شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فاروقیؒ 

مفتی محسن احسان رحمانی

 رخِ حجاز کی تنویر تھا جمال تِرا

 جبینِ ہند کی تقدیر تھا جلال تِرا

          عظیم مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کی وفات سے چار سال قبل؛ شوال، سال ١١١٤ه‍ (۱۷۰٣ء) بدھ کے دن سورج کی شعاعوں کے نمودار ہونے کے ساتھ قصبہ "پھلت” ضلع "مظفر نگر” (یوپی) کی سرزمین پر فقہ حنفی کے جید عالم دین، صاحب کشف و کرامات مولانا شاہ عبد الرحیم اور علوم شرعیہ کی عالمہ، اسم با مسمی، فخر النساء صاحبہ کے گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کا نام قطبِ وقت قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ کے اشاراتِ غیبی پر ولی اللہ قطب الدین احمد رکھا گیا۔

 خلاق عالم نے پیدائش سے قبل ہی اس راز سے پردہ فاش کر دیا تھا کہ

   یہ ماں اپنی کوکھ سے جس بچے کو جنم دینے والی ہے وہ خون اور گوشت کا لوتھڑا ہی نہیں بلکہ مستقبل کے ہندوستان کی پیشانی کا وہ جھومر ہے جس کی روشنی سے  بدعات و رسومات اور بدعقیدگی کی تاریکی چھٹ جائیگی، اور دنیائے انسانیت میں اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

   جس قلب کی گرمی نے دل پھونک دیے لاکھوں

    اس قلب میں یا اللہ کیا آگ بھری ہو گی 

              بقول حضرت حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللّٰہ بانی دار العلوم دیوبند "شاہ ولی اللہ” ان افراد امت میں سے ہیں کہ سرزمین ہند میں اگر صرف شاہ ولی اللہ ہی پیداہوتے تو ہندوستان کے لیے یہ فخر کافی تھا ۔(ولی اللہ نمبر:۳۶۰۔ : علامہ بنوری علیہ الرحمہ)

حضرت شاہ صاحب کی زندگی اور علمی و عملی کمالات کے اتنے گوشے ہیں کہ ہر ایک مستقل تصنیف کا محتاج ہے مثلا حضرت کی جامعیت اور دقتِ نظر، ظاہری و باطنی علوم کا حیرت انگیز اجتماع، مکاشفات و کرامات، تصنیف و تالیف، ترجمہ قرآن کی بنیاد، نصاب حدیث کی تاسیس اور اس کی اصلاح،  اسرار شریعت کی دلنشین اور مؤثر تشریح، کلام، تصوف، فلسفہ، اخلاق اور نظام حکومت میں ان کے خاص خاص قابل قدر نظریات، اصولِ تفسیر و اصولِ حدیث میں خاص خاص تحقیقات، حکومت اسلامیہ کی خلافتِ راشدہ کے اصولوں پر تشکیل وتاسیس وغیرہ وغیرہ۔

راقم کی بساط ہی کیا کہ وہ ارباب نظر کے لیے شاہ ولی اللہ جیسی عظیم المرتبت، صاحب کمالات شخصیت کی زندگی کے کسی گوشہ پر جنبشِ قلم سے ایسا لکھ سکے کہ حق ادا ہوسکے

 بس حصولِ سعادت کے لیے محقق و مستند علماء کی کتابوں سے نقل کرکے اور انہیں ترتیب دے کر یہ سطریں قارئین کے حوالے کر رہا ہوں۔

 تنکا سا ایک سامنے دریا کے آ گیا

(حفیظ جالندھری)

نسب نامہ:

           حضرت سید ولی اللہ شاہ کا نسب نامہ والد ماجد کی طرف سے تو حضرت عمربن خطابؓ تک پہنچتا ہے اور والدہ محترمہ کی طرف سے سیدنا موسیٰ کاظمؒ سے جا کر ملتا ہے۔ اس لحاظ سے آپ نجیب الطرفین ہیں۔ آپؒ کا نسب نامہ اس طرح ہے۔

فقیر ولی اللہ بن الشیخ عبد الرحیم بن الشہیدوجیہ الدین بن معظم بن منصور بن محمد بن قوام الدین عرف قاضی قازن بن قاضی قاسم بن قاضی کبیرالدین عرف قاضی بدہ بن عبد الملک بن قطب الدین بن کمال الدین بن شمس الدین مفتی بن شیر ملک بن محمد عطاء ملک بن ابو الفتح ملک بن محمد عمرحاکم ملک بن عادل ملک بن فاروق بن جرجیس بن احمد بن محمدشہریار بن عثمان بن ہامان بن ہمایوں بن قریش بن سلیمان بن عفان بن عبداللہ بن محمد بن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما۔(شاہ ولی اللہ اوران کے تجدیدی کارنامے،صفحہ45،46)

تعلیم و تربیت اور بیعت:

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے پانچ سال کی عمر میں تعلیم شروع کی، اور سات سال کی عمر میں قرآن کریم کی تکمیل فرمائی، ساتویں سال کے آخر میں آپ نے فارسی اور عربی کے ابتدائی رسائل پڑھنا شروع کیے اور ایک سال میں ان کو مکمل کیا، اس کے بعد آپ نے صرف ونحو کی طرف توجہ مبذول فرمائی، اور دس سال کی عمر میں نحو کی معرکۃ الآراء کتاب "شرح جامی” تک پہنچ گئے، صرف و نحو سے فراغت کے بعد علوم عقلیہ اور نقلیہ کی طرف متوجہ ہوئے اور  پندرہ سال کی عمر میں تمام متداول درسی علوم سے فارغ ہو کر درس و تدریس کا آغاز فرمایا، اس عرصے میں آپ نے اکثر و بیشتر کتابیں اپنے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب سے پڑھیں اور انہی سے بیعت ہو کر 17 سال کی عمر میں بیعت و ارشاد کی بھی اجازت حاصل کی اور ١١٤٣ھ تک اپنے والد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب کی مسند درس وارشادکو سنبھالا اور خلق خدا کو فائدہ پہنچایا -(رحمتہ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ: ١/ ٣٦)

زیارتِ حرمین شریفین اور شیوخ:

 ۱۱۴۳ه‍ میں جب کہ آپ کی عمر ۳۰ سال کے قریب تھی، حرمین شریفین کی زیارت کی اور وہاں کے مشائخ سے علوم حاصل کیا، شیخ ابو طاہر محمد بن ابراہیم کردی مدنی سے "بخاری شریف” کی سماعت فرمائی اور "صحاح ستہ”، موطا امام مالک، مسند دارمی اور امام محمد کی "کتاب الاثار” کے اطراف ان کے سامنے پڑھے اور ان کے علاوہ شیخ عبداللہ مالکی مکی رحمہ اللہ اور شیخ تاج الدین حنفی رحمہ اللہ سے بھی آپ نے فیض حاصل کیا۔  (رحمۃ اللہ الواسعہ ۳۶/١)

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ عملا حنفی:

حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے اپنی سند امام بخاری تک لکھ کر اپنے ایک شاگرد محمد بن پیر محمد بن شیخ ابی الفتح کے لیے سند اجازت لکھی ہے اور آخر میں اپنے نام کے ساتھ یہ کلمات لکھے ہیں۔

العمري نسبا، الدهلوي وطنا، الاشعري عقيدة، الصوفي طريقة، الحنفي عملا، والحنفي الشافعي تدريسا، خادم التفسير والحديث والفقة والعربية والكلام… ٢٣/شوال ١١٥٩ه‍

  "والحنفي الشافعي تدريسا” کا مطلب یہ ہے کہ شاہ صاحب اس کے پابند نہیں کہ ہر مسئلہ میں حنفیت ہی کو ترجیح دیں، آپ کے نزدیک ظاہر دلائل سے جو مذہب راجح ہوتا ہے، اس کو ترجیح دیتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو فقہ حنفی کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ اور اس تحریر کے نیچےحضرت شاہ رفیع الدین صاحب دہلوی رحمہ اللہ نے یہ عبارت لکھی ہے کہ بے شک یہ تحریر بالا میرے والد محترم کے قلم کی لکھی ہوئی ہے ۔  (رحمۃ اللہ الواسعہ: ٥٢.٥١/١)

 مذاہب اربعہ کی تقلید سے متعلق وصیت نبوی:

   شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی تصنیف "فیوض الحرمین”  میں خود فرماتے ہیں:

مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ایسی باتیں معلوم ہوئیں …… دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے وصیت فرمائی کہ ان مذاہب اربعہ کی تقلید کروں اور ان سے باہر نہ جاؤں (ولی اللہ نمبر:٣٧٦)

شاہ صاحب کا زمانہ اورحالاتِ ہند:

آپ علیہ الرحمہ کے زمانے میں ہندوستان کی حالت ہر لحاظ سے ابتر تھی اورنگزیب عالمگیر علیہ الرحمہ کے بعد شاہانِ وقت اپنے اسلاف کی دولت رقص و سرود کی محفلوں میں لٹا رہے تھے،

 مولانا سید سلیمان ندوی علیہ الرحمہ نے اس وقت کےحالات ہند کی مجموعی صورتحال کا نقشہ بلاغت اور اختصار کے ساتھ اس طرح کھینچاہے :

مغلیہ سلطنت کا آفتاب لبِ بام تھا، مسلمانوں میں رسوم و بدعات کا زور تھا، جھوٹے فقراء اور مشائخ اپنے بزرگوں کی خانقاہوں میں مسندیں بچھائے اور اپنے بزرگوں کے مزاروں پر چراغ جلائے بیٹھے تھے، مدرسوں کا گوشہ گوشہ منطق و حکمت کے ہنگاموں سے پر شور تھا، فقہ و فتاوی کی لفظی پرستش ہرمفتی کے پیش نظرتھی، مسائل فقه میں تحقیق و تدقیق مذہب کا سب سے بڑا جرم تھا، عوام تو عوام خواص تک قرآن پاک کے معانی و مطالب اور احادیث کے احکامات وارشادات اور فقہ کے اسرار و مصالح سے بے خبر تھے، دینی اعتبار سے مسلمانوں کی حالت ناگفتہ ہوچکی تھی۔( تاریخ دعوت وعزیمت: ۵ /۴۲)

 اصلاحی و تجدیدی کارنامے:

  حرمین شریفین سے واپسی کے بعد آپ نے مسلمانوں کی یہ صورت حال دیکھ کر انکی اصلاح کی طرف کامل توجہ فرمائی، اس زمانے کے طریقہ تعلیم اور نصاب کو بدلا ، دین میں جو بدعات و خرافات اور بے سروپا باتیں شامل کر دی گئی تھیں ان کو الگ کیا اور دین کو نکھار کر لوگوں کے سامنے اصل شکل میں پیش کیا، شیعہ عقائد کی تردید کی، عقل و نقل دونوں اعتبار سے دینِ اسلام کو مطابقِ فطرت ثابت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، عجمی تصوف اور اس کی بے سروپا باتوں کا خوب رد کیا، مختلف مکاتب فکر کے لوگوں میں ہم آہنگی اور اتفاق پیدا کرنے کی بھر پور کوشش فرمائی، قرآن کریم سے لوگوں کو قریب کرنے کے لیے رائج الوقت فارسی زبان میں قرآن کریم کا مطلب خیز ترجمہ کیا، تفسیر کے اصول و ضوابط وضع کیے، اسرار شریعت سے لوگوں کو آگاہ فرمایا اور احادیث نبویہ سے ہندی مسلمانوں کو آشنا کیا۔

  الغرض آپ نے تقریر و تحریر اور تصنیف و تدریس کے ذریعے جوخدمات انجام دیں وہ رہتی دنیا تک فراموش نہیں کی جاسکتی۔ (رحمۃ اللہ الواسعہ ۴۰/١)

  تھی ارض ہند پہ طاری فنا کی تاریکی

حیات بن کے اٹھا کوکبِ جلال ترا

  شاہ صاحب کی خود نوشت سوانح:

محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنے حالات و سوانح میں ایک مختصر رسالہ ” الجزء اللطیف فی ترجمۃ العبد الضعیف” کے نام سے فارسی زبان میں لکھا ہے؛جسے مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ نے  بریلی کے شاہ ولی اللہ نمبر میں اس کا خلاصہ پیش کیا ہے،؛

 راقم اس خلاصہ کا وہ حصہ نقل کررہاہے جس کا تعلق  تجدیدِ علم اشاعتِ دین اور مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات سے ہے:

(فرماتے ہیں) بہ تعمیل ارشاد "واما بنعمتہ ربک فحدث” بعض خاص الخاص انعامات الہیہ کا بھی تذکرہ کرتا ہوں!

 حق تعالیٰ کا عظیم ترین انعام اس ضعیف بندے پر یہ ہے کہ اس کو "خلعت فاتحیت” بخشا گیا ہے،….

  اس سلسلہ میں جو کام مجھ سے لیے گئے ہیں، وہ یہ ہیں:

     فقہ میں جو "مرضی” (اللہ کی پسند)ہے اس کو جمع کیا گیا اور فقہ حدیث کی اصل بنیاد رکھ کر اس فن کی پوری عمارت تیار کی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام وترغیبات بلکہ تمامی تعلیمات کے اسرار و مصالح کو اس طرح منظم کیا گیا کہ اس وقت سے پہلے کسی نے یہ کام اس طرح نہیں کیا،

      نیز سلوک کا وہ طریقہ جس میں حق تعالی کی مرضی ہے اور جو اس دورہ (زمانہ) میں کامیاب ہو سکتا ہے مجھے اس کا الہام فرمایا گیا ہے ……. ایک کام مجھ سے یہ لیا گیا کہ متقدمین میں سے اہل سنت کے عقائد کو میں نے دلائل و براہین سے ثابت کیا اور معقولیوں کے شکوک و شبہات کے خس و خاشاک سے ان کو قطعی پاک کردیا اور ان کی تقریر الحمدللہ ایسی کی جس کے بعد کسی  بحث کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔

 علاوہ ازیں

       کمالاتِ اربعہ (١) ابداع (٢) خلق (٣) تدبیر(٤) اور تدلی کی حقیقت اور نفوسِ انسانیہ کی استعدادات کا علم مجھے عطا فرمایا گیا اور یہ دونوں ایسے علم ہیں کہ اس فقیر سے پہلے کسی نے ان کے کوچے میں قدم بھی نہیں رکھا اور حکمت عملی کہ اس زمانہ کی صلاح وفلاح اسی سے وابستہ بلکہ اسی میں منحصر ہے، مجھے بھرپور دی گئی اور کتاب وسنت اور آثار صحابہ سے اس کی تطبیق و تفصیل کی توفیق بھی نصیب ہوئی___ اس سب کے سوا مجھے وہ ملکہ عطا فرمایا گیا، جس کے ذریعہ سے میں یہ تمیز کرسکتا ہوں کہ دین کی اصل تعلیم، جو فی الحقیقت احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہے وہ کیا ہے؟ اور وہ کون کون باتیں ہیں؟ جو بعد میں اس میں ٹھونسی گئی ہیں، یا جو کسی بدعت پسند فرقہ کی تحریف کا نتیجہ ہیں۔

         اپنے یہ حالات اور حق تعالی کے یہ انعامات بیان فرمانے کے بعد حضرت شاہ صاحب اپنی اس تحریر کو ان الفاظ پر ختم فرماتے ہیں۔

ولو ان لي في كل منبت شعرة

  لسانا لما استوفيت واجب حمده

اگر میرے ہر بال کی جگہ میں زبان ہو جو ہر وقت مصروف حمد الہی ہو،تو بھی حق تعالیٰ کی حمد کا جو حق مجھ پر ہے وہ ادا نہیں ہوگا۔(شاہ ولی اللہ نمبر (الفرقان بریلی) ص: ٣٨٤)

لائق فرزندان وجانشین:

باری تعالی کا شاہ صاحب کے ساتھ معاملہ خاص یہ بھی تھا کہ آپ کی دوسری اہلیہ محترمہ ارادۃ بنت شاہ ثناءاللہ صاحب کے بطن سے

  (١)سراج الہند شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی،

  (٢) عالم کبیر شاہ رفیع الدین محدث دہلوی،

  (٣) شاہ عبدالقادر محدث دہلوی دہلوی،

  (٤) شاہ عبدالغنی محدث دہلوی رحمہم اللہ 

    جیسے چار فرزندان وجانشین عطا فرمائے، جو  "نعم الخلف لنعم السلف” کے صحیح مصداق ہیں، جنہوں نے حضرت شاہ صاحب کے جلائے ہوئے چراغ کو نہ صرف روشن و تابندہ رکھا بلکہ اس سے سینکڑوں چراغ جلائے، جن کی روشنی سے نہ جانے کہاں تک کتاب و سنت، عقائدِ حقہ، اشاعت توحید خالص، رد شرک و بدعت، اعلائے کلمۃ اللہ وجہاد فی سبیل اللہ، تاسیس مدارس دینیہ، دین کی صحیح تعلیمات کی ترجمانی و تبلیغ کے لیے تصنیف و تالیف، اور تراجم قرآن و کتب حدیث وفقہ کا مبارک سلسلہ جا ری ہے، اگر ان مسائل کی تاریخ دیکھی جائے اور خیر و برکت کے ان مراکز اور سلسلوں کے "شجرہ نسب” کی تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک دیے سے دوسرا دیا جلتا رہا اور یہ سب چراغ اس چراغ سے روشن ہوئے جو بارہویں صدی ہجری کے وسط میں حکیم الاسلام شاہ ولی اللہ علیہ نے آندھیوں کے طوفان میں جلایا تھا، اس وقت بے اختیار زبان پر شعرآتا ہے۔( خلاصہ۔۔۔ تاریخ دعوت وعزیمت:جلد/٥ باب یازدہم۔ رحمۃ اللہ الواسعہ: ۴۰/١)

آندھیو! آو میرا حوصلہ دیکھو 

 میں طوفانوں میں چراغ جلانا جانتا ہوں

شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی تصانیف:

(۱) تاریخ دعوت و عزیمت کی پانچویں جلد میں مولانا ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ نے شاہ صاحب کی چھوٹی بڑی عربی فارسی تصنیفات کا حروف تہجی کے اعتبار سے ۵۳ کتابوں کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔

دیکھیے! ( ۵/ص۲۹۵…..۳۰۸)

(۲) رحمۃ اللہ الواسعہ شرح حجۃ اللہ البالغہ کی پہلی جلد میں مفتی امین صاحب پالن پوری دامت برکاتہ نے

شاہ صاحب کی ۲۱مشہور تصانیف کا تعارف درج کیا ہے۔

دیکھیے! ( ۱/ص ۴۱….۴۳)

(۳) شاه ولی الله نمبر کے دوسرے ایڈیشن (۱۳۶۰ه‍) میں مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ نے حضرت شاہ صاحب کی۴۶ مختصر اور طویل کتابوں کا تعارف کیا اور اس کے بعد لکھا….

ان کے علاوہ آپ کی اور بھی بہت سی تصانیف تھیں جن کے آج ہمیں نام بھی معلوم نہیں۔

  دیکھیے! (ولی اللہ نمبر طبع دوم ص:۴۱۰)

 آپ علیہ الرحمۃ کی دو تصانیف کا تذکرہ یہاں در ج ذیل ہے:

 ( ۱) (عربی) حجۃ اللہ البالغہ:

  یہ کتاب دو جلدوں میں ہے شاہ صاحب کی یہ مایہ ناز تصنیف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان معجزات میں سے ہے جوحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے امتیوں کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے،اور جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعجاز نمایاں اور اللہ کی حجت تمام ہوئی،

   بارہویں صدی کے کچھ بعد ہی ہندوستان اور اسلامی ممالک میں تعلیمی تمدنی علمی و عقلی اسباب کی بنا پر پر ایک خاص طرح کی "عقلیت” کا جو دور شروع ہونے والا تھا اور احکام و شرائع کی جستجوکا ذوق پیدا ہونے والا تھا، اور اس کی وجہ سے بہت سے ذہن بھٹکنے اور بہت سے قلم بہکنے کے لیے تیار تھے، خاص طور پر حدیث اور سنت خاص اسباب کی بنا پر اعتراضات و شبہات کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والی تھی…. اس دور کے شروع ہونے سے پہلے ہی بارہویں صدی کےامام کے قلم سے ایسی کتاب لکھوا دی جائے…….. جو امام ہر فن کے جوہر وحقیقت سے نہ صرف آگاہ بلکہ اس میں درجہ اجتہاد پر فائز ہو۔۔۔ (تاریخ دعوت و عزیمت: باب ہفتم ۱۵۶/۵)

(۲) (فارسی) ازالۃ الخفاء:

(۱) مولانا مناظر احسن گیلانی علیہ الرحمہ اس کتاب کو لکھنے کی وجہ لکھتے ہیں:

ہندوستان میں پہلے تو "رانی سنی” پھر ایرانی شیعہ اور آخر میں متشدد سنی روہیلوں( پٹھانوں کا ایک قبیلہ، "روہیل کھنڈ” ہندوستان- جگہ کا نام) کی شکل میں داخل ہوئے،ان تینوں عناصر کے امتزاج سے تسنن و تشیع کے سلسلہ میں عجب افراط وتفریط کا ماحول پیدا ہوگیا تھا،شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے بڑی محنت سے ہزاروں صفحات کے پڑھنے کے بعد چاروں خلفاء کے واقعی حالات "ازالۃ الخفاء” میں ایسے دل نشین انداز میں مرتب فرمائے کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اگر شیعوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جاتا ہے تو اسی کے ساتھ غالی سنیوں کی شدت وتیزی میں بھی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔(تذکرہ شاہ ولی اللہ: ص۱۷۲)

(۲) مولانا عبدالحئی صاحب فرنگی محلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "اس موضوع پر پورے اسلامی لٹریچر میں ایسی کوئی کتاب موجود نہیں”

(۳) اور مولانا فضل حق خیرآبادی کا تاثر یہ ہے کہ: "جس نے یہ کتاب لکھی ہے وہ ایک بحر بیکراں ہیں، جس کے ساحل کا پتہ نہیں چلتا”(رحمۃ اللہ الواسعہ:۴۲/۱)

علمائے دیوبند کا سلسلۂ سندواستناد: 

 دارالعلوم دیوبند کا سلسلہ سند اسی بزرگ مسند ہند شاہ ولی الله محدث دہلوی سے گزرتا ہوا نبی پاک صلی الله علیہ وسلم سے جا ملتا ہے، دار العلوم اور جماعت دیوبندی کے مورثِ اعلی حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ ہی ہیں، جن کے علمی و فکری منہاج وطریق پرمنتسبین دارالعلوم اور بالفاظِ واضح دیوبندی مکتب فکر کی تشکیل ہوئی ہے۔

حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ نے ولی اللہی سلسلہ کے تلمذ سے اس رنگ کو نہ صرف اپنایا جو انھیں ولی اللہی خاندان سے ورثہ میں ملا تھا بلکہ مزید تنور کے ساتھ اس کے نقش و نگار میں اور رنگ بھرا۔ وہی منقولات جو حکمت ولی اللہی میں معقولات کے لباس میں جلوہ گر تھے، حکمت قاسمیہ میں محسوسات کے لباس میں جلوہ گر ہوگئے۔ پھر آپ کے سہل ممتنع انداز بیان نے دین کی انتہائی گہری حقیقتوں کو جو بلاشبہ علم لدنی کے خزانہ سے ان پر بالہام غیب منکشف ہوئیں، استدلالی اور لمیاتی رنگ میں آج کی خوگر محسوس یا حس پرست دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ اور ساتھ ہی اس خاص مکتب فکر کو جو ایک خاص طبقہ کا سرمایہ اور خاص حلقہ تک محدود تھا،دارالعلوم دیوبند جیسے ہمہ گیر ادارہ کے ذریعہ ساری اسلامی دنیا میں پھیلادیا۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ ولی اللہی مکتب فکر کے تحت دیوبندیت در حقیقت ’قاسمیت‘ یا قاسمی طرز فکر کا نام ہے۔(دیوبند کی جامع مختصر تاریخ ص:١٩٤)

علمائے دیوبند کا سلسلۂ تلمذ:

    علم حدیث میں دارالعلوم دیوبند کے حضراتِ اکابر کا سلسلۂ تلمذ کچھ واسطوں سے ( حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے فرزند اکبرحضرت شاہ عبد العزيز محدث دہلوی رحمہ اللہ  (۱۸۲۳ء-۱۷۴۶ء )  تک پہنچتا ہے۔ حدیث میں اکابرین دیوبند کے استاذ شاہ عبدالغنی مجددی رحمہ اللہ ہیں، جو حضرت شاه محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ کے جانشین تھے۔ حضرت شاه اسحاق دہلوی حضرت شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کے نواسے اور ممتاز شاگرد تھے۔ حضرت شاہ عبد العزیز اپنے زمانے کے سب سے زیادہ متبحر اور جلیل القدر عالم دین تھے جو حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کے صاحب زادے ہونے کے ساتھ ان کے علوم کے امین اور ان کی تحریک کے سب سے بڑے قائد و علم بردار تھے۔

علمائے دیوبند کا دوسرا سلسلہ تلمذ حضرت مولانامملوک العلی نانوتوی رحمہ اللہ اور مولانا رشید الدین خان دہلوی رحمہ اللہ کے واسطے سے حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی تک پہنچتا ہے۔ حضرت مولانامملوک العلی نانوتوی اکابر علماء جیسے حضرت نانوتوی رحمہ اللہ، حضرت گنگوہی رحمہ اللہ، حضرت مولانا ذوالفقارعلی دیوبندی رحمہ اللہ، حضرت مولانا فضل الرحمن ثانی رحمہ اللہ، حضرت مولانا محمد مظہر نانوتوی رحمہ اللہ وغیرہم کے استاذ تھے اور حضرت مولانامحمد یعقوب نانوتوی رحمہ اللہ ان کے لائق و فائق صاحب زادے تھے جو دارالعلوم کے اولین صدرالمدرسین اورمتاز عالم دین ہوئے۔

 اکابر دارالعلوم کا سلسلۂ سندِ حدیث:

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ سے اوپر کا سلسلہ تمام مشہور و متداول کتبِ حدیث کے مصنفینِ کرام تک پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے سے سندِ متصل کے ساتھ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم تک جاملتا ہے۔ مثال کے طور پر بخاری کا سلسلۂ سند اس طرح ہے:

(۱) الشاہ ولی اللہ المحدث الدہلوی رحمة اللہ علیہ

 (۲) الشیخ ابو طاہر المدنی رحمة اللہ علیہ

(۳) الشیخ ابراہیم الکردی رحمة اللہ علیہ

 (۴) الشیخ احمد القشاشی رحمة اللہ علیہ

(۵) الشیخ احمد بن عبد القدوس الشناوی رحمة اللہ

(۶) الشیخ شمس الدین محمد بن الرملی رحمة اللہ علیہ

(۷) شیخ الاسلام زکریا بن محمد الانصاری رحمة اللہ

 (۸) الشیخ احمد بن حجر العسقلانی رحمة اللہ علیہ

(۹) الشیخ ابراہیم بن احمد التنوخی رحمة اللہ علیہ

 (۱۰) الشیخ احمد بن ابی طالب الحجار رحمة اللہ علیہ

(۱۱) الشیخ حسین بن مبارک الزبیدی رحمة اللہ علیہ

  (۱۲) الشیخ عبد الاول بن عیسی الہروی رحمة اللہ علیہ

(۱۳) الشیخ عبد الرحمن بن مظفر الداؤدی رحمة اللہ

(۱۴) الشیخ عبد اللہ بن احمد السرخسی رحمة اللہ علیہ

(۱۵) الشیخ محمد بن یوسف الفربری رحمة اللہ علیہ

 (۱۶) الشیخ محمد بن اسماعیل البخاری رحمة الله

 (دیوبند کی جامع مختصر تاریخ ص:-١٩٥)

وفات: تقریبا ۶۲ سال تک توحید و سنت اور ایمان و یقین کی شمعیں روشن کرنے کے بعد ۲۹/ محرم الحرام ۱۱۷۴ه‍ کو اس دار فانی سے دارِبقاء کی طرف کوچ کر گئے، اپنے والد محترم شاہ عبدالرحیم صاحب کے مزار سے متصل دہلی کے مشہور قبرستان "منہدیان” میں آپ کی جسد خاکی کو سپرد خاک کیا گیا، اللہ تعالی آپ کے والد کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے اور قبروں کو منور فرمائیں، آمین یا رب العالمین

جہاں کو پھر ترے پیغام کی ضرورت  ہے

 نویدِ رحمتِ اسلام کی ضرورت ہے

تبصرے بند ہیں۔