آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں

مفتی محمد قاسم اوجھاری

      علماء کی شکل میں علم اٹھتا جا رہا ہے، پچھلے کئی برسوں سے بڑی تیزی کے ساتھ بڑے بڑے علماء کرام اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف رحلت فرما رہے ہیں۔ گویا ایک لڑی ٹوٹ گئی ہے جس کے دانے بہت تیزی کے ساتھ بکھرتے جا رہے ہیں۔ اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی پیشگوئی آنکھوں سے دیکھنے کو مل رہی ہے۔

      خبر ہے کہ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب 20 رمضان المبارک 1442ھ مطابق 3 مئی 2021ء بروز پیر بوقت فجر اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، آپ کی وفات کی خبر سے بے حد دکھ اور افسوس ہوا، یہ یقینا علمی دنیا کے لیے ایک المناک سانحہ ہے، لیکن ہم تقدیر کے فیصلوں پر راضی ہیں۔

      مولانا کی شخصیت سے کون ناواقف ہے؟ علمی و ادبی دنیا میں آپ کا ایک نمایاں مقام ہے، 1952ء میں ضلع مظفرپور بہار میں آپ کی پیدائش ہوئی، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ، دارالعلوم مئو، دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ امینیہ دہلی سے تعلیم حاصل کی، علوم اسلامیہ میں فضیلت اور عربی زبان و ادب میں تخصص کیا، تقریباً دس بارہ سال دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی خدمات انجام دیں، 1982ء میں دارالعلوم دیوبند میں آپ کا تقرر ہوا، اور پھر تاحیات (تقریبا چالیس سال) دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دیں، ساتھ ہی دارالعلوم سے نکلنے والے عربی مجلہ "الداعی” کی ادارت کی۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور مولانا وحید الزماں کیرانوی کے آپ حقیقی علمی وارث تھے، اور ان دونوں بزرگوں کی ترجمانی کرتے تھے۔ عربی زبان و ادب میں نمایاں خدمات اور ممتاز مقام کے اعتراف میں 2017ء میں صدر جمہوریہ ہند کے ہاتھوں آپ کو ایوارڈ سے نوازا گیا،

      طبیعتا نازک خیال، اصول پسند اور خود دار انسان تھے، زبان و قلم انتہائی شائستہ وشفتہ تھی، زبان وبیان اور املا کا بہت خیال رکھتے تھے، اردو اور عربی کے بڑے ادیبوں میں آپ کا شمار تھا، دارالعلوم دیوبند میں طالب علمی کے دوران جب ان کی کتاب "کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟” ہاتھ لگی تو بس ان کے قلم اور تحقیقات کا اسیر ہو گیا، پھر انکی کئی ساری کتابیں "صلیبی صہیونی جنگ” "پس مرگ زندہ” "حرف شیریں” وغیرہ لائبریری سے نکالیں اور بس مطالعہ شروع کردیا، مولانا کی کتابیں پڑھ کر مجھے بہت کچھ حاصل ہوا، اور لکھنے کا سلیقہ پیدا ہوا۔ میں نے کئی شخصیات پر مقالے ان کی کتاب "پس مرگ زندہ” کو سامنے رکھ کر لکھے، تعبیرات اخذ کیں، الفاظ اخذ کئے اور لکھنے کا سلیقہ اور انداز حاصل کیا۔

      تدریسی مشغلہ، ملکی و بیرونی اسفار اور ذاتی مصروفیات کے باوجود آپ لکھنے کے بے حد شوقین تھے، جس کے نتیجے میں درجنوں اردو اور عربی تصانیف وجود میں آئیں۔ اردو تصانیف یہ ہیں: وہ کوہ کَن کی بات (مولانا وحید الزماں کیرانوی کی سوانح حیات)، فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں، پسِ مَرگ زندہ، حرفِ شيریں، صلیبی صہیونی جنگ، کیا اسلام پسپا ہو رہا ہے؟ خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں؟ وغیرہ۔ عربی تصانیف یہ ہیں: مفتاح العربیہ، المسلمون في الهند، الصحابة و مكانتهم في الإسلام، مجتمعاتنا المعاصرة والطريق إلى الإسلام، الدعوة الإسلامية بين الأمس واليوم، متی تكون الكتابات مؤثرة؟ تعلّموا العربیة فإنہا من دینکم، العالم الهندي الفريد الشيخ المقرئ محمد طيب، من وحی الخاطر، فلسطین فی انتظار صلاح الدین، (اس کتاب پر آسام یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی مقالہ بھی لکھا گیا ہے) وغیرہ۔ اس کے علاوہ بے شمار اردو اور عربی میں مقالے اور مضامین لکھے جو مختلف رسالے، مجلات اور اخبارات میں شائع ہوئے، حالات پر آپ کی بہت گہری نظر تھی۔ عالم اسلام اور صلیبیت و صہیونیت کو آپ نے بہت قریب سے دیکھا تھا، جس کے نمونے آپ کی تصانیف میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔

      زندگی کے آخری ایام میں آپ نے اپنے چھوٹے فرزند ثمامہ نور کو بلاکر کچھ اشعار سنائے اور پھر رونے لگے۔ ان اشعار میں آپ نے بڑے درد بھرے انداز میں اپنے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ فرمایا:

اتنے مانوس صیاد سے ھوگئے

اب رھائی ملے گی تو مرجائیں گے

آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا

 ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے 

اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے

اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے 

اور کچھ دن یہ دستور مے خانہ ہے

تشنہ کامی کے یہ دن گزر جائیں گے 

میرے ساقی کو نظریں اٹھانے تو دو

جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے 

اے نسیم سحر تجھ کو ان کی قسم

 ان سے جا کر نہ کہنا مرا حال غم 

اپنے مٹنے کا غم تو نہیں ہے مگر 

ڈر یہ ہے ان کے گیسو بکھر جائیں گے 

اشک غم لے کے آخر کدھر جائیں ہم

آنسوؤں کی یہاں کوئی قیمت نہیں 

آپ ہی اپنا دامن بڑھا دیجیے

ورنہ موتی زمیں پر بکھر جائیں گے 

کالے کالے وہ گیسو شکن در شکن

وہ تبسم کا عالم چمن در چمن 

کھینچ لی ان کی تصویر دل نے مرے

 اب وہ دامن بچا کر کدھر جائیں گے

      احادیث رسول کے مطابق رمضان المبارک میں انتقال کرنے والوں کی خصوصی فضیلت ہے، پھر بھی ہم بارگاہ رب العالمین میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک مولانا کو غریق رحمت فرمائے، بال بال مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، اہل خانہ، عزیز واقارب اور متعلقین و متوسلین کو صبر جمیل عطا فرمائے، اور امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔

تبصرے بند ہیں۔