شیخ مصطفیٰ بشیر مدنی : کچھ یادیں کچھ باتیں

 جاوید سمیع محمدی

قارئین کرام! کل سے واٹس ایپ فیسبک اور سوشل میڈیا پر ہمارے ایک محترم استاذ  *شیخ مصطفیٰ بشیر مدنی* حفظہ اللہ کا کافی ذکر ہوا۔ آپ کا ایک ادنٰی سا شاگرد ہونے کی وجہ سے میری بھی خواہش ہوئی کہ میں بھی ان کے بارے میں اپنی کچھ یادیں اپنے انداز میں تحریر کروں۔ میں سب سے پہلے شیخ محترم کی شان میں کچھ اشعار درج کرنا چاہتاہوں جو شیخ پر بہت صادق آتے ہیں۔

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
ہے ایسی بات تو پھر بات کرکے دیکھتے ہیں
۔
تیری سادگی تیری عاجزی تیری هر ادا کمال هے
مجهے فخر هے مجهے ناز هے مرا استاذ  بے مثال هے
۔
جس کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
اس کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

کچھ اس طرح سے گفتگو ھوا کرتی تھی میرے اپنے استاذ مکرم سے۔ شیخ مصطفی بشیر مدنی حفظہ اللہ خوش دل آدمی ہیں، ان کے چہرے پر صدا ایسی مسکان رھتی ھے، گویا وہ "تبسمك في وجه أخيك صدقة” کے پیکر ہوں۔ _میں نے اپنے دو سال انکے ساۓ شفقت میں گزارے ھیں لیکن اس دو سالہ مدت میں ، میں نے کبھی اپنے شیخ کے چہرے پر تناؤ غصہ اور ناراضگی نہیں دیکھی سواۓ مسکراہٹ کے۔

ہاں ایک دن میں نے دیکھا، آپ کلاس روم میں داخل ہوئے، خلاف عادت ہمیں پوری طرح اپنی طرف متوجہ کئے بغیر پڑھانا شروع کر دیئے۔ درس کے آخر میں بات چھڑ گئی سلمان ندوی کی، کچھ دنوں پہلے ہی اس نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں گستاخانہ بیان دیا تھا، جیسے ہی جلیل القدر صحابی کی بات آئی تو ہنسنے والے چہرے کو روتا ہوا دیکھ کر ہم سب بچے بھی آبدیدہ ہو گئے۔ اس واقعہ کے نتیجے میں جنہیں سلمان ندوی کے گستاخی کی خبر نہیں تھے ان کے دلوں میں بھی جاننے کا تجسس پیدا ہو گیا۔

شیخ کی سنجیدگی اور مسکراہٹ کا اندازہ اس بات  سے لگایا جا سکتا ھے کہ جب ھم لوگ کوئی غلطی کرتے تھے تو بھی وہ خفا نہیں ہوتے آپ ہماری غلطیوں کی جانچ پڑتال بھی بڑے اطمینان کے ساتھ ہنستے ہوئے کرتے تھے۔۔ جب شیخ محترم *عمیدشؤون الطلاب* تھے اور ایک بار جب موبائل کی چیکنگ ہوئی تو شیخ اس وقت بھی بڑی شگفتگی سے باتیں کر رہے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ آپ نے بنا ڈرائے دھمکائے اپنی پر اثر آواز میں مجھ نا چیز سے کہا *جاوید سمیع* موبائل اگر رکھے ہوتو دے دو۔۔۔! شیخ کے بات کرنے کے انداز اور اسلوب سے میں بہت متاثر ہوا۔ اللہ نے آپ کو خوبصورت آواز اور منفرد انداز دیا ہے۔ شیخ محترم کی زبان سے *اشعار، نظم اور غزل سننا بہت اچھا لگتا تھا*  اللہ تعالیٰ سے دعا ہیکہ رب کائنات تو شیخ محترم کے لب و لہجہ اور آواز میں مزیدقوت اور اثر پیدا کر۔

یقیناً شیخ بڑے ہنس مکھ اور زندہ دل شخص ہیں،آپ کی زبان کی سلاست، روانی اور اسکی مٹھاس کا کیا کہنا، درس کے علاوہ عام بات چیت میں بھی اتنے اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے کہ ہمیں اپنے چھوٹے ہونے کا احساس ہی نہیں رہ جاتا تھا۔ یوں ہنس کر بولتے کی جی چاہتا کہ یہ چپ ہی نہ ہوں بلکہ؛ بولتے رہیں،یہی عادت آج بھی ہے، آپ حفظہ اللہ کے پڑھانے کا انداز بھی بڑا نرالا اور انوکھا  تھا، کلاس میں بچوں کو بور نہیں ہونے دیتے تھے۔ جان بوجھ کر بیچ بیچ میں کچھ ایسا بول دیتے کہ طلبہ لوٹ پوٹ ہوجاتے، اور مزید درس سننے کے لیے نئی توانائی مل جاتی*شیخ تدرس کے دوران اپنے بچپن کی کہانیاں سناتے تو ان کی کہانی ہمیں اپنی کہانی لگنے لگتی، بیان میں اتنی بلاغت و فصاحت ہوتی تھی کہ جیسے سامنے کوئی ادبی کتاب ہو اور آپ اسے پڑھے جا رہے ہوں۔ کبھی شیخ گاؤں کے کھیت کھلیان اور تالاب کے قصہ تو کبھی باغ باغیچے اور آم کے درختوں پر چڑھ کر آم کھانے کے قصے بیان فرماتے تھے اور کبھی جامعہ میں اپنے ابتدائی ایام کی باتیں سناتے، یہاں دل نا لگنے اور رونے کے واقعات بھی بیان فرمایا کرتے تھے۔ واقعی شیخ کے  تمام واقعات، ان کی باتوں اور ان کے قصوں کو  تمام طلبہ بہت محو ہوکر سنتے تھے۔

آپ کی باتوں سے ہم اپنا دکھ درد اور ٹینشن بھول جایا کرتے تھے۔ کسی اور کے بارے میں تو میں یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن میں تو اپنی تمام پریشانیوں کو بھول جایا کرتا تھا، اور میرا دل بہل جاتا تھا، آپ ناراضگی میں بھی مسکرایا کرتے تھے۔ دو سال کی قلیل مدت تو استفادہ کے لیے بہت کم تھی لیکن اپنی عمر اور عقل کے حساب سے میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن آج بھی آپ سے سننے اور سیکھنے کی تشنگی باقی ہے۔۔۔ اللہ شیخ حفظہ اللہ سے مزید استفادہ کی توفیق عطا فرمائے آمین

شیخ محترم سے بہت ساری یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ جب میں اپنے مادر علمی میں غالباً نومبر یا دسمبر میں گیا اس وقت جب مغرب کی نماز سے فارغ ہوکر میں "دکتور نوح عالم مدنی حفظہ اللہ” سے کچھ باتیں کر رہا تھا  عین اسی وقت شیخ محترم نوح عالم صاحب  نے مزاقا کہا کہ شیخ مصطفیٰ! "جاوید” ابھی بھی موٹا نہیں ہوا۔ تو اس پر شیخ نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ ان شاء الله  اس کی شادی ہو گی اور ذمہ داری کے ساتھ بدن بھی بھاری ہو جائے گا۔  واقعی شیخ سے ان کے پر لطف جملے سننے کی خواہش آج بھی ہے۔

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

  بس دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ استاد محترم کو صحت و عافیت دے، انہیں اپنی حفظ و امان میں رکھے،انہیں خوب لمبی عمر دے اور ان کا سایہ شفقت ہم پر تا دیر قائم و دائم رکھے۔ اور شیخ کے علم سے ہمیں استفادہ  کا مزید موقع عنایت فرمائے۔

رب کائنات تو شیخ محترم کو ہمیشہ اسی طرح خوش وخرم اور ہنستا مسکراتا رکھے۔ شیخ کے بہترین انداز واسلوب میں مزید اضافہ فرما اور انہیں حاسدین کے شر سے محفوظ فرما۔ ان کی زبان، ان کے قلم اور ان کے انداز تدریس کو مزید پختہ کر دے۔ اللہ تو شیخ کو دین اسلام کے لیے نفع بخش بنا۔ الہی تو مجھ نا چیز کو اور آپ کے تمام شاگردوں کو آپ کے لیے صدقہ جاریہ بنا دے۔

یوں تو ہر استاذ قابل احترام ہوتا ہے لیکن موضوع بحث *شیخ مصطفیٰ بشیر مدنی حفظہ اللہ* تھے اس لیے ان سے متعلق اپنی کچھ یادداشت یہاں پر تحریر کر دیا بلکہ کوشش رہے گی کے مزید شیخ پر کچھ لکھنے کی جسارت کروں۔ اور دیگر کچھ اور اساتذہ پر بھی ان شاء الله

آمین تقبل یا رب العالمین

تبصرے بند ہیں۔