زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

عبداللہ زکریا ندیم
بات سنہ 1981 کی ہے ۔میری عمر تقریباً بارہ سال تھی ۔ایک فلم کے بہت چر چے تھے اور حالانکہ میں ایک مدرسہ میں زیرِ تعلیم تھا اور فلمیں دیکھنا بہت معیوب مانی جاتی تھی ،میں مچل گیا کہ یہ فلم میں ضرور دیکھوں گا ۔ناچار ماں نے ہتھیار ڈال دئے لیکن اجازت ایک شرط پر ملی کہ کوئی بڑا بھی ساتھ میں جائے گا ۔یہ فلم کرانتی تھی اور دلیپ کمار سے یہ میرا پہلا تعارف تھا ۔منوج کمار عموماً حب الوطنی کے موضوع پر فلمیں بناتے تھے اور ہر فلم میں انکا نام بھرت ہوتا تھا،اس لیے بھارت کمار کے نام سے جانے جاتے تھے ۔یہ فلم بھی انھیں کی ڈائریکٹ اور پروڈیوس کی ہوئی تھی ۔دلیپ صاحب نے اس فلم میں ایک مجاہد آزادی کا رول کیا تھا اور منوج کمار انکے بیٹے بنے تھے۔آزادی کے موضوع پر بنی یہ فلم باکس آفس پر بہت کامیاب رہی اور ایک گانا “پیار کر لے گھڑی دو گھڑی “بہت مشہور ہوا۔میرے ذہن سے بھی یہ بہت دن تک چپکا رہا ۔ایکٹنگ وغیرہ کی سمجھ تو تھی نہیں لیکن دلیپ صاحب کا ایک نقش دل پر ضرور بن گیا ۔اس وقت کہاں خبر تھی کہ جس شخص کو میں پردہ سیمیں پر دیکھ رہاہوں ،ایک دن انھیں اپنے سامنے گوشت پوست میں نہ صرف موجود پاؤنگا بلکہ وہ میرے کیمرے کے سامنے بھی بیٹھے ہونگے ۔جامعہ ملیہ سے ماس کمیونیکیشن کا کورس کر کے میں این ڈی ٹی وی میں ملازمت کر رہا تھا اور اتوار کی رات ہم ایک اسپیشل شو کرتے تھے جس کے لیے یہ انٹرویو ریکارڈ ہو رہا تھا ۔عموماً ایسے شوز میں “گیسٹ ““لائیو”ہوتے ہیں لیکن ہمیں معلوم تھا کہ رات میں دلیپ صاحب ہمارے ساتھ لائیو نہیں جڑ پائیں گے ،اس لیے ہم دن میں ہی یہ انٹرویو ریکارڈ کر رہے تھے اور اسے رات میں اس طرح “پلے “کئے جانا تھا کہ لگے کہ لائیو ہے ۔ٹیلیویژن انڈسٹری میں اس ٹیکنیک کو سم سیٹ (Simsat ) کہا جاتا ہے اور یہ بہت عام ہے ۔بس اتنا دھیان رکھنا پڑتا ہے کہ انٹرویو اگر رات میں دکھایا جانا ہے تو بیک گراؤنڈ ایسا رکھا جائے کہ معلوم نہ ہو کہ دن ہے کہ رات ۔ہمارے اعصاب پر دلیپ صاحب سوار تھے اور ان کو امپریس کرنے کے لیے ہم نے لائٹ کی مدد سے دیواروں پر کچھ “پیٹرن” بنائے تھے ۔اس سب میں ہم بھول گئے کہ انٹرویو رات میں دکھایا جانا ہے ۔دلیپ صاحب نے آتے ہی ہماری کلاکاری پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا یہ کیا “نقش ونگار”آپ نے دیواروں پر بنائے ہیں ۔انٹرویو شروع ہوا اور اس طرح کے انٹرویوز میں گیسٹ کو ہمیشہ کیمرے میں دیکھنا ہوتا ہے گویا کہ سوال کیمرہ ہی پوچھ رہاہے تاکہ جب ناظرین دیکھیں تو انھیں لگے کہ “گیسٹ “اینکر سے بات کر رہا ہے ۔دلیپ صاحب تو اپنی فلموں تک میں آدھے سمے کیمرے میں نہیں دیکھتے تھے ،ہمارے کیمرے میں خاک دیکھتے ۔جواب دیتے وقت وہ دائیں بائیں اوپر نیچے ،خلا میں ہر جگہ دیکھ رہے تھے سوائے ہمارے کیمرے کے ۔ایک بار جی کڑا کر کے ہم نے دھیرے سےکہاکہ سر “لُک “کیمرے میں چاہیے لیکن انھوں نے سنی ان سنی کر دی اور دوبارہ کچھ کہنے کی ہمت ہمیں بھی نہیں پڑی ۔انٹرویو ریکارڈ ہونے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ یہ تو پورا دن دکھائی دے رہا ہے لیکن اب کچھ ہو نہیں سکتا تھا ۔رات کے شو میں جب یہ انٹرویو چلا تو اینکر پنکج پچوری کویہ وضاحت کرنی پڑی کہ یہ انٹرویو لائیو نہیں ہے بلکہ پہلے ہی دن میں ریکارڈ کیا جا چکا ہے ۔یہ تھی دلیپ صاحب سے ہماری ایک یادگار ملاقات ۔اس کے بعد ایک فنکشن میں انکی فی البدیہہ تقریر تو سنی لیکن کچھ ریکارڈ کرنے کی نوبت پھر نہیں آئی ۔
دلیپ صاحب کی شخصیت بہت ہمہ جہت تھی اور ان کے انتقال کے ساتھ ہی نہ صرف یہ کہ ایک عہدِ زریں کا خاتمہ ہو گیا بلکہ وہ اردو کلچر بھی ختم ہو گیا جو ایک زمانہ تک فلموں کا جزو لا ینفک تھا ۔دلیپ صاحب کے ہم عصروں میں راج کپور اور دیو آنند بڑی مقناطیسی شخصیت کے ما لک تھے اور دلیپ صاحب کے ساتھ اس مثلث کا حصہ تھے جس نے بہت عرصہ تک انڈسٹری پر ایک طرح سے قبضہ جما رکھاتھا ۔اور بہت اچھے ایکٹر تھے جیسے راجکمار جن کا ڈائیلاگ بولنے کا اپنا ہی انداز تھا اور عوام میں بہت مقبول تھا ۔راجندر کمار تھے جو ایک زمانہ میں جوبلی کمار کے نام سے جانے جاتے تھے کہ انھوں نے لگاتار دس سے زیادہ ایسی فلمیں دیں جو سلور جوبلی ہوئیں لیکن دلیپ صاحب کا جادو اور نشہ الگ ہی تھا ۔ایکٹنگ کے ساتھ ان کا جمال بھی دلوں کو دھڑکائے اور گر مائے رکھتا تھا۔ان پر فلمایا گانا “اڑیں جب جب زلفیں تیری “ آج بھی کنواریوں اور بیا ہتا دونوں کے دلوں کو مچلنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔شاید یہ ہندی فلم کا واحد گانا ہے جو ایک “میل ایکٹر “پر فلمایا گیا ہے اور جہاں ایک آدمی کے حسن کی تعریف ہو رہی ہے ۔(بہت لوگوں کا خیال ہے کہ شاہ رخ خان کی کامیابی میں اس بات کابھی بڑا ہاتھ ہے کہ وہ جوانی کے دلیپ کمار سے ملتے ہیں ) ۔
دلیپ صاحب کی فلموں میں آمد کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے ۔بامبے ٹاکیز کے مالک ویسے تو ہمانشو رائے تھے لیکن کرتا دھرتا انکی بیوی دیویکا رانی تھیں ۔وہ بہت کامیاب اور خوبصورت اداکارہ تھیں اور انھیں اپنی آنے والی فلم کے لیے ایک نیا اور خوبرو چہرہ چاہیے تھا ۔نظر انتخاب دلیپ صاحب پر پڑی ۔دیویکا رانی نے ان سے صرف ایک سوال آپ کو اردو آتی ہے ؟اس زمانہ میں ایکٹرز اور رائٹرز اسٹوڈیوز کے باقاعدہ ملازم ہوتے تھے اور انھیں ماہانہ تنخواہ ملا کر تی تھی ۔دلیپ کمار صاحب کو 1250 روپیہ ماہانہ تنخواہ پر ملازم رکھ لیا گیا ۔حالانکہ دلیپ صاحب خود اعتراف کر تے ہیں کہ انھیں ایکٹنگ کا کوئی شوق نہیں تھا بلکہ وہ اپنے والد کے بزنس میں ان کا ہاتھ بٹانا اور خاندان کی ذمہ داریاں اٹھانا چاہتے تھے ۔اس زمانہ کے سب سے مشہور فلم جرنلسٹ بنی روبین نے ،جو کہ بعد میں دلیپ صاحب کے بہت قریبی دوست بھی بن گئے ،دلیپ صاحب پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے Dilip Kumar A definitive biography ۔اس کتاب میں دلیپ صاحب بتاتے ہیں کہ انھیں فلموں سے زیادہ کرکٹ اور فٹبال کا شوق تھا ۔اور انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ فلموں میں کام کریں گے ۔حالانکہ ان کے خالصہ کالج کے دوستوں میں راج کپور بھی تھے اور کپور اور خان فیملی کے درمیان بہت خوشگوار تعلقات تھے کیونکہ دو نوں کا تعلق پشاور تھا اور وہ پشتو میں ہی بات چیت کر تے تھے ،لیکن دلیپ کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی ایکٹر بننے کا خیال نہیں تھا ۔راج کپور بتاتے ہیں کہ دلیپ صاحب کالج میں انتہائی شرمیلے تھے اور اگر کسی پلے میں ان سے ایکٹنگ کرنے کے لیے کہا جاتا تو وہ شرم سے سرخ ہو جاتے ۔کسی کو کیا خبر تھی یہی شرمیلا لڑکا ایک دن فلم انڈسٹری پر راج کرے گا ۔دلیپ صاحب نے حامی تو بھر لی لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ تھاکہ والد کو کیسے بتایا جائے۔وہ ایکٹنگ وغیرہ کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے ۔تر کیب یہ سوچی گئی کہ نام ہی تبدیل کر دیا جائے اور اس طرح یوسف خان دلیپ کمار بن گئے ۔جوار بھاٹا انکی پہلی فلم تھی جو بری طرح سے فلاپ ہوئی ۔فلم انڈیا کے ایڈیٹر بابو راؤ پٹیل نے ،جو اپنے تیکھے رویوز کے لیے جانے تھے،لکھا کہ اگر اس لڑکے کو آگے کسی کو اپنی فلم میں لینا ہے تو پہلے اسے بہت ساری وٹامن کی گولیاں اور پروٹین سے بھر پور غذا کھلائے ۔اسکے بعد ریلیز ہوئی فلمیں بھی کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑ پائیں ۔1947 میں ریلیز ہوئی فلم جگنو نے پہلی بار انکی صلاحیت کو اجاگر کیا اور پھر 1949 میں محبوب خان کی فلم انداز نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہونچا دیا ۔نمی جو اس فلم کا حصہ تھیں وہ دلیپ صاحب کی خود نوشت سوانح عمری “Dilip Kumar:The Substance And Shadow “میں بتاتی ہیں کہ “انھیں اور ان کی نانی دونوں کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ محبوب خان نے ایک ایسے آدمی کو کیوں اتنا مشکل رول دیاہے جسے ایکٹنگ تک نہیں آتی ہے ۔لیکن جب انھوں نے تھیٹر میں فلم کا پہلا شو دیکھا تو انھیں لگا کہ ان کے خیالات کتنے احمقانہ اور حقیقت سے دور تھے ۔دلیپ صاحب ہر سین میں چھائے ہوئے تھے ۔اور نرگس اور راج کپور کے ہوتے ہوئے بھی پوری فلم صرف ان کے اردگرد گھوم رہی ہے” ۔اس کی کامیابی میں سب سے بڑا ہاتھ انھیں کا تھا ۔دلیپ صاحب نے اس کے بعد پیچھے مڑکر نہیں دیکھا ۔دیدار اور دیوداس کے بعد تو وہ “ٹریجڈی کنگ” کہلائے جانے لگے لیکن ان جاں گسل اور جذباتی طور پر اندر سے توڑ دینے والے کرداروں نے ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالنے شروع کر دئے ۔ایک ماہر ّ نفسیات نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ آگے سے تھوڑے ہلکے پھلکے کردار نبھا ئیں۔”آزاد “کوہ نور “اور رام شیام میں ہمیں ایک الگ دلیپ کمار دکھائی دیتے ہیں لیکن یہاں بھی ان کے فن کا طوطی بولتا ہے ۔اگر شائقین “مغل اعظم “میں ان کے کردار کے دیوانے ہیں تو رام اور شیام میں ان کے ڈبل رول کی بھی دھوم مچی ہوئی ہے ۔اتنے فطری انداز میں انھوں نے کامیڈی کی ہے وہ آگے آنے والوں ایکٹروں کے لیے ایک مشعلِِ راہ بن گئی ۔ان کی ایکٹنگ کی سب سے بڑی اور جامع تعریف ستیہ جیت رے نے ان الفاظ میں کی ہے “He is the ultimate method actor” دلیپ صاحب کو جب کسی نے یہ “کومپلیمینٹ”سنایا تو انھوں نے کہا کہ “یہ میتھڈ ایکٹنگ کس چڑیا کا نام ہے “دلیپ صاحب اپنے کرداروں میں جان ڈالنے کے کئے بہت محنت کر تے تھے ۔نیا دورمیں ایک تانگے والے کا رول کرنے کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک تانگہ والے سے ٹریننگ لی ۔اسی طرح ایک فلم میں انھیں ستار بجانا تھا سو انھوں نے “جعفر خانی باج “ کے استاد عبد الحکیم جعفر خان “سے ،اس بات کی تربیت لینے کے لیے کہ ستار صحیح ڈھنگ سے کیسے پکڑا جاتا اپنی انگلیاں تک زخمی کر لیں ۔امیتابھ بچن نے انھیں ان الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے “when the history of Indian cinema will be written ,it will always have before Dilip Kumar and after Dilip Kumar “
ایک زمانہ میں اس بات پر بہت بحث ہوتی تھی کہ بڑاایکٹر کون ہے دلیپ صاحب یا امیتابھ بچن ۔دلیپ صاحب نے “شکتی “میں اس بحث کو ہی ختم کر دیا ۔فلم دیکھ کر راج کپور نے کہا “لا لے تو نے آج ثابت کر دیا کہ فلم انڈسٹری میں تجھ سے بڑا ایکٹر کوئی نہیں ہے “
دلیپ صاحب کی شخصیت بہت جامع ،متنوع اور ہمہ جہت تھی ۔اداکاری کے تو وہ استاد تھے ،گفتگو بھی بہت سلیقہ سے کرتے ۔بات کرتے توگویا زبان سے پھول جھڑ رہے ہوں۔اس میں انکی اردو دانی اور اشعار کو بر جستہ اور بر محل ادا کرنے کی ان کی صلاحیت کا بڑا رول تھا ۔ٹام آلٹر کا یہ قصہ تو بہت مشہور ہے کہ جب وہ ایف ٹی آئی آئی سے ایکٹنگ کا کورس کر کے عملی میدان میں آئے تو ایک بار دلیپ صاحب سے ملاقات کے دوران انھوں نے اچھی ایکٹنگ کا راز پوچھا۔دلیپ صاحب نے کہا اردو کو اوڑھنا بچھونا بنا لو ۔اشعار حفظ کر لو ۔دراصل وہ کہنا چاہتے کہ اردو شعراء نے ایک ہی بات کو کئی کئی پیرا یہ میں بیان کیا ،اسی طرح ایکٹنگ کی کُنہ یہ کہ ایک آدمی ایک ہی جذبہ کو مختلف انداز سے پیش کر سکے ۔لتا منگیشکر کی گائکی کے ابتدائی دن تھے ۔ایک بار ریکارڈنگ میں ایک لفظ ان سے صحیح طریقہ سے ادا نہیں ہو رہاتھا ۔تلفظ ٹھیک نہیں تھا ۔دلیپ صاحب لہجہ اور تلفظ کے معاملہ میں بہت سخت تھے ۔انھوں نے کہا کہ اگر گائیکی میں آگے بڑھنا ہے تو اردو سیکھنی پڑے گی ۔تلفظ درست کرنا پڑے گا ۔لتا جی نے یہ بات پلے باندھ لی اور آج آپ ان سے کوئی لفظ غلط مخرج کے ساتھ نہیں سنیں گے ۔
گلزار صاحب کوئنٹ (Quint ) کوانٹرویو دیتے ہوئے ،بتاتے ہیں کہ ،جب وہ “سنگھرش “فلم میں اسسٹنٹ تھے ،تو دلیپ صاحب کے ساتھ بہت قریب سے کام کرنے کا موقع ملا ۔دلیپ صاحب چونکہ اپنے ابتدائی ایام میں بامبے ٹاکیز میں اسکرپٹ رائٹرز کے ساتھ کام کر چکے تھے ،اس لیے انھیں ڈائیلاگ لکھنے کا تجربہ تھا ۔وہ اپنے ڈائیلاگ خود اردو میں لکھتے اور پھر یاد کر تے تھے ۔”گنگا جمنا” کے بارے میں مشہور ہے کہ پوری فلم انھوں نے “گھوسٹ رائٹ اور ڈائریکٹ کی ہے “گلزار صاحب کی مانیں تو شاعروں میں انھیں نظیر اکبر آبادی بہت پسند تھے اور انھوں نے بارہا نظیر کی نظمیں انھیں سنائی تھیں ۔
دلیپ صاحب کو انکی خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن اور پدم وبھوشن سے نوازا گیا لیکن سرحد پار نشانِ امتیاز قبول کرنے کے ان کے فیصلہ کو لیکر شیوسینا نے بہت اودھم مچائی حالانکہ وہ سینا سپریمو بال ٹھا کرے کے “بیر پارٹنر “ کہے جاتے تھے ۔پٹھان نے جھکنا نہیں سیکھا تھا ،اس لیے باقاعدہ ایک تقریب میں انھوں نے یہ ایوارڈ قبول بھی کیا ۔پاکستان کو لیکر ہندوستانی مسلمانوں کی گھیرنے کی کوشش ہمیشہ ہوتی رہی ہے لیکن دلیپ صاحب کے پائے استقلال میں لرزش نہیں آئی ۔انھوں نے دیپا مہتا کی فلم “فائر”کا بھی سپورٹ کیا تھا جس کو لے کر بھی شیو سینا نے بہت ہنگامہ کیا ۔دلیپ صاحب مسلمانوں کی آڈنٹیٹی کولے کر کیا سوچتے تھے اس کو جاننے کے لیے ایک واقعہ کا تذ کرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا ۔کارگل میں جنگ چل رہی تھی اور ایک دن اٹل بہاری واجپائی نواز شریف سے ہاٹ لائن پر بات کر ہے تھے کہ کس طرح ان کے اعتماد کو ٹھیس پہونچائی گئی ہے ۔کارگل میں پاکستانی افواج کی موجودگی سے نواز شریف انکار کر رہے تھے ۔واجپائی جی نے ایک موقع پر کہا کہ میرے ساتھ اس وقت ایک اور صاحب موجود ہیں جو آپ کی پوری بات چیت سن رہے ہیں ۔اگلی آواز آپ ان کی سنیں گے ۔یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ دلیپ صاحب تھے جنھوں نے نواز شریف سے یہ کہا کہ آپ لوگوں کی احمقانہ حر کتوں سے ہندوستانی مسلمانوں کو جس اذیت سے گزرنا پڑتا ہے ،اس کا کچھ احساس ہے آپ لوگوں کو؟
دلیپ صاحب کا تذکرہ نامکمل رہے گا اگر مدھو بالا کا ذکر نہ آئے ۔ان کا عشق بالکل اساطیری داستانوں جیسا تھا ۔وہی بیچ میں ظالم سماج کا قصہ ۔مدھو بالا کے والد کو یہ تعلق ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اور وہ ہر وہ کوشش کر تے رہے جس سے عاشقوں کی یہ جوڑی ٹوٹ جائے۔آخر میں “نیا دور “میں انھیں یہ موقع مل گیا۔مدھو بالا کے والد سے تنازع کے بعد بی آر چوپڑہ انھیں فلم سے نکال دیا ۔تنازع اتنا بڑھا کہ بات کورٹ کچہری تک پہونچ گئی ۔دلیپ کمار نے کورٹ میں بی آر چوپڑہ کے حق میں بیان دیا جس سے مدھو بالا کافی ناراض ہو گئیں ۔والد سے معافی مانگنے کے لیے کہا لیکن دلیپ صاحب نے منع کر دیا اور اس طرح یہ جوڑی ٹوٹ گئی۔جس وقت مغل اعظم بن رہی تھی ،یہ دونوں ایک دوسرے سے بات چیت تک نہیں کر رہے تھے لیکن فلم میں ان کی کیمسٹری کمال کی دکھائی دیتی ہے جو ان کے کمالِ فن کی مثال ہے ۔
ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے ،یہ تو ہم بارہا سنتے چلے آرہے ہیں لیکن حقیقت میں دیکھنا ہو تو سائرہ بانو سے بہتر مثال نہیں ملے گی ۔ان کی شادی کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے ۔سائرہ بانو راجندر کمار کے عشق میں پاگل تھیں ۔ان کی والدہ پری چہرہ نسیم اس بات سے بے حد پریشان تھیں ۔انھوں نے دلیپ صاحب سے مدد مانگی ۔سائرہ بانو اوردلیپ صاحب کی اس سلسلہ میں ایک ملاقات ہوئی ۔بہت سمجھانے بجھانے پر بھی وہ راجندر کمار کو چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں ۔آخر میں انھوں نے ایک شرط رکھی کہ اگر وہ یعنی دلیپ کمار ان سے شادی کرنے کو تیار ہو جائیں تو وہ راجندر کمار کو چھوڑ دیں گی اور اس طرح یہ شادی ہو گئی ۔جس طرح سے ،انھوں نے دلیپ صاحب کا خیال رکھا اور ہر موقع پر ڈھال بن کر کھڑی رہیں ،فلمی دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔بیچ میں ان کی ازدواجی زندگی میں ایک بھونچال بھی آیا ،جب دلیپ صاحب نے اولاد کی خواہش میں اسماء نام کی ایک عورت سے شادی کر لی ،لیکن یہ تعلق زیادہ دن نہیں چلا اور سائرہ بانو نے اپنی محبت سے انھیں پھر جیت لیا ۔وہ ہمیشہ انھیں صاحب ہی کہتی رہیں اور اپنی پوری زندگی ان کی خدمت کرتے گزار دی ۔
دلیپ صاحب تو اس دارِ فانی سے چلے گئے کہ ہر ذی روح کو جانا ہے لیکن وہ اپنی بے مثال اداکاری ،نہ بھولنے والی فلموں اور اپنی بلند اخلاقی سے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

تبصرے بند ہیں۔