حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانیؒ : ایک عہد ساز شخصیت

محمد فرقان

 قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ قرب قیامت میں علماء حق کی پے درپے وفات ہو گی۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس طرح علم نہ اٹھائے گا کہ اسے بندوں سے کھینچ لے، بلکہ علماء کو اٹھا کر اسے اٹھائے گا، یہاں تک کہ جب (زمین پر) کسی عالم کو باقی نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے، جن سے مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ جاہل بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے“، (بخاری)۔ اسی لیے علماء کی وفات کو پورے عالَم کی وفات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قحط الرجال کے اس دور میں علماء اور اہل علم کا یکے بعد دیگرے اٹھ جانا کسی سانحہ سے کم نہیں ہے۔ آسمان علم و معرفت کے ستاروں میں سے ایک تارہ اور ٹوٹ گیا۔ اخلاص و تقویٰ کے روشن چراغوں میں سے ایک دیا اور بجھ گیا۔ گزرے وقتوں کے باخدا بزرگوں اور پچھلے زمانوں کے ربانی علماء کی ایک جیتی جاگتی نشانی، عالم اسلام کی نامور شخصیت، خادم کتاب و سنت، ترجمان حق و صداقت، یادگار اسلاف، میر کارواں، شیخ طریقت، رہبر شریعت، امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین، رحمانی تھرٹی اور رحمانی فاؤنڈیشن کے بانی،دارالعلوم ندوۃ العلماء کے رکن، جامعہ رحمانی مونگیر اور درجنوں اداروں کے سرپرست، مفکر اسلام حضرت اقدس مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مورخہ 20؍ شعبان 1442ھ مطابق 03؍ اپریل2021ء بروز سنیچر دوپہر ڈھائی بجے پٹنہ کے پارس ہاسپٹل میں مختصر علالت کے بعد راہ ملک بقاء ہوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون، ان اللہ ما اخذ ولہ مااعطی وکل شء عندہ بأجل مسمی۔

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں 

کہیں سے آب بقائے دوام لاساقی

 حضرت علیہ الرحمہ کے انتقال کے دوسرے دن صبح 11؍ بجے مونگیر میں حضرت کے خلیفہ ئاجل حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب مدظلہ نے لاکھوں افراد کی موجودگی میں انکی نماز جنازہ پڑھائی اور خانقاہ رحمانی میں انکے والد حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحبؒ کے پہلو میں سپرد خاک کردیا گیا۔ حضرت امیر شریعتؒ کا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے جو امت مسلمہ کیلیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ لیکن خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لیے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص اس سے محفوظ نہیں۔ کیونکہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں، یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں، جب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موت نے اپنے آغوش میں لے لیا اور قرآن نے بھی کہہ دیا: ”کُلُّ نَفسٍ ذَآءِقَۃُ المَوتِ“ (سورہ آل عمران:185) کہ ”ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے“، تو ہما شما کی کیا بات ہے۔ چناں چہ سب کے سب انبیاء ورسل، صحابہ وتابعین اوراولیاء وصلحا کو اس جہان سے کوچ کرنا پڑا۔ ہم سب کو بھی ایک دن جانا ہوگا۔ حضرت امیر شریعت نوراللہ مرقدہ بھی اپنے مقررہ وقت پر، پاک پروردگار کے حکم کا اتباع کرتے ہوئے ہزاروں شاگردوں، مریدوں اور متعلقین کو الوداع کہتے ہوئے اس جہاں سے کوچ کرگئے۔ اللہ تعالی حضرت والا کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمائے، آمین!

جان کر من جملہ خاصان میخانہ تجھے

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے

 امیر شریعت حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحبؒ کی ولادت بہار کے مشہور علمی اور روحانی خانوادہئ رحمانی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بانی، امیر شریعت حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی نوراللہ مرقدہ کے گھر 05؍ جون 1943ء کو ہوئی۔ آپ کے دادا قطب الزماں حضرت مولانا محمد علی مونگیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے بانیوں میں سے تھے۔ آپکی تعلیم اور تربیت ابتداء میں خانقاہ رحمانی کے احاطہ میں چل رہے پرائمری اسکول میں ہوئی، مولانا حبیب الرحمن صاحب اور ماسٹر فضل الرحمن صاحب کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے نامور والد گرامی کے سامنے بھی زانوئے تلمذ تہ کیا، اور جامعہ رحمانی مونگیر میں مشکوۃ شریف تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1961ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اور 1964ء میں ام المدارس دارالعلوم دیوبند سے علوم متداولہ کی تکمیل کی اور ان دونوں اداروں سے کسب فیض اور خاندانی تعلیم وتربیت کی وجہ سے زبان ہوش مند اور فکر ارجمند سے مالا مال ہوئے۔ اس کے بعد سن 1970ء میں تلکا مانجھی یونیورسٹی بھاگلپور آپنے سے ایم اے کیا۔ آپکے خاندان کا یہ امتیاز رہا ہے کہ علم و معرفت، تصوف و سلوک، شریعت و طریقت، تصنیف و تالیف، تقریر و خطابت، قیادت و رہبری کے وہ اوصاف جو دوسری جگہوں پر الگ الگ پائے جاتے ہیں اس خانوادہئ رحمانی میں ایک ساتھ جمع نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کی آپکی شخصیت بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح ہمہ جہت تھی، ان کی پوری زندگی ملت کی خدمت سے عبارت تھی، وہ ایک مؤقر عالم دین، شیخ طریقت، امیر شریعت اور مفکر اسلام اور تحریکی مزاج کے آدمی تھے۔ انہوں نے خانقاہ رحمانی مونگیر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارت شرعیہ، اصلاح معاشرہ، جامعہ رحمانی مونگیر، درجنوں مدارس کی سرپرستی اور رحمانی تھرٹی کے ذریعہ مختلف شعبوں میں ملت اسلامیہ کی بے پناہ خدمات انجام دیں۔

 مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ نے اپنی فراغت کے بعد سن 1967ء میں امارت شرعیہ کے ترجمان ہفت روزہ نقیب، پھلواری شریف، پٹنہ کی ادارت کے ساتھ ساتھ جامعہ رحمانی مونگیر میں تدریس اور فتوی نویسی کا کام بھی شروع کیا، اور 1969ء میں جامعہ رحمانی کی نظامت کے عہدہ پر فائز ہوئے۔پھر 1974ء میں ویدھان پریشد کے رکن منتخب ہوئے، اسی سال جامعہ رحمانی کے ترجمان صحیفہ کی ادارت سنبھالی۔ سن 1974ء سے 1996ء تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اسی درمیان 1985ء بہار ودہان پریشد کے ڈپٹی چیرمین بھی منتخب ہوئے۔ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 1991ء کے بعد سے خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سرپرست رہے۔ سن 1991ء تا 2015ء ملت اسلامیہ ہندیہ کے تمام مسالک کا متحدہ، متفقہ اور مشترکہ پیلٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری رہے۔ اور 07؍ جون 2015ء کو بورڈ کے کارگزار جنرل سکریٹری نامزد ہوئے۔ بعدازاں 16؍ اپریل 2016ء کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں باتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ اسی طرح 03؍ اپریل 2005ء میں امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت منتخب ہوئے۔اور 29؍ نومبر 2015ء کو دارالعلوم رحمانی، زیرو مائل، ارریہ، بہار میں مجلس ارباب حل و عقد نے آپکو مستقل طور پر امیر شریعت سابع بہار،اڑیسہ و جھارکھنڈ منتخب کیا۔ سن 2010ء میں آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے ممبر منتخب ہوئے۔ ساتھ ہی آپ تاحیات دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے انتظامی رکن، مولانا آزاد فاؤنڈیشن کے وائس چیرمین اور آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر رہے۔

حضرت امیر شریعت علیہ الرحمہ مختلف اداروں اور تحریکوں سے وابستہ ہوکر مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑتے رہے اور تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں میں حصہ لیتے رہے۔اسی کے پیش نظر انہوں نے مختلف اداروں کا قیام بھی عمل میں لایا۔ انہوں نے سن 1996ء میں سماجی فلاح و بہود کیلیے رحمانی فاونڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کی تعلیم اور تربیت کی سمت میں شاندار خدمات ہیں – سن 2008ء میں حضرت نے مسلمانوں کے معیاری تعلیمی ترقی کیلیے رحمانی 30 کو قائم کیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں عصری تعلیم کے متعدد شعبوں میں معیاری اعلی تعلیم و قومی مقابلاجاتی امتحانات کے لیے طلبہ کو تیار کیا جاتا ہے۔ اس ادارے نے آئی آئی ٹی، جے ای ای، نیٹ، چارٹرڈ اکاؤنٹ اور دیگر مشکل مقابلوں میں مسلم بچوں اور بچیوں کو کامیابی کی راہ دکھائی اور شاندار ریکارڈ قائم کیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے سن 2013ء میں مسلم طلبہ کو ڈاکٹرز بنانے کیلیے میڈیکل کی تیاری اور سن 2014ء میں وکیل اور جج بنانے کی تیاری کرانے کی شروعات کی۔ اسی طرح حضرت امیرشریعت نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف تحریکات کو چلایا جس کے ذریعے پورے ملک میں اچھے اثرات مرتب ہوئے۔انہوں نے سن 2003ء میں مدارس کی حفاظت کی تحریک چلائی اور مونگیر میں تاریخ ساز ”ناموس مدارس اسلامی کنونشن“ منعقد کیا۔ امارت شرعیہ کے استحکام کے لیے متعدد اقدام کئے اور تینوں ریاستوں میں امارت کو مضبوط کیا۔ دارالقضاء کے کاموں کو وسعت بخشی، تعلیمی میدان میں بنیادی دینی تعلیم کے فروغ، عصری تعلیمی اداروں کے قیام عمل میں لایا۔ 15؍ اپریل 2018ء کو گاندھی میدان میں ”دیش بچاؤ، دین بچاؤ“ کے نام سے حضرت کی صدارت میں تاریخ ساز کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا۔ اسی کے ساتھ ”سی اے اے، اینڈ آر سی اور این پی آر“ کے خلاف بھی مہم چلائیں گئی۔ اپنے آخری دور میں حضرت نے ”اردو کی بقاء و تحفظ اور ترویج و اشاعت“ کے لیے پورے بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ میں تحریک چلائی۔امارت شرعیہ کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحبؒ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے پلیٹ فارم سے بھی نمایاں خدمات انجام دئے۔ انہوں نے رائٹ ٹو ایجوکیشن اور قانون وقف کی اصلاح نیز ڈائریکٹ ٹیکس کوڈ کو روکنے کیلیے بورڈ کے بینر تلے ”آئینی حقوق بچاؤ“ کے نام سے کامیاب ملک گیر تحریک چلائی۔ 2015ء میں شریعت اسلامی اور آئین ہند کے تحفظ اورحکومت کی جانب سے اس میں مداخلت اور ترمیم کی سازشوں کے خلاف”دین و دستور بچاؤ“ کے نام سے حضرت کی قیادت میں بورڈ نے ملک گیر تحریک چلائی۔ 2016ء میں ”یونیفارم سول کوڈ“ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں پروگرامات منعقد کئے۔ 2017ء کے اواخر اور 2018ء کی ابتداء میں پورے ملک میں مرکزی حکومت کے مجوزہ ”طلاق ثلاثہ بل“ کے خلاف تحریکِ چلائی، جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں تاریخ ساز احتجاجی پروگرامات اور ریلیاں منعقد ہوئے، بالخصوص امت کے بہادر ماؤں اور بہنوں نے شرعی دائرے میں رہ کر احتجاجی جلوس نکالے۔اسی دوران حضرت کے حکم پر ملک کے مختلف علاقوں میں ”تحفظ شریعت کمیٹی“ تشکیل پائی۔ اسی دوران مسلم پرسنل لا میں مداخلت کے خلاف ”دستخطی مہم“ بھی چلائی گئی اور تقریباً پانچ کڑوروں دستخطوں کو لاء کمیشن کے حوالے کیا گیا۔ جب 2018ء میں حکومت کی جانب سے مسلم پرسنل لا میں تبدیل کی بات ہونے لگی تو لاء کمیشن کے چیئرمین کی دعوت پر بورڈ کے وفد نے حضرت کا پیغام ان تک پہنچایا۔ جس میں اسلامی تعلیمات اور فقہ کی روشنی میں انکے اشکالات کا واضح جواب دیا گیا اور واضح طور پر کہا گیا کہ مسلم پرسنل لا میں کسی ترمیم، تنسیخ یا تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ حضرت علیہ الرحمہ نے بورڈ کی”بابری مسجد کمیٹی“ کے ذریعے آخری مرحلے تک بابری مسجد کی پیروی کرنے والوں کی نگرانی فرمائی۔ اسی طرح پورے ملک میں اصلاح معاشرہ کی تحریک چلائی اور ملک کے مختلف ریاستوں اور اضلاع میں ”اصلاح معاشرہ کمیٹی“ تشکیل دئیے اور ساتھ ہی وحدت امت کیلیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ نے اپنی پوری زندگی تحفظ شریعت، وحدت امت اور اصلاح معاشرہ کیلیے وقف کردی تھی۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

 حضرت امیر شریعت علیہ الرحمہ کو اداروں اور تحریکوں کی قیادت اور تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ تالیف و تصنیف میں بھی یکساں عبور حاصل تھا۔ آپ نے اپنے زور قلم سے مختلف کتابیں مرتب فرمائی۔جس میں ”تصوف اور حضرت شاہ ولی اللہؒ“، ”بیت عہد نبوی میں آپکی منزل یہ ہے!“، ”دینی مدارس میں مفت تعلیم کا مسئلہ!“، ”سماجی انصاف، عدلیہ اور عوام“، ”شہنشاہ کونین کے دربار میں!“، ”حضرت سجاد، مفکر اسلام“، ”کیا 1857 پہلی جنگ آزادی ہے؟“، ”مجموعہ رسائل رحمانی“ وغیرہ حضرت ؒ کے تصنیفی کمالات کا شاہکار ہے۔ انکی بے لوث خدمات پر انہیں مختلف اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ انہیں بھارت جیوتی ایوارڈ، راجیو گاندھی ایکسلنس ایوارڈ، شکچھارتن ایوارڈ، سر سید ایوارڈ، امام رازی ایوارڈ، کولمبیا یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری قابل ذکر ہیں اور حضرت کے تدفین سے قبل حکومت بہار کی جانب سے سرکاری اعزازی سلامی بھی دی گئی۔

 شیخ طریقت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحبؒ نے تصوف و سلوک کے میدان میں بھی عظیم مقام پایا تھا۔ آپ اپنے والد گرامی حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ سے بیعت و مجاز تھے اور چاروں سلسلہ قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپکے دست مبارک پر تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد نے توبہ و بیعت کیا تھا۔ جس میں آپ کے خلفاء کی تعداد نو ہے۔ جو ملک کے مختلف حصوں میں اصلاحی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح حضرتؒ کو ہر میدان میں یکساں عبور حاصل تھا۔

 راقم السطور کو عالم اسلام کی جن عظیم المرتبت شخصیات کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا حسین موقع ملا ان میں مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ کی ذات گرامی بطور خاص شامل ہے۔ ماضی قریب کے سالوں میں جب بھی حضرت والا کا شہر گلستان بنگلور آمد مسعود ہوتا راقم بلا ناغہ انکی مجالس میں شریک رہتا۔ آپکی شخصیت تواضع و انکساری، خوش مزاجی و سادگی، تقویٰ و پرہیزگاری، شستہ و شگفتہ اخلاق کی حامل تھی۔ آپکی ذات عالیہ مسلمانان ہند کے لیے قدرت کا عظیم عطیہ تھی، جو انقلابی فکر اور صحیح سمت میں صحیح اور فوری اقدام کی جرأت رکھتے تھے۔ استقلال، استقامت، عزم بالجزم، اعتدال و توازن اور ملت کے مسائل کیلیے شب و روز متفکر اور رسرگرداں رہنا حضرت امیر شریعتؒ کی خاص صفت تھی۔ انکی بے باکی اور حق گوئی ہر خاص و عام میں مشہور تھی۔ عاجز کا جب بھی آبائی وطن جھارکھنڈ جانا ہوتا تو وہاں کی فضاء میں حضرت کی جرأت مندی، عزم و حوصلہ اور بے باکی نظر آتی، جس پر ہمارے گاؤں کے بزرگ اور رشتہ داروں کی زبان واضح ثبوت دے رہی ہوتی۔ یوں تو بنگلور میں حضرت کے مجالس میں شرکت کا موقع ملا لیکن بالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہو پایا لیکن دل میں ایک آرزو تھی کہ حضرت سے ایک دفعہ ضرور ملاقات کرنا ہے، لیکن اب یہ آرزو ایک حسین خواب ہی بن کر رہ گئی۔

آئے عشاق، گئے وعدہئ فردا لے کر

اب انھیں ڈھونڈ چراغ رج زیبا لے کر

 زندگی کے آخری لمحات میں حضرت امیر شریعتؒ جہاں امارت شرعیہ کے ”تحریک فروغ اردو“ کی قیادت فرما رہے تھے وہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ”آسان اور مسنون نکاح مہم“ کی سرپرستی فرما رہے تھے۔ اسی دوران اچانک طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے پٹنہ کے پارس ہاسپٹل بغرض علاج داخل کرایا گیا۔ جہاں علم و عرفان کے اس روشن ستارے نے 20؍ شعبان المعظم 1442ھ مطابق 03؍ اپریل 2021ء بروز سنیچر دوپہر ڈھائی بجے اپنی آخری سانس لیتے ہوئے اس دار فانی سے کوچ کر گئے،اناللہ وانا الیہ راجعون۔ آپکے انتقال کو دنیا بھر کے علماء و مشائخین نے عالم اسلام کیلیے ایک عظیم خسارہ قرار دیا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ ہر ایک غم و افسوس میں مبتلا تھا اور ہر کوئی تعزیت کا مستحق تھا۔ انکے انتقال سے آقائے دوعالم جناب محمد الرسول اللہﷺ کا یہ فرمان ”موت العالِم موت العالَم“ کہ ”ایک عالم دین کی موت پورے عالم کی موت ہے“ کا ہر کسی نے عملی مشاہدہ کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت امیر شریعتؒ کی خدمات کو شرف قبولیت بخشتے ہوئے انکی مغفرت فرمائے اور اعلیٰ علیلین میں جگہ نصیب فرمائے، ہم تمام کو انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو انکا نعمل بدل عطاء فرمائے۔ آمین

عجب قیامت کا حادثہ ہے، آستیں نہیں ہے

زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبیں نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا اب تک یقیں نہیں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا