اُفف! یہ مینار کتنا اونچا ہے؟

مدثر احمد

 (ایڈیٹر روزنامہ آج انقلاب، شیموگہ)

”مہنگے مشاعرے، قیمتی نعت خوانی اور اونچے لفافے اس بات کا زندہ ثبوت ہیں کہ قوم میں ترنم و تبسم کی مانگ بہت ہے، جس قوم میں تحقیق، تشریح، تنقیداور تجدید ختم ہوجاتی ہے اس قوم کے افراد تفریح زیادہ کرتے ہیں اور تعلیم میں تفوق و برتری اپنانے کے بجائے تبسم پر فدا رہتے ہیں اور ترنم پر رقص کرتے ہیں۔جس زمانے میں یورپ اور امریکہ والے جدید ٹکنالوجی پر ریسرچ کر رہے تھے اس زمانے میں لکھنو کے نواب اس بات پر مقابلہ آرائی کر رہے تھے کہ کباب تیتر کا زیادہ لذیذ ہوتا ہے یا بٹیر کابعد میں ان نواب صاحبان ہی کا کباب بن گیا”۔ یہ جملے یقینا ہمیں اس بات کو سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں کہ موجودہ دور کے مسلمان کس سمت میں جارہے ہیں۔ جب ہمارے پاس علم تھا اسوقت ہم نے اپنے علم کو اپنی تفریح کا سامان بنالیا، جب دولت ہاتھ آئی تو ہم نے اسے عیش و عیاشی کے لیے استعمال کیا۔

جو قومیں کچھ سال قبل تک دوسروں کی جوتیاں اٹھانے، بیت الخلا ءصاف کرنے کا کام کرتی تھیں آج وہی قومیں تعلیم کے میدان میں سب سے آگے ہیں، انکے تعلیمی اداروں کی عمارتیں فلک بوس ہورہی ہیں، انکی نسلیں تحقیق و تعمیر کے میدان میں آگے آنے لگی ہیں اور ہم اب بھی اچھے کھانوں اور اچھے کپڑوں کے شیدائی ہیں۔ ہماری شادیوں میں دسترخوانوں پر درجنوں قسم کے پکوان سجائے جاتے ہیں، ہماری بچیوں کو ٹرکوں میں بھر کر کپڑے دئےے جارہے ہیں، جس قوم میں شادی کی رسم کو سادی قرار دیا گیا ہے اس رسم پر لاکھوں کروڑوں روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ نکاح تو مسجد میں کیا جارتاہے اور یہ کہا جاتاہے کہ مسجد میں نکاح کرنا سنت ہے لیکن نکاح سے پہلے اور نکاح کے بعد جو کھانے اور رسمیں ادا کی جاتی ہیں وہ کونسا فرض اور کونسی سنت ہے۔ ہم حکومتوں کے تختوں سے اتر کر حکومت کرنے والوں کے چپل اٹھانے والے بنتے جارہے ہیں۔

 قیادت کرنے کی امید سے جن کو ایوانوں میں بھیجا جارہاہے وہ چاپلوس بنتے جارہے ہیں۔ ایوانوں میں مسلمانوں کے مسائل اٹھانے کے لیے ہم کچھ لوگوں کو منتخب کربھی رہے ہیں تو وہ مسائل اٹھانے کے بجائے الٹا مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ کوئی مسلمانوں کے لیے حج سبسیڈ ی دلوانے کا دعویٰ کررہاہے تو کوئی مسلمانوں کے لیے یونیورسٹیاں بنانے کی بات کررہا ہے لیکن انکے جو دعوے ہیں وہ دعوے مسلمانوں کے لیے رحمت کم، زحمت کا سبب زیادہ بن رہے ہیں۔ آج مسلمانوں کی جو حالت ہے اس حالت پر غور کرنے والے دانشوران، مالدار اور اہل علم طبقہ مخصوص حلقے میں بند ہوتے جارہے ہیں۔

 اہل علم حضرات اپنی تقریری صلاحیتوں کا مظاہر ہ کرنے کے لیے جابجا جلسے و جلوس نکلوارہے ہیں تو مالدار طبقہ اونچی اونچی عمارتوں کی تعمیر کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس میں محصور کررہے ہیں جبکہ دانشوران کی دانشوری اس قدر پروان چڑھنے لگی ہے کہ وہ مڈل کلاس اور لوئر کلا س مسلمانوں کے مسائل پر نظر ڈالنا ہی نہیں چاہتے۔ ہندوستان میں آج سب سے زیادہ تعلیمی ادارے برہمنوں اور عیسائیوں کے ہیں اور وہاں تعلیم حاصل کرنے والوں کی جتنی تعداد غیروں کی ہے اتنی ہی تعداد مسلمان بچوں کی ہے۔ مسلمان بچے اپنی قوم میں سب طرح کے لوگ ہوتے ہوئے بھی غیروں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ہمارے یہاں ایسے میعاری تعلیمی ادارے کہاں ہیں ؟۔ ایک طرف مسلمان اپنے مال و دولت کو اپنی آرائشوں پر خرچ کررہے ہیں تو دوسری جانب ایک طبقہ مسجدوں اور مدرسوں کی تعمیر میں لگا ہواہے۔ اگر کوئی ایک کروڑ کی مسجد بنا رہاہے تو سامنے کے محلے میں دو کروڑ کی مسجد بنانے کی تیاری ہے۔ اس مسلک کا ایک مدرسہ شروع ہوا تو دوسرے مسلک کے دو مدرسے شروع ہوئے۔ اس مسجد کی مینار کی اونچائی پچاس فٹ ہے تو دوسرے مسجد کے مینار کی اونچائی 80 فٹ ہوچکی ہے۔ ہفتے میں ایک دفعہ مسجدوں کو بھرنے والے مسلمانوں کے لیے لمبی چوڑی مسجدیں بنائی جارہی ہیں اور زندگی بھر کام آنے والے علم کے لیے ایک بھی یونیورسٹی نہیں ہے ؟

 ہم یہ نہیں کہتے کہ مسجد وں اور مدرسوں کی تعمیر نہ کی جائے بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جتنی ضرورت ہے اس لحاظ سے ان پر پیسہ خرچ کیا جائے اور حسب ضرورت ہی مسجد وں کی تعمیر کی جائے۔ آج خوبصورت مسجدیں ہی ہماری پہچان ہیں۔ جس وقت ہندوستان میں مغلیہ دور کے بادشاہ لال قلعہ، تاج محل اور قطب مینار بنا رہے تھے وہیں مغرب میں سائنس و ٹکنالوجی کی تحقیق زوروں پر تھی۔ جس وقت ہمارے حکمران پیار کیا تو ڈرنا کیا کہ نغمے اپنے محلوں میں کہلارہے تھے اسی دور میں بیٹری، دور بین، خوردبین، فلکی سیارے، ستارے اور پینسل جیسے چیزوں کی دریافتیں ہورہی تھیں۔ آج بھی وہی سب کچھ کیا جارہاہے سوشیل میڈیا پر ہم دن رات اپنا سر کھپا ئے ہوئے ہیں، ہر نئے ماڈل کے موبائل فون ہمارے ہاتھوں میں ہیں، نئی نئی کاریں ہمارے ہم سڑکوں پر دوڑا رہے ہیں۔ ہمارے چھوٹے سے چھوٹے سفر ہوائی جہازوں میں ہورہے ہیں۔

 ہمارے مسلم حکمران اپنے لیے سونے کے ہوائی جہاز بنا رہے ہیں لیکن ہوائی جہاز بنانے والے، تحقیق کرنے والے افراد کی ہمارے پاس کوئی کمی نہیں ہے۔ ہمارے نوجوان نوکریاں حاصل کرنے کے لیے تعلیم حاصل کررہے ہیں اس لیے قوم نوکر ہی بنی ہوئی ہے جبکہ غیر اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے تعلیم حاصل کررہے ہیں اسلیے وہ بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری سوچ کو بدلنا ہوگا اور ہمارے طریقہ کار کوبدلنا ہوگا اسی وقت قوم کی حالت بدل سکتی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا