بانیٔ دارالعلوم: جن کو تاریخی حقائق میں بھلا دیا گیا

 شہزاد علی ددھیڑو

   سال ۱۸۵۷ تھا سلطنت مغلیہ کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ قابض ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف عوام کے جہاد کو برٹش حکومت کے ذریعہ کچلا جا رہا تھا۔ظلم و جور شباب پر تھا۔کسی بھی نظام حکومت کی ریڑھ کی ہڈی مانے جانی والی دو چیزیں،  معیشیت و تعلیم‘پر کمپنی پہلے ہی اپنے ہاتھوں میں لے چکی تھی۔جو تعلیمی ادارے بچ گئے تھے وہ  اس  ہنگامے میں برباد کر دیئے گئے۔اب ہندوستانی عوام انگریزوں کے ظلم و ستم برداشت کرنے کو مجبور تھی۔مسلمانوں کا  قائم کردہ نظام مدارس تباہ ہو کررہ گیا، صرف دہلی شہر میں تقریباـایک ہزار مدارس مسمار کئے گئے۔ہزاروں علماء دہ؎ین کو تہ تیغ کر دیا گیا۔باقی مسلمان خوف زدہ،مایوسیور افسردگی کا شکار تھے۔لگتا تھا کہ اسلام کا نام آئندہ نسلوں کے لیے ناآشنا ہو کر رہ جائے گا۔

علما ء دین اضطرابی کیفیت سے دو چار تھے، مگر اللہ تبارک وٰتعلی قادر مطلق ہے۔ سر زمیں دیوبند چھتہ مسجدمیں مقیم زہد و ریاضت میں مشغول درویش کامل حضرت حاجی حافظ محمد عابد حسین علیہ الرحمہ کو،جو ایک طالب علم کی تشنگی کو لیکر فکر میں ڈوبے تھے توایک روزآپ نے  رسول اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھاصبح کو مولوی فضل الرحمن صاحب کو بلایا اور فرمایا ’’علم دین اٹھا جاتا ہے،کوئی تدبیر کرو کہ علم دین قائم رہے۔ٰجب پرانے عالم نہ رہیں گے تو کوئی مسئلہ بتانے والا بھی نہ رہیگا۔ جب سے دہلی کا مدرسہ گم ہوا ہے کوئی علم دین نہیں پڑھتا۔ ‘‘ اس وقت سب صاحبوں نے عرض کیا کہا آپ جو تدبیر فرمایں وہ ہم کو منظور ہے۔ آپ نے فرمایا چندہ کرکے  مدرسہ قائم کرو اور کاغذ لیکر اپنا چندہ لکھ دیا اور روپے بھی آگے دھر دئے  اور فرمایا یہ چندہ انشااللہ ہر سال دیتا رہوں گا۔چنانچہ اسی وقت سب صاحبان موجودہ  نے بھی  چندہ لکھ دیا پھر حاجی صاحب مسجد سے باہر کو نکلے چونکہ حاجی صاحب کبھی کہیں نہیں جاتے تھے جس کے گھر پر گے ا سی نے اپنا فخر سمجھا اور چندہ لکھ دیا۔ اس طرح شام تک قریب چار سو روپے ہو گئے۔ اگلے روز حاجی صاحب نے مولوی محمد قاسم کو میرٹھ خط لکھا کہ آپ پڑھانے کے واسطے دیوبند آئے فقیر نے یہ صورت اختیار کی ہے۔ مولوی محمد قاسم نے جواب لکھا کہ میں بہت خوش ہوا خدا بہتر کرے مولوی ملا محمود کو پندرہ روپے ماہوار مقرر کرکے بھیجتا ہوں وہ پڑھاویں گے میں مدرسہ مذکور میں ساعی رہوں گا۔ ۔۔ حاجی صاحب نے مولوی محمد قاسم، مولوی فضل الرحمن مولوی ذوالفقار علی، مولوی مہتاب علی، منشی فضل حق وغیرہ کو اہل شوریٰ قرار دیا کہ کاروبار مدرسہ حسب راٗے اہل شوریٰ ہوا کرے اور خود بھی اہل شوریٰ وسرپرست ومہتمم مدرسہ بلا تنخواہ رہے  ‘‘ (تذکرۃ العابدین ص ۶۹،روداد دارالعلوم ۱۲۸۳ھ)

  ــ’’الہدیہ السنیہ فی ذکرالمدر سہ ا لاسلامیہ الدیوبندیہ‘‘(شائع۱۳۰۷ ہجری) مصنف مولانا ذوالفقار علی دیوبندی رسالہ کا ترجمعہ دارالعلوم دیوبند سے’’ دارالعلوم دیوبندکے ابتدائی نقوش‘‘کے حرف اول کے تحت مصنف کے حقیقت بیاں کو تسلیم کیا ہے ’’مدرسہ قایم کرنے کا سب سے پہلا القاء حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ کے قلب صافی پر ہوا جس کی بنیاد اخلاص و تقویٰ پر رکھی گئی۔اگر چہ حالات نا مساٰعد تھے  او رزمانے کے تیور بدلے ہوئے تھے‘‘(ص ۱۶)۔

    یہ واقعہ’ سوانح مخطوطہ‘ مصنف منشی فضل حق میں یوں بیان ہوا ہے’’ ایک دن بوقت اشراق سفید رومال کی جھولی بنا اور اس میں تین روپے اپنے پاس سے ڈال  چھتہ کی مسجدسے تن تنہا مولوی مہتاب علی مرحوم صاحب کے پاس تشریف لائے۔ مولوی صاحب نے کمال کشادہ پیشانی سے چھ روپے عنایت کئے اور دعا کی، اور بارہ روپے مولانا فضل الرحمن نے اور چھ روپے اس مسکین (یعنی سوانح مخطوطہ کے مصنف فضل حق دیوبندی)نے دئے۔وہاں سے اٹھ کر مولوی  ذوالفقار علی صاحب سلمہ کے پاس آئے۔ مولوی صاحب ماشا اللہ علم دوست ہیں فوراََـ بارہ روپے دئے  اور حسن اتفاق سے اس وقت سید ذوالفقار علی ثانی دیوبندی وہاں موجود تھے ان کی طرف سے بھی بارہ روپے عنایت کئے وہاں سے اٹھ کر یہ درویش بادشاہ صفت محلہ ابو البرکات میں پہنچے۔۔۔‘‘(سوانح قاسمی ج ۲  ص۲۵۸) چنانچہ اس مبارک فیصلہ کے مطابق ۱۵  محرم  الحرام ۱۲۸۳ھ مطابق ۳۱ مئی ۱۸۶۶ ء مدرسہ کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔پہلے مدرس ملا محمود رحمہ للہ طلباء مولوی عبد الکریم، مولوی محمود( حضرت شیخ الہند رحمہ للہ)،مولوی عبدا لعزیز نے چھتہ مسجد  میں انار کے درخت کے سائے میں سب سے پہلے زانوئے ادب تہ کیا۔سال کے آخر میں تعداد طلبہ ۷۸ ہو گئی۔ ان میں ۵۸ طلبہ باہر کے تھے۔(تاریخ دارالعلوم دیوبندج۱ س ۱۶۱)اگلے برس ۱۲۸۴ ھ آپ رحمہ للہ  حج کے لیے تشریف لے گئے مدرسہ کا اہتمام مولوی رفیع الدین کے سپرد کیا۔حج سے فراغت کے بعد پھر سے کار اہتمام سنبھال لیا۔جب  شوریٰ نے مدرسہ کے لیے عمارت کی ضرورت پر اتفاق کیا تو آپ کو ہی جگہ تجویز کرنے کو ذمہ دیاگیا، آپ نے جگہ تجویز کر کے زمین خرید کی کہ جس کا بیع نامہ بھی حاجی صاحب کے ہی نام ہے۔ مولوی رفیع الدین کے سفرحج پر جانے کے بعد اہل شوریٰ و ذمہ دار حضرات نے ۲۲ جمادی الاول ۱۳۰۶ ھ کے خط کے ذریعہ پھرسے حضرت حاجی صاحب سے بحیثیت بانی و مجوز اول و سرپرست،درخواست کی کہ آپ مدرسہ کی ذمہ داری قبول فرمایں۔ آپ نے ذمہ داری قبول فرمائی مگر تھوڑی ہی مدت کے بعد باہم ایسے قصہ اور جھگڑے پیش آئے کہ مدرسہ کے اہتمام سے مستعفیٰ ہو گئے اور خود پیران کلیر شریف بحضور مخدوم صاحب چلے گئے۔مگر اہل شوریٰ کے اسرار پر مدرسہ کی سرپرستی کی درخواست پر تشریف لے آئے۔ ۔۔چند روز بعد حج بیت اللہ تشریف لے گئے  اور احقر (مولوی نذیر احمد)کو مسجد چھتہ میں رہنے کا حکم دیا۔۔۔بعد چند روز کے  پھرمدرسہ میں جھگڑا ہوا اور وہ  فساد حضرت حاجی صاحب کے تشریف لانے تک رفع نہ ہوا آخرکر کار آپ قطعی مدرسہ کے کاروبار سے علیحدہ ہو گئے اور فرمایا اب للٰہیت نہ رہی بلکہ نفسانیت آ گئی فقیر کو ان باتوں سے کیا غرض۔(ص ۷۶)

  ’’سوانح عمری وحالات طیب حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ للہ‘‘ میں حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمہ للہ فرماتے ہیں ــ’’ احقر نے حضرت مولانا قاسم صاحب  سے بخاری قدرے پڑھی۔ پھر منشی ممتاز علی کے چھاپہ خانے پر کام کیا۔ مولوی صاحب کو پرانی دوستی کے سبب بلا لیا۔ ۔۔یہ وہی زمانہ تھا کہ بنا مدرسہ دیوبند کی پڑی مولوی فضل الرحمن، مولوی ذوالفقار علی اور حاجی عابد صاحب رحمہا االلہ نے تجویز رکھی کہ ایک مدرسہ دیوبند میں قائم کریں ‘‘(ص ۴۷،۴۸)کتاب میں محقق عصر حضرت مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی مد ظلہ نے حاشیہ لگایاہے ’’دیوبند میں مدرسہ عربی(دارالعلوم)قائم کرنے کی پہلی آواز حضرت حاجی عابد رحمہ للہ نے بلند کی پہلی کوشش اور پہلا چندہ بھی حاجی صاحب کی توجہ سے ہوا۔‘‘(ص۴۹)’’رکن شوریٰ اول مولوی ذوالفقار علی صاحب ا پنے رسالے ’الھدیۃ السنیہ فی ذکر المدرسہ الاسلامیہ الدیوبندیہ ‘میں لکھتے ہیں ’اللہ تعلیٰ نے حضرت حاجی عابد صاحب علیہ الرحمہ کو مدرسہ کی اساس کا  الہام فرمایا‘۔اور یہ الہام سید الطائف پیر و مرشدحضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ للہ کے فکر و تفکر کا ہی  شاید نتیجہ تھا، جیسا کہ آپ اور حاجی عابد صاحب کے درمیان ہوئی خط و کتابت سے پتہ چلتا ہے۔حاجی عابد صاحب ۱۲۷۸ ھ میں حج کے  لیے تشریف لے گئے تو حضرت حاجی امدادللہ کی خدمت میں (آپ اس وقت مکہ مکررمہ میں مقیم تھے)حاضر ہوئے اور حجاز مقدس میں ہی قیام کرنے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے حضرت عابد ؒکو ہند میں رہ کر علم دین کی سعی کرنیکی ہدایت دی۔ آپ  واپس آگئے۔ کچھ وقت بعد آپ کو مدرسہ قائم کرنے کا الہام ہواجیسا کہ اوپر گزر چکا ہے،بہر حال خواب کی اطلاع شیخ ؒ کو  بذریعہ خط دی جس پر آپ نے اظہار مسرت  ان الفاظ میں کیا ’’میں نے تو پہلے آپ کی خدمت میں عرض کیا تھا کہ تمہارے حق میں ہند میں رہنا اور مدرسہ علم دین کی سعی  و کوشش کرنامکہ مدینہ میں رہنے سے افضل ہے۔مگر الحمدللہ وہاں جا کر بھی آپ کو یہی حکم ہوا۔سو  تمہارے لیے اب یہی بہتر ہے کہ جس پر اللہ اور اس کے رسول کی مرضی پائی جائے وہی کام کرو۔ ‘‘(مرقومقت امدادیہ مکتوب سی و ہشتم)۔ اس کے بعد مدرسہ کے قیام کا اعلان ہوا، اس اطلاع پر آپ نے اظہار مسرت فرمایا ’’اجراء سے مدرسہ علم دین کے آں عزیزوں و عزیزم حافظ عابد حسین صاحب کی سعی سے اس قدر خوشیاں حاصل ہوئی کہ بیان میں نہیں آتا خدائے تعالی ٰاس امر خیر کو ہمیشہ جاری رکھے۔۔۔‘‘(مرقومات امدادیہ مکتوب ہیجدہم)

 مدرسہ میں نظم تعلیم قائم ہو گیا تواگلے برس ۱۲۸۴ ھ کو آپ پھر سے اہلیہ محترمہ کے ساتھ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ کئی ماہ مدینہ طیبہ میں قیام کیا۔ جب واپسی کا ارادہ کیا تو اہلیہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ کچھ روز بعد مکہ معظمہ تشریف لائے وہاں سید الطائف حضرت شاہ امدادللہ مہاجر مکی رحمۃ للہ علیہ سے بیعت کی اور خیال ظاہر کیا کہ کچھ روز اور مکہ معظمہ میں قیام کروں تو حضرت ؒ نے فرمایا کہ ہندوستان کو خالی مت چھوڑو مسجد و مدرسہ تمہارے بغیر تعمیر نہ ہو گا ۔ اس کو مکمل کرو اوردوسری شادی بھی کر لینا۔لہٰذا واپس آئے مدرسہ کے احوال دیکھ کر ناراضگی کا اظہار کیااور پھراپنے پیر و مرشد کے حکم کی تعمیل میں شادی کر لی اور فرصت  جامع مسجد کی بنیادیں کھدوانا شروع کر دی۔ اس کام کے لیے مولوی عبد الحق کو چندہ کے لیے معمور کیا۔الحمدللہ مسجد مکمل ہوئی اور مدرسہ اس میں منتقل کر دیا گیا۔(تذکرہ العابدین ِ  ۷۶)

             ان حقائق کا مطالعہ کرنے سے یہ صداقت منکشف ہو جاتی ہے کہ دارالعلوم کے بانی و مجوز اول وسرپر ست حضرت حاجی عابد صاحب رحمہ للہ ہیں آپ کے تعلیمی، تحریک و فکر پر اول مولانا فضل الرحمن والد محترم علامہ شبیر احمد عثمانی،مولانا ذوالفقار علی والد محترم حضرت شیخ الہند، مولانا مہتاب علی، منشی فضل حق ؒ نے لبیک کہا۔ چونکہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا ان حضرات سے اکثر ملنا جلنا تھا اور حضڑت مولانا کی سسرال بھی د یوبند میں ہی تھی۔ آپ علم دین کی سعی میں پیش پیش رہتے تھے ۔ آپ کو رکن شوریٰ اول نامزد کیا گیا۔مدرسہ آپ کی سعی و جدوجہدسے دارالعلوم بنا۔آپ نے دارالعلوم کی ترقی و نظام تعلیم کے اصول مرتب کرادارے کو بلندیوں تک پہنچایا۔ مگر ان تمام کا اعتراف کرنے کے باوجودبانی ہونے کا حق محض بانی  بانی اعظم،مجوز و سرپرست اول حضرت عارف باللہ الحاج عابد حسین نور اللہ مرقدہ کوہے۔

    موضوع کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ للہ کب دارالعلوم سے  باضابطہ  اور عملاــ وابستہ ہوئے  تو اس سلسلے میں آپ کے رفیق خاص اول صدر مدرس حضرت  مولانا یعقوب نانوتوی رحمہ للہ جن سے آپ کا خاندانی رشتہ و ہم زلف تھے،لکھتے ہیں ’’جس زمانے میں احقر(یعقوب نانوتوی ؒ) نے( ایک جماعت کے ساتھ) آپ سے بخاری قدرے پڑھی۔۔۔ یہ وہی زمانہ تھا کہ بنا مدرسہ دیوبند کی پڑی۔۔۔۱۲۸۵ ھ میں مولانا کو حج کی سوجھی چند رفقاء کے ساتھ حج کر آئے اور واپسی پر مولوی ھاشم کے مطبع  ھاشمی میں کام کیا۔۔۔اس زمانے میں پڑھانا اکثر تھا۔ (سوانح عمری، حالات طیب حضرت مولانا قاسم نانوتوی ، سوانح قاسمی) تذکرۃ الرشیدمیں مولانا عاشق الٰہی میرٹھی لکھتے ہیں ’’۔۔۔حضرت شیخ الہند نے ۱۲۸۶ ھ میں کتب ستہ اور بعض کتابیں اپنے فخر زمانہ استاد حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ سے پڑھیں۔ (تذکرہ شیخ الہند از مولانا عزیز الرحمن بجنوری ؒ  ص۵۶)۔حضرت نانوتوی ؒ میرٹھ سے دہلی منتقل ہو گئے تو شیخ الہند بھی انہیں کے ساتھ دہلی چلے گئے وہاں پر بھی اسباق کا سلسلہ جاری رکھا۔شہخ الہند دو برس مسلسل حضرت نانوتوی سے درس حدیث لیتے رہے ۱۲۸۹ ھ میں تکمیل فرمائی۔(مختصر تذکرہ شیخ الہند از مولانا حمید اللہ قاسمی)

 روداد دارالعلوم ۱۲۹۰ ھ  یہ کی تحریر قابل غور ہے’’ اس سال متعدد طلبہ نے مجوزہ نصاب تعلیم کی تکمیل کرکے سند فراغ اانعام حاصل کیا۔ امتحا ن سالانہ میں مثل سابق ۱۹ ذی قعدہ۱۲۹۰ ھ مطابق  ۹ جنوری ۱۸۷۴ ء دیوبند کی جامع مسجد میں منعقدہوا۔ اہل اسلام اور خیر خواہان مدرسہ مختلف اضلاع و قصبات سے تشریف لائے شرکائے جلسہ(بطور مہمان ) میں قابل ذکر حضرات یہ ہیں  حضڑت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانانور اللہ گلاوئٹھی  وغیرہم۔’ مولانا محمد احسن نانوتوی ‘میں پادری تارا چند کے ساتھ مناظرہ کے واقعہ کا ذ یوں کیا گیا ہے ’’کہ حضرت مولانا نے پادری کو سر بازار شکست دی۔۔۔ہمارا خیال ہے کہ یہ واقعہ ربیع الاول تاجمادی الثانی۱۲۹۲ ھ کے درمیان کا ہے۔اس زمانے میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ منشی ممتاز کے مطبع مجتبائی دہلی میں مقیم تھے۔(ص۲۱۹)مولاناسید مناظر احسن گیلانی ؒایک جگہ رقمطراز ہیں ’’سید محمد عابد حسین ؒنے خط لکھ کر دیوبند آنے جو دعوت حضرت مولانا قاسم نانوتوی کو دی تھی یہ دعوت دعوت بن کر ہی رہ گئی صحیح طور پر یہ بتانا دشوار ہے کہ یہ صورت حال کب تک قائم رہی(سوانح قاسمی ج۲ ص۲۶۵)اور قیام مدرسہ کے تعلق کوئی تحریر حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒکی نہیں ملی۔ (ج۲ ص۲۶۹) تاریخ کے یہ دستاویز یہ بات سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ حاجی حافظ سید عابد حسین علیہ الرحمہ دارالعلوم کے حقیقی بانی ہیں اور ان کے ذہن میں دارالعلوم کے لیے ایک مکمل خاکہ و منصوبہ تھا  جس کو وہ عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے۔اسی سال آپ نے جامع مسجد کی بنیاد رکھی وہاں درس گاہیں بنائیں مدرسہ منتقل کیا اور جب یہ درسگاہیں ناکافی ہوئیں تو موجودہ عمارت کے جگہ کا انتخاب کیاجس کا بیع نامہ حضرت حاجی عابد صاحب رحمہ اللہ کے نام ہے۔بہر حال حضرت حااجی رحمہ اللہ کی اس تعلیمی تحریک کا اہل علم حضرت نے بھر پور تعاون کی۔ حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ نے باضابطہ اور عملاًمنسلک ہوکرمدرسہ عربی کو  بلندیوں پر لے جانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی’’ مدرسہ عربی‘‘ کو دارالعلوم بنا دیا۔ــ’’ چنا نچہ آپ  (مولانا قاسم نانوتوی) نے سید عابد حسین رحمہ اللہ کے طائر خیال کوبال وپر لگائے  تو بس کیاتھا گلستان علم میں بہار آ گئی دریاے علم روں دوں ہو گیا(درلعلوم کے ابتدئی نقوش ۲۰) ۔ لہٰذا اآج دار العلوم دیوبند عالم اسلام میں ایک روشن چراغ بن دنیا کو منور کئے ہوئے ہے۔

 حواشی  :  ۱۔ تاریخ دارالعلوم، سوانح قاسمی،سوانح عمری،حالات طیب حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ

         ۲۔تذکرہ العابدین  از  نذیر احمد دیوبندی، مرقوما ت امدادیہ

         ۳۔’بانی دارالعلوم اور تاریخی حقائق ‘ از  مولانا عبد الحفیظ رحمانی، دارالعلوم کا بانی کون؟  از ڈاکٹر غلام یحیٰ انجم

تبصرے بند ہیں۔