علامہ ابن خلدون کی مختصر سوانح

ابن خلدون ایک ایسی مسلم عبقری شخصیت ہے جسے مغرب نے علمی دنیا میں آسانی کے ساتھ قبول کیا اور اس کے کام کو سراہا۔

شہباز رشید بہورو

ابن خلدون کا اصلی نام عبدالرحمن اور کنیت ابن خلدون تھی۔ ابن خلدون کے مطابق اس کا شجرہ نسب بنی کندہ کے ملوک سے ملتا ہے جن کے سطوت و اقتدار کے جھنڈے اسلام سے پہلے پورے حضر موت میں گڑے ہوئے تھے۔ اس قبیلہ نے اندلس کی فتح کے وقت ہی اندلس میں سکونت اختیار کی تھی لیکن بعدازاں جب اندلس مسلمانوں کے تسلط سے نکل کر عیسائیوں کے ہاتھ میں چلا گیا تو اس خاندان نے اندلس کو چھوڑ کر تونس میں اقامت اختیار کی۔ ابن خلدون تونس ہی میں 732ہجری(1334ء) میں پیدا ہوا۔ بچپن ہی میں قرآن حفظ کر لیا اور مجوزہ تعلیمی نصاب پر دسترس حاصل کر لی۔ نصاب میں قرآن، حیث، فوہ، علم کلام، نحو، ریاضی فلسفہ اور منطق وغیرہ شامل تھے۔ 17سال کی عمر میں تونس شہر میں طاعون کی بیماری پھیلنے کی وجہ سے ان کے والدین اور اکثر اساتذہ انتقال کر گئے۔ اس کے بعد انہوں نے والئ تونس کے دربار میں کاتب کی حیثیت سے اپنی معاشی اور دیگر مجبوریوں کے تحت ملازمت حاصل کی۔ ابن خلدون چونکہ بلند خیالات اور امہنگوں کا مالک تھا اس لیے اسے یہ نوکری پسند نہیں تھی اور دلی طور پر تونس چھوڑ کر مراکش میں جا بسنا چاہتا تھا۔ کیونکہ مراکش تونس کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور ترقی یافتہ مملکت تھی۔

تونس کے سلطان ابو اسحاق ثانی نے جب والئ مراکش ابوزید کی سرکوبی کے لیے لشکر بھیجا تو ابن خلدون بھی فرار ہونے، مراکش میں سکونت اختیار کرنے اور اعلیٰ ملازمت حاصل کرنے کی نیت سےاس لشکر میں شامل ہوا۔ لیکن بدقسمتی سے تونس کا لشکر ہار گیا اور ابن خلدون کو گاؤں گاؤں چھپ چھپ کے زندگی گزارنی پڑی۔ آخرکار حالات نے کروٹ بدلی اور ابن خلدون جیسے تیسے مراکش کے سلطان ابو عنان سے ملاقی ہوئے۔ اس کے بعد انہیں درباری علماء کے گروہ میں شامل ہونا پڑا اور پھر امیر اسرار کے عہدے پر فائز کردیا گیا۔ اس کے بعد کسی سازش کرنے کے جرم میں ابوعنان نے ابن خلدون کو جیل میں 22مہینے مبحوس رکھا۔ ابوعنان کی وفات کے بعد ان کے معتمد وزیر الحسن بن عمر نے ابن خلدون کو عزت کے ساتھ رہا کردیا۔ المنصور بن سلیمان جب فاس پر جب حملہ کرنا چاہا تو اس نے اپنے مربی الحسن بن عمر کو دھوکہ دیا اور المنصور کا ساتھ۔ لیکن المنصور کے ساتھ بھی اس کی دوستی زیادہ نہ رہی اور بعد میں اس نے ابو سالم  کا ساتھ دیا جو کہ سیاسی وجوہ کی بنیاد پر  ملک بدر کردیا گیا تھا۔ ابوسالم نے جب مراکش کی حکومت حاصل کی تو اس نے ابن خلدون کو اپنی حکومت میں وزارت کا عہدہ دیا جس کی طلب ابن خلدون بہت پہلے سے لیے ہوئے گھوم پھر رہے تھے۔ لیکن اسے یہ نیا شرف واعزاز بھی راس نہ آیا۔ عمال حکومت نے اس کے خلاف شکایتوں کا ایک طومار کھڑا کر دیا۔ اس کے بعد ابن خلدون نے اپنے ایک رفیق عمر عبداللہ کے ساتھ مل کر ابو سالم کی بساط اقتدار الٹے کی کوشش کی۔ ان کے دوست نے جب حکومت حاصل کی تو ابن خلدون کو کوئی بڑا منصب عنایت نہ کیا۔ جس سے دل برداشتہ ہو کر اب خلدون بھاگ کر اندلس چلا گیا۔

غرناطہ پہنچ کر سلطان ابو عبدالله نے اس کا اعلیٰ اعزاز و اکرام کیا۔ ابن خلدون جب بھی کسی حاکم کے پاس چلے جانے تو غیرمعمولی قدردانی حاصل کرتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابن خلدون غیرمعمولی ذہانت و فطانت، سیاسی تدبر وتفکر، وسیع علم و دانائی کا مالک تھا۔ ان کی محدود دستیاب حیات زندگی کا مطالعہ یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ کنگ میکر(King maker) تھا۔ محققین لکھتے ہیں ” افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی اس خوبی اور صلاحیت کو وہ کسی بلند سیاسی نصب العین کے حصول کے لیے استعمال نہ کر سکا، ورنہ ہو سکتا تھا کہ عمرانیات اور تاریخ نگاری کا یہ امام کسی عظیم سلطنت کا بانی اور مؤسس بھی ہوتا ".

غرناطہ میں ابو عبداللہ اور اس کے وزیر لسان الدین الخطیب سے اس کے مراسم اچھے تھے لیکن وجوہات کی بنا پر غرناطہ کو خیرباد کہہ کر پرانے دوست امیر ابواللہ محمد کے پاس بجایہ چلے گیا۔ وہاں اس کی زبردست آو بھگت ہوئی۔ یہاں پہنچ کر اس نے مدارلمہام (چیف سیکریٹری) کا عہدہ سنبھالا اور امیرابواللہ محمد کے قتل تک فائز رہے۔ اس کے بعد بجایہ چھوڑ کر بسکرہ میں اپنے ایک پرانے دوست کے ہاں رہ کر امیر بجایہ کے خلاف سازش شروع کی۔ یہاں رہ کر  وہ عبدالعزیز سلطان مراکش اور اس کے بیٹے کی خدمت انجام دیتا رہا۔ اتفاقاً تلسمان کے امیر ابو محمد نے بجایہ پر حملہ کرنا چاہا۔ اس نے ابن خلدون سے قبائل بنی رباح کو قائل کرنے کے نتیجے میں ایک اعلیٰ منصب دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن بدقسمتی سے امیر مراکش عبدالعزيز نے نے طے کیا تلسمان کے خلاف صف آرائی کی جائے۔ ان سارے حالات کے پیش نظر ابن خلدون اندلس سے بھاگ گیا لیکن سلطان عبدالعزیز کے آدمیوں نے اسے گرفتار کر لیا۔ سلطان نے اس کی قابلیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اسے زیادہ دیر قید نہ رکھا۔ عبدالعزیز کی وفات کے بعد ابن خلدون فاس (مراکش) چلے گیا۔ لیکن وہاں ابوالعباس نے اسے قید و بند کے مصائب و شدائد میں مبتلا کردیا۔ پھر جونہی اد نے ان مصائب سے چھٹکارا پایا تو اندلس کی طرف راہ فرار اختیار کی۔ اندلس کے سلطان ابن الاحمر نے اس کا زبردست استقبال کیا لیکن بعد میں ناراض ہو کر افریکہ منتقل ہونے پر مجبور کیا۔ ابن خلدون کو سیاسی اتھل پتھل اور در بدری کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہونا پڑا آخر کار سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور قلعہ ابن اسلامیہ میں رہ کر اپنی لافانی کتاب ‘مقدمہ’لکھنا شروع کی۔ 1378تک وہیں مقیم رہا۔ ابن خلدون اپنی غیر معمولی ذہانت و فطانت اور علم و دانائی کے سبب ہر جگہ رقیبوں کی ایک جماعت پیدا کرتا جو اس کی مقبولیت و معروفیت کو کم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ اسی لیے ابن خلدون کو تونس سے بھی بھاگنا پڑا۔ دسمبر 1382میں حج کرنے کے بعد ابن خلدون نے قاہرہ میں جامعہ ازہر میں بحیثیت معلم پڑھانا شروع کیا۔ یہاں پر اسے فقہ مالکی کی قضا کا منصب سونپا گیا جسے اس نے بڑی لیاقت سے سنبھالا۔ اسی دوران ابن خلدون کو بیوی وبچوں کی موت کی خبر موصول ہوئی جو سمندر کے طوفان کا شکار ہوئے تھے۔ 1387میں حج کرنے کے بعد پھر قاہرہ واپس ہوا۔

1401ء میں ابن خلدون دمشق کو امیر تیمور کے حملے سے بچانے کی غرض سے دمشق میں ہی مقیم رہا۔ ابن خلدون نے تیمور سے ملاقاتیں کی اسے اپنی شخصیت، انداز گفتگو  بے باکی، ذہانت و فطانت اور وجاہت سے متاثر ضرور کیا لیکن دمشق کو بچانے کی بات تک نہ کی۔ تیمور نے ابن خلدون کی زبردست قدردانی کی اور اسے آفریقہ کی تاریخ پر کتاب لکھنے کو کہا۔ ابن خلدون کتاب لکھتا گیا اور تیمور نے دمشق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ تیمور سے دوسری ملاقات کے بعد ابن خلدون قاہرہ واپس آگیا اور اسے دوبارہ مالکی قاضی بنایا گیا اور 1406میں 76سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔

ابن خلدون کی علمی وخدمات کو تین مختلف پہلوؤں پر جانچا جاتا ہے اول  مورخ  یعنی تاریخ نویس کی حیثیت سے، دوم فلسفہ تاریخ کے بانی کی حیثیت سےاور سوم عمرانیات کے امام اور ماہر کی حیثیت سے۔ علامہ ابن خلدون اگرچہ بعض بشری کمزوریوں کی وجہ ہر جگہ اپنی حیثیت کو متاثر کرلیتا لیکن اس کا علمی وقار اسے فوراً کھڑا کر دیتا۔ علامہ صاحب کا "مقدمہ "تو اپنی مثال آپ ہے۔ مقدمہ علامہ ابن خلدون کی ذہانت کا شاہکار ہے۔ اسلامی تاریخ میں ابن خلدون کا اپنے متعلقہ علمی شعبہ جات میں کوئی مثل نہیں۔ مقدمہ ابن خلدون کو جس قدر  و قیمت کی نگاہ سے مغرب میں دیکھا گیا مسلم دنیا میں اس کی افادیت کے بارے میں مقابلۃً بہت کم توجہ دی گئی۔ مقدمہ ابن خلدون کے متعلق معروف مؤرخ ٹوین بی نے کہا ہے "ایک فلسفہ تاریخ جو بغیر کسی شک و شبہ کے ایک ایسا عظیم کام ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے کسی وقت اور جگہ پہ کسی انسانی دماغ نے پیدا کیا ہو.. ".ابن خلدون ایک ایسی مسلم عبقری شخصیت ہے جسے مغرب نے علمی دنیا میں آسانی کے ساتھ قبول کیا اور اس کے کام کو سراہا۔ ابن خلدون کو ہسٹریوگرافی، فلسفہ تاریخ اور سوشیالوجی کا باباآدم تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ اعزازات مغرب نے ابن خلدون کے معرکۃ الآرا کام کے عوض عنایت کئے ہیں۔

تبصرے بند ہیں۔