ان آنسوئوں میں درد مخفی نہیں تو اور کیا ہے؟

ابراہیم جمال بٹ

معصوم بچہ جب کبھی اپنے ماں باپ کے ساتھ شرارت کرتا ہے تو اس کے والدین طوطلی زبان ہی کا استعمال کر کے اس کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں ، لیکن جب اسی بچے کی آنکھوں سے آنسوئوں کے قیمتی قطرات بہہ جات ہیں تو والدین کے دل نرم اور محبت کی انتہا پار کر کے بچے کو کسی بھی طرح چپ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی فرمائشیں پوری کرنے کی باتیں کرتے ہیں ، اسے بہلا نے کی حتی المقدور کوشش کرتے ہیں ، تاہم بچہ جب رونے کی آواز ہی نہیں بلکہ آنسوئوں کا سمندر بہا دیتا ہے تو اس وقت نہ صرف اس بچے کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بلکہ والدین بھی اپنی آنکھوں سے آنسو بہا دیتے ہیں ہاں یہ الگ بات ہے کہ کسی کو نظر آئے یا نہ آئے، تاہم بچے کے ایک ایک بہتے قطرے کے بیچ ماں باپ کا سمندر بہہ جاتا ہے۔

یہ ماں باپ اور بچے کا وہ رشتہ ہے جو پیار اور محبت کی اصل صورت پیش کرتا ہے۔ بچے کے ساتھ والدین کی کتنی محبت ہوتی ہے اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب بچے کو کسی قسم کی معمولی خراش لگ جاتی ہے، یہ اس وقت محسوس کیا جا سکتا ہے جب بچہ بیمار ہو جاتا ہے، اس وقت دیکھا جا سکتا ہے جب بچے کو کوئی اور بری نظر سے دیکھتا اور اس کے ساتھ کوئی برا سلوک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ دراصل یہ وہ رشتہ ہے جو والدین اور بچے کے درمیان اٹوٹ رشتہ ہوتا ہے، اس رشتے میں اتنی محبت مخفی ہوتی ہے کہ انسان جب کبھی اس مخفی محبت کا سامنا کرتا ہے تو وہ حیران وششدر رہ جاتا ہے۔

اسی معصوم اور خطائوں سے پاک بچے کا جب والدین کا جنازہ اس کے سامنے رکھا جاتا ہے تو اس کی آواز میں کس قدر درد سمائی ہوئی ہوتی ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے، تین سال کا معصوم ’’منیب الاسلام ‘‘ جس کے سامنے اس کے والد کی نعش پڑی ہو، اسے اگرچہ ابھی اچھی طرح یہ بات معلوم ہی نہیں کہ والدین کا کیا مطلب ہے لیکن وہ اچھی طرح محسوس کرتا ہے کہ والدین کیا ہوتے ہیں ، تبھی تو وہ جب کبھی ٹھوکر کھاتا ہے تو ماں باپ کو پکارتا ہے، جب کبھی بیمار ہو تا ہے تو ماں باپ کو آوازِ درد میں بلاتا ہے۔ اسی تین سال کے بچے کے سامنے اس کے باپ کی نعش کو سامنے رکھ کر اس کا اندرونی کلیجہ منہ کو آکر رلا دیتا ہے، کیوں کہ شاید اسے ’’غیبی‘‘ طور اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ’’ اب دنیا میں ملاقات ممکن نہیں ۔‘‘ اسی لیے بچہ ایسے آنسو بہاتا ہے کہ چپ کرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔

اگرچہ کئی قریبی لوگوں کی طرف سے اسے چپ کرانے کی کوششیں ہوتی ہیں لیکن ’’احساس غائبانہ ‘‘ کا اثررکھ کر وہ چپ ہی نہیں ہوتا۔ منیب الاسلام جو کہ تین سال کا ایک معصوم بچہ ہے، جس کاوالد اس کے سامنے بچہ بن کر ہنستا کھیلتا تھا آج وہی باپ نہ ہی بات کر پارہا ہے اور نہ ہی بچے کی آنکھوں میں بہنے والے آنسوئوں کو روک پا رہا ہے، منیب الاسلام کو معلوم ہے کہ یہ میرے اور ابوکے درمیان کوئی کھیل نہیں چل رہا ہے کیوں کہ کھیل کھیل میں آخر کار میرے ہی آنسوابو کو ہرا دیتے تھے، لیکن آج آنسو بہہ رہے ہیں اور ابو نہ ہی مجھے سہلا رہے ہیں اور نہ ہی چپ کرانے کی کوئی کوشش کر رہے ہیں ، نہ ہی مجھے گود میں لے کر ادھر اُدھر پھر رہے ہیں اور نہ ہی مجھ سے کسی قسم کی بات کر رہے ہیں ۔

منیب الاسلام جس کے والد 14اکتوبر 2017کو لتر پلوامہ جموں وکشمیر میں احتجاج کے دوران گولیوں کا شکار کر کے جان بحق کر دیا گیا۔ باپ کا لاڈلا بچہ منیب الاسلام آنسو بہاتا ہوا اپنے والد کو آخری الوداع کہہ رہا ہے، لوگ ایک نظر بچے کو اور دوسری نظر اس کے ابو پر ڈال رہے ہیں ، فطری سی بات ہے کہ آنسو روکنے کے باوجود نہیں رکتے، نہ ہی معصوم منیب الاسلام کے اور نہ ہی دیکھنے والے لوگوں کے بلکہ اگر کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ ’’نہ ہی منیب کے ابوکے‘‘ کوئی محسوس کرے یا نہ کرے!

تبصرے بند ہیں۔