ثناء خان کو نئی زندگی مبارک ہو

محمد قاسم اوجھاری

     اللہ تعالی نے نفس انسانی میں فجور اور تقوی دونوں کا الہام کیا ہے یعنی نفس انسانی کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے گناہ اور طاعت دونوں کے مادے اور استعداد رکھی ہے، پھر انسان کو ایک خاص قسم کا اختیار اور قدرت دی ہے کہ وہ اپنے اس قصدو اختیار سے گناہ کے راستے پر چلے یا طاعت کا راستہ اختیار کرے، جب وہ اپنے قصد و اختیار سے ان میں سے جس راستے پر چلے گا اسی اعتبار سے اس پر اجر مرتب ہوگا، یعنی اگر طاعت والا راستہ اختیار کرے گا تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوگا اور اگر گناہ والا راستہ اختیار کرے گا تو دونوں جہاں میں ناکام اور نامراد ہو گا اور اس کا برا ٹھکانہ ہوگا حق تعالی نے اسی کو قرآن کریم کی ان آیات میں بیان کیا ہے، فالهمها فجورها وتقواها قد افلح من زكاها وقد خاب من دساها (سورهٔ شمس)

     انسان گناہ اور غلطیوں سے معصوم نہیں ہے، انسان سے گناہ سرزد ہوں گے لیکن اس کے بعد اصل چیز توبہ ہے گناہ کے سرزد ہو جانے کے بعد اگر توبہ نہیں کرتا ہے تو وہ خسارے میں ہے اور اگر توبہ اور استغفار کر لیتا ہے تو اللہ تعالی اس کو معاف فرما دیں گے، اللہ تعالی کی ایک صفت تواب ہے یعنی وہ توبہ کو بیحد قبول فرماتا ہے، قرآن وحدیث میں توبہ پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، توبہ کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ بہت زیادہ محبت فرماتے ہیں، اگر سراپا گناہوں میں ڈوبا ہوا انسان اللہ کے سامنے سچے دل سے توبہ کرے اور ندامت کے آنسو بہاتے ہوئے کہے کہ اے اللہ: میں اپنے کئے ہوئے گناہوں پر بہت زیادہ شرمندہ ہوں آپ مجھے معاف فرما دیں، میں آئندہ گناہ نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہوں میں گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا اور آپ کی مرضی کے مطابق زندگی گزاروں گا۔۔۔ خدا تعالی اس بندے کی توبہ کو ضرور قبول فرمائیں گے اور ضرور اس بندے کو معاف فرمائیں گے یہ اللہ کا وعدہ ہے، اس کی شان سے بعید ہے کہ کوئی گناہ گار اس کے سامنے سچے دل سے توبہ کرے اور وہ اُس کو معاف نہ کرے۔

     توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے، انسان کسی بھی حالت اور کسی بھی وقت میں اللہ کے سامنے توبہ کر سکتا ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ” اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک آخری وقت میں غرغرہ نہ لگ جائے” (ترمذی: ٣٥٣٧، ابن ماجہ ٢٢٥٣)

     توبہ کرنے کے بعد آدمی پاک و صاف ہو جاتا ہے، اس کو پاکیزگی نصیب ہوتی ہے، اور ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو (ابن ماجہ ٤٢٥٠)

     توبہ غسل کی طرح ہے جتنی مرتبہ کی جائے ہر مرتبہ روح اور نفس میں پاکیزگی اور نکھار پیدا ہوتا ہے، دل کی کیفیت بدلتی ہے، معرفت خداوندی کے دروازے کھلتے ہیں اور عشق الہٰی کی دولت نصیب ہوتی ہے، جوانی میں ہر چیز اپنے شباب پر ہوتی ہے۔ جوانی میں توبہ اللہ کو بہت پسند ہے، جب کوئی جوان آدمی اللہ کے سامنے روتا ہے اور سچے دل سے توبہ اور استغفار کرتا ہے تو رحمت الہی جوش میں آتی ہے اس پر خاص نظر کرم کرتی ہے، اور اس کو اپنا محبوب و مقرب بندہ بنالیتی ہے پھر ساری کائنات اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔

     سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ معروف بالی ووڈ ادا کارہ ثناء خان نے موت کے بعد والی زندگی کی خاطر فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا ہے، اور اپنی سابقہ زندگی سے توبہ کرلی ہے، انہوں نے اپنے سوشل اکاؤنٹس کے ذریعے اس کی اطلاع دی ہے، ایک لمبی تحریر میں انہوں نے لکھا ہے کہ "کیا انسان کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اسے کسی بھی وقت موت آسکتی ہے؟ اور مرنے کے بعد اس کا کیا بننے والا ہے؟ اس سوال کا جواب میں نے اپنے مذہب میں تلاش کیا تو مجھے پتا چلا کہ کہ دنیا کی یہ زندگی اصل میں مرنے کے بعد کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہے اور وہ اسی صورت میں بہتر ہوگی جب بندہ اپنے پیدا کرنے والے کے حکم کے مطابق زندگی گزارے اور صرف دولت و شہرت کو اپنا مقصد نہ بنائے ، بلکہ گناہ کی زندگی سے بچ کر انسانیت کی خدمت کرے اور اپنے پیدا کرنے والے کے بتائے ہوئے طریقے پر چلے _ اس لیے میں آج یہ اعلان کرتی ہوں کہ آج سے میں اپنے شوبز (فلم انڈسٹری) کی زندگی چھوڑ کر انسانیت کی خدمت اور اپنے پیدا کرنے والے کے حکم پر چلنے کا پکّا ارادہ کرتی ہوں”

     یہ بھی لکھا ہے کہ ”تمام بہنوں، بھائیوں سے التجا ہے کہ وہ میرے لیے اللہ سے دعا کریں کہ وہ میری توبہ قبول فرمائے اور مجھے اپنے خالق کے احکام اور انسانیت کی خدمت میں گذارنے کے اپنے عزم کے مطابق زندگی گزارنے کی حقیقی صلاحیت عطا فرمائے اور مجھے استقامت عطا کرے“

     آخر میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ” تمام بھائیوں اور بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ شوبز کے کسی بھی کام کے سلسلے میں مجھ سے مشورہ نہ کریں۔”

     یہ حقیقت ہے کہ اس دنیا کا سب سے گھناؤنا اور ناپاک چہرہ فلم انڈسٹری ہے، اس کی ابتدائی بنیادیں چاہے کتنی ہی حسین اور مہذب نظر آتی ہوں لیکن حالات اور مشاہدات نے ثابت کردیا کہ فلم انڈسٹری کا حقیقی قیام جنسی آوارگی کا فروغ اور تہذیب کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہوا ہے، چنانچہ ٹی وی سیریلز، ہالی ووڈ اور بالی ووڈ وغیرہ کے فلمی ڈراموں اور گانوں نے جتنا انسانی معاشرہ کو تباہ کیا ہے اتنا کسی نے نہیں کیا، ان بےحیاء اور فحش مناظر نے انسانی ذہنوں پر ایک عجیب کیفیت مسلط کردی ہے، غیر محسوس طریقے پر انسانی معاشرہ کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کردیا ہے، تہذیب کا نام و نشان تو درکنار بد تہذیبی اور جنسی آوارگی کا دن بدن ایسا سیلاب آرہا ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، یہ سب اسی فلمی انڈسٹری کی دین ہے، معاشرہ کو مزید تباہی اور بربادی سے بچانے کے لیے فحاشی و بے حیائی اور جنسی انارکی کے اس اڈے پر لگام کسنے کی ضرورت ہے۔

     محترمہ ثناء خان نے اپنی سابقہ زندگی (فلم انڈسٹری) سے توبہ کرتے ہوئے اپنی بقیہ زندگی کو خالق کی اطاعت، مذہب اور انسانیت کی خدمت کے لیے گزارنے کا عزم کیا ہے، یہاں سے ان کی نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے، ان کو نئی زندگی مبارک ہو۔ بہت ہی خوشی اور ہمت کی بات ہے کہ کوئی شخص عزت دولت شہرت اور دنیا کی چکاچوند کو چھوڑ کر اپنی زندگی خالق کی اطاعت تقوی پاکیزگی پرہیزگاری مذہب اور انسانیت کی خدمت کے لیے گزارے، یقینا اس میں اس نوجوان نسل کے لیے عبرت و نصیحت کا پیغام ہے جو فلم انڈسٹری کی چکا چوند میں اندھے اور بہرے ہوئے جارہے ہیں اور اپنی زندگیوں کو تباہ کررہے ہیں، خدا تعالی ثناء خان کی توبہ کو قبول فرمائے اور بقیہ زندگی جس طرح گزارنے کا انہوں نے عزم کیا ہے اور جن پاکیزہ جذبات وخیالات کا اظہار کیا ہے اس میں استقامت نصیب فرمائے۔ اللہ تعالی ہم سب کے گناہوں کو معاف فرمائے۔ گناہوں سے بچنے اور مرنے کے بعد کی زندگی (آخرت) کو بہتر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا گناہ گاروں کو معاف کرنے والا اور مہربانوں کا مہربان ہے۔

تبصرے بند ہیں۔