروں کے سے حالات میں جی لیتے ہیں۔ یہ سوچ ہے ان لڑکیوں کی جو وحشی وریندر دیو دکشت کے متعدد روحانی یونیورسٹی میں اب بھی قید ہیں اس سے باہر نکلی پریرنا نے بتایا تو دہل گیا دل۔ ماں باپ ہی تو چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسے آشرموں میں اپنی چھوٹی بڑی بچیوں کو ۔ روحانی علم جہاں بچیوں کو ملے تو اس سے بڑی نیکی اور کیا ہو سکتی ہے. سماج میں خاندان کا نام بھی ہوگا۔ اچھا ہی تو ہے لڑکیوں کا بوجھ کچھ کم بھی ہو جائے گا۔  نہ پڑھانا پڑے گا، نہ کھانا کھلانا پڑے گا۔

جب پریرنا اور راشٹري ویمین کمیشن کی سشما ساہو سے ملاقات ہوئی تو ہمارے معاشرے میں وہ حقیقت سامنے آ کھڑی ہوئی، جو گاہے بگاہے سننے کو مل ہی جاتی ہیں ۔ میں جب پریرنا کے سامنے آفس میں پہنچی تو سکتے میں رہ گئی تھی ۔دو خواتین سے ملاقات کرنی تھی۔ ایک شکار بتائی گئی تھی ۔ لیکن میرے سامنے جو لڑکی بیٹھی تھی وہ تو کہیں سے بھی ناخوش، مایوس، شکار نہیں لگی۔ جینس کوٹ میں موجود، تازہ کے ساتھ نرم طریقے سے بات کرنے والی کیا اتنا کچھ برداشت چکی ہوگی۔ ڈبل ایم اے، ڈبل بی اے، بینک کے امتحان اور نوکری بھی۔ واقعی قابل تعریف لگی پریرنا۔ میں نے جب بات آگے بڑھائی۔ تو کہا کہ بوجھ تھی نا خاندان پر۔ سب سے بڑی تین بہنو میں ایک چھوٹا بھائی بھی ہے۔ آشرم سے باہر نکلنے پر، گھر سے بھی باہر کر دیا گیا۔ خود کو پالا بھی پڑھایا بھی۔ اب چھوٹے بھائی بہنوں کو بھی پڑھا رہی ہوں اور آشرم میں پھنسی بہن کو چھڑانے کی کوششوں میں بھی لگی ہوں۔

چھتیس گڑھ اور تلنگانہ سے آئی دو شكايتوں سے ڈھونگی بابا کا پردہ فاش ہوا۔ سالوں سے آشرم کے ارد گرد سے آئی شکایات پر کاروائی نہیں ہوتی تھی۔ جیل نما بلڈنگ میں کھڑکیاں تک ڈھكي ہوتی تھیں۔ چیخوں کی آوازیں آتیں پر کوئی سننے والے نہیں ہوتا۔ شکایات پر جب ویمین کمیشن نے ہمت کر ثبوت جٹايے تو وہ خود سہر گئی ۔ سشما ساہو نے بتایا کہ جب وہ پولیس کے ساتھ اندر پہنچیں تو بڑی مشکل سے اندر جا پائی تھی ۔ ان کے پاس تمام جگہوں سے فون آنے لگے۔دباؤ چہار جانب سے پڑنے لگا ۔ کہ مانو کوئی جرم کرنے جا رہی ہو۔

اندر پہنچنے پر چھوٹی چھوٹی بچیاں اور لڑکیاں بھی نشے کی حالت میں ملی ۔ لوہے کی موٹی سلاخوں کے پیچھے تعلیم اور روحانیت کے نام پر بابا کی نازیبا پروچن۔ ایک وقت کے کھانے میں نشے والی کھچڑی ملی اور رات میں دودھ بھی نشے والا ۔ پھر رات میں ويریندر دکشت وہ کرتوت کرتا جس کی وجہ سے اب قانون اس کے پیچھے پڑ گیا ہے ۔ کچھ لڑکیوں کو تو رات میں آشرم سے سخت سیکورٹی میں باہر بھیجا جاتا جو صبح ٹرکے تک واپس آجاتیں ۔ جسم فروشی سے کمائی کرکے ويریندر دکشت کو وقف کرتیں ۔ ڈھونگی بابا 10 روپے کے اسٹامپ پیپر پر پہلے سے لکھوا لیتا ہے کہ تن من دھن سے بابا کو وقف کیا ہے.

اس وحشی کے ارادے اتنے گھناؤنے کہ تمام بچیوں کی پیدائش سرٹیفکیٹ 18 سال ایک دن کی بنے ہوتے ہیں ۔ اس کا اپنا ہی فارمیٹ ہے۔ چاہے وہ 5 سال ہی کیوں نہ ہو ۔ بچیوں کو ایک دوسرے سے بات تک کی اجازت نہیں ہوتی ۔ ایک دوسرے کی مخبري کرتی ہے کیونکہ کسی پر بھروسہ ہی نہیں رہتا ۔ آشرم میں عمردراز خواتین بچیوں کو قابو میں رکھتیں۔ رات میں ہوس کا شکار بچیوں کی چیخ پکار شاید بہرے کانوں پر ہی پڑتی۔

پریرنا نے بتایا یہ ڈھونگی ۔ تھامس یا ڈیوڈ نام سے ملک بھر میں گھومتا ہے ۔ کئی ریاستوں اور گھروں میں اس کے آشرم ہیں ۔ ہم کب جانیں گے کہ مذہب کی آڑ میں، دیوتاوں کے نام پر ڈھونگی بھی گھوم سکتے ہیں ۔ ہائی کورٹ کی سختی کے بعد ہی اب پولیس ڈھونگی کو ڈھونڈ رہی ہے ۔ 4 جنوری تک کا وقت کورٹ نے دیا ہے ۔ لیکن اس ڈھونگی کی ہوس اور کرتوت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو بوجھ سمجھنا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ بچیوں کو پڑھانے سے خاندان اب بھی مخالف ہیں ۔ تعلیم میں ہم اب تک سیکس ایجو کیشن کے نام پر سكچاتے ہیں ۔ غلط رویے کی شکار بچیاں معاشرے کے خوف سے خود کو ہی مجرم ماننے لگتی ہیں ۔ آواز اٹھاتی ہیں تو کردار پر ہی سوال کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ان تراسدیوں کے درمیان گر حوصلے سے کوئی نکل آئے تو اسے پریرنا ہی کہیں گے ۔ امید ہے کہ جلد سے جلد ڈھونگیوں کو پکڑا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

تبصرے بند ہیں۔