یوم پیدائش انقلاب نقیب رام دھاری سنگھ دنکرؔ

جب دنکر ؔکی نظم سے بوکھلا کر اندرا گاندھی نے ایمرجنسی لاگو کی

بلال بشیر بٹ

(سرینگر)

رام دھاری سنگھ ہندی شاعر، مضمون نگار، محب اور استاد تھے۔ وہ جدید اہم ہندی شعرا میں سے سمجھے جاتے ہیں۔ وہ باغی شاعر کے طور پر اُبھرے اور آزادی ہند سے قبل قوم پرست شاعری کی۔ ان کی شاعری میں ویر رس کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے متاثر کن مجموعات کی بدولت وہ راشٹر کوی (قومی شاعر) بھی کہلائے۔وہ ہندی کوی سمیلن کے ہمہ وقت شاعر تھے اور ان ایام میں وہ کافی مشہور ہوئے۔نکر پر اقبال، رابندر ناتھ ٹیگور، کیٹس اور مِلٹن کا گہرا اثر تھا۔ انہوں نے رابندر ناتھ ٹیگور کی تخلیقات کو بنگالی سے ہندی قالب میں ڈھالا۔

دنکر 23 ستمبر 1908ء کو سیماریہ گاؤں، بنگال پریزیڈنسی، برطانوی راج (موجودہ ضلع بیگو سرائے، بہار) میں بابو روی سنگھ اور مَن روپ دیوی کے ہاں پیدا ہوئے۔دنکر نے ابتدا میں ہندوستان کی جدوجہدِ آزادی کے دوران انقلابی تحریک کی حمایت کی اور بعد ازاں گاندھیائی ہو گئے۔ تاہم وہ خود کو ”بُرا گاندھیائی“ کہلواتے تھے۔وہ وقت کی مشہور قوم پرست شخصیات کے بہت قریب تھے، جیسے کہ راجندر پرساد، انوگرا ناراین سنہا، سری کرشن سنہا، رامبرکش بینی پوری اور برج کشور پرساد۔

دنکر بھارتی ایوان بالا، راجیہ سبھا کی نشست کے لیے تین مرتبہ منتخب ہوئے۔ وہ بھاگلپور یونیورسٹی (بہار) کے ابتدائی 1960ء کی دہائی میں وائس چانسلر بھی رہ چکے ہیں۔

ایمرجنسی کے دوران جے پرکاش ناراین نے رام لیلا میدان میں لاکھ کا مجمع اکھٹا کیا اور دِنکر کی مشہور نظم، ”سنگھاسن خالی کرو کہ جنتا آتی“ (منصب چھوڑ دو نہیں تو عوام آ جائے گی) پڑھی۔

25 جون 1975 کو جے پرکاش نارائن نے دہلی کے رام لیلا میدان کے میدانوں سے ‘مکمل انقلاب کا مطالبہ کیا۔ ‘ انقلاب کے اپنے مطالبے کے دوران ، جے پی نے ایک نظم پڑھی ، ایک افسانوی نظم جو ہندوستانی جمہوریت میں لوگوں کی طاقت کی علامت بن گئی۔

رام دھاری سنگھ دنکر کی تحریر کردہ یہ نظم ”سنگھاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے “ ایک زبردست یاد دہانی تھی کہ جمہوریت میں حتمی طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔عین اسی واقعہ کے بعد تب کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے بوکھلاہٹ میں  ایمرجنسی کا اعلان کیا ، اس طرح انسانی حقوق کی بے حرمتی اور قانون کی حکمرانی کو منسوخ کرنے کے دور کا آغاز ہوا جو ایک تلخ حقیقت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رام دھاری سنگھ دنکرنے  یہ نظم اس وقت لکھی جب ہندوستان 26 جنوری 1956 کو جمہوریہ بن گیا۔ یہ نظم لوگوں کی طاقت کے بارے میں ہے۔ اس وقت ہندوستان کی آبادی 33 کروڑ تھی ، وہ سب غلامی کے دور کے گواہ تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک کے دھیمے لوگ اجتماعی طور پر اس ملک پر حکومت کریں گے۔ یہ خیال اس نظم میں خوبصورتی سے بُنا گیا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اب لوگوں کو اپنے اوپر حکومت کرنے کا اختیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا