آہ نزیر احمد میر پانپوری

سہیل بشیر کار

گزشتہ چند سالوں میں جن شخصیات نے امت مسلمہ پر مثبت اثرات ڈالے ہیں, ان میں اکثریت ان کی ہے جو کہ جدید تعلیمی اداروں سے فارغ ہوکر نکلے ہیں۔ ان افراد نے امت مسلمہ کی بہبود کے لیے بہت کام کیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی وادیٔ کشمیر کے پانپور علاقے سے تعلق رکھنے والے انجینئر نزیر احمد میر تھے۔ 21 فروری کی صبح کچھ دوستوں نے مسیج کیا کہ انجینئر نزیر احمد پانپوری کا انتقال ہوگیا۔ خبر سن کر کچھ دیر تک میں سکتہ میں رہا۔ دیر تک ان کا ہنس مکھ اور پروقار چہرہ نظروں کے سامنے گھومتا رہا۔ ان کا اندازِ بیان اور گفتگو کا سلیقہ سب ایک فلم کی طرح میرے دماغ میں گھومنے لگا۔  مجھے ان سے محبت تھی۔ وہ ملت اسلامیہ کے تئیں نہایت خیر خواہ تھے۔ انہوں نے پالٹکنیک کالج گوگجباغ سرینگر سے ڈپلومہ کیا تھا۔  بحیثیت انجینئر سرکاری ملازم ہوئے اور تاحیات امانت و دیانت سے سروس کر رہے تھے۔ انجنیئر صاحب کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑے عالم دین بھی تھے اور ساتھ ہی ایک مربی بھی۔ آپ وسیع المطالعہ تھے۔ راقم کا تعارف ان کے ساتھ ادارہ فلاح الدارین کے ذریعہ ہوا۔ کووڈ سے پہلے ہر سال سالانہ کانفرنس کے لیے ہم انہیں مدعو کرتے تھے، اور وہ ہمیشہ کہتے کہ: ’’میں آپ کو انکار نہیں کرسکتا۔‘‘

 فون پر اکثر ان کے ساتھ رابطہ رہتا۔ چند سال قبل ان کا فون آیا اور بولے کہ انہیں کینسر ہے اور اب سر کا آپریشن کرنا ہے، دعا کیجئے۔ مجھے یاد ہے ان دنوں جب وہ دلی میں زیر علاج تھے، میں کس قدر پریشان تھا۔ دن میں کئی بار مولانا کو فون کرتا لیکن ان کا اطمینان دیکھ کر رشک ہو جاتا۔ وہ اللہ کے فیصلے پر راضی تھے، الحمداللہ سرجری کامیاب رہی۔ ادھر کئی بار راقم نے سوچا کہ ان کے پاس حاضر ہوجاؤں، لیکن کووڈ کی وجہ سے ممکن نہ ہوا۔ مولانا بہت اچھے خطیب تھے۔ اہل سنت کے دیگر خطیبوں کے بجائے وہ ٹھہر ٹھہر کر پروقار طریقہ سے بات کرتے۔ ہر بات سلیقہ سے رکھتے۔ اچھے خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے رائٹر بھی تھے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ میں نے ان کی تقریر میں ہمیشہ اعتدال پایا۔ وسیع اور ہمہ گیر مطالعہ کی وجہ سے مولانا کی تقاریر میں اعتدال تھا۔ ساتھ ہی پیشے سے انجینئر مگر ایمانداری نے ان کی بات میں وزن پیدا کیا۔

نزیر صاحب شاہ ہمدان ٹرسٹ کے روح رواں تھے۔ اگرچہ انہوں نے کبھی کوئی پوسٹ لینا مناسب نہ سمجھا، اس کے باوجود اس ادارہ کو مضبوط بنانے میں نزیر صاحب کا اہم رول ہے۔ شاہ ہمدان ٹرسٹ کے تحت نہ صرف دعوت وتبلیغ کا کام ہوتا ہے بلکہ ایک  دارالعلوم اور ایک مروجہ تعلیمی اسکول دسویں کلاس تک بھی چل رہا ہے۔ ملت اسلامیہ کے یہ ادارے ہی اس ملت کا اساسہ ہیں۔ ان ہی کے ذریعہ امت مسلمہ کی تعمیر ممکن ہے۔ ٹرسٹ کے بارے میں معلوم ہوا کہ کس قدر کم وسائل ہونے کے باوجود اگر خلوص شامل ہو تو بڑے بڑے ادارے کیسے وجود میں آجاتے ہیں۔

 مرحوم کے جو بھی نظریات تھے، وہ علم کی بنیاد پر تھے۔ ان میں دور دور تک تعصب نہیں تھا۔ نومبر 2017 کو راقم ان کے ساتھ ملاقات کے لیے  ‘شاہ ہمدان ٹرسٹ’ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں نزیر صاحب وہاں پہنچے اور نماز ظہر وہی ادا کی۔ انجینئر نزیر صاحب کو اللہ تعالٰی نے تقریر کا ملکہ دیا ہے، ساتھ ہی آپ مستقل طور پر ٹرسٹ کے میگزین میں لکھتے ہیں۔ ابھی تک 20 کتابیں شائع ہوئی ہیں اور کئی طباعت کی منتظر ہیں۔ انہوں نے اسلامیات کا بہترین نصاب بھی مرتب کیا ہے، نصاب کی خاص بات یہ ہے کہ طالب علم ماڈرن طریقہ سے کم سے کم وقت میں عقائد، عربی، تجوید، تاریخ سے واقف ہو جاتا ہے، ساتھ ہی عملی مشق بھی دکھائی گئی ہے۔ مرحوم کی معیت میں بیٹھ کر محسوس ہو رہا تھا جیسے ایک سالک اپنے مرشد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیے ہوئے ہو۔ سوچ رہا تھا کہ خانقاہ کی وہ مجلسیں کس قدر پرسکون ہوتی ہونگی جو ایک زمانے میں لگتی تھیں۔ نزیر صاحب کی ہر بات سے نہ صرف علم بلکہ عمل میں اضافہ ہو رہا تھا۔ توکل، ایثار، حلم ادب پر وہ ایسے بات کر رہے تھے جیسے میرے دل میں اتار رہے ہوں۔

پورے عرصے میں ان سے استفادہ کرتا رہا۔ سوچ رہا تھا کہ وقت کچھ دیر کے لیے تھم جائے اور میں اسی طرح استفادہ کرتا رہوں۔ دوران گفتگو نزیر صاحب نے اپنے مرشد جناب محمد احسن شاہ کے بارے میں بتایا کہ وہ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر تھے۔ ان کے تلامذہ میں ڈاکٹر جاوید اقبال اور پروفیسر اسحاق صاحب رہے ہیں۔ان ہی کے ہاتھوں ‘شاہ ہمدان ٹرسٹ’ کی بنیاد ڈالی تھی۔ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے جانے سے بہت بڑا خلا پیدا ہوا لیکن اللہ کے ہر فیصلے پر ہم راضی ہیں۔ رب العزت جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین، جن میں راقم بھی اپنے آپ کو ایک سمجھتا ہے، کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔

رابطہ : 9906653927

تبصرے بند ہیں۔