مولانا عبد السلام ندوی : چند معروضات

عبداللہ زکریا

مولانا عبدالسلام ندوی وہ یگانہ روزگار شخصیت ہے جس پر کچھ لکھنے کے لیے علم کے ایک بحرِ ذخار کی ضرور ت ہے اوراس راقمِ آثم کی تہی دامنی کا یہ عالم ہے کہ چند قطرے بھی میسر نہیں ہیں۔ افسوس کہ وہ شخص، جسکی عبقریت اور جینئس کا اعتراف پوری علمی دنیا کو ہے، خود اس کے قریبی رشتہ دار نہ تو اس کا صحیح ادراک کر پائے اور نہ اس وراثت کے امین بن پائے۔ ویسے یہ بارِامانت اٹھانے کے لیے، جس علم کی ضرورت ہے، اتنا علم حاصل کر پانا ناممکنات میں سے ہے اس لیے اس باب میں انکو معافی مل سکتی ہے، لیکن عظمت کا ادراک نہ ہونا یقینا افسوس کی بات ہے۔ مولانا کے سب سے لائق شاگرد کبیر احمد جائسی جو “مکاتیبِ واشعار مولانا عبدالسلام ندوی “کے مرتب بھی ہیں، اسکا انتساب کرتے ہوئے، اس طرح شکوہ کناں ہیں “مولانا عبدالسلام ندوی کے پڑپوتوں کے نام جو شاید انکی عظمتوں کو محسوس کر سکیں “

اس سے بھی زیادہ افسوس اس کا ہے کہ دار المصنفین، جس سے مولانا آخری سانس تک جڑے رہے، وہاں کے بعض اربابِ حل عقد نے مولانا کے قد کو گھٹانے کی کوشش کی۔ اب یہ دانستہ تھی یا نادانستہ ,اسکے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ نیتوں کا حال اللہ جانتا ہے۔ بات مرحومین کی ہے، میں ان پر کوئی تہمت نہیں لگا رہا ہوں بلکہ علی وجہ الشہادت دو اقتباسات نقل کر رہا ہوں۔ یہ شاہ معین الدین صاحب(جو ایک طویل مدت تک دار المصنفین کے منتظم اعلی رہے ) کے اس طویل مضمون کا حصہ ہے، جو انھوں نے مولانا کے تئیں اپنی عقیدت اور خراجِ تحسین کے طور پر لکھا ہے۔ یہاں انکی گوناگوں خصوصیتوں، جیسے استغنا،بے نیازی، درویشی، حسنِ اخلاق اور شہرت سے کوسوں دور بھاگنے، کا تذکرہ تو ہے لیکن بات جہاں لکھنے پڑھنے کی آئی وہاں اسکی تصویر ایسی کھینچی ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا ہے وہ لوگوں کو کیا دکھانا اور بتانا چاہ رہے ہیں۔ پہلا اقتباس ملاحظہ فر مائیے

“ادب و انشاءمیں وہ نہایت ممتاز تھے اور علامہ شبلی کی یہ وراثت انکے حصہ میں زیادہ آئی تھی۔ چمنستانِ ادب میں ان کا قلم بڑا سبک خرام تھا۔ ذہن بڑا اخاذ پایا تھا۔ سرسری مطالعوں سے کتابوں کا جوہر کھینچ لیتے تھے اور عربی کی ہر اہم اور نئی کتاب سے وہ اپنے کام کی کچھ نہ کچھ باتیں ضرور نکال لیتے تھے اور اس پر ایک مضمون تیار کر دیتے تھے چنانچہ انکے بیشتر مضامین کسی نہ کسی کتاب کے مطالعہ کا نتیجہ ہیں بلکہ کبھی کبھی وہ ان سے مستقل تصنیف کا خاکہ تیار کر لیتے تھے چنانچہ سیرت عمر بن عبدالعزیز کی تالیف میں انھوں نے اگر چہ بہت سی کتابوں سے مدد لی ہے لیکن اسکا ابتدائی خاکہ سیرت العمرین ابنِ جوزی سے انکے ذہن میں آیا تھا، اسی میں رنگ بھر کر حضرت عمر بن عبدالعزیز کی سیرت کا مرقع تیار کیا “

اس پیرا گراف سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ مولانا اوریجنل تھنکر نہیں تھے بلکہ انکا ذہن بہت” اخاذ “تھا اور انکی بہت ساری کتابوں کا مواد دراصل پہلے لکھی گئی کتابوں سے برآمد کیا گیا ہے۔ مولانا کا کمال بس اتنا ہے کہ انھوں نے اپنے تخیل سے انمیں رنگ بھر اسکی جاذبیت میں اضافہ کر دیا۔ یہ اس شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے جسکی کتاب “شعر الہند “اردو شعر وادب پر معروضی تنقید کی اولین کتاب مانی جاتی ہے اور اقبال کو سمجھنے کے لیے آج بھی لوگ جسکی کتاب “اقبال کا مل “پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ خیر آگے بڑھتے ہیں اور اسکے آگے والا پیرا پڑھتے ہیں

“لیکن طبیعت شاعرانہ و تخیل پرست تھی، اس لیے محنت و مشقت سے گھبراتے اور لکھنے کے لیے ایسے ہلکے پھلکے موضوع کا انتخاب کرتے تھے جس میں زیادہ کد و کاوش کی ضرورت نہ ہو اس کمی کو وہ ادبی حسن و لطافت سے پورا کر دیتے تھے، قلم اتنا پختہ اور منجھا ہوا تھاکہ قلم برداشت لکھتے تھے اور لکھنے کے بعد مسودہ پر نظر ثانی اور حک و اصلاح کی ضرورت بہت کم پیش آتی تھی “

لیجئے صاحب جس شخص کو دنیا عبقری اور نہ جانے کیا کیا سمجھتی ہے اس نے صرف ہلکے پھلکے موضوعات کو پر لکھنے کی زحمت گواراکی ہے کیونکہ پِتّہ مار کام انکے بس کا نہیں تھا۔ ہاں اتنا کمال ضرور دکھایا ہے کہ اس کمی کو اپنے زورِ قلم سے دور کر دیا ہے۔ مطلب مولانا کوئی بڑا علمی اور تحقیقی کام کر ہی نہیں سکتے تھے کہ انکی “طبعِ نازک “پر یہ بہت شاق گزرتا۔

خود مولانا نے اپنی طبیعت، ذوق، اپنے طبعی میلان اور لکھنے پڑھنے کے تعلق سے ایک مضمون “میری محسن کتابیں “کے عنوان سے لکھا ہے۔ ضرورت محسوس ہو رہی کہ ایک اقتباس وہاں سے بھی نقل کر دیاجائے تاکہ قاری خود فیصلہ کر لے۔ طاعون کے سبب تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا تھا اور مولانا نے کچھ وقت گھر پر گزارا تھا۔ یہ اسی زمانہ کی روداد ہے

“میں طاعون کے خوف سے سلسلہ تعلیم کو چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا تھا۔ لیکن یہ بے کاری میرے لیے مفید ثابت ہوئی۔ اعزہ واقارب میں چند لوگ عالم تھے اور کچھ کتابیں، جن میں زیادہ تر حصہ درسی کتابوں کا تھا جمع کر لیں تھیں۔ میں ان کے اس مختصر کتب خانے سے منطق و فلسفہ کی کتابیں مثلاً شرح مطالع، ملا جلال،حمد اللہ، میر زاہد،امور عامہ وغیرہ مانگ کرلا تاتھا۔زیادہ ترکتابوں پر مولانا عبدالحئی فرنگی محلی کے حاشیہ ہوتے تھےاور وہ اپنے تبحر علم اور طرزِ تحریر سے مطالب کونہایت آسان کر دیتے تھے۔ان کتابوں کے مطالعہ کا مجھ پر یہ اثر اور احسان ہواکہ مجھ کو عقلیات سے دلچسپی ہوگئی اور صرف وہی کتابیں پسند آنے لگیں جوعقلی اصولوں کے مطابق لکھی گئی ہوں یعنی دعوی، دلیل اور علل و اسباب پر بحث ہو۔ میرا یہ ذوق اب تک قائم ہے اور تاریخی، ادبی مذہبی ہر کتاب میں ان چیزوں کی جستجو کرتاہوں “

جس شخص کا ذوق یہ ہو اور جس کے رجحانات میں عقل، دعوی اور دلیل کو کلیدی اہمیت حاصل ہو اس پر سہل انگاری کا الزام لگانا چہ معنی دارد۔

آگے کا کمال ملاحظہ فر مائیے

“انکی بعض خصوصیات ایسی ہیں کہ جن کا دکھانا بڑا نازک کام ہے، مگر اس کے بغیر ان کی اہم خصوصیات کا ایک بڑا دلکش رخ سامنے نہ آئے گا،مگر ان کو ایک خاص پسِ منظر میں دیکھنا ضروری ہے ورنہ اسکا پورا لطف حاصل نہ ہوگااور نہ ہی ان کے متعلق کوئی صحیح رائے قائم ہوگی۔ان کو مراق کا پرانا مرض تھا اور کبھی کبھی اس کے دورے بھی پڑتے تھے، اس لیے ان پر ہمیشہ جذب کی سی کیفیت طاری رہتی تھی، وہ کھوئے سے کھوئے سے رہتے تھے اور ان کے خیالات اور اعمال میں توازن باقی نہیں رہ گیا تھا، خصوصا دورے کے زمانہ میں ان کو اپنے اوپر بلکل قابو نہیں رہ جاتا تھا اور وہ “رفع القلم عن ثلاث”کے حکم میں آجاتے تھے۔ یوں تو ان پر ہمیشہ مراق کا اثر رہتاتھا مگر کبھی کبھی اس کے دورے بھی پڑتے تھے۔ یہ دورے دو قسم کے ہوتے تھے جن کو رجائی اور قنوطی کہہ سکتے ہیں۔ ان دوروں میں ان کو اپنے اوپر مطلق قابو نہ رہ جاتا تھا۔رجائی دورے میں سراپا جوش وخروش،زندگی و حرکت اور نشاط ومسرت بن جاتے تھے۔ ان کے ہر موئےبدن سے زندگی اور مسرت کے چشمے ابلتے تھے۔ہر چیز میں ان کو مسرت ہی مسرت اور حسن ہی حسن نظر آتا تھا، ان کے لیے ہر جلوہ جنت نگاہ اور ہر نغمہ فردوس گوش بن جاتا تھااور وہ رسوم وقیود سے بے پروا اپنے حال میں مست و سرشار رہتے تھے، ہر وقت حرکت میں رہتے، بازار کے کئی کئی چکر لگاتے، دارالمصنفین کے احاطہ میں ہر وقت چلتے رہتے، رات بھر ٹہل ٹہل کر اشعار پڑھتے، خصوصا چاندنی راتوں میں پوری رات جاگتے تھے۔ اکثر زیرِلب باتیں کرتے رہتے، طبیعت میں بڑی جو دت پیدا اور قوتِ گویائی بڑھ جاتی تھی اور علمی اور مذہبی مسائل میں مجتہدانہ شان پیدا ہوجاتی، بات بات میں مباحثہ کے لیے تیار ہو جاتے اور انکی افتادِ طبع کے خلاف تعلٰی بھی پیدا ہوجاتی، کسی کو خاطر میں نہ لاتے، گفتگو بھی بڑی شاعرانہ کرتے، قلم میں بھی بڑا زور پیدا جاتا مگر کوئی متوازن تحریر نہ لکھ سکتے تھے۔ تعددِ ازواج پر ان کا جو مضمون رسالہ ثقافت لا ہور نے بڑے فخر ومباہات کے ساتھ شائع کیاہے وہ اسی دور کی یادگار ہے “

لیجئے صاحب مولانا کی جو بھی تحریریں “رجائی دور”کی پیداوار ہیں وہ متوازن نہیں ہیں۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے جو انکی ہر تصنیف پر لگایا جا سکتا ہے اور پھر یہ بھی تحقیق کرنی پڑے گی کہ یہ کون سے دور کی تخلیق ہے۔

اب ذرا “قنوطی دور”کی روداد بھی سن لی جائے

“اس کے مقابلہ میں دوسرا قنوطی دورہ ہوتا تھا۔ اس میں دل ودماغ پر غم ناک خیالات کا ہجوم ہو جاتا تھا۔ ہر چیز میں یاس و نا امیدی نظر آتی تھی، ہر وقت افسردہ اور غم گین رہتے تھے۔ حال و مستقبل بلکل تاریک نظر آتا تھا۔ ہر وقت اپنی اور اہل و عیال کی تباہی کے وہم سے پریشان رہتے تھے۔ لکھنا پڑھنا بلکل چھوٹ جاتا تھا۔ رات دن پلنگ پر بلکل خاموش پڑے رہتے اور جب بولتے تو اپنی پریشانیوں اور مستقبل کے خطرات کا رونا روتے اور اپنی داستان سنا کر ہر شخص سے ہمدردی کے طالب ہوتے۔ ان دوروں میں ان کو اپنی کسی چیز پر قابو نہیں رہ جاتا تھا اور ان کے رفیقوں کو ان کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا تھا۔ اس مرض کا اثر انکی پوری زندگی ہر تھا”

لیجئے صاحب مولانا کو رجائی اور قنوطی دو نوں دوروں میں اپنے اوپر قابو نہیں رہتا تھا۔ رجائی دور وں میں کوئی متوازن تحریر نہیں لکھ سکتے تھے اور قنوطی دورے میں لکھنا پڑھنا بلکل چھوٹ جاتا تھا۔ خدا جانے مولانا نے جو کچھ لکھا وہ کب اور کیسے لکھا۔ دنیا خوامخواہ انکی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ جس شخص کونہ تو اپنے اوپر قابو تھا اور نہ اپنی تحریر پر، اس کے علمی سرمایہ پر کیسے بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟یہ ہے وہ تصویر جو اس “خامہ فرسائی “کے نتیجہ میں آنکھوں کے سامنے آتی ہے۔

مولانا کے سیاسی عقیدے پر بھی ایک اقتباس ملاحظہ فر مائیے

“انگریزی تمدن اور انگریزی حکومت کی شان و شوکت کی بنا پر انگریزوں کے بڑے مداح تھے اور حکمرانی انگریزوں پر ختم سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ہندوستان و پاکستان کسی میں بھی حکومت کی اہلیت نہیں تھی۔ ان کے ذہن میں آزادی اور غلامی کا اس کے علاوہ کوئی مفہوم نہ تھا کہ جس حکومت میں حسنِ انتظام، شان و شوکت، امن وآمان اور خوش حالی ہو وہی اصلی وہی اصلی حکومت ہے ورنہ پنچایت ہے “

مولانا کی وفات ۱۹۵۶ میں ہوئی۔ ملک تب تک آزاد ہو چکا تھا۔ انکے سیاسی عقائد کا کوئی دستاویزی ثبوت تو نہیں ہے لیکن جو شخص علامہ شبلی کا تربیت یافتہ ہو اورجو ایک زمانہ تک مولانا ابوالکلام آزاد کا دستِ راست رہا ہو، اسکے سیاسی خیالات اس نہج کے ہوں، یہ باور کرنا ذرا مشکل ہے۔ اپنی”دبو”فطرت اور طبعی خوف کی وجہ سے عملی سیاست میں حصہ نہ لینا تو سمجھ میں آتاہے لیکن یہ ماننے میں تامل ہے کہ مولانا دل سے بھی انگریزی تسلط کو برانہیں سمجھتے تھے۔

اسی طرح علمی حلقوں اور ادبی مجلسوں میں اکثر یہ بات سنائی دیتی ہے کہ سیرت النبی کی جو آخر کی پانچ جلدیں ہیں (دو تو علامہ شبلی خود لکھ کر گئے تھے )اس میں زیادہ تر مولانا نے لکھی ہیں۔ ہم اسے صرف قیاس سمجھتے ہیں۔ اسکا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔ خود مولانا نے اپنی زبان سے اس کے تعلق سے کچھ نہیں کہا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سید سلیمان ندوی اور مولانا عبدالسلام ندوی چمنستانِ شبلی کے دو ایسے پھول ہیں جو گل سر سبد کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک کا قد بڑھانے کے لیے دوسرے کے قد کو گھٹانے کی ہر کوشش مذموم اور قابلِ مذمت ہے۔

اگر مولانا کی علمی فتوحات پر نظر ڈالی تو یہاں کمال کا تنوع نظر آتا ہے، وہاں سیرت بھی ہے، تاریخ بھی ہے، فلسفہ بھی ہے اور ادب بھی ہے۔ سیرت النبی کی پانچ جلدوں پر جو کام کیا ہے، اسکے علاوہ “اسوہ صحابہ “اسوہ صحابیات “اور سیرت عمر بن عبد العزیز”سیرت کے موضوع پر انکی تین شاہکار تصنیفات ہیں۔ حکمت اور فلسفہ پر “حکمائے اسلام کے نام سے دو جلدوں میں ایک کتاب ہے۔ ادب پر “شعر الہند “نام کی ایک تصنیف ہے جو دو جلدوں پر مشتمل ہے اور جدید معروضی تنقید کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ”اقبال کامل “اقبال کو سمجھنے کے لیے آج بھی ایک رہنما کتاب سمجھی جاتی ہے۔یہاں اقبال کی شاعری اور انکے فلسفہ کے علاوہ انکی ان غلطیوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو زبان کی صحت کے سلسلہ میں ہوئی ہیں اور یہ بڑی جرآت کا کام ہے۔ ایک شعر دیکھئے

آنکھ وقفِ دید تھی لب مائل گفتار تھا

دل نہ تھا میرا سراپا ذوقِ استفسار تھا

مولانا کا کہنا کہ “لب مائلّ گفتار تھے “ہونا چاہیے۔ لب چونکہ دو ہوتے ہیں اس لیے شعراء اس کے لیے ہمیشہ جمع کا صیغہ لاتے ہیں

“اغلاط”کے نام سے ایک پورا باب اس کتاب میں باندھا گیا ہے اور زبان وبیان کی غلطیوں پر گرفت کی گئی ہے۔ بات علامہ اقبال کی ہے اس لیے یہ جرات اور بھی رندانہ لگتی ہے۔ مزید برآں اقبال کا مطالعہ بحیثیت ِ شاعر کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے زیادہ تر انھیں حکیم اور فلسفی کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ مولانا نے کئی ساری عربی کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ہے جیسے “تاریخِ فقہ اسلامی “”ابن خلدون “”انقلاب الامم “”القضاء فی الاسلام “”فقرائے اسلام “وغیرہ

اور معارف کے شماروں میں ہزاروں مضامین ہیں جو اپنے تنوع اور تفکر کے لحاظ سے بے مثال ہیں۔

ہر مصنف چاہے وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ اور اسکی کتابیں کتنی ہی پر مغز کیوں نہ ہو،ایک زمانہ آتا ہے کہ اس پر ایک گرد پڑھاتی ہے (تحریکی لٹریچر الگ ہے کیونکہ وہ برابر ریسائیکل ہوتا رہتاہے )مولانا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور انکی بازیافت اور یہ گرد ہٹانے کا کام انکے خانوادہ سے تعلق رکھنے والے پرنسپل ہارون آعظمی صاحب نے کیا۔ مہمیز کرنے کام صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور صحافی شمیم طارق صاحب نے کیا اور علمی محاذ کی کمان مولانا کے سب سے عزیز شاگرد اور انکی علمی وراثت کے امین کبیر احمد جائسی نے سنبھالی۔ ہارون صاحب نے سیمینار آرگنائز کرنے اور دنیا کو پھر سے مولانا سے متعارف کرانے کا بیڑا اٹھایا۔تین سیمینار ہوئے بھی۔ ایک جامعتہ الفلاح میں اور دو ممبئی میں۔ علمی مورچہ شمیم طارق اور کبیر جائسی نے سنبھالا۔مقالات کے لیے علمی ہستیوں سے رابطہ قائم کیا گیا اور اس کے نتیجہ میں “مولانا عبدالسلام ندوی کی دانشوری اور عصر حاضر “نام کی کتاب وجود میں آئی۔ یہ مختلف دانشوران کے ان مقالوں پر مشتمل ہے جو فلاح کے سیمینار میں پڑھے گئے تھے۔ یہ کتاب مولانا عبدالسلام ندوی فاؤنڈیشن سے چھپی ہے۔ بقیہ دو سمیناروں میں پڑھے گئے مقالے بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔ اسی طرح کبیر جائسی کی کتاب “مکاتیب واشعار مولانا عبد السلام ندوی “بھی اسی فاؤنڈیشن نے مولانا کی پچاسویں برسی پر ۲۰۰۶ میں چھاپی۔ سیمنار آرگنائز کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے یہ کوئی ہارون صاحب کے صاحبزادے رئیس بھائی سے کوئی پوچھے۔ تیسرے سیمینار (جو آخری ثابت ہوا )کے دوران ہارون صاحب کی طبیعت انتہائی ناساز تھی اور انھوں نے بر جستہ یہ اعلان بھی کیا کہ یہ انکی زندگی کا آخری سیمینار ہے۔ خدا کی مشیت دیکھئے کہ یہ آخری سیمینار ہی ثابت ہوا اور وہ اسکے بعد اپنے رب سے جا ملے لیکن یہ انکی مساعی کا ہی نتیجہ ہے کہ ایک بار پھر سے لوگ مولانا عبدالسلام ندوی کے بارے میں بات کرنے لگے ہیں نہیں تو وہ “کنزامخفیا”بن چکے تھے۔

مولانا کی انشاء پردازی، جادو بیانی اور نثر کے سحر کا تو دنیا لوہا مانتی ہے لیکن وہ ایک خوبصورت، نغز گو شاعر بھی ہیں۔ افسوس کی انھوں نے خود اپنے کلام کو سینت کر نہیں رکھا،اس لیے اسکا ایک اچھا خاصہ دریا برد ہوگیا۔ سلیم بھائی نے،جو دوستوں اور شناساؤں میں پپو بھائی کے نام سے جانتے ہیں اور بہت ستھراشعری ذوق رکھتے ہیں، ایک حالیہ ملاقات میں باتوں باتوں میں ہادی اعظمی کانام لیا اور بتایا کہ انھیں مولانا کا بہت سارا کلام یاد تھا جو وہ فرمائش پر سنایا کرتے تھے۔ہادی صاحب کے بے مثال ترنم کا بھی ذکر آیا تھا۔ اب کہاں وہ مشاہیر اور کہاں وہ مجلسیں

مولانا نے خود “میری محسن کتابیں ”میں شعر و اور شاعری سے اپنے شغف کا تذکرہ کیا ہے۔ابتدائی اثر انکے بہنوئی محبوب الرحمان صاحب کاہے جو کلیم تخلص کر تے تھے۔ کہا جاتا کہ مولانا نے بھی اسی سے متاثر ہوکر اپنا تخلص شمیم رکھا تھا۔ محبوب الرحمان صاحب پر ابھی کچھ دنوں پہلے شبلی کالج کی نمائندہ میگزین” بزم شبلی “میں مشہور محقق، دانشور اور ماہر شبلیات الیاس آعظمی صاحب ایک مضمون نظر سے گزرا۔وہ بجا طور پر شکوہ کرتے ہیں کہ اقبال سہیل،مرزا احسان احمد اور امجد غزنوی کی طرح کلیم صاحب کو بھی وکالت کھا گئی ورنہ انکی ذات سے علم وادب کو بہت فیض پہونچ سکتا تھا۔ دو نو دریافت غزلیں بھی مضمون میں شامل ہیں

کبھی نظر سے جو غائب وہ رشکِ ماہ رہے

ہماری آنکھ میں سارا جہاں سیاہ رہے

مزا وہ عشق میں پایا کہ مانگتا ہوں دعا

کسی کے عشق میں حالت مری تباہ رہے

دوسری غزل کے یہ دو شعر دیکھئے

طبیعت تو بہل جاتی ہے کچھ میری شبِ غم میں

درِ دل سے لگی تیری جو تصویرِ خیالی ہے

سوادِشامِ فرقت سے نہ کیوں تسکین ہو دل کو

سیاہی گیسوئے جاناں کی کچھ اس نے چرا لی ہے

مولانا کا جو بھی کلام آج ہمارے پاس پہونچا ہے اس پر قدما اور اساتذہ کا اثر صاف دکھائی دیتا ہے۔ متقدمین عموماً دو دبستانوں میں بٹّے ہوئے تھے۔ دبستان دہلی اور دبستان لکھنو۔ مولانا کے کلام کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے دبستانِ دہلی کے مقابلے میں ان پر دبستانِ لکھنو کا رنگ زیادہ چڑھا ہو ا ہے۔ حکمت اور فلسفہ سے شغف کے باوجود وہ اپنے اشعار میں حکیم اور فلسفی کے بجائے عاشقِ صادق زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح عربی زبان اور ادب سے واقفیت کی وجہ وہ کچھ ایسے استعارات استعمال کرتے ہیں جو راقم کے علم کے مطابق پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے۔ یہ شعر دیکھئے

ذرا تو ہاتھ تو رکھ دے کسی کے روئے روشن پر

مرا ذمہ جو اے زاہد ید بیضا ء نہ ہو جائے

“ید بیضاء” کی تر کیب میرے علم کی حد تک کسی نے پہلے استعمال نہیں کی۔ یہ وہ معجزہ ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کو عطا ہوا تھا۔

حضرت یوسف اور زلیخا کی تلمیح بہت شاعروں نے استعمال کی ہے۔ مولانا نے دیکھئے اسے کیسے باندھا ہے

یوسف کو سستے دام زلیخا نے لے لیا

تقدیر تھی کی حسن کی قیمت ٹھہر گئی

اسی غزل کا کیا خوبصورت مطلع ہے

چہرے تک ان کے مست گئی بے خبر گئی

جب جب گئی نگاہ بنوعِ دگر گئی

تصویرِ یار سے گفتگو ایک بہت پامال موضوع ہے لیکن مولانا کا یہ شعر دیکھئے کہ کس خوبصورتی سے اس مضمون کو انھوں نے برتا ہے

زبانِ بے زبانی سے ہم بڑھ کر کون سمجھے گا

تری تصویر سے فرقت میں کی ہے گفتگو برسوں

“زبانِ بے زبانی “کا جواب نہیں

اور یہ شعر دیکھئے

لاکھوں قفس ہیں لائے گی کس کس میں بوئے گل

چڑھنے لگی سانس صبا کی بہار میں

قفس، بوئے گل، صبا اور بہار ان چاروں کو کس چابکدستی سے مولانا نے باندھا ہے اور کیا بات پیدا کی ہے۔

اور یہ شعر بھی کس کمال کا ہے

تارے بھی جھلملا کے بہ حسرت ہوئے غروب

کیا کیا بجھے چراغ شبِ انتظار میں

ان دو اشعار میں جو سرمستی کی کیفیت ہے وہ صرف “اہل دل”ہی جان سکتے ہیں

مستی میں کھینچ لیتے ہیں رندانِ مے پرست

دامن پکڑ کے رحمتِ پروردگار کا

لاکھوں مصیبتیں ہیں مگر پھر بھی روزِ حشر

محبوب ہے کہ دن ہے ترے انتظار کا

مولانا شمیم تخلص کرتے تھے اوراس مقطع میں راہ اور منزل کے پامال استعارے کو کس طرح سے برتا ہے، دیکھئے

راہ بے پایاں تھی وجہ گرم رفتاری شمیم

قرب منزل نے تھکایا اب قدم اٹھتے نہیں

یہ چند اشعار مشتے نمونہ از خروارے نقل کر دئے۔ افسوس کہ نہ تو خودمولانا نے توجہ کی اور نہ انکے اصحاب نے اوران کی شاعری کا سرمایہ ضائع ہو گیا۔

صریحاً علمی بد دیانتی اور اخفائےحق ہو گا اگر ہم کم از کم ایک ایسا اقتباس شاہ معین الدین صاحب کے طویل مضمون سے نہ نقل کر دیں جو “کلمہ خیر “کے زمرے میں آتا ہے۔ لکھتے ہیں

“ان میں بعض اوصاف تھے جو اس زمانہ میں ناپید ہیں۔ آج کل کتنے تسبیح ومصلے والے ایسے ہیں جن کا دامن حقوق العباد سے پاک اور معاملات میں صاف ہو اور جن سے کسی انسان کو ایذا نہ پہونچی ہو۔مولانا عبدالسلام صاحب کا دامن ان تمام معاملات میں معصوم بچوں کی طرح بے داغ تھا۔ ان کے ذمہ کسی کا ادنی حق بھی نہ تھا بلکہ اپنی حق تلفی پر بھی وہ خاموش رہتے تھے۔ ان کی ذات سے کسی کو ادنی تکلیف بھی نہیں پہونچی۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ اس زمانہ میں اس کی مثالیں کم ملیں گی۔ ان کے مضامین اور ان کی مذہبی کتابوں سے بہتیرے مسلمانوں کو ہدایت حاصل ہوئی۔ اس لیے ان کےیہ نیک اعمال رائیگاں نہ جائیں گے “

مولانا کی مرنجاں مرنج طبیعت کے لیے انگریزی میں ایک لفظ ہے (enigma)۔وہ شخص، جو سال بھر گدّو پور کے میلہ کا انتظار کرتا رہتا(علاؤالدین پٹی کے بغل میں ایک گاؤں ہے جو سال میں ایک بار میلہ لگتاتھااور مولانا بہت شوق سے جاتے تھے )قالین گنج میں پیشہ ور عورتوں کے ساتھ بے جھجھک بات کرتا، سخت جاڑے کے موسم میں کبھی کبھی فجر کی نماز یہ کہہ کر قضا کر دیتا کہ “دل جمعی “نہیں ہو رہی ہے (یہ ساری باتیں ہم نے اپنے والد مرحوم کی زبان سے سنی ہیں )جب قلم اٹھاتا تو دینیات، فلسفہ اور شعر ادب پر علم کے دریا بہا دیتا، اسکی شخصیت کا احاطہ کرنا آسان نہیں ہے۔ شاید ان کا یہ شعر کچھ مدد کر سکے

سامان کیا زیارتِ صحرا کے واسطے

چادر لپیٹ لی کبھی عریاں نکل پڑے

1 تبصرہ
  1. ﺷﺎﮦ ﻋﺒﺪﺍﻟﻮﮨﺎﺏ کہتے ہیں

    ﺷﺎﮦ ﻣﻌﻴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻣﻮﻼﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﺳﻼﻡ ﻣﺮﺣﻮﻡ ﭘﺮ ﮐﻴﺎ ﮔﻴﺎ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻓﻠﻢ "ﺷﻮﻟﮯ” ﮐﺎ ﻭﮦ ﺍﭘﻴﺴﻮﮈ ﻳﺎﺩ ﺁﻳﺎ ﺟﺲ ﻣﻴﮟ ﺍﻣﻴﺘﺎﺑﮫ ﻣﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺩﮬﺮﻣﻴﻨﺪﺭ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ ﻟﻴﮯ ﺟﺎﺗﺎ.ﺳﻠﻴﻢ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮈﻳﺌﻼﮒ ﻟﮑﮭﮯ ﻭﮦ ﻳﻘﻴﻨﻦ ﺷﺎﮦ ﻣﻌﻴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺍﺩﮬﺎﺭﮮ ﻟﻴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ.

تبصرے بند ہیں۔