مایہ ناز صحافی ڈاکٹر یامین انصاری سے ایک ملاقات

انٹرویو نگار: علیزے نجف

(سرائے میر اعظم گڑھ)

ملکی سیاست اب کسی کے لیے انجان موضوع نہیں  رہا کیوں کہ بدلتے وقت کے ساتھ ذرائع و ابلاغ کی ترقی نے اب ہر کسی کو اس سے متعارف کروا دیا ہے ایک عام انسان اس کی گہری حقیقتوں کو نہ سہی لیکن اس کی شہ سرخیوں سے واقف ہو چکا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کہ بطور انسان ہمیں اپنے حقوق کا بھی علم ہونا چاہیے ساتھ میں اپنے ذمہ داریوں سے آگاہی بھی ہونی چاہیے یہ وقت کی ضرورت ہے اور بقائے ذات کا ایک اہم حصہ بھی۔  جس طرح ہر شعبے کے ماہرین ہوتے ہیں جو اپنے میدان کے پیچ و خم سے واقف ہوتے ہیں اور وہ اپنی سیاسی بصیرت کو لوگوں کے درمیان عام بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگ سچائی کو نہ صرف سمجھ سکیں بلکہ اپنے ساتھ کی گئی زیادتیوں کے خلاف متحد ہو کر صف آرا ہو سکیں.

سیاست کی بساط کی ہر چال کے پیچھے کار فرما ذہنیت سے ایک صحافی بخوبی واقف ہوتا ہے وہ اس دشت کی سیاحت کے دوران دریافت کی جانے والی حقیقتوں کو  قلم و زبان کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتا ہے تاکہ ایک عام انسان سیاست کے فریب اور اس کی حقیقت کو سمجھ سکے۔ ایک صحافی کی زندگی تحقیق و تفتیش سے عبارت ہوتی ہے ایسا کرنا کوئی بچے کا کھیل نہیں کیوں کہ ان کی حق گوئی اور اشاعت حق کی وجہ سے حکمراں طبقہ اس کے اور اس کے خاندان کے تحفظ کا استحصال کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔

خیر ہر میدان سے وابستہ لوگوں کو کسی نہ کسی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے آج میرے سامنے ایک ایسے ہی صحافی کی شخصیت ہے جس نے صحافت کے میدان میں گرانقدر خدمات انجام دی ہے جس کے قلم سے لکھے جانے والے الفاظ کو صدائے دل سے تعبیر کیا جاتا ہے جنھوں نے اپنے احساسات کے ساتھ خیانت کرنے کی غلطی کبھی بھی دانستہ طور پہ نہیں کی  یہ وہ شخصیت ہیں جو اس وقت ہندوستان کے اردو اخبارات کی صف میں اول مقام پہ فائز کثیر الاشاعت اخبار انقلاب میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پہ نہایت جانفشانی کے ساتھ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ صاحب کتاب بھی ہیں دنیا انھیں ڈاکٹر یامین انصاری کے نام سے جانتی ہے آئیے ان سے مل کر بات چیت کے ذریعے ان کے خیالات جاننے کی کوشش کرتے ہیں زندگی کے تئیں ان کے نظریات کو بھی سمجھیں گے اور صحافت کے پیچ و خم کو بھی جانے کی سعی کریں گے سچ ہے کہ کسی کی پروفیشنل اور پرسنل اور سوشل لائف کو جاننے کا بہترین ذریعہ انٹرویو ہی ہے۔ علیزےنجف

علیزے نجف: سب سے پہلے تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں خود سے متعارف کروائیں اور آپ کو اپنی شخصیت کو کوئی ایک لفظی عنوان دینا پڑے تو وہ کیا ہوگا؟

ڈاکٹر یامین: مغربی اتر پردیش کے بدایوں ضلع سے میرا تعلق ہے۔ میں نے ایک عام مسلم گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ والد صاحب یو پی سرکار کے محکمہ ترقیات میں بی ڈی او کے عہدے پر فائز تھے۔ سرکاری ملازمت کے سبب وہ یو پی کے مختلف اضلاع میں رہے، مگر ہم سبھی بھائی بہنوں کی بنیادی تعلیم بدایوں میں ہی ہوئی۔ فی الحال میں صحافت اور اردو کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں۔ اس وقت دہلی میں ہندوستان کے مقبول ترین اردو اخبار’انقلاب‘ میں بحیثیت ریزیڈنٹ ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دے رہا ہوں۔ اردو میری مادری زبان ہی نہیں، میرا اوڑھنا اور بچھونا بھی ہے۔ میرا تعلق چونکہ ہندوستان کے تاریخی اور مردم خیز شہر بدایوں سے ہے، لہذا بچپن سے لے کر جوانی تک اسی روحانی شہر کی تعلیمی و ادبی آب و ہوا میں سانس لی۔ جس کا اثر میں نے اپنی شخصیت میں لانے کی کوشش کی۔یہی وجہ ہے کہ میں نے اردو زبان کو اپنا ذریعہ معاش بھی بنایا۔ میں اپنے آپ کو ایک ’طالب علم‘  کا عنوان دیتا ہوں ۔ کیوں کہ ہم سب کے سامنے ہمیشہ ایسا کچھ موجود ہوتا ہے جسے سیکھا جا سکتا ہے سیکھنا ہماری شخصی ارتقاء میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

علیزےنجف:  آپ کا تعلق کس خطے سے ہے اور آپ کی نظر میں اس خطے کی نمایاں خوبی کیا ہے؟

ڈاکٹر یامین:  جیسا میں نے پہلے بتایا کہ میرا تعلق مغربی اتر پردیش کے تاریخی اور مردم خیز خطہ بدایوں سے ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں علم و ادب کے شہ سوار، فکر و فن کے معمار، تصوف اور معرفت کے تاجدار ، اولیائے کرام اور صوفیائے عظام جلوہ افروز ہوئے۔ جن کے علم و فن اور افکار وخیالات نے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کو ایک روشن راہ دکھائی۔سرزمین بدایوں کی کشش اور جاذبیت زمانہ قدیم سے ہے کہ مثل پروانہ شمع بدایوں کی طرف بے شمار صالحین، عابدین اور اللہ کے برگزیدہ بندے کھنچے چلے آئے اور اسی خطہ بابرکت میں آسودہ خاک ہو گئے۔ یہ وہی شہر بدایوں ہے جہاں سلطان المشائخ محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیاؒء جیسی بزرگ اور برگزیدہ ہستی نے جنم لیا، یہیں پرورش پائی، علمی مدارج طے کئے۔ اسی سرزمین سے دنیا کے عظیم مؤرخ ملا عبد القادر بدایونی کی حیات طیبہ کا سورج طلوع ہوا، جس کی کرنیں نہ صرف ہندوستان، بلکہ یورپ تک پہنچیں۔ اسی پاک سرزمین سے مولانا عبد الماجد بدایونی اور مولانا فیض احمد بدایونی جیسی عظیم شخصیتیں ظہور پذیر ہوئیں، جنھوں نے ملک و قوم کے لیے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ اور اسی پاک سرزمین کی جانب حضرت سلطان العارفین اور حضرت میراں جی صاحب جیسے بلند پائے کے بزرگ ہزاروں میل کی مسافت طے کرکے کھنچے چلے آئے۔ بے شمار بزرگان دین اور رہنمایان قوم نے بدایوں کو اپنا مسکن بنایا۔طوطی ہند حضرت امیر خسرو جیسے عالی مرتبت شاعر نے بدایوں کے تعلق سے کہا ہے کہ؎

زبس کر مرقد اہل بصیرت چشمہ نور است

بجائے سرمہ در دیدہ کشم خاک بدایوں را

ہم فخر کےساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کا ہر دور اہل بدایوں کے کارہائے نمایاں سے روشن نظر آتا ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ اہل بدایوں کی خدمات جلیلہ سے مبرا نہیں ہے۔ اگر کبھی ادبیات اور فنون لطیفہ کی گفتگو شروع ہو جاتی ہے، تو سننے والے سو جاتے ہیں، لیکن داستان ختم نہیں ہوتی۔ ادباء، شعراء اور صوفیا کا ذکر ہوتو ایسی انگنت سرکردہ شخصیات کی روشن تصویریں دل و دماغ پر رقص کرتی نظر آتی ہیں، جن کے افکار و خیالات کو دنیا خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ سر زمین بدایوں کے آثار قدیمہ اور شہر کے ہر موڑ پر کھڑی تاریخی عمارتیں اپنے موسسین و اکابرین کی رفعت کی آئینہ دار ہیں۔

علیزے نجف؛   آپ کی تعلیمی لیاقت کیا ہے اور اس تعلیمی مراحل کو آپ نے کس طرح طے کیا، اس بارے میں ہمارے قارئین کو مختصراً بتائیں؟

  ڈاکٹر یامین؛   میری ابتدائی تعلیم بدایوں میں ہی ہوئی۔ پرائمری تعلیم کے دوران ہی مدرسہ عالیہ قادریہ بدایوں سے قرآن حفظ کیا۔اس کے بعد  حافظ صدیق اسلامیہ انٹر کالج بدایوں میں داخلہ لیا۔ عصری تعلیم کے ساتھ ہی دینی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔اعلیٰ تعلیم کے لیے آگرہ یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں سے گریجو یشن اور اردو میں پوسٹ گریجویشن کیا۔اسی دوران علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی۔ یو۔ایم۔ ایس۔کرنے کا خواب دیکھا، لیکن وہ مکمل نہ ہو سکا۔ مگر مادر درسگاہ اے ایم یو میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ یہاں سے دو سال کا ایک ٹیچنگ ڈپلومہ کورس کیا۔ اے ایم یو میں گزارے دو سال میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ یہاں کی اقدار و روایات اور تعلیمی و دیگر سرگرمیاں میرے لیے بالکل عجوبہ تھیں۔ چونکہ میں ایک چھوٹے سے شہر سے ایک عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے پہنچا تو میرے لیے یہ اعزاز کی بات تھی ۔یہاں تعلیم کے ساتھ زندگی کے نئے نئے تجربات ہوئے، جنھوں نے  میری ذہنی نشو ونما میں مزید وسعت پیدا کی۔ اس کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی کا رخ کیا۔ یہاں جے این یو یا دہلی یونیورسٹی سے ایم فل کرنے کا ارادہ کیا۔ بالآخر دہلی یونیورسٹی میں ایم فل میں داخلہ لیا۔ اسی دوران دہلی یونیورسٹی کے ہی سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن یعنی سی آئی ای سے بی ایڈ کا کورس مکمل کیا۔اس کے باوجود میں نے درس و تدریس پر صحافت کو ترجیح دی۔ کہتے ہیں کہ انسان مرتے دم تک  سیکھتا اور تعلیم حاصل کرتا رہتا ہے پھر بھی تشنگئ ۔علم کو سیرابی نہیں ملتی ۲۰۱۶ء کے آغاز میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ صدر شعبہ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری کی نگرانی میں ’پنڈت رتن ناتھ سرشار کی ناول نگاری کا تجزیاتی مطالعہ‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ مکمل کیا۔اس سے پہلے جے این یو سے صحافت کا کورس بھی کیا۔

علیزےنجف؛  زندگی کے اس سفر کے دوران آپ نے زندگی کی مختلف جہتوں کو قریب سے دیکھا ہے میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ بطور صحافی آپ کا زندگی کے بارے میں کیا نظریہ ہے اور ایک عام فرد کی حیثیت سے آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر یامین؛  میرے خیال سے زندگی کے نشیب و فراز ہر اس انسان کے ساتھ رہتے ہیں، جس نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے۔ خالق کائنات نے نظام زندگی بھی بنایا ہے اور مقصد زندگی کی تعیین کے لیے   قاصد بھی انسانوں تک پہنچائے ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ کے پیغام کو ہم نے کتنا سمجھا اور اس پر عمل کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کی زندگی کھلی کتاب کی مانند ہونی چاہیے۔ مکر و فریب ، جھوٹ و غیبت، حسد و تکبر سے اگر انسان دور رہے گا اور اپنی زندگی کے مقصد کو شامل حال رکھے گا تو وہ خوشحال اور کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔

علیزےنجف؛  آپ کا تعلق دنیائے صحافت سے ہے اور آپ اس وقت ماشاء اللہ روزنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر کے طور پہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کا رجحان صحافت کی طرف کیسے پیدا ہوا؟ کیا صحافت ہمیشہ سے آپ کی ترجیحی خواہش میں شامل تھا یا کسی ٹرننگ پوائنٹ کے بعد آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے ؟

ڈاکٹر یامین؛  جب ہم طالب علمی کے زمانے میں ہوتے ہیں اور خاص طور پر دسویں اور بارہویں جماعت تک، تو ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہمیں اپنا کرئیر کس پیشے میں بنانا ہے۔اگر چہ اب حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔ در اصل مجھے اسکول کے زمانے  سے ہی کچھ نہ کچھ لکھنے کا شوق رہا ہے۔ شاید ہائی اسکول کے زمانے میں پہلی بار میں نے ہندی روزنامہ ’امر اجالا‘ میں یو پی میں اردو کے سرکاری زبان کے مسئلے پر ایک خط لکھا، جو مراسلے میں شائع ہوا۔ میرے دوستوں اور آس پاس کے لوگوں نے جب وہ پڑھا تو میرا حوصلہ بڑھایا۔ بس اسی حوصلہ افزائی نے مجھے ہمت دی۔ پھر آگے بھی چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر کچھ نہ کچھ لکھ کر ہندی روزناموں اور پھر قومی آواز اور نئی دنیا جیسے اردو اخبارات میں اپنی ان کوششوں کو بھیجتا رہا۔ کبھی شائع ہوا کبھی نہیں ہوا، مگر میں نے لکھنا جاری رکھا۔ اس وقت بھی مجھے نہیں معلوم تھا کہ مستقبل میں صحافت ہی میرا پیشہ بن جائے گا۔ جب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بدایوں سے دہلی آیا تو کچھ دوستوں نے مشورہ دیا کہ یہاں تعلیم کے ساتھ بہت سارے مواقع ملتے رہتے ہیں۔ لہذا ان پر بھی نظر رکھنا۔ سب سے پہلے میرے استاد، دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے پروفیسر  اور بے پناہ خصوصیات کے مالک ڈاکٹر ابن کنول نے مجھے آل انڈیا ریڈیو میں متعارف کرایااور اس طرح اردو سروس کے پروگراموں میں شرکت کے لیے میرانام درج کر لیا گیا۔ اس کے بعد سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور اس دوران سینکڑوں پروگراموں میں شرکت، بحث و مباحثے، پروگرام کی اینکرنگ بھی کی اور  دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جو آج تک جاری و ساری  ہیں۔

علیزےنجف؛  آپ نے صحافت کا آغاز کہاں سے کیا اور کن کن مراحل سے گذر کر موجودہ مقام تک آپ پہنچے اور آپ کی اس کامیابی کا راز کیا ہے؟

ڈاکٹر یامین؛  یہ۱۹۹۹ء کی بات ہے کہ ایک دن کسی نے بتایا کہ معروف صحافی شاہد صدیقی کے اردو ہفت روزہ نئی دنیا میں کام کرنے کے لیے اردو داں لوگوں کی ضرورت ہے ۔ اس کے لیے صحافت کے کورس یا ڈگری کی ضرورت نہیں ہے۔کسی کی معرفت وہاں جا کر بات کی تو میرا انتخاب ہو گیا۔ اس وقت تک میرے پاس نہ تو صحافت کا کوئی تجربہ تھا اور نہ ہی کوئی ڈگری یا ڈپلومہ۔ اس کے باوجود شاہد صدیقی صاحب نے مجھے اردو صحافت میں قسمت آزمانے کا موقع دیا۔ میں نے انہی کی نگرانی میں صحافت کی ’ابجد‘ سیکھی۔ شروع میں اعتماد کی کمی تھی، لیکن دھیرے دھیرے وہ دور ہو گئی۔ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہوئے یہاں مارچ ۲۰۰۶ء تک نئی دنیا اور عوام میں کام کیا۔ اس دوران ۲۰۰۳ء میں جے این یو سے اردو صحافت کا کورس کیا۔ جس وقت میں نے اس  ادارے میں قدم رکھا تو میں صحافت کا ایک معمولی سا طالب علم تھا، لیکن جب تقریباً سات سال کے بعد  ادارہ چھوڑا تو روزنامہ ’عوام‘ کا انچارج ہوا کرتا تھا۔ ۱۰؍ مارچ ۲۰۰۶ء کو میں نے مشہور صحافی عزیز برنی کی سربراہی میں نکلنے والے روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ میں بحیثیت سب ایڈیٹر جوائن کیا۔ تین سال تک مختلف عہدوں پر مامور رہا اور اس دوران پوری دیانتداری اور ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کو شش کی۔

۲۰۱۰ء میں سہارا انڈیا نے ۲۴؍ گھنٹے کا پہلا اردو نیوز چینل شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت میری بھی خواہش ہوئی کہ اب الیکٹرانک میڈیا میں بھی قسمت آزمائی جائے۔ بالآخر چینل کی تاسیسی ٹیم کا ممبر ہونے کا موقع ملا اور پھر یہاں الیکٹرانک میڈیا کے اصول و ضوابط اور تکنیکی امور سے واقفیت ہوئی۔ یہاں جولائی ۲۰۱۳ء تک بحیثیت بلیٹن پروڈیوسر اور سینئر پروڈیوسر اپنی خدمات انجام دیں۔ اگست ۲۰۱۳ء میں ایک بار پھر الیکٹرانک میڈیا سے پرنٹ میڈیا کا رخ کیا۔ شکیل شمسی صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والےاردو روزنامہ ’انقلاب‘ میں اگست ۲۰۱۳ءمیں بحیثیت نیوزایڈیٹر میری تقرری ہوئی۔ ایک سال کے بعد میری ترقی ہوئی اور ادارے کی جانب سے مجھے ’ریزیڈنٹ ایڈیٹر‘ کی ذمہ داری سونپی گئی۔اپنے پورے صحافتی سفر میں ، میں نے کوشش کی ہے کہ اپنے کام اور ذمہ داری کو پوری ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دوں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میرے دفتر کے لوگ اور مجھے پڑھنے والے لوگ میری ناقص تحریروں کو پسند کرتے ہیں اور میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ ’صدائے دل‘ کے نام سے انقلاب میں سیاسی، سماجی، معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی امور پر اب تک سینکڑوں مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ٹی وی پروگراموں اور آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں میں شرکت کا سلسلہ بھی بدستور رہتا ہے۔

علیزےنجف؛  آج کے دور میں جب کہ زرد صحافت نے معاشرتی حقائق کی ترسیل کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور طاقت کے استحصال نے قلم و زبان کو سراسیمہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، ایسے میں آپ کو کیا لگتا ہے ایک سچے صحافی کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی کے تئیں کس طرح کے مائنڈ سیٹ کو ڈیولپ کرنا ضروری ہو گیا ہے؟

ڈاکٹر یامین؛  اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران زرد صحافت نے اس پیشے کی شبیہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا کی سنسنی خیزی، اس کا پروپیگنڈہ اور جانبدارانہ خبروں اور تجزیوں نے معاشرے کو زہر آلود بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے سبب بھی صحافت کے پیشے کو زک پہنچی ہے۔ اگر کوئی صحافی صحافت کے اصول اور اقدار کو نظر انداز کرتا ہے اور جانبداری سے کام لیتا ہے تو یہ قطعی مناسب نہیں۔ صحافت ہی نہیں، کسی دوسرے شعبے میں بھی اگر ہم ایمانداری کا مظاہرہ کریں گے تو لوگ اس کو تسلیم کریں گے۔ لہذا ایک کامیاب صحافی کو سب سے پہلے اپنے پیشے کے تئیں ایماندار ہونا  بے حد ضروری ہے۔ اسے  کسی نفع نقصان کی پروا کئے بغیر اپنا کام انجام دینا چاہیے۔ ایک صحافی کا کام لوگوں تک صحیح معلومات پہنچانا ہوتا ہے۔ اگر اس کی تحریروں میں کسی کی طرف جھکاؤ یا کسی کی یکطرفہ مخالفت ہوگی تو وہ ایک ایماندار صحافی نہیں ہو سکتا۔

 علیزےنجف؛ آپ ایک ایڈیٹر ہیں کہتے ہیں کہ ایک ایڈیٹر کے لیے بےشمار اچھی تحریروں میں سے ایک عمدہ تحریر کا انتخاب کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، کیا آپ کو بھی ایسی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بطور ایک ایڈیٹر کے ان چنندہ تحریروں میں آپ کن دو بنیادی باتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں؟

ڈاکٹر یامین:   یقیناً ایڈیٹر کے سامنے بہت سی تحریریں ہوتی ہیں۔ انقلاب چونکہ ایک مقبول اور کثیر الاشاعت اخبار ہے۔ اس لیے اکثر قلم کاروں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی نگارشات انقلاب میں شائع ہوں۔ بحیثیت  ایک ذمہ دار ایڈیٹر کے اکثر اس طرح کے حالات سامنے آتے رہتے ہیں کہ بہت سی تحریروں میں سے چند کو منتخب کرنا پڑتا ہے۔ اگر چہ ایک ایڈیٹر کے لیے یہ بہت مشکل کام نہیں ہے، مگر قلم کار کے جذبات اور اس کی محنت کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔ فیصلہ کرتے وقت سب سے پہلے ہمارے سامنے اخبار کی پالیسی، ملک و قوم کا مفاد اور قارئین کا مزاج ہوتا ہے۔ اگر کوئی مضمون اخبار کی پالیسی کے برعکس نہیں ہے تو پھر اپنے قارئین کے جذبات و احساست کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

علیزےنجف؛  آپ نے ’صدائے دل‘ کے ذیل میں بےشمار کالم لکھے ہیں اور ان کالموں میں میں نے بےشک حقائق کو چشم کشا ہوتے محسوس کیا ہے، میرا بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک کالم لکھتے وقت کس طرح کی معلومات کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور حقیقت تک پہنچے کے لیے کن ذرائع کا استعمال کرنا چاہیے؟

ڈاکٹر یامین؛   میں نے اپنے کالم کا نام ’صدائے دل‘ ہی اس لیے رکھا ہے کہ میں جو بھی لکھتا ہوں ، وہ دل کی آواز ہوتی ہے۔ کوئی بھی مضمون لکھنے سے پہلے میرے سامنے ملک، معاشرے اور سوسائٹی میں رونما ہونے والے واقعات ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا واقعہ جو مجھے لگتا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنی رائے قارئین تک پہنچانی چاہیے، بحیثیت صحافی میری یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کیا جائے، اسی پر میں قلم اٹھانے کی جسارت کرتا ہوں۔ ایک صحافی ہونے کے ناطے سماج اور سیاست میرا پسندیدہ میدان ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر رو نما ہونے والے حادثات و واقعات پر بھی طبع آزمائی کرتا ہوں۔ جب ہم کسی موضوع پر قلم اٹھائیں تو سب سے پہلے اس سے متعلق ہمیں مکمل معلومات ہونا چاہیے۔ مزید تحقیق کے لیے کتابوں اور انٹرنیٹ کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی مدد لینے سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہم جہاں سے معلومات حاصل کر رہے ہیں، وہ کوئی مستند ادارہ، تنظیم یا ایجنسی کی ویب سائٹ ہو۔ ورنہ انٹرنیٹ پر آج کل ہر طرح کی  معلومات موجود ہے۔

علیزےنجف؛   جب ایک لکھاری لکھتا ہے تو اس کے قارئین بھی پیدا ہوتے ہیں جو اس سے متاثر ہوتے ہیں پھر لکھاری پہ یہ بات بھی کہیں نہ کہیں لازم ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے قارئین کی آسانی کے لیے اپنی متفرق تحاریر کو یکجا کرے اور اسے کتاب کی صورت بخشے تو کیا آپ بحیثیت لکھاری کے اپنی تحریروں کو یکجا کر کے کتابی صورت میں مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر ہاں تو کب تک وہ ہماری حد رسائی میں ہوگی؟

ڈاکٹر یامین؛   پڑھنا اور کتابوں کے درمیان وقت گزارنا میرا شوق ہے اور گزشتہ ۲۲؍ سال سے صحافت کے پیشے سے وابستگی کی وجہ سےحالات حاضرہ پر نظر رکھنا اور پھر اپنے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر لکھنا اوراظہارخیال کرنا ضرورت کے ساتھ میرا مشغلہ بھی ہے۔ہندوستان کے مایہ ناز اور کثیر الاشاعت اردو اخبار ’انقلاب ‘ میں میرےکالم ’صدائے دل ‘ کے تحت اب تک سیکڑوں مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ انہی مضامین کو یکجا کرکے میں نے اسے کتابی شکل دی ہے۔ یہ حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے۔کتاب میں تمام مضامین کی شمولیت کی نہ تو گنجائش تھی اور نہ ہی جواز،اس لیے میں نے اِس کتاب میں ان ہی مضامین کو شامل کیا ہے جن کی عمر لمحاتی یا وقتی نہیں ہے، بلکہ ان کی اہمیت وافادیت آج بھی محسوس کی جارہی ہے اور آئندہ بھی کی جاتی رہے گی۔کتابی صورت میں یہ میری دوسری کاوش ہے، اس سے قبل۲۰۱۶ءمیں عراق کا سفرنامہ ’’عراق، جو میں نے دیکھا‘‘کے عنوان سے میری اولین کتاب منظر عام پر آئی تھی، جسے قارئین نے بے پناہ سراہااور اپنی دعاؤں سے نوازا تھا۔یہ سفر نامہ در اصل راقم کے ایک صحافی کی حیثیت سے سر زمین عراق کے دورے کی یادگار بھی ہے۔میں کوئی سفرنامہ نگار نہیں، لیکن جب بحیثیت صحافی عراق کا سفر کیا تووہاں کے مقامات مقدسہ اور موجودہ صورت حال کا جو مشاہدہ کیا، واپسی کے بعد اسے روزنامہ انقلاب میں ۱۰؍ قسطوں پر مشتمل ایک رپورتاژ کی شکل میں شائع کیا۔ اس کے بعدقارئین اور احباب کے مشورے پر میں نے اسے کتابی شکل دی۔ قارئین کے تحسین آمیز کلمات اورکتاب کے تئیں ان کی گرم جوشی کے سبب مجھے حوصلہ ملا، جس کی وجہ سے میں اپنی دوسری کتاب’ صدائے دل ‘ قارئین کے حضور پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔ امید کہ میری اس کوشش کو بھی قارئین کی محبت حاصل ہوگی۔

علیزےنجف؛   کیا موجودہ وقت میں نوجوان نسل کا صحافت کی طرف رجحان تسلی بخش ہے یا وہ اس سے برگشتہ ہو رہے ہیں؟ اگر ہاں تو اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟

ڈاکٹر یامین؛  اس کو ہم اس طرح دیکھ سکتے ہیں کہ اگر ہم نے کریئر کے لحاظ سے اپنی منزل کا تعین کر لیا ہے تو پھر ہمیں آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔اس دوران بس یہ بات ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ ہم جس شعبہ میں اپنا کریئر بنانے جا رہے ہیں اس میں صحیح کیا ہے، غلط کیا ہے؟ یہی معاملہ صحافت کےشعبہ کا بھی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران صحافت کی معتبریت پر سوالیہ نشان لگاہے۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا نے صحافت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ ممکن ہے اس وجہ سے کچھ نوجوان صحافت سے بر گشتہ ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو صحافت کے مختلف ذرائع نے اپنی جناب متوجہ کیا ہے۔

علیزےنجف؛  ایک صحافی بننے کے خواہشمند طالب علم کو اپنے اندر کن صلاحیتوں کو پالش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیا اس کے لیے کوئی ڈپلومہ وغیرہ بھی کرنا ضروری ہوتا ہے؟

ڈاکٹر یامین؛   یوں تو صحافت ایک ایسا پیشہ ہے کہ جس میں بغیر کسی ڈگری یا کورس کے طبع آزمائی کر سکتے ہیں۔لیکن پھر بھی اگر ہم باضابطہ طور پر صحافت میں اپنا کریئر بنانا چاہتے ہیں تو کوئی کورس ضرور کر لیں۔ ویسے بھی آج کل کسی بھی شعبہ میں ملازمت کے لیے کوئی ڈگری یا ڈپلومہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ صحافت کے لیے صلاحیتوں کا جہاں تک سوال ہے تو صحافت کے کورس میں بہت سی ایسی چیزیں شامل ہیں، جن پر عمل کر کے ایک کامیاب اور باوقار صحافی بنا جا سکتا ہے۔

علیزےنجف؛   موجودہ وقت میں صحافت کا کیا مستقبل ہے اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں ایک سچی اور اصولی صحافت کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

ڈاکٹر یامین؛  ایک زمانہ تھا جب  صحافت کو ایک مشن سمجھا جاتا تھا۔ عوام کی خدمت کا جذبہ لیے صحافی حکمرانوں کو مجبور کر دیتے تھے۔ منفی اور  مثبت دونوں پہلوؤں کو بڑی ایمانداری سے اجاگر کیا جاتا تھا۔جس کے ثمرات بہت دور تک محسوس کئے جاتے تھے۔ کبھی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں یا صحافیوں کے کالم سے ایوانوں میں ہلچل پیدا ہو جاتی تھی، مگر اب ایسا نہیں رہا۔اس کی بہت ساری وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی وجہ صحافیوں کا اپنے وقار کو برقرار نہ رکھنا اور اصولوں پر نہ چلنا ہے۔آج حالات یہ ہو گئے ہیں کہ راہ چلتے ایک عام آدمی کی نظر میں بھی ایک صحافی کوئی عزت و وقار نہیں ہے۔در اصل کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیےضروری ہے کہ صحافت اپنا ایماندارانہ کردار ادا کرے۔ اگر صحافت نے اپنے وقار اور معیار کے مطابق اپنا سفر جاری رکھا تو اس کے مستقبل پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ لیکن اگر جس طرح اس وقت صحافیوں کے ایک طبقہ نے اصو ل و ضوابط کی دھجیاں اڑائی ہیں، ایسا ہی چلتا رہا تو  یقیناً صحافت کے مستقبل پر سوال پیدا ہو سکتا ہے۔

علیزےنجف؛   اگر زندگی آج آپ کو آزادانہ طور پہ کسی بھی شعبے کا انتخاب کا ایک موقع دے تو کیا آپ پھر سے صحافت کا انتخاب کریں گے یا کوئی دوسرا شعبہ چنیں گے اور وہ کون سا شعبہ ہوگا اور اس کے انتخاب کی کیا وجہ ہو گی؟

ڈاکٹر یامین؛  صحافت میں ۲۰؍ سال سے زائد کا تجربہ ہو جانے کے بعد اب میں کسی دوسرے شعبہ میں جانے کے بارے میں نہیں سوچتا۔ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صحافت میں گزارنے کے بعد شاید یہ مناسب بھی نہیں ہے کہ میں اب کسی دوسرے شعبہ میں اپنا کرئیر بناؤں۔ پھر بھی اگر وقت اور حالات اجازت دیں گے تو میں درس و تدریس کو ترجیح دوں گا۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ درس و تدریس کے ساتھ اپنا صحافتی شوق بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ دونوں ہی شعبوں میں معلومات حاصل کرنا اور پھراس کو دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ دونوں شعبوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔

علیزےنجف؛   سیاست ملکی نظام میں ہاتھ پیر کی طرح ہوتی ہے جس کے ذریعے کئے گئے اقدامات کا اثر پورے ملک پر ہوتا ہے۔ آپ کے نزدیک سیاست کیا ہے اور کیا سیاست کے لیے اصول کا ہونا لازمی ہوتا ہے؟

ڈاکٹر یامین؛    ہندوستان میں اردو صحافت نے قیادت کا کردار بھی ادا کیا ہے۔ اکثر لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ صحافیوں کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے،لیکن صحافت اور سیاست کو علیحدہ نہیں کر سکتے۔آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد بھی بہت سے لوگوں نے صحافت کے ساتھ قیادت کا کردار بھی ادا کیاہے۔خاص طور پر آزادی کے بعد جب اکثر تعلیم یافتہ مسلمان پاکستان چلے گئے،تو یہاں جو رہ گئے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ نہ صرف سیاست، بلکہ تعلیم اور روزگار میں بھی عام مسلمانوں کی قیادت کریں، ہمارے اسلاف نے ایسا کیا بھی ۔اگر چہ آج کی سیاست کا چہرہ کافی حد تک  بد نما ہو چکا ہے، لیکن پھر بھی اگر ملک کا مہذب سماج چاہے تو سیاست کو اصل رخ پر موڑا جا سکتا ہے۔ہاں شرط یہ ہے کہ اس میں ذاتی مفاد شامل نہ ہوں، بلکہ ملک اور قوم کے مفادات کو مد نظر رکھ کر سیاست کی جائے۔

علیزےنجف؛  جدید ٹکنالوجی نے جہاں ہر میدان کو برق رفتار بنا دیا ہے، وہیں صحافتی میدان میں بھی انقلاب برپا کردیا ہے ۔الکٹرانک اور سوشل میڈیا کی بازگشت اب ہر سماعت تک پہنچ رہی ہے۔ میرا ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس کی وجہ سے پرنٹ میڈیا کی اہمیت متاثر ہوئی ہے یا جوں کہ توں ہے ؟

ڈاکٹر یامین؛  اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ کے آ جانے اور اس کی رسائی عام آدمی تک ہو جانے کے بعد سوشل میڈیا اور ڈجیٹل میڈیا کے شعبوں میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ صحافت کے شعبے کو بھی اس نے متاثر کیا ہے۔ لیکن اس متاثر ہونے کو ہم مثبت انداز میں ہی دیکھتے ہیں۔ کیوں کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جہاں تک پرنٹ میڈیاکا تعلق ہے تو کچھ حدتک ڈجیٹل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کا اثر ہوا ہے، لیکن  پرنٹ میڈیا کی اہمیت پہلے کی ہی طرح برقرار ہے۔ در اصل میڈیا کےمختلف ذرائع سے استفادہ کرنے والے بھی مختلف حلقوں کے لوگ ہو تے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے قاری، ناظرین اور سامعین ہیں، لہذا سب کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ اخبارات کی معتبریت آج بھی حسب سابق برقرار ہے۔ ہاں، کورونا کے دوران ضرور پرنٹ میڈیا متاثر ہوا، جب تمام شعبہ ہائے زندگی پر اس وبا کا اثر پڑا۔ لیکن اب وہ دور گزر چکا ہے اور اخبارات پڑھنے والوں کی تعداد تقریباً وہی ہے، جو کورونا کی وبا اور بندشوں سے پہلے تھی۔

علیزےنجف؛ کوئی ایک سوال جس کا جواب آپ دینا چاہتے ہوں لیکن میں پوچھ نہ سکی ہوں اپنے اس خیال کو اس سوال کے ذیل سے ہمارے قارئین تک پہنچانا چاہیں گے؟

 مایہ ناز صحافی ڈاکٹر یامین انصاری سے ایک ملاقات؛  میرے خیال سےمجھ جیسے طالب علم کے لیے یہ سوالات کافی اور بہت اہم ہیں۔ آپ کے سوالات میں صحافت اور اس سے متعلق دیگر شعبوں کا بھی بھرپور احاطہ ہو گیا ہے۔ اب اس کا فیصلہ  آپ اور آپ کے قارئین کریں گے کہ میرے جوابات کتنے  تسلی بخش اور کار آمد ہیں۔اس سے مزید کچھ کہنے کی میں جسارت نہیں کر سکتا ۔میرے خیال سے ہم سب کو سیکھنے کے عمل کو تازندگی جاری رکھنا چاہیے اور جو کچھ سیکھیں وہ دوسروں کو بھی سکھائین۔

علیزےنجف؛   اس انٹرویو دینے کے دوران آپ کے جذبات و احساسات کیسے رہے ؟

ڈاکٹر یامین؛   سب سے پہلے تو آپ کا بے حد شکریہ کہ مجھ ناچیز کو آپ نے اس لائق سمجھا کہ میں ایک انٹرویو کے ذریعہ اپنی بات آپ کے قارئین تک پہنچاؤں۔میں نے اس انٹرویو کے دوران وہی باتیں کہی ہیں، جو میں صحافت کے ایک طالب علم کی حیثیت سے بذات خود محسوس کرتا رہا ہوں ۔

علیزےنجف؛  اس انٹرویو کے ذریعے آپ لوگوں تک کیا دس لفظی پیغام پہنچانا چاہیں گے؟

ڈاکٹر یامین؛  اگر آپ ’دس‘ کی قید سے آزادی دیں تو بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے ہمیں مقصد حیات کواپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ موجودہ دور میں تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے، جس سے ہم زندگی کی تمام مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواہ وہ دینی تعلیم ہو یا عصری تعلیم۔ زندگی میں ترقی و خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب ہم جدید تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیم کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب ثروت لوگ سامنے آئیں اور کمیونٹی کی ترقی و خوشحالی کے لیے کام کریں۔  ممکن ہےکہ آنے والا وقت اور بھی زیادہ مشکلات بھرا ہو، اس کے لیے ملت کے ذمہ داران اور  بہی خواہوں کو آگے آکر آئندہ کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ بحیثیت ایک قوم ہم سب کی بھی ذمہ داری ہے کہ جو جہاں ہے اور جس لائق ہے، وہ ملک و ملت کے لیے کام کرے۔

تبصرے بند ہیں۔