ملالہ کی کتاب اور کہانی ( قسط دوم)

 میرافسر امان

 کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈائری میں کچھ بھی تو انوکھا پہلو نہیں۔ پھر بھی پہلے اس ڈائری کے ذریعے ملالہ کو شہرت دلوائی گئی۔ پھر بچوں کی تعلیم کے حقوق پر بولنے کے نام پر ملالہ کو منظر عام پر لایا گیا۔ پھر اس کی سوچ کو طالبان کے مخالف کر دیا گیا۔ شورش زدہ علاقے میں لوگوں کو جان کی پڑی ہوتی ہے اور ملالہ آرام سے ڈائری لکھتی رہی۔ اصل میں یہ طے شدہ کھیل تھا جو کھیلا گیا۔ ملالہ یوسف زئی مہرے کے طور پر استعمال ہوئی۔ ایک کالم نگار جو شورش کے وقت سوات سے ایک ٹی وی چینل کو رپورٹس ارسال کرتا تھا۔ اس نے ملالہ کے متعلق اس طرح کہا ’’میں نے سوات کوبہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں ملالہ کے والد سے اس وقت سے ذاتی رابطے میں ہوا کرتا تھا جب پاکستان کے موجودہ یا بعض لبرل اسلام آباد کے کونوں میں دبکے ہوئے تھے۔ ضیا الدین یوسف زئی کے تین کمروں کے اسکول اور خالی محلوں میں تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے، یادھماکوں سے اڑتی ہوئی درسگاہوں کے ارد گردگھومتے ہوئے، سوات کے حالت کا تجزیہ کرتے ہو ئے جو اس وقت تک قائم رہا جب ملالہ حملے کا شکار نہیں ہوئی تھی مگر اس وقت میں نے ملالہ کو کہیں بھی نہ دیکھا‘‘ یہ ایک صحافی طلاعت حسین کے ریماکس ہیں جو بہادر ملالہ کے لیے کہے گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ دورانیا شورش کے دوران کچھ وقت کیلیے تھا۔ پھر یوسف زئی ملالہ کے ساتھ ایبٹ آباد چلا گیا تھا۔

 ایک دوسرے سوات کے مقامی صحافی رپورٹ کرتے ہیں۔ سوات میں دہشت کے دور میں ملالہ اپنے والد کے ساتھ ایبٹ آباد میں مقیم تھی۔ سوات میں امن کے بعد واپس آئی تھی۔ جہاں تک ڈائریوں کا سوال ہے تو سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا گیا ۲۰۰۹ء میں ملالہ صرف ۱۱؍ سال کی تھی جب سوات آپریشن ہوا کیا۔ ۱۱؍ سال کی بچی ایسی ڈائری لکھ سکتی ہے؟ دراصل یہ بی بی سی اور جیونیوز کی تیار کردہ ڈائری جو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ ایک دوسرے صحافی نے اپنے کالم میں کہا کہ ملالہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھی نا!اور طالبان اسے روکنا چاہتے تھے یا وہ طالبان کے خلاف تھی اور طالبان اسے مارنا چایتے تھے۔ مگر سوال اٰٹھتا ہے کہ سوات میں تو ہزاروں بچیاں تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ طالبان نے انہیں کیوں نہ روکا؟ انہیں کیوں نہ مار ا؟ طالبان کے غلبے کے دور میں سوات میں کوئی پرائیویٹ اسکول نشانہ نہیں بنایا گیا۔ نہ ہی کسی نجی اسکول کو بند کیا گیااور ملالہ تو اُس وقت اپنے باپ کے نجی اسکول میں پڑھتی تھی۔ اس سمیت ہزاروں بچیاں صبح نکلتیں اور دوپہر کو بعافیت گھر پہنچتی تھیں۔ پھر طالبان نے اس پر حملہ کیوں کیا؟ تجزیہ نگار نتیجہ اخذکرتے ہیں کہ ملالہ کوپہلے ڈائریوں کی وجہ سے مشہور کیا گیا۔ پھر حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ پھر ڈالر یافتہ پاکستانی میڈیا اور عالمی میڈیا نے اس ڈرامے میں رنگ بھرا۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں طالبان نے صرف سرکاری اسکولوں کو اُڑایا تھا۔ وجہ یہ تھی فوج نے سرکاری اسکوں میں اپنے کیمپ قائم کرتی تھی۔ اس لیے طالبان ان کو اُڑاتے تھے۔ کیونکہ فوج ان کے خلاف آپریشن کر رہی تھی۔ تاکہ اسے سوات میں ٹکانے نہ ملیں۔ جبکہ پاکستانی میڈیا اور مغربی میڈیا پروپگنڈہ کرتا رہا کہ طالبان بچیوں کے اسکولوں کو اُڑاتے ہیں۔

اس ڈرامے کو رچانے کے لیے تمام شعبہ ہائے زندگی سے میر جعفر اور میر صادق خریدے گئے۔ پہلے مرحلے میں نام نہاد حملے کا ڈرامہ کیا گیا۔ دوسرے مرحلے میں ہمارے ملک کے دجالی میڈیا نے اس ڈرامے کی خوب مارکیٹنگ کی۔ اس میں پیش پیش ایک بڑے ٹی وی کے اینکر پرسن حامد میر اور عالم آن لائن(جاعل آن لائن) کے پروگرامر نے پشاور میں ملٹری ہسپتال کے باہر بچیوں کو جمع کر کے ملالہ کے لیے دعائیہ پروگرام کیا تھا۔ عوام کو یاد ہے کہ اخبارات میں خبر لگی تھی کہ ملالہ کو ایک گولی سر میں لگی۔ ایک گولی گردن میں لگی۔ اس مصنوعی حملے اور گولیوں کا ڈراپ سین اس وقت سامنے آیا۔ جب پشاور کی ملٹری ہسپتال میں علاج کیا گیا۔ پھر کہا گیا پاکستان میں علاج ممکن نہیں۔ پھر اسپیشل ایئر ایمبولنس سے ملالہ کو برطانیہ اس ڈرامے کے بڑے کرداروں کے پاس پہنچا دیا گیا۔ تاکہ راز فاش نہ ہو سکے انگلستان کی ہسپتال میں ملالہ کی سر سے گولی بھی نہیں نکالی گئی۔ نہ اس کے سر سے بال کاٹے گئے نہ کہیں ماتھے پرزخم کے نشان نظر آئے۔ اور ملالہ ٹھیک صحت مند ہو گئی۔

 اس دوران سوشل میڈیا نے اس ڈرامے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ اور ملالہ کی صاف ستھرے چہرے والی تصویرں جاری کر دیں۔ اور پورے ملک میں سازش بے نقاب ہو گئی۔ اس ڈرامے کا نقشہ ایک کالم نگار نے اس طرح کھنچا’’ کہاں کل تک برطانوی ڈاکڑوں کی یہ خبر کہ ماتھے پر گولی لگی ہے کھوپڑی کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں دماغ نیم مردہ ہے اور برطانوی ڈاکڑوں نے تو یہ بھی کہا کہ علاج سے پہلے کچھ دن کا آرام مطلوب ہے اور کہاں یہ صورتحال کہ ملالہ کا علاج شروع بھی نہیں ہوا اور ماتھے سے گولی کا زخم اور نشان غائب ہو گیا۔ ہسپتال ہے یہ کوئی جادو کا گھر ہے؟‘‘ اسی دوران تیسرے مرحلے میں ملک بھر سے میر جعفروں اور میر صادقوں نے اکٹھے ہو کر اس ڈرامے کی تکمیل کی مہم شروع کر دی۔ اُدھر امریکا بہادر نے ڈرون حملے تیز کر دیے گئے۔ بے گناہ لوگوں، معصوم بچیوں اور عورتوں کو شہید کیا گیا۔

اخبارات نے خبر لگائی کہ ملالہ کے سر پر گولی لگی اور پار ہو گئی اور ایک گولی گردن پر بھی لگی۔ طالبان کا مشہور جملہ جو پاکستان میں ہر واقعے پر کہا جاتا ہے دہرایا گیا کہ طالبان نے حملے ذمہ داری قبول کر لی۔ پھر طالبان کے خلاف امریکی فنڈڈ الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا نے پروپگنڈہ شروع کر دیا۔ جب طالبان کو ہوش آیا تو تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے اس واقعہ کی شدید مذمت کی۔ اور کہا کہ یہ طالبان کو بدنام اور امریکا کو خوش کرنے کی نئی چال ہے۔ لو جی، اسی دوران بلی تھیلے سے باہر آہی گئی۔ اور اس موقعہ پر ملک رحمان صاحب نے بیان دیا کہ شمالی وزیرستان آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔ آپریشن کا فیصلہ عسکری اور سیاسی قیادت کرے گی۔ اس کے مقابلے میں سوشل میڈیا پر مہم شروع ہوئی کہ سازش بے نقاب ہو گئی۔ پہلے ایک کوڑوں والی جعلی ویڈیو، جسے ویڈیو بنانے والے نے ۵؍ لاکھ روپے لیکر بنائی تھی اور جسے ملک کے عدالت نے جعلی قرار دے دیا تھا کا بہانہ بنا کر سوات میں آپریشن شروع کیا تھا۔ اب جعلی حملے کا بہانہ بنا کر امریکا کی ہدایت پر شمالی وزیرستان پر حملے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کا جو ڈرامہ رچایا گیا اس میں شازیہ اور کائنات توزخمی ہوئیں مگر ملالہ کو کوئی گولی نہیں لگی اور وہ کوئی زخمی نہیں ہوئی اس کا ثبوت سوشل میڈیا سے جاری کئے گئے وہ فوٹو ہیں جو مینگورہ سے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوتے وقت اور پشاور ہسپتال میں علاج کے دوران کے ہیں مینگورہ میں پہلے والے فوٹو میں ملالہ سرخ کپڑے پہنے اپنے باپ کے ساتھ ہیلی کاپٹرمیں دوڑ کرسوار ہونے کے لیے جارہی اور ساتھ ہی ساتھ خالی اسٹریچر ایک شخص لے جا رہا ہے۔ پشاور ہسپتال والے جو فوٹو ہے اس میں ملالہ انہی سرخ کپڑوں میں ہسپتال کے بیڈ پر لیٹی ہوئی ہے جس سے اس سازش کی کڑیاں ملتی ہیں۔

 سچی بات یہ ہے کہ یوسف زئی صاحب ایک قوم پرست روشن خیال شخص ہے قوم پرست پختون اسٹوڈنٹ تنظیم کاممبر اور صدر بھی رہا۔ اس کی دوستی ایسے ہی ایک پشاور میں بی بی سی کے ایک مقامی پختون قوم پرست نمایندے سے تھی۔ بی بی سی کے مقامی نمایندے نے فرضی نام گل مکئی کے نام سے سوات کے حالت پر ایک ڈائری لکھی۔ اور ایک سازش کے تحت بی بی سی اردوسے گل مکئی کے نام سے قسطوں میں نشر نشر ہوتی رہی۔ حوالہ( ڈاکڑ ضیالدین خان کالم)ویسے بھی اُس وقت خیبرپختونخواہ میں قوم پرست نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت تھی۔ جو اس کام میں یوسف زئی کی مدد گار تھی۔ ملالہ اور اس کے خاندان کے متعلق سواتی عوام کے دلوں میں توجھانک کر دیکھیں جو مظاہرہ اس وقت سامنے آیا۔ جب صوبائی حکومت نے سیدو گرلز کالج کا نام ملالہ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ تو کالج کی بچیوں نے اودھم مچا دیا۔ سوات کی تاریخ میں پہلی بار اسکول کی بچیوں نے احتجاج کیا۔ بلکہ خواتین نے بھی اس کا بھر پورساتھ دیا۔ جس کے بعد مجبوراً کالج کو پرانے نام سے ہی منسوب رہنے دیا۔ باقی آیندہ ان شاء اللہ

تبصرے بند ہیں۔