حضرت شعیب الاولیاء اور ان کے اوصاف

محمد رابع نورانی بدری

(استاذ دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف وسجادہ نشین آستانہ بدر ملت بڑھیا سدھارتھ نگر)

  حضرت شعیب الاولیاء شیخ المشائخ حضرت سیدنا شاہ محمد یارعلی رحمہ اللہ تعالی بانی دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کی شخصیت اسلامیان ہند کے لیے محتاج تعارف نہیں۔

   آپ کی زندگی کتاب و سنّت کی پیروی، علم و عمل میں موافقت، آخرت کی دنیا پر ترجیح کا مظہر تھی، آپ کے شب و روز کے معمولات میں شب بیداری، سوز و گداز، قیامُ اللیل، سجودِ محبت و خشیت، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن، تفکر و تدبر، توبہ و استغفار نظر آرہاتھا، آپ کے قلبی اعمال میں محاسبہِ اعمال، اخلاص و للہیت، صبر و شکر، توکل علی اللہ، توحیدِ کامل، تسلیم و رضا، فقر و قناعت، زہد و ورع، فکرِ آخرت، محبت و رضائے الٰہی، خیر خواہی، احترامِ مسلم، کے روشن پہلو موجود تھے،آپ کے قول و فعل میں نرم دمِ گفتگو، گرم دمِ جستجو کا ظہورتھا۔

            آپ کے اعمالِ صالحہ، اخلاقِ حسنہ، خصائلِ جمیلہ اور اوصافِ حمیدہ ایسے تھے جنھیں دیکھ کر قرآن پاک کی صداقت پر ایمان تازہ ہوجاتا ہے، آپ کی سیرت کو ایک نظر دیکھیں تو ایمان کے درخت پر اعمالِ صالحہ کی شاخیں جھومتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

            ان تمام اوصاف کے علاوہ آپ کا ایک خاص وصف، اور ایک امتیازی خصوصیت تھی، وہ تھی نمازباجماعت مع تکبیر اولی کا سخت اہتمام، اس وصف خاص نے تو خیر القرون کی یا دتازہ کردی، اورتکبیر اولی کے باب میں سلف صالحین کے سچے واقعات پر نیا ایمان اور نیا یقین پیدا کردیا۔

             یقینا نماز کے ساتھ آپ کی کچھ اور شان تھی کہ آپ نے چالیس سے زائد نماز باجماعت مع تکبیر اولی کاسخت التزام کیا، صحت ہو، مرض،سفر ہو حضر، مصروفیت ہو،فراغت ہر حال آپ نے ا س پر مواظبت اور مداومت اختیارکی۔

            حدیث شریف میں ہے من صلی للہ اربعین یوما فی جماعۃ یدرک التکبیرۃ الاولی کتبت لہ برأتان برأۃ من النار وبرأۃ من النفاق (رواہ الترمذي)

            یعنی جس نے رضائے الٰہی کے لیے چالیس دن تک نماز باجماعت تکبیر اولی کے ساتھ اداکی اللہ تعالی اس کے لیے دونجاتیں لکھ دیتاہے، آگ سے نجات اورنفاق سے نجات۔

            اس حدیث شریف کے روشنی میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ فضیلت و کرامت اس کے لیے ہے جو چالیس دن تک نماز باجماعت تکبیراولیٰ کے ساتھ پڑھ لے تو آپ ان کے بارے میں کیا خیال کریں گے جنھوں نے چالیس دن نہیں چالیس ہفتے، نہیں چالیس مہینے نہیں، چالیس سال سے بھی زیادہ نماز تو نماز جماعت تو جماعت تکبیر اولی نہ چھوٹے اس طرح نماز پڑھنے کا التزام کیا یہ التزام سفر میں بھی رہا اورحضرمیں بھی، مرض میں بھی رہا اور صحت میں بھی۔

            حقیقت میں سوچیں تویہ سخت عزیمت کامعاملہ ہے اور اتنا بڑا کمال ہے اس کے مقابلہ میں ہزار سالہ خلوت گزینی و چلہ کشی ہیچ ہے۔

            نماز باجماعت مع تکبیر اولیٰ کی پابندی کا پس منظر یوں ہے کہ حضرت شعیب الاولیاء ایک ایک بار اپنے مرشد اجازت قطب الاقطاب سیدنا شاہ عبداللطیف علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رخصت ہوتے وقت حضرت  قطب الاقطاب نے آپ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا، میاں نماز تو نماز، جماعت تو جماعت، تکبیر اولی نہ چھوٹے یہی نماز اللہ سے ملا دے گی، حضرت شاہ عبداللطیف صاحب علیہ الرحمہ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے یہ الفاظ حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ کیلیے پتھر کی لکیر بن گئے۔

            شعیب الاولیاء نے اپنے پیچھے کئی یادگاریں چھوڑی ہیں، جن میں ایک متحرک یاد گار،نازش لوح وقلم، شہزادۂ شعیب الأولیاء حضرت علامہ الحاج غلام عبد القادر علوی حفظہ اللہ تعالی ورعاہ سجادہ نشین خانقاہ فیض الرسول وناظم اعلی دارالعلوم فیض الرسول ہیں، جو حضور شعیب الاولیاء کے نہایت چہیتے فرزندومرید وجانشین اور اس کرہ ارض پر آپ کے آخری خلیفہ ہیں۔

            دارالعلوم فیض الرسول کی تعمیری وتعلیمی سر گرمیوں کو تیز تر کرکے جامعہ کے منزل تک پہنچانے کے عزم میں شب وروز مصروف عمل ہیں۔

            یہی وجہ ہے کہ آپ کے عہد مسعود میں فیض الرسول کا فیضان اور اس کا سحاب کرم جھوم جھوم کر برس رہاہے اوراس کی روشنی ایشیا سے لیکر یورب اورامریکہ تک پھیل چکی ہے، اور اس کا غلغلہ اورآوازہ بہت دور تک بلند ہوچکاہے۔

            حضور شعیب الاولیاء علیہ الرحمہ نے اپنی حیات مستعارمیں بہت سے عظیم الشان اورمحیر العقول کارنامے انجام دیئے ہیں، آپ کے انھیں زریں خدمات اور فقید المثال کارناموں میں آپ کا ایک عظیم الشان کارنامہ ایسے معتبر ادارے کی تاسیس ہے جسے دار العلوم فیض الرسول براؤں شریف کے نام سے جانا اور پہچاناجاتاہے۔

            اس دارالعلوم نے دین متین کی بڑی خدمت انجام دی ہے، یہ فیض الرسول کے فیضان کی ہی برکت ہے کہ بستی، گونڈہ، نیپال کے باڈر سے لے کر اندرون نیپال علم کا اجالا ہی اجالا ہے گائوں گائوں مدرسے مکاتب اور علمائے دین کی بہتات ہے، علاقائی ضلعی سطح سے بہت آگے دور دور تک اندرون ملک فیض الرسول کا چشمۂ فیض جاری وساری ہے اب تو بیرون ملک بھی فیض الرسول کے فیض کا چشمۂ سیال لہریں لینے لگا ہے. اللھم زد فزد

فنا کے بھی باقی ہے شان رہبری تیری

خداکی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں

تبصرے بند ہیں۔