ٹاڈا قانون اور انصاف کا انتظار

ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ٹاڈا کے ایک مقدمے میں راجستھان حکومت سے دو ہفتے کے اندر جواب طلب کرکے ٹاڈا قانون اور اس کے ابھی تک ختم نا ہونے والے غلط استعمال کی بحث کو ایک بار پھر نئی زندگی دے دی ہے، دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے 1985 میں ہماری پارلیمنٹ نے ٹاڈا قانون پاس کیا تھا جس کو 23 مئی 1985 میں صدرجمہوریہ کے دستخط کے بعد آفیشیل گزٹ آف انڈیا میں شائع کرکے قانون کا درجہ دیا گیا، ابتدا میں تو یہ قانون 2 سال کے لیے بنایا گیا تھا اور دو سال مکمل ہوتے ہی 23 مئی 1987 کو راجیو گاندھی مرکزی حکومت نے اسپیشل آرڈیننس کے ذریعے ٹاڈا قانون کو پھر سے نافذ کردیا جس پر 3 ستمبر 1987 کو صدر جمہوریہ نے دستخط کئے۔

ٹاڈا قانون کا بنیادی مقصد پنجاب میں زور پکڑتی علیحدگی پسند تحریک “خالصتان” کو قانون اور سرکاری طاقت کے ذریعے ختم کرنا، سب سے زیادہ پنجاب میں اس کا استعمال شروع ہوا لیکن جلد ہی مہاراشٹر و دیگر صوبوں میں بھی اس قانون کا استعمال بہت کثرت سے ہوا، بالآخر ٹاڈا قانون کی دستوری حیثیت کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں “کرتار سنگھ بنام اسٹیٹ آف پنجاب” کے مقدمے میں چیلنج کیا گیا، سپریم کورٹ نے ٹاڈا قانون کو تو ختم نہیں کیا لیکن تفتیشی و پولیس ایجنسیوں کے ذریعے اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے رہنما اصول تیار کئے، پولیس حراست میں لیے گئے اقبالیہ بیانات پر بھی روشنی ڈالی کہ یہ بیانات عین انصاف کے معیار پر ہونے ضروری ہیں، سب سے اہم اسکریننگ و ریویو کمیٹیوں کے بنانے پر زور دیا گیا تاکہ قانون کے غلط استعمال کو روکا جاسکے، لیکن آزاد ہندوستان کا یہ پہلا قانون تھا جس میں پولیس افسران کو لامتناہی اختیارات عطا کئے گئے تھے، جب کہ تمام ہی ماہرین قوانین نے پولیس کو کرمنل مقدمات میں ایک پارٹی تسلیم کیا ہے، پارٹی کے اپنے مفاد وابستہ ہوتے ہیں، لیکن ٹاڈا قانون کی دفعہ 15 میں پولیس کو دیے گئے بیان کو قانونی حیثیت دے دی گئی، نیز ریویو کمیٹی میں بھی پولیس افسران کو اختیارات دے دیے گئے۔

ٹاڈا قانون کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال کے اعداد و شمار اور متعدد کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں 1995 میں ٹاڈا قانون کو ختم کردیا گیا، لیکن جو مقدمات ٹاڈا کی دفعات کے تحت زیرالتوا تھے ان کو ختم نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ملک کی مختلف عدالتوں میں ٹاڈا کے تحت گرفتار ملزمین جیل میں اپنی زندگی گزارنے کے لیے مجبور ہیں، لیکن ٹاڈا قانون، تفتیشی ایجنسی اور ٹاڈا کی اسپیشل عدالتیں آج تک ان مقدمات کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہیں جو مقدمات 1995 سے پہلے درج کئے گئے تھے، لیکن جمہوری نظام میں عوام کے ٹیکس سے چلنے والے ادارے نا تو عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور نا ہی پارلیمنٹ کے سامنے کوئی احتساب۔

حالیہ معاملہ ٹاڈا قانون کی دفعات کے تحت اجمیر جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے حمیرالدین عرف حامد کا تھا، حمیرالدین کو2 دسمبر1993 کے دن ہونے والے سلسلہ وار ٹرین بم دھماکوں کے الزام میں 2 فروری 2010 کو ایس ٹی ایف و اترپردیش پولیس نے لکھنو سےگرفتار کیا تھا، سی بی آئی نےحمیرالدین کے خلاف 1994 میں ہی چارج شیٹ داخل کردی تھی لیکن گزشتہ 12 سال سے زائد عرصہ جیل میں گزرجانے کے بعد بھی راجستھان کی اسپیشل ٹاڈا عدالت حمیرالدین کے خلاف چارج فریم (الزامات عائد) کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ تقریبا آٹھ ہزار صفحات پر منحصر چارج شیٹ عدالت میں داخل ہوئی تھی جس میں ملزم حمیرالدین کے خلاف خاطر خواہ ثبوت موجود نا ہونے کی وجہ سے بھی اس کیس میں استغاثہ یعنی سی بی آئی مقدمہ کی سماعت کو ہر کوشش کے ذریعے موخر کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔

اس مقدمے میں سپریم کورٹ کے معروف وکیل فرخ رشید نے 27 مارچ 2019 کو سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرکے کہا تھا کہ اگر 12 سال سے زیادہ عرصہ اسپیشل ٹاڈا عدالت کو الزامات عائد کرنے میں لگے گا تو آخر 169 گواہوں کے بیانات مکمل ہونے میں کتنا عرصہ لگے گا، کیا ملزم کو صرف الزام کی بنیاد پر سالہا سال تک جیل کی کال کوٹھری میں قید کیا جانا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف نہیں ہے؟ سپریم کورٹ نے مقدمہ کے تیز رفتار سماعت کوسیپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے متعدد تاریخی فیصلوں میں بنیادی حق کا درجہ دیا ہے، تیز رفتار سماعت کے حق کو حالیہ برسوں میں بہت اہمیت دی گئی ہے تاہم اس کے باوجود ہماری عدالتوں میں مقدمات کی اس قدرسست رفتار حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے، اس پٹیشن پر جواب طلب کرنے میں بھی سپریم کورٹ کو دو سال کا عرصہ لگ گیا، تیز رفتار سماعت کوشہریوں کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے تاریخی فیصلے “حسین آرا بنام اسٹیٹ آف بہار” میں آج سے 40 سال پہلے 1980 میں کہا تھا کہ بلاتاخیر مقدمات کی سنوائی کو دستورہند  کے آرٹیکل 21 کا اہم ترین جزقرار دیا ہے جس کے مطابق جیل میں قید ہر ملزم کو یہ  بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ انسانی اقدار کے ساتھ زندگی گزارے اور انصاف کے متعدد مراحل میں اس کو کسی تاخیر یا ٹارچر کا شکار نا بنایا جائے، کسی بھی مقدمے میں انصاف کا دستوری اصول ہے کہ متاثر شخص کے ساتھ ساتھ ملزم کو بھی بلاتاخیر انصاف ملے، اگر ملزم سنوائی کے بغیر لمبے عرصے تک جیل میں قید رہتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں ناانصافی ہی تسلیم کی جائے گی کیونکہ جیل میں وہ بہت سے شہری  حقوق سے محروم کردیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 1994 میں  “کرتار سنگھ بنام اسٹیٹ آف پنجاب” کے فیصلے میں دوبارہ مزید تاکید سے کہا تھا کہ “تیزرفتار سماعت کا حق شہریوں کے دستوری حق برائے زندگی و آزادی کا بنیادی حصہ ہے، اس کے علاوہ 1988 میں بھی سپریم کورٹ نے اپنے ایک تاریخی فیصلے “عبدالرحمان انتولے بنام آر ایس نائک” کے مقدمے  میں اسپیڈی ٹرائل یعنی مقدمات کی تیز رفتار سماعت کو بنیادی حق تسلیم کرتے ہوئے رہنما اصول تیار کئے تھے۔

حمیرالدین کے مقدمے میں تفتیش ملک کی اہم جانچ ایجنسی سی بی آئی نے کی، عدالت بھی سی بی آئی کی اسپیشل عدالت ہے، اسی مقدمے میں 23 سال جیل میں رہنے کے بعد جلیس انصاری و دیگر کے مقدمے میں چار ملزمین کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے 11 مئی 2016 کو کوئی ثبوت موجود نا ہونے کی بنیاد پر بے گناہ قرار دیا تھا، ٹاڈا قانون کے تحت پولیس حراست میں پولیس کے ذریعے ملزم کا لیا گیا اقبالیہ بیان بھی  بیان دینے والے ملزم کے ساتھ ساتھ دوسرے ملزمین کے خلاف بھی ایک ٹھوس ثبوت تسلیم کیا جاتا ہے، یعنی پولیس کو ٹارچر کرکے ثبوت تیار کرنے کا لائسنس ٹاڈا قانون کے ذریعے فراہم کر دیا گیا تھا، ستم بالائے ستم اپنی بے گناہی بھی ملزم کو ہی ثابت کرنی ہوتی ہے اگر الزام بم دھماکوں یا ملک مخالف سرگرمیوں کا عائد ہوتا ہے۔ جلیس انصاری کے مقدمے میں گلبرگہ کرناٹک کے ظہیرالدین اور نثارالدین دو بھائی بھی دیگر ملزمین کے ساتھ 23 سال کے بعد ٹاڈا مقدمہ کے الزام سے باعزت بری ہوئے تھے، جس کے بعد ٹاڈا اور اس کے غلط استعمال پر کچھ بحثیں ہوئیں لیکن کسی بھی نتائج یا مقدمات میں کسی بھی اصلاحی یا احتسابی مہم کی کوشش کئے بغیر نئے موضوعات نے پرانی بحثوں کو خاموش کردیا۔

ٹاڈا قانون ہمارے دستور کے بنیادی اصولوں کے خلاف تھا، شہری و انسانی حقوق کی مکمل خلاف ورزی پر مشتمل تھا، اس قانون کا استعمال اقلیتی طبقات کے اوپر بغیر کسی ڈر و خوف کے ہوا، شک کی بنیاد پر پکڑے گئے افراد کے خلاف بھی جھوٹے بیانات تیار کرکے سالہاسال تک جیل میں بند رکھا گیا، ان تمام غیرقانونی استعمال اور حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے ٹاڈا قانون کو غیر قانونی قرار دیا گیا لیکن تمام غیرقانونی استعمال کے اقرار کے بعد بھی آج تک ٹاڈا میں غلط طریقے سے پھنسائے گئے معصوم انصاف کے انتظار میں کال کوٹھریوں میں دن رات گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا