ذکیہ شیخ صاحبہ سے ایک ملاقات

انٹرویو نگار: علیزے نجف

احساس انسان کو عطا ہونے والی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے احساس  ہی ہے جو کہ انسان کو اعلی مقام پر فائز کرتا ہے جب اس احساس کے ساتھ مسحور کن انداز بیان بھی انسان کو عطا کر دیا جاتا ہے تو ادب پیدا ہوتا ہے وہ ادب کبھی زبان و بیان کے ذریعے اپنے سامع پیدا کرتا ہے کبھی قرطاس پہ اتر کر تحریر کی صورت میں ڈھل کر اپنے قاری بھی پیدا کر لیتا ہے ۔ حس کی ستائش انسان کی فطرت میں ہے ہے یہ حسن و جمال قدرت نے صرف جسمانی تخلیق میں ہی نہیں بلکہ کم و بیش ہر شئے میں بڑے قرینے سے رکھا ہے بس ضرورت ہوتی ہے متلاشی نظروں کی جو کہ بالآخر اسے تلاش ہی لیتی ہے۔
ایک فنکار ہی ہے جو اپنے احساسات کو اپنے فن میں میں ڈھال کر زمانے کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے احساسات کا ترجمان بھی بن جاتا ہے یہی اس کی کامیابی کی اصل معراج ہوتی ہے  اس میدان میں ہمیشہ سے ہی لوگوں نے طبع ازمائیاں کی ہیں اور مختلف جہات کو سر کیا ہے اور لازوال مجتھدانہ کوششیں بھی کی ہیں جس کو کہ دنیائے ادب عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔

اسی ادب سے وابستہ ایک چراغ نے آزادئ ہند کے ابتدائی دنوں میں جنم لیا انھوں نے ساحر کو دیکھا فیض کو کلام کہتے ہوئے سنا  اور عصمت چغتائی کو قریب سے دیکھا اور ندا فاضلی اور جاں نثار اختر جیسے معتبر شعرا کی محفل میں شریک بھی ہوئیں جس نے ان کی موزوں طبیعت کو مہمیز دی اور ادب سے قریب تر کر دیا اتنا قریب کہ اشعار ان کے لفظوں میں ڈھل کر لبوں سے وارد ہونے لگے پھر ان کو یکجا کر کے احساس خیال کی صورت اپنا وجود رکھنے لگا جس نے ان کی شخصیت کو پہچان بخشی احساسات کو اڑان عطا کی اور خلوت و جلوت میں ان کا شریک راز بھی بن گیا میرے ان لفظوں کی مخاطب کوئی اور نہیں بلکہ ذکیہ شیخ ہیں جو اردو ادب کی بساط پہ ایک شاعرہ کی حیثیت سے اپنا آپ منوا چکی ہیں اردو ادب کی سب سے بڑی اور معتبر ویب سائٹ پہ ان کی غزلوں کا ہونا اور ان کے مجموعے کا شائع ہونا میرے بیان کی گئی تعریف و توصیف کی دلیل ہی تو ہے آئیے ان سے آج بنفس نفیس بات کرتے ہیں اور ان کی روداد سفر انھیں کی زبانی سنتے ہیں اور ادب کے تئیں ان کے والہانہ پن کی گہرائی یہ بھی ہم انھیں سے جانیں گے ۔علیزےنجف

علیزےنجف: آپ اپنے لفظوں میں ہمیں خود سے متعارف کروائیں اور یہ بھی کہ آپ کا تعلق کس خطے سے ہے اور اس خطے نے آپ کی شخصی نشو و نما میں کیا کردار ادا کیا ہے؟

ذکیہ شیخ : میرا نام ذکیہ ہے والد صاحب کا اسم گرامی عبد الستار تھا بنیادی طور پر تو میرے  والدین کا تعلق اتر پردیش  کےضلع اعظم گڑھ سے ہےجو شعرو ادب کے لیے زرخیز زمین کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے  مگر نان و جو کی تلاش  انھیں ممبئی لے آئی  میں نے ممبئی شہر کے ایک مشہورعلاقے بھنڈی بازار میں آنکھ کھولی اور یہیں کی پروردہ ہوں جو اس وقت  ادیبوں کا گڑھ کی حیثیت سے مشہور تھا یہاں پہ منعقد ہونے والے  جلسوں اور ادبی مجالس میں شمولیت کے مواقع نے میرے ذہن کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

علیزےنجف:  آپ نے کس ماحول میں آنکھ کھولی تھی اور اس وقت کے کن ماحولیاتی خصوصیات نے آپ کو از حد متاثر کیا اور اس وقت کی کن روایات نے آپ کو خائف کئے رکھا یا یہ کہ وہ آپ کو کبھی پسند نہیں آئیں اور کیوں؟

ذکیہ شیخ: یہ آزادی کے بعد کا دور تھا لوگوں میں وطن پرستی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا آج کی طرح مذہبی نفرتوں کی دیواریں درمیاں نہیں کھڑی کی گئی  تھیں محبت اور اخوت سے سبھی ایک ساتھ رہتے تھے خاندانی ماحول کچھ گھٹا گھٹا سا تھا لڑکیوں کو زیادہ پڑھانا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا مگر میرے والد ایک کشادہ ذہن کے مالک تھے میری بڑی بہن ہمارے خاندان کی پہلی خاتون تھی جس نے ان زنجیروں کو توڑا اور اعلی تعلیم کے لیے صوفایہ کالج میں داخلہ لیا اور گریجویشن کیا میرا ذہن  اس نابرابری پر بہت کڑھتا تھا ۔

علیزےنجف:  انسانی شخصیت کی تشکیل میں تعلیم کس طرح کا کردار ادا کرتی ہے آپ نے اسے کس طرح قبول کیا اور یہ کہ آپ نے کہاں تک تعلیم پائی اس تعلیمی سفر کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گی؟

ذکیہ شیخ: انسانی شخصیت کی تشکیل میں تعلیم کا بہت بڑا کردار ہے یہ شخصیت کو سنوارتی نکھارتی ہے آپ کے بہت سے مستور ہنر کو جلا بخشتی ہے حصول تعلیم۔کے معاملے میں ،میں کافی بدقسمت رہی کہ میرے لڑکپن میں ہی والد کا شفیق سایہ سر سے اٹھ گیا وہ دور بڑا کسمپرسی کا رہا سترہ سالہ بھائی کے سوا کوئی کفیل نہیں تھا اس لیے بڑی مشکلوں سے ایس ایس سی ڈی ایڈ تک کی تعلیم حاصل کی شادی کے بعد خانگی ذمہ داریوں نے سر اٹھانے کی مہلت نہیں دی ہاں مطالعہ کسی دور میں نہیں چھوٹا کہ اس کی عادت بچپن میں والد صاحب کی وجہ سے پڑ گئی تھی جب دوسری تیسری جماعت کی طالبہ تھی  تبھی کلیات اقبال کی "سچ کہہ دوں اے برہمن” اور ابوالکلام آزاد کے خطوط بڑے شوق سے پڑھتی تھی
بعد ازیں تعلیمی سلسلہ آگے بڑھانے کی سعی کی مگر ایکسیڈنٹ کے باعث گریجویشن  مکمل نہیں کر سکی

علیزےنجف:  آپ زندگی کو کس طرح دیکھتی ہیں کیا ہمارا زاویہ نظر زندگی کے تئیں ہمارے تجربے کو متاثر کرتا ہے ایک مثبت زاویہ نظر کی تشکیل کیسے کی جا سکتی ہے؟

ذکیہ شیخ : دیکھئے اس بات کو سبھی جانتے ہیں کہ ہر بشر کی  حیات اتار چڑھاؤ سے مرقوم ہے ہمارا زاویہ نظر  اس کو دیکھنے کے انداز کو بدل سکتا ہے اگر کسی ناکامی  کو یہ سوچ کر نظر انداز کردیں کہ "گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں ” تو ہمارے اندر آگے بڑھنے کا جوش زیادہ بڑھ جائے گا مایوسیاں حاوی نہیں ہوں گی اس کی تشکیل بچپن میں ہی کی جاسکتی ہے والدین اور بزرگوں اور  اساتذہ کے ذریعے جب بچے کوئی کام نہیں کر پاتے تو ان کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ نہ کرتے ہوئے اگر ان کا حوصلہ بڑھایا جائےکہ کوئی بات نہیں اور تھوڑی سی سعی کرلیں کام ہو جائے گا تو یقیناً مثبت زاویہ نظر تشکیل ہوگا اور منفی پہلو اور  مایوسیاں اپنے قدم نہیں جما پائیں گی میری اپنی زندگی اس کی مثال ہے ۔میں 2002 میں ایک زبردست روڈ ایکسیڈنٹ کا شکار ہوئی اور شکستہ بدنی کے ساتھ ایک پورا سال بیڈ پر گزار دیا مگر ہمت نہیں ہاری اگر اس وقت شکست مان لیتی تو شاید بستر تک ہی زندگی ٹھہر جاتی  آج آپ کو انٹرویو نہیں دے رہی ہوتی  اس کے بعد دو مزید حوادث کا سامنا میں نے کیا اور ہر بار اپنی ہمت کے بل بوتے  موت کو شکست دے آئی ایکسیڈنٹ کے بعد بھی میں نے تقریباً گیارہ سال تدریسی پیشے کو جاری رکھا ،گو کہ میرے ہاتھ ٹھیک طور پر کام نہیں کرتے مگر قلم چلاتی ہوں

علیزےنجف:  آپ اردو ادب کی بہترین شاعرہ ہیں کہتے ہیں شعر گوئی کو خداداد صلاحیتوں کے ذریعے ہی پروان چڑھایا جا سکتا ہے آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے اور نیز یہ کہ آپ کے اندر شاعری کا رجحان کیسے پیدا ہوا اور کس استاد کے زیر سایہ اس کو پروان چڑھایا؟

ذکیہ شیخ: یہاں آپ کے خیال کی میں تردید کرنا چاہوں گی میں کوئی بڑی شاعرہ نہیں ہوں اپنے آپ کو طفل مکتب ہی سمجھتی ہوں کہ سیکھنے کا عمل نفس آخر تک جاری رہتا ہے۔

گو کہ یہ شعر گوئی اللہ کا بخشا ہوا تحفہ ہے ہر کوئی شعر نہیں کہہ سکتا  اور اس میں مزید بہتری کا ذریعہ مطالعہ اور زندگی کے تجربات ہی ہیں شاعری کی جانب  رجحان بچپن سے ہی ہوا اور اس کا سہرا بھی میرے والد گرامی کے سر جاتا ہے وہ بہت سی ادبی تنظیموں سے وابستہ تھے اور ادبی ذوق رکھتے تھے انھیں کے منقعد کردہ مشاعروں میں میں بہت چھوٹی عمر سے ان کی انگلی پکڑ کر ساتھ جاتی تھی اور اسٹیج پر شعراء کے ساتھ بیٹھ کر مشاعرے سنتی تھی گو کہ اسوقت سمجھ نہیں آتا تھا مگر وہ کانوں کو بھلے لگتے تھے فیض احمد فیض صاحب کا ایک شعر  بزبان شاعران کا وہ گونجدار ،لب ولہجہ وہ پاٹ دار آواز  کا طلسم آج بھی میرے ذہن کے حافظے میں محفوظ ہے

متاع لوح وقلم چھن گئی تو کیا غم ہے 

کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے 

زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے 

ہر ایک حلقہء زنجیر میں زباں میں نے 

گو کہ معنی ومفہوم سے نابلد تھی مگر یہ محافل مجھے بہت پسند تھیں والد کی موت کے بعد میں اپنے خول میں بند سی ہوگئی ڈپلومہ آف ایجوکیشن کرتے وقت ہمارے اساتذہ نے اس صلاحیت کو پہچانا اورمضامین  لکھنے کی ترغیب دی کالج کی جانب سے صابو صدیق ہال میں  ہفتے کے دن  آدھادن کی  چھٹی دے کر ادبی نشستوں میں بھیجی جانے لگی جہاں ہر ہفتے کے شام  دوگھنٹوں کے لیے کسی شاعر یا ادیب کو بلایا جاتا تھا ان کا کوئی افسانہ  ،غزلیں یا کسی فکشن کے بعد سوالات کرنے کی اجازت ہوتی وہیں اردو کے بڑے شعرا اور ادیبوں سے ملاقات ہوئی جن میں عصمت چغتائی،ساحر لدھیانوی ،جاں نثار اختر  ,ندا فاضلی خاص طور پر قابل ذکر ہیں   وہیں سے اس شوق نے پھر جلا پائی  دوران تدریس چھوٹی موٹی نظمیں اور بچوں کی تقریر لکھتے وقت ایک آدھ مصرعہ تقریر کی ضرورت کے تحت ڈال دیتی تھی اور اپنے ٹوٹے پھوٹے  شعر اسٹاف روم کے تختہء سیاہ پر لکھا کرتی تھی دوبارہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ رٹائرمنٹ کے بعد 2016 شروع ہوا  جو اب تک جاری ہے استاد کی بابت کہوں گی میرا کوئی استاد نہیں ہے بس لے اور ردھم سے ہی اشعار لکھنے لگی سوشل میڈیا  پر ایک بچہ طہ ابراہیم نے کچھ تصحیح کی پھر خود ہی کتابوں کے ذریعے ردیف وقوافی  اور بحروں پر مشق کی

علیزےنجف: ایک فنکار اپنی ابتدائی عمر میں اپنی صلاحیتوں کی تسکین کے لیے اس شعبے سے وابستہ ماہرین کو نہایت دلچسپی سے پڑھتا ہے پھر یہیں سے وہ چلنا بھی سیکھ لیتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنی ابتدائی عمر میں کن شعرا و ادبا کو بہ کثرت پڑھا ہے اور کس سے آپ متاثر ہوئیں اور کیوں؟

ذکیہ شیخ: جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ مطالعے کا شوق بچپن سے ہمارے والد کی دین ہے میں نے  والد کی وجہ سے ہی اقبال کواور ابوالکلام آزاد کے خطوط وغیرہ کتابوں  کے نام مجھے یاد نہیں بچپن میں ہی زیر مطالعہ رہیں اور چڑا چڑے کی کہانی تقریباً روز ہی پڑھاکرتے تھے  ،سراج اورنگ آباد ی ،فانی ،میر تقی میر ،غالب، ذوق، فیض جوش، ابن انشاء جیسے بہت سے شعراء ہیں جن کے مجموعہ کلام  میں نے بچپن ہی میں اپنے والد کے ذخیرہ کتب سے پڑھے  ،مجھے اقبال کی  شاعری بہت پسند ہے اس کے بعد غالب و میر ہیں جن کے اشعار میرا دل کھنچتے ہیں

علیزےنجف:  انسان جو کہ اپنا ایک احساس رکھتا ہے جو مشاہدہ اور ذاتی تجربات کے  ذریعے اس کے اندر نمو پاتا ہے پھر وہ زبان یعنی لفظوں کے ذریعے اس کو دوسروں تک منتقل کرتا ہے گویا زبان کی اہمیت مسلم ہے میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ زبان نے تہذیب و ثقافت کی ترویج و ارتقاء میں کیا کردار ادا کیا ہے ؟

ذکیہ شیخ: دنیا کے ابتدائی دور میں زبان کا تصورتک نہیں تھا وہ اپنےاحساسات  و تجربات اشاروں کے ذریعےدوسروں تک پہنچاتا تھا تصاویر اور قدرتی مناظر کو اپنے احساسات وجذبات کی ترسیل کا ذریعہ بناتا تھا گزرتے وقت کے ساتھ انسان نے مختلف آوازوں کو جذبات کی ترسیل کا وسیلہ بنایاجس سے ترسیل خیالات کے لیے ایک زبان  وجود میں آئی ۔ آج جو تہذیب وثقافت کی ترویج وترقی ہے وہ اسی زبان کی خوبی کی مرہون منت ہے

علیزےنجف:  معاشرے کی اصلاح و ترقی میں ایک ادب کس طرح اپنا کردار ادا کرتا ہے کیا ادبی خصائص بھی عروج و زوال کا شکار ہو سکتے ہیں اس کے اتار چڑھاؤ کو کیسے پہچانا جاتا ہے؟

ذکیہ شیخ: بذریعہ ادب ہونے والے تاریخی واقعات اور سماج کے موجودہ رسم و رواج محفوظ دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں مستقبل کے لیے  ماضی کے یہ صحیفے پشت در پشت منتقل ہوتے رہتے ہیں ادبی زوال کا گہرا اثر ہماری  ادبی میراث  پر پڑتا ہے عراق کی جنگ کے دوران قدیم لائبریری کو تباہ کردیا گیا جس میں نایاب ادبی نوادرات جنھیں بہت جانفشانی سے ذخیرہ کیا گیا تھا پل کے پل میں تباہ کردیے گئے ادب کے اس ذخیرے میں اس دور کی اخلاقی ،سماجی اور روایتی پس منظر کی نمایاں تصویر مضمر تھی جو برباد ہو گئی یہ نوادر ادب  تاریخی دستاویز کی مانند ہوتے ہیں  ہے جو درجہ بدرجہ تہذیب وثقافت کی بہتری اور تنزلی کو اپنے اندر محفوظ رکھتے ہیں

علیزےنجف:  زبانوں کی موت کی بنیادی وجوہات کیا ہوتی ہیں  کسی زبان کو زندہ اور عالمگیر زبان بنانے کے لیے کس طرح کی کوششوں کو تسلسل کے ساتھ کرتے رہنا ضروری ہوتا ہے؟

ذکیہ شیخ: میرے نزدیک کسی بھی زبان کی موت کی بنیادی وجہ اس کا دوسری زبانوں کےجاننے والوں تک نہ پہنچنا ہے  زندہ وتابندہ رہنے کے لیے یا بقول آپ کے زندہ اور عالمگیر بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس زبان  کے ادبی و شعری تخلیقات محفوظ رکھے گئے ہوں اور ان کو عالم گیر بنانے کے لیے دنیا کی دوسری زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جانا چاہئیے کہ اس کے بغیر یہ ممکن نہیں اس کرہ ارض پر بے شمار زبانیں پڑھی جاتی ہیں انگریزی ادب ،فرانسیسی ادب ،چینی ادب کے بیشمار ادبی اثاثے  تراجم کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں  ان کےذریعے ہم نے ان کی  ادب تخلیقات  کو جانا ہے آزادی سے  پہلے انگریزوں نے ہماری زبان سیکھ کر کچھ کتابوں کے تراجم انگریزی زبان میں کئے ہیں میں ایکسیڈنٹ کے باعث اپنی کمزور یادداشت کے چلتے  نام یاد نہیں رکھ پاتی،  اپنے ادب کو دوسری زبانوں کے قاری تک پہنچانے کے لیے اشد ضروری ہے کہ اچھی ادبی تصنیفات کو دوسروں زبانوں  تک پہنچانے کا خاطر خواہ بندوبست کیا جائے

علیزےنجف:  کسی بھی زمانے کا ادب اپنے دور کی صورتحال کی نہ صرف ترجمانی کرتا ہے بلکہ اس میں رائج منفی عناصر کی نشاندھی بھی کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے سد باب کے لیے تجاویز بھی پیش کرتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ موجودہ ادب میں یہ خصوصیات کس حد تک پائی جاتی ہیں اور ان خصوصیات کو مزید کس طرح اجاگر کیا جا سکتا ہے ؟

ذکیہ شیخ:  ادب کسی بھی زمانے کا ہو وہ اپنے دور کا عکاس ہوتا ہے اس دور کی ایک مکمل تصویر ادب کے شہ پاروں میں ہمیں نظر آتی ہے موجودہ دور میں بھی بہت سے ایسے مصنفین ہیں جنھوں نے سماج کے ناسوروں،اور جلتے موضوعات پر قلم اٹھایا اور سماج میں معتوب ہوئے مگر پھر رفتہ رفتہ بدلتے زمانے اور ترقیاتی ادب کے ساتھ عوام کی عقل پر پڑے پردے صاف ہونے لگے ایسے تخلیق کاروں کی تصنیفات میں منٹو کے افسانے، عصمت چغتائی،اور واجدہ تبسم کے افسانے قرة العین حیدر کا ناول،آگ کا دریا  بانو قدسیہ کا راجہ گدھ وغیرہ پیش پیش ہیں ضرورت ہے کہ ادیب اور شعراء ایسے جلتے ہوئے عنوانوں پر قلم اٹھائیں اور  سوئے ہوئے سماج کو جگائیں آج کل منی افسانوں نے بھی اپنا مقام بنایا ہے جن میں چند ہی جملوں میں کلائمکس پر کوئی چونکا دینے والا المیہ ہوتا ہے جو روحوں کو جھنجھوڑتا ہے

 علیزےنجف:  سوشل میڈیا پر لکھاری اور شعرا کی ایک بڑی تعداد نظر آتی ہے جن میں سے بعض اپنے مشق مسلسل سے ادبی فن پر دسترس حاصل کر لیتے ہیں اور بعض ہیں جو درمیان میں ہی اٹکے رہ جاتے ہیں ان شعرا و ادبا کو آپ کیا مشورہ دینا چاہیں گی ایک نوخیز شاعر کو کن دو باتوں کا بنیادی طور پر خیال رکھنا چاہیے؟

ذکیہ شیخ : میرا مشورہ ان نوخیر شعراء کو یہ ہے کہ کسی فن پر عبور حاصل کرنے کے لیے  پہلے اس کے بنیادی اصولوں پر کام کرنا پڑتا ہے کیونکہ جب تک بنیاد مضبوط نہ ہو عمارت کی مضبوطی نا ممکنات میں سے ہے اس لیے ضروری ہے استاد شعرا کو پڑھیں اور شاعری کے بنیادی اصول سیکھیں زبان وبیان پر دسترس حاصل کرنے کی حتی المقدور از خود کوشش کریں  پھر مشق  کرتے رہیں   بنا محنت کے کسی بھی فن پر عبور حاصل کرنا  ناممکن سی بات ہے

علیزےنجف:  دنیا کے دوسرے علوم کی طرح اردو ادب کو بھی  کلاسیکیت اور جدیدیت کے خانے میں بانٹ دیا گیا ہے کیا ایسا کرنا ضروری تھا اور اس جدیدیت اور کلاسیکیت پر بات کر کے کیا اردو ادب کو اب تک کوئی فائدہ پہنچا ہے اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

ذکیہ شیخ: یہ ایک لمبی بحث ہے جس پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے مگر میں اختصار سے کام لوں گی کلاسیکیت اور جدیدیت دراصل مغرب سے  مستعار ہیں۔ کلاسیکی ادب ماضی کا وہ ادبی فن  ہے جو اپنے دور کی عظمت کا مینار کہا جاتا ہے اور موجودہ دور میں بھی اپنا مقام رکھتا ہے اور لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہے ولی تا غالب کے شعرائے کرام کو آج بھی مستند مانا جاتا ہے 1857کے بعد سے اردو ادب میں نمایاں تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں اور نئے نکتہ نظر اور نئے موضوعات زیر قلم آنے لگے اس باعث آپسی تنافرات کی بناء پر مصنفین دو گروپوں میں بٹ گئے جس کا اثر بلاشبہ زبان وادب پر پڑنا لازم و ملزوم ہے میں یہ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ کلاسیکیت وجدیدیت کے مابین  تنازعات کے باعث جہاں ادب کو کچھ نئی جہات ملیں وہیں کلاسیکیت کو نقصان بھی پہنچا  مگر یہ زمانے کا دستور ہے کہ ہر بدلتے دور اور وقت کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن کا ادب سے جڑنا لازم و ملزوم ہے جنھیں نہ آپ روک سکتے ہیں اور نہ میں  یہ ہونا ہے اور ہوتا رہے گا کہ یہی نئے طرز تحریر وموضوعات  آنے والے زمانے کے لیے دور حاضر کے ادب کی مستند دستاویز ہوں گی یہ محض میری رائے ہے آپ کا اس سے متفق ہوناضروری نہیں

علیزےنجف:  آپ اردو ادب کی کہنہ مشق شاعرہ ہیں  آپ کے بےشمار کلام منظر عام پر آ چکے ہیں کیا آپ نے ان کو  کتاب کی صورت مرتب کیا ہے اگر ہاں تو اس ضمن میں ہمارے قارئین کو مختصراً بتائیں؟

ذکیہ شیخ: جی ہاں میرا ایک مجموعہ کلام "عکس خیال” کے نام سے منظر عام پر ہے جسے لوگوں نے سراہا ہے پچھلے سال مہاراشٹر اردو اکیڈمی کی جانب سے اسے انعام سے نوازا گیا ہے میری کتاب اورچند غزلیں  اردوکی سب سے بڑی ویب سائٹ ریختہ پر بھی موجود ہیں
دوسرا مجموعہ ابھی زیر ترتیب ہے انشاء اللہ بہت جلد وہ بھی اشاعت کے مراحل میں ہوگا

علیزےنجف:  آپ کی زندگی کے شب و روز کن کن طرح کے مشاغل کے ساتھ گذرتے ہیں آپ کی شخصیت میں کیا مزاح کا عنصر شامل ہے یا خود کو ایک سنجیدہ انسان کی طرح دیکھتی ہیں؟

ذکیہ شیخ: میرے روز شب مطالعہ اور شعر گوئی میں گزرتے ہیں فارغ البال ہوں امور خامہ داری ایکسیڈینٹ کے بعد سے میرے بس میں نہیں رہی اپنے گھر تک ہی محدود ہوں اس لیے آپ مجھے ایک سنجیدہ خاتون ہی کہہ سکتی ہیں

 خیال و خواب ہوئے ہیں وہ روز وشب سارے 

کہ جن میں شوخیوں ،رنگینیوں کا جلوہ تھا 

علیزےنجف:  ہر فن کا ایک اصول ہوتا ہے اسی طرح شاعری کا بھی ہے جسے علم عروض کہتے ہیں میرا سوال یہ ہے کہ ایک عمدہ کلام کہنے کے لیے آپ علم عروض کو کس قدر ضروری خیال کرتی ہیں کیا اس کے بغیر بھی روانی اور خداداد صلاحیت کے ساتھ موزوں کلام کہے جا سکتے ہیں؟

ذکیہ شیخ : اس میں کوئی شک نہیں کہ شعر کہنے کی صلاحیت خدا کی ودیعت کردہ ہے ایک بہترین  نثر نگار اپنے قلم کی طاقت سے آپ کے ذہن دل پر اثر انداز ہوسکتا ہے مگر شعر نہیں کہہ سکتا  قدرت کی ودیعت کردہ اسی خدا دااد صلاحیت کے تحت کلام کہے جاسکتے ہیں مگر جس طرح کسی کام کی محض صلاحیت رکھنا اور کسی کام میں مہارت حاصل کرنا دو الگ باتیں ہیں اسی طرح علم عروض شعر کو حسن بخش دیتا ہے عروض پر مکمل دسترس ضروری نہیں مگر اس کی تھوڑی بہت معلومات ضرور ہونی چاہیے

علیزےنجف : رسم الخط کسی زبان کی پہچان ہوتے ہیں بولنے کے ذریعے اگرچہ زبانیں خلط ملط ہو سکتی ہیں لیکن رسم الخط میں اس کی انفرادیت قائم رہتی ہے اردو رسم الخط میں رومن رسم الخط کی تخلیط نے اردو ادب کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے ؟

ذکیہ شیخ : یہ  سوال بہت اہم ہے بےشک رسم الخط  زبان کی پہچان ہوتی ہے جہاں وہ اپنی اصل شکل اور تلفظ ومخرج کی اصل ہیئت کے ساتھ محفوظ ہوتی ہے رومن رسم الخط نے اردو ادب کو بہت نقصان پہنچایا ہے اس کا لب ولہجہ ،الفاظ کا تلفظ ، اردو الفاظ کی ہئیت سب کچھ مسخ سا ہو کر رہا گیا خانہ اور کھانا میں کچھ فرق نہیں رہ گیا یہ اردو زبان کی خوبصورتی اور اس کے تلفظات کا بیڑہ غرق کر رہا ہے

علیزےنجف:  کہتے ہیں ایک فنکار قدرت کی صناعی کو اپنے فن کے ذریعے انسان کے ذہن کے کینوس پر اتارنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے کیا آپ نے بھی ایسی کوششیں کی ہیں آپ کو فطری مناظر سے کس حد تک لگاؤ ہے؟

ذکیہ شیخ : مجھے فطری مناظر سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ ہے چاندنی راتیں ،
رم۔جھم برستی بارشیں ، سمندر کے کنارے شام کا منظر، اور شہر کی بھیڑ بھاڑ سے دور کہیں سبزہ زار
مجھے اپنے آپ سے بیگانہ کر دیتے ہیں  یہ کیفیت میرے اشعار میں بھی اکثر ملتی ہے

علیزےنجف:   انسان کو اپنے آپ سے بھی پیار کرنا چاہیے جیسے کہ وہ اوروں سے کرتا ہے میرا سوال یہ ہے کہ آپ کا خود کے ساتھ کیسا رشتہ ہے اور اپ کو اپنی کون سی عادت بہت پسند ہے؟

زکیہ شیخ اگر میں کہوں کہ میں ہمیشہ سے ایک  لاپرواہ  اور لاابالی رہی ہوں تو میرے ملنے والے اس کی تائید کریں گے

 میں نے ہمیشہ دوسروں کو اپنے آپ سے برتر رکھا اور یہ کوشش کی ہے کہ میری وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو میں کسی کو مصیبت میں نہیں دیکھ سکتی ہرایک کے کام آنے کی کوشش کرتی ہوں اور اپنی یہ عادت مجھے پسند ہے

علیزےنجف:  ایک بہترین ادب کی تخلیق کے لیے آپ مطالعہ کو کس قدر اہمیت دیتی ہیں کیا اس کی کمی ادب کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے؟

بلاشبہ ایک بہترین ادب کی تخلیق کے لیے  مطالعے کی اہمیت روز روشن کی مانند عیاں ہے مطالعہ سے آپ کا منظر اور دائرہ تصور وسیع ہوتا ہے غور وفکر کے در وآ ہوتے ہیں دنیا میں کہاں کیا کچھ ہورہا ہے کیا کچھ پیش آرہا ہے ادب اس کا آئینہ دار ہوتا ہے اگر ہمارا مطالعہ وسیع نہیں  ہے تو ہماری تخلیق کا آسمان کنوئیں کے مینڈک کی طرح  محدود سی دائرہ فکر کا نتیجہ ہوگی

علیزےنجف :  آپ کے اطراف میں اردو ادب کی نشوونما کیا قابل اطمینان ہے یا یہ زبوں حالی کی شکار ہے اس کو بہتر بنانے کے لیے آپ نے اب تک کیا کوششیں کی ہیں  اور اس کو بہتر بنانے کے آپ ہمیں کیا مشورہ دینا چاہیں گی؟

ذکیہ شیخ: میں جہاں رہتی ہوں یہاں تو اردو اخبار بھی دستیاب نہیں ویسے ممبئی ہمیشہ ادب پسندوں کا گڑھ رہا ہے یہاں کی سرزمین زرخیز ہے اردو ادب کی نشونما کے لیے ضروری ہے کہ اردو داں طبقہ  فعال ہو ، اور اردو کے تئیں سنجیدگی سے سوچے نئی نسل میں اردو عنقا ہوتی جارہی ہے جو اردو کے لیے فال بد ہے جب اردو پڑھنے والے باقی نہیں رہی۔ گے تو اس کی نشونما کس طرح ممکن  ہوگی  یہ بڑا سوال ہے اس پر سوچنا ضروری ہے اس کے لیے چاہئیے کہ بطور ایک زبان ہی سہی   اردو جاننے والے اپنے بچوں کو بھ  اردو سے روشناس کرائیں۔

تبصرے بند ہیں۔